Thursday, October 17, 2024

ایران پر جوابی حملے کی تیاری آئت اللہ خامنہ ای کیساتھ عراق کے آئت اللہ سیستانی بھی ممکنہ ہدف فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کا دائرہ اسرائیلی عربوں تک بڑھادیا گیا آئرن ڈوم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان، THAAD نصب کئے جارہے ہیں یروشلم اسرائیل کا اٹوٹ انگ نہیں، امریکی ٹیلی ویژن CBS کا اعلان نکاراگوانے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے

 

ایران پر جوابی حملے کی تیاری

آئت اللہ خامنہ ای کیساتھ عراق کے آئت اللہ سیستانی بھی ممکنہ ہدف

فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کا دائرہ اسرائیلی عربوں تک بڑھادیا گیا

 آئرن ڈوم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان،  THAAD نصب کئے جارہے ہیں

یروشلم اسرائیل کا اٹوٹ انگ نہیں، امریکی ٹیلی ویژن CBS کا اعلان

نکاراگوانے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے

ایک سال گزرنے کے بعد بھی غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ کاروائیاں جاری ہیں اور 17 ستمبر کو لبنان پر پیجر حملے سے شروع ہونے والی عسکری کاروائی کو بھی ایک مہینہ ہوگیا۔اس عرصے میں بیروت اور اسکے مضافاتی علاقوں پراوسطاً 100 فضائی حملے یومیہ کئے جارہے ہیں۔ لیکن قتل و غارت کی اس نہ ختم ہونے والی مہم کے باوجود غزہ اور جنوبی لبنان کے زمینی حقائق اسرائیل کیلئے اب بھی مایوس کن ہیں۔دونوں جگہ سے تابوتوں اور زخمیوں کے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ہرروز جنوبی لبنان سے سینکڑوں راکٹ برس رہے ہیں۔اسرائیلی وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ لبنانی و فلسطینی راکٹوں سے اسرائیل کے 90 اسکول تباہ ہوگئے جن میں زیرتعلیم 16000 طلبہ کو  گھر بھیج دیا گیا ہے۔ عجیب اتفاق کہ جس روز اسرائیلی وزارت تعلیم نے اپنے 90 اسکول تباہ ہونے کی تصدیق کی اسی روز اسرائیلیوں نے بمباری کرکے وسطی غزہ  کے دیر البلاح میں باقی رہ جانےوالے آخری اسکول کو زمیں بوس کردیا۔اس حملے میں  طلبہ اور اساتذہ سمیت 25 افراد زندہ جل گئے۔

لبنانی میزائیلوں اور ڈرونوں سے اسرائیل سخت خوفزدہ ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے میزائیلوں اور ڈرونوں کی درستگی و ہلاکت خیزی دونوں میں بہتری دکھائی دے رہی ہے۔لبنانی میزائیل اب انتہائی کامیابی سے حساس اہداف تک پہنچ رہے ہیں۔ استغفار اور احتساب و جائزہ کے تہوار یوم کپر کے موقع پر کریات شمعونہ، صفد، الحضیرہ، حیفہ اور خلیل بالا (Upper Galilee) میں کئی چھاونیوں کو ڈرونوں نے نشانہ بنایا۔ ڈراونے پرندے کے حملے میں کیرات شمعونہ عسکری کالونی کا برقی نظام تباہ ہوجانے کی بنا پر شہر کا بڑا حصہ ایک ہفتے سے  تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔تہوار کے دوران تل ابیب کے فیشن ایبل ساحلی علاقے ہرتسلیا (Herzliya)پر ڈرون حملوں میں کئی عمارتوں کو آگ لگ گئی۔سات اکتوبر کو برسی کے دن غزہ سے تل ابیب کو نشانہ بنایا گیا جس سے دو افراد زخمی ہوگئے۔

تیرہ اکتوبر کو بن یمینیہ چھاونی پر حملے سے اسرائیل کیساتھ امریکی فوج میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لبنانی ڈرون نے چھاونی کے مطعم کو اسوقت نشانہ بنایا جب سپاہی وہاں ناشتہ کررہے تھے۔حملے میں 4 فوجی موقع پر ہی ہلاک اور 57 جھلس کر زخمی ہوگئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق امریکہ کا فراہم کردہ حساس ترین دفاعی نظام آئرن ڈوم وقتی طورپر منجمد ہوگیا اورسائرن نہ بجنے کی وجہ ہے ڈرون ایک ناگہانی آفت بن کر ٹوٹ پڑا۔اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آئرن ڈوم کے اچانک ناکارہ ہوجانے کی وجہ انسانی خطا یا کسی پرزے کی خرابی ہے  یا حملہ آور ڈرون نے اسے منجمد کردیا؟

تہوار کے دوران سارا اسرائیل خطرے کے سائرن سے گونجتا رہا۔ لبنان، غزہ، عراق اور یمن کی جانب سے سینکڑوں، میزائیل، ڈرون اور راکٹ داغے گئے جن میں سے اکثر کو آئرن ڈوم نے ناکارہ کردیا لیکن سائرن پر شہریوں کی حفاطتی خندقوں کی طرف مسلسل دوڑسے سارا ملک افراتفری کا شکار نظر آیا۔دیوارِ گریہ کے ساتھ پارکوں اور چوراہوں پر عبادتی اجتماعات یوم کپر کی روائت ہے لیکن اس بار حفاظتی خندقوں میں عبادت کی گئی او تل ابیب میں صرف دو کھلی جگہوں پر اجتماعی عبادت کا انتظام تھا۔

بن یمینیہ میں آئرن  ڈوم کی ناکامی نے خوف و ہراس کو مزید بڑھا دیا اور عام اسرائیلی ہیجان میں مبتلا ہیں۔ عوام کی تسلی کیلئے فوج کے ترجمان شریک امیر البحر (رئیر ایڈمرل) ڈینیل ہگاری نے ایک ٹویٹ میں کہا 'اسرائیلی عوام پریشان نہ ہوں اور نہ افواہوں پر کان نہ دھریں، معاملات پوری طرح فوج کے قابو میں ہیں'

اسرائیلیوں کے اضطراب کو کم کرنے کیلئے امریکہ نے فوری طور پر جدید ترین فضائی دفاعی نظام،  Terminal High Altitude Area Defense یا THAADاسرائیل روانہ کردیا ہے۔ ٹھاڈ،  حملہ آور میزائیلوں کو 200 کلومیٹر دور سے بھانپ سکتا ہے۔ دشمن کے میزائیل کو فضا ہی میں اڑانے کیلئے اسکے مداخلتی گولے یا Interceptors 10 ہزار کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے جھپٹنے کی صلاحیت رکھنے ہیں یعنی منجنیقی (بیلیسٹک) حتیٰ کہ آواز سے پانچ گنا تیز ہائپر سانک میزائیل کو ٹھکانے لگانا بھی ٹھاڈ کیلئے کچھ مشکل نہیں۔ عجلت میں بھیجے جانے والے ٹھاڈ نظام کیساتھ اسے چلانے کیلئے  100 امریکی فوجی بھی اسرائیل جارہے ہیں کہ تربیت کا وقت نہیں۔ یعنی اب امریکہ اسرائیل کی جنگ خود لڑیگا۔

اسرائیلی  میڈیا Ynetکے مطابق گزشتہ ہفتے اسرائیل کے خفیہ ادراروں نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان کو بتایا کہ 'اہل غزہ نے اسرائیلی قیدیوں کے گرد پہرہ مزید سخت کردیا ہے۔ انکی بار بار ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کی بناپر سرغرسانی بھی غیر موثر ہوتی جارہی ہے'۔ ان اہلکاروں کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی حالت اچھی نہیں۔ معاہدہ کرکے انکی رہائی کی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے'۔یہی وجہ ہے کہ غزہ کو کچل دو کا نعرہ لگانے والے انتہاپسندوں کے مزاج بھی اب ٹھکانے آرہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے صفاردی (Sephardic) فرقے کے ربائیِ اعظم (مفتی) یعقوب ایریل نے 'فتحِ مبیں تک جنگ' کے فتوے سے رجوع کرتے ہوئے فرمایا کہ قیدیوں کی رہائی کیلیے ایک ذمہ دارانہ امن معاہدے کا وقت آچکا ہے۔

گزشتہ ہفتہ ہم نے لبنان میں ایک ڈویژن مزید فوج بھیجنے کی خبر دی تھی۔ اب نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہےکہ  36th اور 98th ڈویژنوں کے بعد  91st اور  146th ڈویژنوں کو بھی جنوبی لبنان کوچ کرنےکا حکم دیدیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق اسرائیلی فوج کا ایک ڈویژن 10 سے پندرہ ہزار فوجیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسکا مطلب ہوا کہ پچاس ہزار کے قریب اسرائیلی سپاہی لبنان میں ہیں اور کمک پر کمک ملنے کے باوجود ہر محاذ پر انھیں پسپا ہونا پڑرہا ہے۔

عسکری اہداف کے حصول میں ناکامی پر پیداہونے والی جھنجھلاہٹ اسرائیلی حکومت میں بھی نظر آرہی ہے۔ آٹھ اکتوبر کو وزیراعظم نیتھن یاہو نے اپنے وزیردفاع گیلینٹ کو امریکہ کے دورے سے روکدیا۔اسرائیلی وزیردفاع ایران پر حملے کیلئے اپنےامریکی ہم منصب سے مشورہ کرنے واشنگٹن جارہے تھے لیکن جب وہ تل ابیب ائر پورٹ پہنچے تو انھیں بتایا گیاکہ نیتھن یاہو نے انھیں دورے سے منع کردیا ہے۔ ایوان وزیراعظم نے ایک اعلامئے میں اسکی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ فوجی امور وزیراعظم خود دیکھ رہے ہیں۔ دوسرے دن حملے کی حکمت عملی کے تعین کیلئے نیتھن یاہو نے صدر بائیڈن سے خود بات کی۔

سفارتی اور ابلاغ عامہ کی سطح پر اس ہفتے اسرائیل کو پئے در پئے دو دھچکے لگے۔ ایک طرف وسط امریکی ملک نکاراگواکے صدر ڈینیل اورتیگا نے یہ کہہ کر اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے کہ غزہ میں اسرائیل کی فسطائیت اور نسل کش کاروائیاں ناقابل برداشت ہیں۔

دوسری جانب امریکی ٹیلی ویژن CBSنے یروشلم کو اسرائیل کا حصہ ماننے سے انکار کردیاہے ۔سی بی ایس کے سینیر ڈائریکٹر برائے معیار وطرزعمل (Standards & Practices) ، مارک میمٹ (Mark Mammott)نے ملازمین کے نام ایک برقی خط میں کارکنوں سے کہا ہے کہ خبر سناتے وقت اصطلاحات میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ جناب میمٹ نے کارکنوں کو باور کرایا کہ یروشلم اسرائیل کا حصہ نہیں بلکہ متنازعہ علاقہ ہے لہذا اسے اسرائیل نہ کہا جائے۔ یعنی یروشلم سے خبر جاری کرتے وقت رپورٹر صرف یروشلم کہے، یروشلم اسرائیل کہنا درست نہیں ۔جناب میمٹ نے یہ خط اگست میں لکھا تھا لیکن اسکا انکشاف کل فاکس نیوز نے کیا جسکے بعد سے اسرائیل اورامریکہ میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔

جہاں تک ایران پر حملے کا تعلق ہے تو وہ یقینی نظر آرہا ہے۔ کابینہ اجلاس کے بعد اسرائیلی وزیردفاع نے کہا کہ 'اسرائیل پر ایرانی حملہ جارحانہ لیکن احمقانہ اور غلط تھا۔ اس کے برعکس، ہمارا حملہ مہلک، درست اور حیران کن ہوگا -ایرانی یہ جان بھی نہیں سکیں گے کہ کیا ہوا یا یہ سب کچھ کیسے ہوگیا. وہ صرف نتائج دیکھیں گے.' دفاعی تجزیہ نگاروں کا خٰیال ہے کہ مذہبی تہوار یوم کپر (گیارہ اور بارہ اکتوبر) کے بعد کسی بھی وقت یہ حملہ ہوسکتا ہے۔اس حملے کی نوعیت کیا ہوگی اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے لیکن موساد ذرایع بتارہے ہیں کہ اسرائیلی فوج ایران کی تیل و گیس تنصیبات اور جوہری اثاثوں کیساتھ حضرت آئت اللہ خامنہ ای سمیت اعلیٰ ترین ایرانی قیادت کو ہدف بنانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ نیتھن یاہو کا خیال ہے کہ جوہری تنصیبات کے خاتمے سے ایران کا فوجی دبدبہ اورتیل و گیس کے وسائل پر ضرب سے ریاست کی معاشی طاقت صفر ہوجائیگی۔ اگر اسی ہلے میں روحانی و سیاسی قیادت کو بھی راستے سے ہٹادیا جائے تو افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغرب نواز عناصر کیلئے اقتدار پر قبضہ کرنا آسان ہوگا۔حسن نصراللہ کے قتل کا اعلان کرتے ہوئے نیتھن یاہو نے ایرانی روشن خیالوں کو نوید سنائی تھی کہ انکی  توقع سے بہت پہلے تہران ملاوں کی گرفت سے  آزاد ہوجائیگا۔

یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اسرائیل،  ایران میں یہ اہداف حاصل کرسکے گا یا نہیں لیکن تل ابیب کے عزائم سے خلیجی ممالک میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دس اکتوبر کو ایرانی وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے متنبہ کیا کہ حملے کیلئے جس ملک نے بھی اسرائیل سے معاونت کی یا حملہ آور طیاروں پر اپنی فضائی حدود کھولیں، جوابی کاروائی میں سب سے پہلے انھیں نشانہ بنایا جائیگا۔ عراقچی صاحب نے  کسی ملک کا نام نہیں لیا لیکن ایرانی تیل تنصیبات پر حملے کیلئے اسرائیلی طیاروں کو اردن، سعودی عرب ، کوئت اور قطر پر سے گزرنا ہوگا۔اسرائیلی محکمہ سراغرسانی کے مطابق ایران نے حملے اور اس میں تعاون کی سزا دینے کیلئے اپنے میزائیلوں کا رخ اسرائیل کے خلیجی اتحادیوں کی طرف کردیا ہے۔ایرانی دھمکی سے پریشان خلیجی حکمراں امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو ایران پر حملے سے روکے لیکن نیتھن یاہو کسی کی سنتے نظر نہیں آتے بلکہ 11 اکتوبر کو  اسرائیل کے چینل 14 نے انکشاف کیا کہ ایرانی  قیادت کیساتھ، شیعانِ عراق کے روحانی پیشوا آئت العظمیٰ سید علی سیستانی بھی اسرائیل کی ہِٹ لِسٹ پر ہیں۔

غزہ اور غرب اردن کے 'پناہ گزیں' فلسطینیوں کے بعد نسلی تطہیر کا دائرہ اسرائیلی شہریت کے حامل عربوں تک وسیع کردیا گیا ہے۔اسرائیل کے عرب شہریوں کی تعداد 21 لاکھ یا کل آبادی کا 21 فیصد ہے۔ ان لوگوں کو '48 عرب' کہا جاتا یے یعنی وہ عرب جو 1948 میں قیام اسرائیل کے وقت آباد تھے اور اہل غزہ کی طرح وہاں سے نکالے نہیں گئے۔انتہاپسند ان عربوں کو اسرائیل سے نکالنے یا کم ازکم عام انتخابات میں انکا حق رائے دہی منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔اسوقت اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) میں دس نشستیں مسلم و عرب ارکان کے پاس ہیں۔ ان میں سے 5 پر اخوانی فکر سے وابستہ رعم کے لوگ براجمان ہیں۔کافی عرصے سے کہا جارہا ہے کہ قلب اسرائیل میں آباد یہ 'آستین کے سانپ' ریاست کی سلامتی کیلئے خطرے کا سبب ہیں۔

دس اکتوبر کو اسرائیلی خفیہ پولیس شاباک (Shin Bet)نے پانچ عربوں کو وسط اسرائیل کے محلے طیبہ سے گرفتار کرلیا۔ جن پر عالمی دہشت گرد تنظیم سے وابستگی کا الزام ہے۔ شاباک کے مطابق محموداعظم اور ابراہیم شیخ یوسف کی قیادت میں ساجد، عبداللہ برانسی اور اسکا بھائی عبداکریم برانسی تل ابیب کے معروف اسرائیلی سینٹر (Merkaz Azrieli)کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 18 اکتوبر 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 18 اکتوبر 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 20 اکتوبر 2024


Tuesday, October 15, 2024

ایران کا اسرائیل پر میزائیل حملہ، بھاری نقصان کے انکشافات بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کے سامنے لاچارو بے بس لبنان میں اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا، ایک ڈویژن مزید فوج طلب

 

ایران کا اسرائیل پر میزائیل حملہ، بھاری نقصان کے انکشافات

بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کے سامنے لاچارو بے بس

لبنان میں اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا، ایک ڈویژن مزید فوج طلب

بیروت پر وحشیانہ حملے کے جواب میں یکم اکتوبر کو ایرانی میزائیلوں کی یلغار سے تل ابیب کے ساتھ واشنگٹن بھی پریشان ہے۔صدر باییڈن اور نیتھن یاہو دونوں نے ایرانی حملےکو ناکام و غیر موثر قراردیا لیکن اب جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ضرب بڑی کاری تھی۔ آپریشن وعدہ صادق دوم کے نام سے ہونے والی اس کاروائی میں 181 فتاح اور خیبر شکن منجنیقی (Ballistic) میزائیل داغے گئے۔جدید میزائل شکن نظام سے لیس اردن، برطانیہ اور امریکی ٖفضائیہ نے بہت سے میزائیلوں کو اسرائیلی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کردیا اوراردن سے بچ نکلنے والے میزائیلوں کا راستہ روکنے کیلئے اسرائیلی حدود میں تعینات امریکی ساختہ آئرن ڈوم اور ایرو (Arrow)دفاعی نظام بھی مستعد تھے۔

لیکن امریکہ، برطانیہ، اردن اور اسرائیل کے فضائی دفاع کو روندتے ہوئے چند ایرانی میزائیل صحرائے النقب (Negev Desert) میں واقع انتہائی حساس اڈے نیوااتم (Nevatim) تک پہنچ گئے۔ امریکی ساختہF-35بمبار اسی اڈے سے اڑان بھرتے ہیں۔ اسرائیلیوں نے پہلے کہا کہ ایرانی میزائیل اڈے کے باہر گرے جس سے بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا لیکن دو دن بعد جو تفصیلات سامنے آئیں  اس سے انکشاف ہوا کہ حملہ آور میزائیلوں نے   F35کے ہینگر اور رن وے کو نشانہ بنایا۔اسرائیلی اب بھی مُصر ہیں کہ حملے کے وقت ہینگر میں کوئی طیارہ موجود نہ تھا لیکن سیٹیلائٹ تصاویر پر اٹھنے والا دھواں بتارہا ہے کہ کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے۔ نویتم کے علاوہ سیٹیلائٹ تصویروں پر دارالحکومت تل ابیب سے بارہ میل جنوب رہووتے (Rehovot)ضلع میں تل نوف (Tal Nof) کے فوجی ہوائی اڈے سے بھی دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

تل نوف پر F-15 طیاروں کی مرمت و دیکھ بھال (Repair and Maintenance) کا کام ہوتا ہے۔ رہووتے ہی کے قریب ہدہشیران (Hod Hasharon)اڈے اور گدیرا (Gedera)عسکری ہائی اسکول پر بھی میزائیل گرنے کی اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق ہد ہشران میں ایک سو گھر متاثر ہوئے۔ اسی کیساتھ ایرانی میزائیلوں نے تل ابیب کے مضافات میں واقع خفیہ ایجنسی موساد کے مرکز اور فوج کے جاسوس ڈویژن المعروف Unit 8200کے ہیڈکوارٹر کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔موساد ہیڈکوارٹر کی دیوار کیساتھ زمین پر 50 فٹ چوڑے گڑھے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمارت کو خاصہ نقصان پہنچا ہے۔ دفاعی نظام سے گرائے جانیوالے میزائیل کے ملبے کی زد میں آکرغرب اردن کے شہر اریحا (Jericho)کا ایک 38 سالہ فلسطینی اسکول ٹیچر اپنی جان سے گیا۔

اسرائیل نے ایرانی حملے کا عبرتناک انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔قوم سے اپنے جذباتی خطاب میں وزیراعظم نیتھن یاہو نے کہا کہ ایران نے بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے جسکی اسے بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی۔ غربِ اردن ، غزہ، لبنان، یمن، شام اور ایران "برائی کا محور" ہیں۔ نیکی کی عالمی قوتوں کو برائی کے محور کیخلاف اسرائیل کی پشت پناہی کرنی چاہئے۔

 آجکل وہاں عبرانی  سالِ نو روش ہشنا (Rosh Hashanah)  کی تعطیات ہیں اسلئے جوابی کاروائی یوم کپر کے بعد متوقع ہے۔ استغفار  و احتساب کا یہ  دوروزہ تہوار 11 اکتوبر کو منایا جائیگا۔ اسرائیلی جنگجو زور دے رہے ہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرکے اس خطرے کو ہمیشہ کیلئے ختم کردینے کا وقت آچکاہے۔ سابق صدر ٹرمپ کی بھی خواہش ہے کہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے جوہری اثاثے پھونک دئے جائیں لیکن امریکی قیادت کو یہ خوف بھی ہے کہیں اس سے میدانِ جنگ مزید وسیع نہ ہوجائے؟۔ ایران کے روحانی پیشوا آئت اللہ خامنہ ای واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ 'یکطرفہ ضبط' کا وقت گزرگیا، اب اینٹ کا جواب پتھر سے دیاجائیگا۔ چار اکتوبر کو خطبہ جمعہ دیتے ہویے انھوں نے اسرائیل کے 'پشت پناہوں" کو متنبہ کیا کہ ایران کے خلاف کاروائی میں اگر کسی ملک گروہ یا قوت نے اسرائیل کا ساتھ دیا تو جوابی قدم میں اسرائیل کے سہولت کار بھی تہران کا ہدف ہونگے ۔

صدر بائیڈن نے اسرائیل کو شروع میں مشورہ دیا تھا کہ جوہری تنصیبات کے بجائے ایرانی تیل اور گیس کے میدانوں اور ٹینکرز کو نشانہ بنایا جائے۔ ریپبلکن پارٹی کے سینیر رہنما سینٹر لنڈسے گراہم کا بھی یہی خیال ہے کہ تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور برآمدی بندرگاہوں کو تباہ کرکے تہران پر کاری ضرب لگائی جاسکتی ہے ۔ برا ہو حرص و ہوس کا کہ بڑی تیل کمپنیوں کیساتھ خلیجی ممالک بھی یہی خواہش کررہے ہیں تاکہ ایرانی تیل کے غائب ہونے سے پیدا ہونے والے خلا کو منہہ مانگے دام پورا کیا جائے۔ ایرانی پیداوار کا تخمینہ 40 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب کیلئے اپنی پیداوار میں پندرہ لاکھ بیرل یومیہ اضافہ کچھ مشکل نہیں۔ایرانی مال  کے بازار سے غائب ہونے پر تیل کی قیمت میں کم از کم 20 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

چار اکتوبر کو قصر مرمریں میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ تیل کی تنصیبات پر حملہ مناسب نہیں ہوگااور اسرائیل کو اسکے متبادل ہدف کا انتخاب کرنا چاہئے۔ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کیلئے مرکزی امریکی کمان (CENTCOM)کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا تل ابیب پہنچ چکے ہیں۔

صدر بائیڈن امن کے بارے میں کتنے سنجیدہ اور مخلص ہیں اس سے قطع نظر اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر کو کسی بڑے قدم سے پہلے اعتماد میں لینا تو دور کی بات انھیں مطلع کرنا بھی ترک کردیا ہے۔ دودن پہلے وال اسٹریٹ جنرل میں سینیر صحافی محترمہ لارا سلائگمین (Lara Seligman)اور ہفت روزہ ٹائم کی نمائندہ محترمہ ویرا برگنگرن (Vera Bergengren)کے شایع ہونے والے مضمون کے مطابق یروشلم پر واشنگٹن کے اثرورسوخ کااب خاتمہ ہوچکا ہے اور اسرائیل اپنے دشمنوں کے خلاف امریکی رائے اور موقف کو نظرانداز کرکے اپنی مرضی سے کاروائی کررہا ہے۔ فاضل کالم نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیلی اقدامات کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کرنے سے ڈیموکریٹک پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔یا یوں کہئے کہ سیاست کے جبر نے صدر بائیڈن کو مدد لینے  والے اتحادی کے سامنے کاٹھ کا اُلو بنادیا ہے۔

رہی بات زمینی صورتحال کی تو وحشیانہ بمباری کے باوجود اسرائیلی افواج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ کاروائی کا آغاز گزشتہ ہفتے  جنوبی لبنان کے شہر العدیسۃ پر چڑھائی سے ہوا جسے مزاحمت کاروں نے  پسپا کردیا۔ لبنانیوں نے ایک درجن اسرائیلی سپاہیوں کی ہلاکت اور کئی ٹینک تباہ کرنے کا دعویٰ، جبکہ اسرائیل نے اپنے  دوافسران سمیت 8 فوجیوں کی کی موت کا اعتراف کیا ہے۔

شدید بمباری کے بعد اسرائیلیوں نے دوسرے دن جنوبی لبنان کے کوہ عامل کے دامن میں مارون الراس کی جانب پیشقدمی کی کوشش کی لیکن شدید لڑائی کے بعد انھیں وہاں سے بھی پسپا ہونا پڑا۔ عسکری نامہ نگاروں نے علاقے سے ٹینک اور بکتر گاڑیاں اسرائیل کی طرف واپس آتی دیکھیں۔ مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ دشمن کے 17 سپاہی مارے گئے۔اسرائیل نے اس جھڑپ میں اپنے ایک فوجی کے مارے جانے کا اعتراف کیا ہے۔اسی کے ساتھ مقامی کمانڈر نے کمک طلب کرلی اور ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق  98th بکتر بند ڈویژن کو میدان جنگ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیاگیاہے۔ آپریش کے آغاز پر اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ اس محدود و مختصر آپریشن کیلئے چند سو فوجی کافی ہونگے لیکن اب لبنان کے محاذ پر دوڈویژن یا  20 ہزار فوجی جھونک دئے گئے ہیں۔ زمین  پر ناکامی سے تلملا کر اسرائیلی فوج نے بیروت کے رہائشی علاقوں پر شدید بمباری کرکے دل کا بوجھ کم کیا۔موسلادھار بارش کی طرح برستے بموں سے اب تک 1400 لبنانی شہری جاں بحق، 30ہزار زخمی اور دس لاکھ بے گھر ہوچکے ہیں۔

لبنان سے راکٹ حملے بھی جاری ہیں۔ دواکتوبر کوتل ابیب کا ساحلی علاقہ بت یام ڈرون حملے کا نشانہ بنا اور نئے عبرانی سال پر غسلِ آفتابی سے لطف اندوز ہونے والوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ اسی دن صحت افزا پہاڑی مقام صفد پر چالیس راکٹ داغے گئے۔ چار اکتوبر کو عراق سے مقبوضہ گولان پر ڈرون حملہ ہوا جس میں دو اسرائیلی سپاہی ہلاک اور 24 شدید زخمی ہوگئے۔ گزشتہ اتوار، ساحلی شہر حیفہ پر حملے کے دوران فضائی دفاعی نظام پراسرار طور پر مفلوج ہوگیا اور لبنانی راکٹوں نے اسرائیل کے اس تیسرے بڑے شہر میں تباہی مچادی۔ اسی دوران سرحدی شہر کریات شمعونہ بھی نشانہ بنا

ایران کے میزائیل حملے اور لبنان و غزہ میں مزاحمت سے جھنجھلاکر اسرائیل  سفارتی جارحیت پر اترآیا ہے۔ وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے معتمد عام انتونیو گچیرس کو “ناپسندیدہ شخص” قراردے دیا یعنی وہ تاحکم ثانی اسرائیل نہیں آسکتے۔ اس بات کا اعلان کرنے ہوئے  وزیرخارجہ اسرائیل کاٹز نے کہاکہ میزائیل حملے کے بعد مسٹر کچیرس نے ایران کا بطور جارح نام نہیں لیا جو صریح ناانصافی ہے۔ جناب کچیرس پرتگال کے شہری ہیں

لبنان کیساتھ غزہ اور غربِ  اردن پر بمباری بھی جاری ہے۔جامعات، مساجد اور مدارس کے بعد اب خیمے اور چادریں گھیر کر بنائےگے اسکول اسرائیلیوں کا ہدف ہیں جسکا مقصد بچے کچھے اساتذہ کو ٹھکانے لگانا ہے۔ تین اکتوبر کو شمالی غربِ اردن میں طولکرم پر شدید بمباری کی گئئ جس سے معصوم بچوں سمیت اٹھارہ فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ چھ اکتوبر کو غزہ کی جبالیہ خیمہ بستی پر بمباری میں الجزیرہ کا19 سالہ صحافی حسن حماد جاں بحق ہوگیا۔حماد کو اسرائیلی فوج ایک عرصے سے متنبہ کررہی تھی کہ وہ واقعات کی فلمبندی سے اجتناب کرے۔ غزہ میں اب تک قلم کے 175مزدور دنیا کو سچ بتانے کا مقدس فریضہ سرانجام دیتے ہوئے مارے جاچکے ہیں۔

ہم نے گزشتہ نشست میں عرض کیا تھا کہ پیجر ٹائم بم پر گفتگو اب بھی جاری ہے۔ اس ہفتے  امریکہ کے سابق وزیر دفاع اور سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پانیٹا (Leon Panetta) نے لبنان میں پیجر ٹائم بم واردات کو دہشت گردی قراردیا۔ امریکی CBS ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو میں انھوں میں کہا ' اس بات میں ذرہ برابر شک نہیں کہ یہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔دوسری طرف برطانیہ کے بعد فرانس نے بھی اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی بند کردی ہے۔ پانچ اکتوبر کو قومی ریڈیو France Interپرباتیں کرتے ہوئے  صدر ایمیونل میکراں نے کہاکہ غزہ اور لبنان میں خونریزی فوری طور پر بند ہونی چاہئے۔ اس تنازعے کا سفارتی و سیاسی حل وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے چنانچہ فرانس غزہ میں استعمال ہونے والے اسلحے کی فراہمی تاحکم ثانی معطل کررہا ہے۔

اور اب آخر میں یہودیوں کی مردم شماری کا ذکر۔دواکتوبر کو نئے عبرانی سال پر جو اعدادشمار شایع ہوئے ہیں انکے مطابق دنیا میں یہودیوں کی کل تعداد ایک کروڑ 58 لاکھ ہے۔ایک سال کے دوران آبادی میں ایک لاکھ نفوس کا اضافہ ہوا۔ اسرائیلی یہودیوں کی تعداد 73لاکھ ہے جبکہ 63لاکھ امریکہ میں آباد ہیں۔ چارلاکھ اڑتیس ہزار 500فرانس اور چارلاکھ یہودی کینیڈا میں رہتے ہیں۔ویسے تو ہندوستان، پاکستان اور ایران سمیت ساری دنیا میں یہودی آباد ہیں لیکن اسرائیل، امریکہ، فرانس اور کینیڈا کے بعد انکی بڑی تعداد برطانیہ، ارجنٹینا، جرمنی، روس، آسٹریلیا، برازیل، جنوبی افریقہ ہنگری، میکسیکو اور ہالینڈ میں رہائش پزیر ہے۔ ہندوستانی ریاست منی پور میں یہودی کئی صدیوں سے آباد ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے انتہا پسندوں نے وہاں انکی عبادت گاہ کو آگ لگادی تھی جو دنیا کے قدیم ترین معبدوں (Synagogue) میں سے ایک ہے۔

حملے کے خوف ، ہیجان، غیر متوقع صورتحال کے پیش نظر ایک چوتھائی اسرائیلی ملک چھوڑنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق 24 فیصد افراد نے بیرون ملک رہائش کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔اکیس فیصد شہری اسرائیل کے باہر ملازمت ڈھونڈ رہے ہیں جبکہ دہری شہریت والے اپنے غیر ملکی پاسپورٹ کی تجدید کرارہے ہیں۔ دلچسپ بات کی اسرائیل چھوڑنے کے خواہشمندوں میں 36 فیصد سیاسی اعتبار سے حزب اختلاف کے حامی ہیں۔ حوالہ: Ken Broadcasting Israel

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی،11 اکتوبر 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی، 11 اکتوبر 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 اکتوبر 2024


Sunday, October 13, 2024

امریکہ کے صدارتی انتخابات ۔۔۔ انتخابی یا Electoral ووٹ کیا ہیں؟؟؟؟؟

 

امریکہ کے صدارتی انتخابات  ۔۔۔   انتخابی یا Electoral ووٹ کیا ہیں؟؟؟؟؟

 اب جبکہ امریکی انتخابات آخری مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں، چند سطور امریکہ کے کلیہ انتخاب یا Electoral Collegeپر جسکا ذکر اب آپ بار بار سنیں گے۔ یہ گفتگو ہم چار ماہ پہلے بھی کرچکے ہیں لیکن ممکنہ نتائج کی تفہیم کیلئے یہ سطور دوبارہ پیش کی جارہی ہیں۔ ہم نے گزشتہ نشست میں عرض کیا تھا کہ آبادی کا ایک فیصد ہونے کے باوجودامریکی مسلمانوں کے ووٹ کلیدی اہمیت اختیار کرچکے۔ اسکی وجہ یہی انتخابی کالج ہے۔

آپ کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ 5 نومبر کو ہونے والی ووٹنگ کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں بلکہ صدر اور نائب صدر کے انتخاب کیلئے 17 دسمبر کو تمام ریاستی دارالحکومتوں میں پولنگ ہوگی جس میں الیکٹرل کالج کے ارکان خفیہ بیلٹ کے ذریعے صدر اور نائب صدر کیلئے ووٹ ڈالینگے۔ ووٹنگ مکمل ہونے پر نتائج مرتب کئے جائینگے اور اسے ایک ڈبے میں بند کرکے وفاقی دارالحکومت بھیج دیا جائیگا۔چھ جنوری 2025 کو سربراہ سینیٹ (امریکی نائب صدر) کی نگرانی میں تمام ریاستوں سے آنے والے بکسوں کو کھول کر سرکاری نتیجے کا اعلان ہوگا۔

اب آتے ہیں انتخابی کالج کی طرف۔

امریکہ 50 آزاد و خود مختار ریاستوں پر مشتمل ایک وفاق کا نام ہے۔ وفاق کی  ہر ریاست کا اپنا دستور، پرچم اورمسلح فوج ہے۔ کرنسی اور خارجہ امور کے سوا بین الاقوامی تجارت سمیت تمام معاملات میں ریاستیں پوری طرح بااختیار ہیں۔امریکی صدر وفاق کی علامت اور اسکی مسلح افواج کا سپریم کمانڈر ہے۔ صدر کے انتخاب میں ہر ریاست انفرادی اکائی کی حیثیت سے ووٹ ڈالتی ہے اور اس مقصد کیلئے ایک کلیہ انتخاب یا Electoral Collegeتشکیل دیا گیا ہے۔ امریکہ میں مرکزی الیکشن کمیشن یا مقتدرہ نہیں اور انتخاب کا انتظام اور نگرانی ریاستیں کرتی ہیں۔ کاغذات نامزدگی بھی ہر ریاست میں الگ الگ جمع کرائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستوں کے بیلٹ پیپر پر امیدواروں کی فہرست مختلف ہوتی ہے۔

کلیہ انتخاب میں ہر ریاست کو اسکی آبادی کے مطابق نمائندگی دی گئی ہے اور یہ اس ریاست کیلئے ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) اور سینیٹ کیلئےمختص نشتوں کے برابر ہے۔ امریکہ میں ایوان نمائندگان کی نشتیں آبادی کے مطابق ہیں جبکہ سینیٹ میں تمام ریاستوں کی نمائندگی یکساں ہے اور ہر ریاست سے دو دو سینیٹرمنتخب کئے جاتے ہیں۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان کی نشستوں کی مجموعی تعداد 435 ہے جبکہ 50 ریاستوں سے 100 سینیٹرز منتخب ہوتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت یعنی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا المعروف واشنگٹن ڈی سی کیلئے انتخابی کالج میں تین ووٹ ہیں۔یعنی کلیہ انتخاب 538 ارکان پر مشتمل ہے اور 270 یا اس سے زیادہ انتخابی ووٹ لینے والے کے سرپر امریکی صدارت کا تاج رکھاجائیگا۔

الیکٹرل کالج کی ہیت کو اسطرح سمجھئے کہ  نیویارک سے ایوان نمائیندگان کے 26 ارکان منتخب ہوتے  چنانچہ 2 سینیٹروں کو ملاکر انتخابی کالج میں نیویارک کے 28 ووٹ ہیں۔انتخابی کالج میں سب زیادہ ووٹ کیلی فورنیا کے ہیں یعنی 54 جبکہ جنوبی ڈکوٹا، شمالی ڈکوٹا، مونٹانا، وایومنگ، الاسکا، ڈلوئر، ورمونٹ اس اعتبار سے بہت چھوٹی ہیں جنکے صرف تین تین ووٹ ہیں۔ الیکٹرل کالج میں 'سارے ووٹ جینتے والے کیلئے' کا اصول اختیار کیا جاتا ہے اور عام انتخابات میں ریاست میں جس امیدوار کو بھی برتری حاصل ہوئی وہاں سے انتخابی کالج کیلئے مختص سارے کے سارے ووٹ جیتنے والے امیدوار کے کھاتے میں لکھ دئے جاتے ہیں۔ یعنی اگر کیلی فورنیا سے کسی امیدوار نے ایک ووٹ کی برتری بھی حاصل کرلی تو تمام کے تمام 54 الیکٹرل ووٹ اسے مل جائینگے۔ صرف ریاست مین Maine اور نیبراسکا میں ایک تہائی الیکٹرل ووٹ ایوان نمائندگان کی حلقہ بندیوں کے مطابق الاٹ کئے جاتے ہیں ورنہ باقی سارے امریکہ میں ریاست کے مجموعی ووٹوں کی بنیاد پر فیصلہ ہوتا ہے۔

 

یہاں یہ ذکر بہت ضروری ہے کہ قانونی طور سے الیکٹرل کالج کے ارکان کسی مخصوص امیدوار کو ووٹ دینے کے پابند نہیں اور انتخاب بھی خفیہ بیلٹ پیپر کے ذریعے ہوتا ہے لیکن اسکے باوجود گزشتہ ڈھائی سو سال کے دوران ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا کہ جب الیکٹرل کالج میں عوامی امنگوں کے برخلاف کوئی ووٹ ڈالا گیا ہو۔

آٹھ برس پہلے 2016آ کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن کو ڈانلڈ ٹرمپ پر 28 لاکھ ووٹوں سے زیادہ کی برتری حاصل تھی لیکن جب تمام ریاستوں کے انتخابی ووٹ جمع کئے گئے تو صدر ٹرمپ کے الیکٹرل ووٹوں کی تعداد کلنٹن سے 77 زیادہ تھی۔اس سلسلے چند دلچسپ مثالیں پیش خدمت ہیں جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخاب کہ مہم سیاست سے زیادہ ریاضی کی مشق ہے

گزشتہ انتخابات میں امریکی دارالحکومت میں صدر بائیڈن نے اپنے حریف ڈانلڈ ٹرمپ سے 2لاکھ اٹھانوے ہزار ووٹ زیادہ لے کر یہاں مختص 3 الیکٹرل ووٹ اپنے نام کرلئے، جبکہ ایریزونا میں کانٹے دار مقابلہ ہوا جہاں جناب بائیڈن  کو  جناب ٹرمپ پر صرف  دس ہزار ووٹوں کی برتری کے عوض 11 انتخابی ووٹ ملے۔کچھ ایسا معاملہ جارجیا میں ہوا جہاں 12 ہزار کی معمولی برتری حاصل کرکے بائیڈن صاحب نے 16الیکٹرل ووٹ اپنے نام کرلئے۔

جن 6 ریاستوں میں سخت مقابلہ ہے وہاں انتخابی کالج کے ووٹوں کی مجموعی تعداد 79 ہے۔ گزشتہ انتخابات میں یہ تمام ووٹ صدر بائیڈن کو ملے تھے اور اس بار بھی کملا ہیرس کو کامیابی کیلئے ان یاستوں سے جیتنا ضروری ہے۔ رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق ان کلیدی ریاستوں میں ٹرمپ اور کملا کے حامیوں کے درمیان فرق ایک فیصد سے بھی کم ہے چنانچہ مسلمانوں کے ووٹ پلٖڑے کو ادھر سے ادھر کردینے کیلئے کافی ہیں۔

آج کی گفتگو ہم الیکٹرل کالج اور امریکی انتخابی نظام پر ختم کرتے ہیں۔ اس منفرد انتخابی نطام کی روشنی میں متوقع نتائج کا تجزیہ انشااللہ اگلی نشست میں 

سنڈے میگزین روزنامہ جسارت کراچی 13 اکتوبر 2024


 

 

Sunday, October 6, 2024

امریکی انتخابات مسلمانوں کے فیصلہ کن ووٹ؟؟؟؟؟؟ کملا ہیرس اسرائیل کی حمائت میں بے حسی کی حد تک پرعزم

 

امریکی انتخابات

 مسلمانوں کے فیصلہ کن ووٹ؟؟؟؟؟؟

کملا ہیرس اسرائیل کی حمائت میں بے حسی کی حد تک پرعزم

امریکی انتخابات میں اب ایک مہینہ باقی ہے بلکہ بہت سی ریاستوں میں قبل از وقت یا earlyووٹنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور ڈاک سے ووٹ ڈالنے کے خواہشنمندوں کو بھی پرچہ انتخاب جاری ہورہے ہیں۔یکم اکتوبر کو نائب صدارت کے امیدواروں کے درمیان مباحثہ ہوا۔اسی دن ایران نے اسرائیل پر میزائیل حملہ کیا جبکہ تین دن پہلے آنے والے سمندری طوفان Heleneسے جنوبی ریاستوں میں جو تباہی آئی ہے اس پر دونوں جماعتیں باہمی الزام تراشی میں مصروف ہیں۔اتفاق سے یکم اکتوبر ہی کو امریکہ کے مشرقی ساحلوں (بحراوقیانوس) اور خلیج میکسیکو کی بندرگاہوں پر مزدروں نے ہڑتال شروع کردی ۔ملک کی 60 فیصد بحری تجارت انھیں بندرگاہوں سے ہوتی اور اس تاریخی ہڑتال سےیومیہ نقصان کا تخمینہ ساڑھے سات ارب ڈالر لگایا جارہا ہے۔

بحث کے آغاز پر ہی میزبان نے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوارگورنر ٹم والز سے پوچھا کہ کیا وہ ایران پر اسرائیل کے جوابئ حملے کی حمائت کرینگے؟ تو گوونر صاحب نے حسب توقع سات اکتوبر کے قتل عام کا نوحہ اور حماس پر تبرےسے گفتگو کا آغاز کیا لیکن جلد ہی انکا رخِ سخن ڈانلڈ ٹرمپ کی طرف ہوگیا ور انھوں نے ٹرمپ صاحب کے غیر ذمہ دارانہ روئے پر تنقید کرتے ہوئے سابق صدر کو قائدانہ صلاحیت سے محروم فرد قراردیا۔جواب میں انکے حریف سینیٹر جے ڈی وانس نے بس یہی کہنے ہو اکتفا کیا کہ حکمت عملی ترتیب دینا اسرائیل کا کام ہے اور  انھوں نے باقی وقت ڈانلڈ ٹرمپ کے دفاع پر صرف کیا۔

ایران کے حملے پر کملا ہیرس اور صدر بائیڈں اسرائیل کی غیرمشروط حمائت کا اظہار کرچکے ہیں۔حملے کی اطلاع ملتے ہی امریکی صدر نے تمام مصروفیات معطل کرکے اپنی مشیروں کے ہمراہ حکمت عملی مرکز یا Situation Roomسے پوری کاروائی کا بنفسِ نفیس جائزہ لیا۔ بعد میں انھوں نے کہا کہ ایران کو  اسرائیل پر حملے کے سنگین نتائج بھگتنے پڑینگے۔جناب بائیڈن کا کہنا تھاکہ حملہ ناکام و غیر موثر رہا۔ایران کو دھمکی دیتے ہوئے امریکی صدر بولے 'ایران کو جواب کے بارے میں وہ اسرائیلی قیادات سے رابطے میں ہیں'

کملا ہیرس نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ کی ایک خطرناک اور عدم استحکام پیدا کرنے والی قوت اور واشنگٹن کا اسرائیل کی سلامتی کے لئےعزم لازوال ہے۔ انکے حریف ڈانلڈ ٹرمپ کا ردعمل بڑا دلچسپ تھا۔ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر اپنے مخصوص لہجے میں بولے 'دنیا کو آگ لگی ہوئی ہے اور امریکی قیادت MIA'۔ فوجی اصطلاح میں جنگ کے دوران لاپتہ ہوجانے والے فوجیوں کو missing in action یا MIAکہتے ہیں جنکے بارے میں غالب امکان یہی ہوتا ہے کہ یہ جوان مارے گئے لیکن لاش نہ مل سکی

جہاں تک متوقع نتائج کا تعلق ہے تو ہرگزرتے دن کیساتھ مقابلہ سخت ہوتا جارہا ہے اور جن  ریاستوں میں کانٹے کا مقابلہ ہے وہاں مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن شکل اختیار کرگئے ہیں۔امریکہ میں آباد مسلمانوں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ یا کل آبادی کا 1.1 فیصد ہے لیکن مقابلے والی ریاستوں یعنی ایریزونا (Arizona)جارجیا (Georgia)، مشیگن (Michigan)، نواڈا (Nevada)، پنسلوانیہ (Pennsylvania)  اور وسکونسن (Wisconsin) میں مسلمان بادشاہ گر 'ہوسکتے' ہیں ۔ہم نے سکتے اسلئے قوسین میں درج کیا ہے کہ اپنے ابراہیمی کزن کی طرح مسلمان اس محاذ پر اتنے منظم نہیں۔ مسلمان ووٹروں کی خاصی تعداد پاکستانیوں پر مشتمل ہے جنکی فکروتوجہ کا محور امریکہ سے زیادہ پاکستانی سیاست ہے۔ جسکی وجہ سے ووٹ بینک کا موثر استعمال ذرا مشکل لگ رہا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ایریزونا، جارجیااور وسکونسن  سے صدر بائیڈن کی ڈانلڈٹرمپ پر برتری ایک فیصد سے کم تھی  جبکہ اس بار مقابلہ مزید سخت ہوگیا ہے۔ پسلوانیہ میں  فرق 1.16، مشیگن میں 2.78اور نواڈا میں 2.39فیصد تھا۔

یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے امریکہ میں فیصلہ انتخابی کالج کے ووٹوں سے ہوتا ہے اور ضابطے کے تحت ایک ووٹ کی برتری پر بھی اس ریاست کیلئے مختص تمام ووٹ فاتح کے کھاتے میں درج کردئے جاتے ہیں۔ جن ریاستوں کا ہم نے اوپر ذکر کیا انکے مجموعی انتخابی ووٹ 79 ہیں۔

امریکی انتخابی نظام کی قباحت یہ ہے کہ جیت ڈانلڈٹرمپ یا کملا ہیرس کی ہی ہونی ہے۔کسی تیسرے امیدوار کی کامیابی کاکوئی امکان نہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں تلخ بلکہ توہین آمیز روئے کی بنا پر ریپبلکن پارٹی مسلمانوں میں مقبول نہیں اور 9/11کے بعدسے مسلمانوں کی غالب اکثریت ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ دیتی ہے۔ لیکن غزہ نسل کشی کے معاملے میں کملا ہیرس کی بے حسی بلکہ سفاکیت کی بناپر اس بار انکے نام  پر ٹھپہ لگانا بھی آسان نہیں۔ چنانچہ مسلم ووٹروں میں third partyکا رجحان بڑھ رہا ہے اور حالیہ جائزوں کے مطابق گرین پارٹی کی امیدوار ڈاکٹر جل اسٹائن تیزی سے مقبول ہورہی ہیں۔ ٖڈاکٹر صاحبہ ہیں تو یہودی لیکن فلسطینیوں کےحقوق،غزہ نسل کشی کی مذمت اور اسرائیل پر پابندیوں کی پرجوش حامی ہیں۔موصوفہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہروں کے دوران جیل کی ہوا بھی کھاچکی ہیں۔آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست اور اسرائیل کیلئے امریکی امداد پر پابندی گرین پارٹی کے منشور کا کلیدی نکتہ ہے۔ ڈاکٹر جل اسٹائن نے نائب صدر کیلئے ایک سیاہ فام مسلم دانشور ڈاکٹر بچ وئر (Butch Ware)کا انتخاب کیا ہے۔

تاہم مسلمان جل اسٹائن کے حق میں یکسو نہیں لگ رہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد ریپبلکن پارٹی سے خوفزہ ہے جنکے لئے ڈانلڈ ٹرمپ قابل قبول نہیں۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کملا کو نہ پڑنے والا ہر ووٹ ڈانلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی راہ ہموار کریگا، اسلئے کہ ڈاکٹر جل اسٹائن کے جیتنے کاکوئی امکان ہیں۔ پاکستانیوں میں عمران خان بہت مقبول ہیں اور کپتان کے حامیوں کا خیال ہے کہ اگر ڈانلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے تو وہ خانصاحب کو رہا کرانے کیلئے اسلام آباد پر دباو ڈلینگے۔یہ فکری تنوع مسلم ووٹ بینک کو منتشر کررہا ہےاور جب ووٹ کا مجموعی حجم صرف ایک فیصد ہو تو انتخابی عمل میں وزن محسوس کرانے کیلئے متحدہ لائحہِ  ضروری ہے جسکا فی الحال فقدان نظر آرہا ہے۔  

حال ہی میں نیوزویک سے باتیں کرتے ہوئے  ڈاکٹر جل اسٹائن نے کہا 'ڈیموکریٹس امریکی مسلمانوں کی حمایت کے بغیر نہیں جیت سکتے۔ مسلم کمیونٹی ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ چھوڑ چکی ہے اوروہ اس وقت تک واپس نہیں آئے گی جب تک ڈیموکریٹس یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ ان کے لیے نسل کشی کی حمائت یا الیکشن جیتنے میں  کونسی چیز زیادہ اہم ہے؟۔ ڈاکٹر صاحبہ کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ مسلمان ڈیموکریٹک پارٹی سے مایوس ہیں لیکن کیا مسلم برادری ا'بکی بار ٹرمپ سرکار' کا خطرہ مول لے کر کملا جی کو سبق سکھانے کی ہمت کریگی اسکے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔

سنڈے میگزین، روزنامہ جسارت کراچی 6 اکتوبر 2024


Thursday, October 3, 2024

جنوبی لبنان دوسرا غزہ حزب اللہ کی عسکری قیادت کے ساتھ معتمدِ عام حسن نصراللہ بھی جاں بحق سعودی عرب سے سفارتی تعلقات برکت، جبکہ ایران، شام، عراق اور یمن لعنت کا استعارہ

 

جنوبی لبنان دوسرا غزہ

حزب اللہ کی عسکری قیادت کے ساتھ معتمدِ عام حسن نصراللہ بھی جاں بحق

سعودی عرب سے سفارتی تعلقات برکت، جبکہ ایران، شام، عراق اور یمن لعنت کا استعارہ

اسرائیل بھر میں جنگی جنون، حسن نصر اللہ کے قتل پر مٹھائی کی تقسیم

نیتھن یاہو! فائرنگ روکو، خونریزی بندکرو ۔ اقوام متحدہ میں  سیلوانیہ کے وزیراعظم چیخ پڑے ناروے کی پولیس نے پیجر لبنان بھیجنے والوں کے پروانہ گرفتاری جاری کردئے

نسل کشی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طالب علم کو امریکی جامعہ سے نکال دیا گیا

سترہ اور اٹھارہ ستمبر کوجنوبی لبنان میں پیجر قتل عام عام سے شروع ہونے والے خون کی ہولی عروج پر ہے۔ تادم تحریر معصوم بچوں سمیت ایک ہزار افراد جاں بحق اور تیس ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔ پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوکر سڑکوں کے کنارے پناہ لئے ہوئے ہیں۔ جنوبی لبنان کے خلاف بمباری مہم انسانی تاریخ کا ایک ریکارڈ بلکہ سیاہ ترین سنگ میل ہے کہ صرف 12 گھنٹے کے دوران وہاں 1800 یا ہر دومنٹ پر پانچ حملے کئے گئے۔ اگر ہر حملے میں 1000 پاونڈ کا صرف ایک بم بھی استعمال ہوا ہو تو صرف آدھے دن میں کھجور و زیتون سے مزین سرسبز وشاداب جنوبی لبنان پر 18 لاکھ پاونڈ بارود برسادیا گیا

بمباری کا ہدف بیروت کا فلک بوس عمارتوں پر مشتمل رہائشی علاقہ ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لبنانی وزیرخارجہ عبداللہ ابو حبیب نے گلوگیر لہجے میں کہا'میرا خوبصورت ملک شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ وحشیانہ بمباری سے ہمارے بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہورہی ہیں۔ خدا کیلئے جنگ بندکردو'

صرف لبنانی وزیرہی نہیں بلکہ 27 ستمبر کو جب اقوام متحدہ میں تقاریر کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے سلوانیہ Sloveniaکے وزیراعظم Robert Golobخطاب کیلئے آئے۔ انکی تقریر کے دوران اسرائیلی وزیراعظم ہال میں داخل ہوئے تو وزیراعظم رابرٹ نے اپنے اسرائیلی ہم منصب کو دیکھ کر تقریر کا مسودہ اک طرف کیا اور بلند آواز میں بولے 'خونریزی بند کرو، غزہ کے بچوں کو زندہ رہنے دو، جوش جذبات میں روسٹرم پر مکہ مارکر سلوانیہ کے وزیراعظم نے چیختے ہوئے کہا 'مسٹر نتھن یاہو!! جنگ فوراً بندکرو'

انکے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف تقریر کیلئے کھڑے ہوئے اور کہا اسرائیل کی غزہ میں نسل پرست خونریزی نیوورلڈ آرڈر کی بری شکل ہے۔ غزہ کے بچوں کا لہو صرف اسرائیل کے ہاتھ ہر نہیں، بلکہ ہر خاموش طاقت اس ظلمِ عظیم میں برابر کی شریک ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ جرائم پر دنیا کی خاموشی سے حوصلہ پاکر اسرائیل نے لبنان میں بھی خونریزی شروع کردی ہے۔شہباز شریف کے بعد جب اسرائیل کے وزیراعظم کو تقریر کیلئے دعوت دی گئی تو سلوانیہ اور پاکستای وزیرعظم کی  تقریروں پر تالیاں بجانے والے مندوبین کی اکثریت Ceasefire Now کے نعرے لگاتی باہر چلی گئی۔ تاہم ہندوستان مندوبین نہ صرف بیٹھے ریے بلکہ نیتھن یاہو کے ہر جارحانہ جملے پر سب سے زوردار تالی ہندوستانی بینچوں سے سنائی دی۔

اسرائیلی وزیراعظم نے مذہبی حکائت سناتے ہوئے کہا حضرت موسیٰ ؑ نے مبارک سرزمین میں داخل ہوتے ہوئے کہا تھا 'تمہں برکت کے ساتھ لعنت کا سامنا بھی کرنا پڑیگا'۔ آجکل ایسا ہی اسرائیل کے ساتھ ہورہا ہے کہ گزشتہ برس 10 ستمبر کو گروپ 20 کی نئی دہلی سربراہی کانفرنس میں ہندوستان مشرق وسطٰی یورپ اقتصادی راہداری (IMEC) کیلئے مفاہمت کی یاداداشت پر دستخط ہوئے جسکے تحت بھارت سے متحدہ عرب امارات سعودی عرب، اسرائیل اور یونان کےراستے یورپ تک ایک تجارتی راہداری تعمیر ہونی ہے۔اس منصوبے سے پہلے ہی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوستانہ تعلقات استوار ہوچکے تھے ، جبکہ سعودی عرب  اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کیلئے بات چیت آخری مرحلے میں تھی۔یہ ایک با برکت قدم تھا کہ ایران کی مدد سے حماس نے سات اکتوبر کو لعنتی حملہ کردیا۔ ایران، عراق، شام اور یمن مشرق وسطیٰ میں لعنت کا استعارہ ہیں۔  ہماری عسکری مہم اِسی عنت کے سدباب کیلئے ہے تاکہ بابرکت سفر کا راستہ ہموارہوسکے۔

جمعہ 27 ستمبر کو بیروت کے نواحی علاقے الضاحية الجنوبية پر خوفناک فضائی حملہ ہوا جس میں امریکہ کے فراہم کردہ مورچہ شکن یا بنکر بسٹر بم استعمال ہوئے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ بم  کنکریٹ سے بنے مورچوں کو تباہ کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں جنکا شہری علاقوں میں استعمال غیر قانونی ہے لیکن طاقت کے اس جنگل میں وحشی کب کسی ضابطے کومناتے ہیں۔ امریکہ نے افغانستان اور عراق میں بنکر بسٹر بم کا بے دریغ استعمال کیا تھا۔ چار ہزار پاونڈ وزنی یہ بم فولاد کی 20 فٹ موٹی چادر کو چیر کربنیاد میں پھٹتے ہیں جسکی وجہ سے بلندوبالا عمارات کے چیتھڑے اڑجاتے ہیں۔ الضاحیہ حملے میں حزب کے ہیڈکوارٹر پر 85 مورچہ شکن بم پھینکے گئے جس سے یہ 14 منزلہ عمارت ریزہ ریزہ ہوگئی اور حزب اللہ کے معتعمد عام حسن نصراللہ اپنے ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوگئے۔

اس حوالے سے حماس اور حزب اللہ کی تاریخ کچھ ایک طرح کی ہے کہ دونوں کے قائدین کو اسرائیل نے براہ راست نشانہ بنایا۔عباس الموسوی نے صبحی الطفیلی کیساتھ حزب اللہ کی بنیاد رکھی اور صبحی صاحب کی حزب سے علیحدگی کے بعد جناب موسوی مئی 1991 میں تنظیم کے معتمد عام بنائے گئے اور صرف نو ماہ بعد فروری 1992 میں انھیں اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹر نے میزائیل پھینک کر قتل کردیا۔ جسکے بعد سے حزب کی قیادت جناب  نصر اللہ کے ہاتھ میں تھی جو 64 برس کی عمر میں بنکر بسٹر بم سے قتل کئے گئے۔ اب قیادت کی شمع 71 سالہ نعیم قاسم کے سامنے رکھ دی گئی ہیں جو تعلیم کے اعتبار سے ایک کیمیادان ہیں۔قاسم صاحب عبوری معتمد عام ہیں جو نئے معتمد کے انتخاب تک ذمہ داری سنھالیں گے۔ حماس کے سربراہ 31 جولائی کو راستے سے ہٹائے گئے اور اب حزب کے رہنما بھی قتل کردئے گئے۔

اس معاملے میں صدر بائیڈن کا رویہ بے حسی اور سفاکیت کا شاہکار نظر آرہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس  میں انھوں نے اسرائیل کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم 7 اکتوبر کو نہیں بھول سکتے جب بے گناہ قتل اور معصوم لوگ یرغمال بنائے گئے، لیکن اہل غزہ بھی پریشان ہیں۔ ہم نے جنگ ختم کرنے کی سرتوڑ کوشش کی۔ یرغمالی آزاد، غزہ خوشحال اور حماس کے پنجے سے آزاد ہونا چاہئے۔غرب اردن کے لوگوں کی پریشانیاں قابل تشویش ہیں۔ دوریاستی حل پر کام آگے بڑھانے کی ضرورت ہے

لبنان پر حملے کے آغاز میں امریکی صدر نے کہا کہ  بھرپور جنگ یقینی نظر آرہی ہے لیکن ہم اب بھی پر امید ہیں کہ اس مسئلے کا سیاسی حل نکل سکتا ہے (حوالہ: (ABC۔ اسی روز اسی ABCسے گفتگو کرتے ہوئے انکے وزیرخارجہ نے کہا جنگ مسئلے کا حل نہیں لیکن اسرائیل کے مسائل کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سات اکتوبر کو ان پر خوفناک حملہ کیا گیا۔ اسکے بعد سے انھیں لبنان کی طرف سے میزائیلوں کا سامنا ہے

حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر حملے کی خبر آتے ہیں صدر بائیڈں نے وضاحت کی کہ مزاحمت کاروں کے ہیڈکوارٹر پر حملے میں نہ امریکہ کا ہاتھ ہے اور نہ واشنگٹن کو اس سے پہلے مطلع کیا گیا۔ جب کسی صحافی نے امریکہ کے فراہم کردہ بنکر بسٹر بم استعمال کرنے کی بات کی وہ امریکی صدر شانےاچکاتے وہاں سے چلے گئے۔اسی دن اسرائیلی حکومت نے  بتایا کہ امریکہ نے حالیہ عسکری مہم کیلئے آٹھ ارب 70 کروڑ ڈالر کی منظوری دی ہے (حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل)

حسن نصراللہ پر اسرائیلی حملے کی حمائت کرتے ہوئے قصرِ مرمریں  نے ایک بیان میں کہا 'حسن نصراللہ اور ان کی زیر قیادت حزب اللہ کی دہشت گردی چار دہائیوں پر محیط تھی۔ وہ سینکڑوں امریکیوں کو ہلاک کرنے کے ذمہ دار تھے۔ اسرائیلی فضائی حملے میں ان کی ہلاکت ان کے بہت سے متاثرین کے لیے انصاف کا ایک پیمانہ ہے، جن میں ہزاروں امریکی، اسرائیلی اور لبنانی شہری شامل ہیں۔ نصراللہ پر حملے کو 7 اکتوبر 2023 کے قتل عام سے شروع ہونے والے تنازع کے  تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نصراللہ نے حماس کی نصرت کیلئے حملے کے دوسرے ہی دن اسرائیل کے خلاف "شمالی محاذ" کھولنے کا فیصلہ کیا'۔

اسماعیل ہانیہ کے قتل اور اب حسن نصراللہ کے راستے سے ہٹ جانے کے بعد اسرائیل میں جنگی جنون عروج پر ہے۔ گلی گلی مٹھائی تقسیم ہورہی ہے اور جنگ بندی کیلئے ہونے مظاہروں میں وہ شدت اب نہیں رہی۔اسرائیلی اپنے قیدیوں کو بزور طاقت چھڑانے کیلئے ایک بار پھر پُر اعتماد لگ رہے ہیں۔ جب ایک خاتون قیدی لیری الباگ کا باپ ایلی الباگ حکمراں لیکڈ پارٹی کی ایک تقریب کے دوران اپنی بیٹی کی تصویر والی ٹی شرٹ پہن کر احتجاج کرنے آیا تو اس پر حکومت کے حامیوں نے گندے انڈے پھینکے۔ لوگوں نے نعرے لگائے کہ  یہ بزدل، معاشرے کا سرطان ہیں۔ کچھ لوگوں نے الزام لگایا کہ مظاہرین، 'دہشت گردوں' کے زرخرید غلام ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ نے بمباری کا دائرہ جنوبی لبنان اور وادی بقاع سے بڑھاکر بیروت کے مرکزِ شہر (Downtown)کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔ مشرقی شام میں دیرالزور پر کئی حملے ہوئے۔ ہفتہ 28 ستمبر کو یمن کی بندرگاہ الحدیدہ اور بجلی مرکز پر خوفناک حملہ کیا گیا جس میں بندرگاہ کی اکثر گودیاں تباہ ہوگئیں۔

جنگی جنون سے نیتھن یاہو کا حکمراں اتحاد بھی مزید مضبوط ہورہا ہے۔الگ ہونے والی امیدِ نو پارٹی کے قائد گدین سعر( (Gideon Sa'arاتحاد میں واپس آگئے ہیں۔امیدِ نو جماعت، قیدیوں کو واپس لانے میں بی بی کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے الگ ہو گئی تھی۔اس پارٹی کی کنیسہ (اسرئیلی پارلیمان) میں چار نشستیں ہیں جسکی بنا پر 120 رکنی کنیسہ  میں اب حکمراں اتحاد کا پارلیمانی حجم  68 ہوگیا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی ے امکانات بھی معدوم ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے یورپی یونین کے سربراہ برائے خارجہ امور جوزف بورل نے مایوس کن لہجے میں کہا 'ہم جنگ بندی کے لیے بھرپور سفارتی دباؤ ڈال رہے ہیں ، لیکن نیتن یاہو کو کوئی روکنے والا نہیں، غزہ میں اور نہ مغربی کنارےپر''۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اسماعیل ہانیہ اور حسن نصراللہ کے قتل کے بعدنیتھن یاہو قابوسے باہر ہوچکے ہیں۔ اتوار (29 ستمبر) کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ایران کو دھکی دی کہ 'حسن نصراللہ کے قتل سے مشرق وسطیٰ کے طاقت کے ڈھانچے کو نئی شکل مل گئی ہے اوراسرائیلی فوج خطے میں جہاں بھی چاہے حملہ کر سکتی ہے'

وزیراعظم نیتھن یاہو کے شوقِ کشور کشائی سے جہاں لاکھوں فلسطینی اور لبنانی عذاب میں مبتلا ہیں وہیں انکی معیشت بھی دباو کا شکار ہے۔ گزشتہ ہفتے کاروباری ساکھ متعین کرنے والے ادارے Moody’s نے اسرائیل کا درجہ A2سے کم کرکے Baa1کردیا۔ ایک ماہ پہلے ایک اور موقر ادارے Fitch نے اسرائیل کی ساکھ  A plusسے گھٹاکر Aکردی تھی۔جنگی اخراجات کی بنا پر اسرائیلی وزیرخزانہ اسموترچ نے 8 ارب ڈالر کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔ غیر عسکری اخراجات کو حد میں رکھنے کی غرض سے پینشن اور اعلیٰ تعلیم کے لئے مختص رقم گزشتہ سال کی سطح پر منجمد کردینے کیساتھ سیاحت پر VATمیں چھوٹ ختم کرنے کی سفارش کی جاری ہے۔

دوسری طرف عالمی سطح پر آتشیں پیجر کی تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ناروے کی پولیس نے مشکوک پیجر (pager)لبنان بھیجنے والے شخص کی گرفتاری کیلئے عالمی وارنٹ جاری کردئے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ پیجر بلغاروی ادارے Norta Globalنے بناکر بھجوائے ہیں۔ نورٹا کا 39 سالہ ہند نژاد نارویجین مالک رنسن ہوزے Rinson Jose، اس واقعہ کے بعد سے مفرور ہے۔

اسرائیل کی بھرپور مدد کیساتھ امریکی تعلیمی اداروں میں 'فکری تطہیر' کا عمل تیز کردیاگیا ہے۔کئی جامعات اور مراکزِ دانش میں سات اکتور کو غزہ حملے کی پہلی برسی پر انتظامیہ کی جانب سے اسرائیلی نقطہ نظر کی تفہیم کیلئے مذاکروں کے اہتمام کیا جارہا ہے تو دوسری جانب 'باغیوں' کو نشانِ عبرت بنادینے کی کاروائی بھی عروج پر ہے۔ نیویارک کی جامعہ کورنیل (Cornell)میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ممدوح طال کو غزہ نسل کشی کے خلاف مظاہرہ کرنے پر جامعہ سے نکال کر اسکا F1ویزہ معطل کردیا گیا۔اس افریقی نوجوان کوجلد ہی امریکہ بدر کردیا جائیگا۔

فلسطینیوں کی نسل کشی کے ساتھ نیتھن یاہو کے تجویز کردہ 'برکت و لعنت' فلسفے پر کام جاری ہے ۔ گزشتہ ہفتے  متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر سے تفصیلی ملاقات کی۔ جسکے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اماراتی صدر نے کہا کہ 'میرا ملک امریکہ کے ساتھ کام کرنے اور اتحادیوں کے درمیان تزویراتی (اسٹریٹجک) شراکت داری کو مزید مربوط و مستحکم کرنے کا "غیر متزلزل عزم" رکھتا ہے۔ امارات کی اسرائیل سے تزویراتی شراکت داری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

تاہم غزہ کے مزاحمت کار اب بھی پرعزم ہیں اور اسرائیلی فوج پر حملوں کے ساتھ راکٹ باری بھی جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک بیان میں مزاحمت کاروں نے کہا کہ ہمیں اس جنگ کو ختم کردیتے کی کوئی جلدی نہیں کہ اہل غزہ  جان و مال القدس پرقربان کرچکے  اور اس مقدس جدوجہد سے پیچھے ہٹ کر ہم اپنے معصوم شہدا کو شرمندہ نہیں کرینگے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 4 اکتوبر 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی، 4 اکتور 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 اکتوبر 2024