Thursday, March 28, 2019

وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا


وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ   ہوا
جیو نیوز کے مطابق دنیا کے چودھریوں کی انجمن   فنانشل ایکشن ٹاسک فورس  یا FATF کے ایشیا بحرالکاہل  گروپ  نے  پاکستان میں  کالعدم تنظیموں  کے خلاف کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔ بتایا جارہا ہے کہ  ان تنظیموں کو  چندہ دینے والوں کے خلاف کاروائی کے طریقہ  کار پر بھی FATFکو شدید تحفظات ہیں۔
ہائے  بدنصیبی کہ  ہم نے درجنوں مساجد کو تالہ لگادیا، سینکڑوں  مدارس بند کردئے دگئے۔ ان اسکولو  ں کو رشوت خود محکمہ تعلیم کے حوالے کردیا جہاں غریبوں کے بچے تعلیم حاصل کررہے تھے۔ تھرپارکر میں  قحط کے مارے لوگوں کو راحت پہنچانے والے درجنوں اداروں کو بند کردیا۔ کتنے ہی یتیم خانے اوربیوہ عورتوں کو ہنر سکھانے کے مراکز ویران کردئے گئے۔ گھریلو تشدد کی ماری عورتوں کے سر سے عارضی سائبان  چھین  کر حیا کی ان پتلیوں کو سرکاری شیلڑز میں ٹھونس  دیا گیا۔ چڑیل ساس اور ظالم شوہر کے ظلم سے  پریشان   حوا کی یہ بٹیاں اب   ہوس کے پجاریوں کے رحم وکرم پر ہیں۔
ان سب کے باوجود ظالم محبوب  کی دل نہ پسیجا۔
صاحبو! معاملہ صرف   لشکرِ طیبہ، جیش  محمد، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ یا دوسری تنظیموں کا نہیں۔ مغرب  کے مطالبات کچھ اسطرح ہیں:
·        پاکستان  مسئلہ کشمیر سے  دستبردار ہوکر آزاد کشمیر سمیت سارے جموں و کشمیر کا اٹوٹ انگ تسلیم کرلے
·        پاکستان کے دستور سے ختم ِ بنوت کی ترمیم ختم کی جائے
·        ناموسِ رسالت کے قوانین ختم کئے جائیں
·        ملک کے نام سے اسلامی جمہوریہ حذف کیا جائے۔ No state religion
یہ مطالبہ  FATFکے ساتھ  عزیزم بلاول  بھٹو، موم بتی مافیا، پرویز رشید اور ملک کی تمام اسلام بیزار قوتوں کا  بھی ہے حتیٰ  کہ احسن  اقبال اور کسی حد تک  نواز شریف بھی  ان مطالبات  کے جزوی طور پر حامی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کالعدم تنظیموں کےخلاف ایکشن سے غیرمطمئن



بیدرد خاتون۔۔۔۔۔


بیدرد خاتون۔۔۔۔۔
 ہم انسانوں کے ہاں بیدردی بہت ہی منفی جذبہ سمجھا جاتاہے کہتے ہیں کہ وہ انسان ہی کیا جو کسی کا درد اپنے دل میں محسوس نہ کرے۔ اسکاٹ لینڈ کی 71 سالہ  رحم دل خاتوں محترمہ جو کیمرون (Jo Cameron) اپنے دل میں دوسروں کا درد تو  رکھتی ہیں لیکن انھیں  سردرد سمیت  کوئی  دردلاحق نہیں ہوا۔   حتیٰ کہ انکی زبان پر مرچ کی جلن بھی محسوس نہیں ہوتی۔ جلن کی شدت کے اعتبار سے اسکاٹ لینڈکی مرچ bonnet chilis سب سے سخت ہے۔ مرچوں کی جلن کیلئے جو پیمانہ بنایا گیا ہے اسے Scoville Unitsکہتے ہیں ۔ بونیٹ چلی  کی جلن  80000سے 4لاکھ  Scoville Unit ہےجبکہ میکسیکو کی ہیلیپنیو (Jalapeno)مرچ  جسکا ایک ٹکڑا چبانے سے  چودہ طبق روش ہوجاتے ہیں   Scoville اسکیل پر صرف 2500 ہے۔بڑی بی بچپن میں بونیٹ چلی ایسے چبایا کرتی تھیں جیسے چاکلیٹ ۔
 جب یہ خاتون 65 برس کی ہوئیں  تو  انھیں چلنے پھرنے میں مشکل پیش آئی  ۔ اسوقت  بھی   انھیں کوئی درد محسوس نہیں ہوا۔ ہسپتال میں تفصیلی تجزیئے پر انکے معالج حیران رہ گئے کہ محترمہ کے  کولہوں  کے جوڑ    بدترین بوسیدگی  یا  degenerationکا شکار ہوچکے تھے لیکن  انھیں ہلکی سی بھی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ 'دردناآشنائی' کے اس  انکشاف  نے ڈاکٹرو ں کو چونکا کر رکھ دیا۔
اسکے کچھ عرصے بعد انکے ایک ہاتھ کا osteoarthritisکے سلسلے میں آپریشن ہوا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے بعد مریضوں کو  کچھ عرصے تک درد کی جس شدت سے گزرنا ہوتا ہے وہ عذاب سے کم نہیں لیکن ان خاتون  کو ہلکی سی بھی تکلیف محسوس نہیں  ہوئی۔ ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے خود ہی فرماتی ہیں  کہ ایک بار چائے بناتے ہوئے وہ فون پر بات کررہی تھیں اور بے دھیانی میں انھوں نے اپنی ایک انگلی جلتے چولہے پر رکھدی۔  اپنی اس غلطی کا احساس انکو اسوقت  ہوا جب کھال  جلنے کی بو آئی۔
دردکے نا آشنا ہونے کے ساتھ یہ بڑی بی بہت ہی مضبوط اعصاب کی مالک ہیں  اور انھیں کسی بھی مشکل وقت میں گھبراہٹ نہیں  ہوتی۔ انھوں نے کئی جان لیوا ٹریفک حادثات  دیکھے ہیں لیکن خوف یا فرطِ جذبات سے بیہوش ہونا تو دور کی بات انکی دل کی حرکت بھی ناہموار نہیں  ہوتی۔ نیچے دی گئی تصور میں جو کیمروں  دائیں سے پہلی ہیں۔  حوالہ CNN
صاحبو! ایک لمحے کو رک  کر ذرا سوچا جائے کہ ہمارے رب  نے اپنی مخلوق کو کیسی کیسی صفات سے نوازا ہے۔ کتنا احمق ہے وہ انسان جسکا خیال  ہے کہ  یہ سارا کارخانہ حیات بس یونہی  وجود میں آگیا۔ ربنا ماخلقت ہٰذاباطلاً  سبحٰنک فقنا عذاب النار یعنی   آئے ہمارے رب آپنے یہ سب بے مقصد پیدا نہیں کیا  بے شک  آپ پاک و منزہ  ہیں۔ بچالیجئے ہمیں   (جہنم  کی) آگ سے۔ القرآن۔Jo Cameron, right.

Wednesday, March 27, 2019

گولان یا جولان ۔۔ ایک تعارف


گولان یا جولان ۔۔ ایک  تعارف  
امریکی صدرٹرمپ نے گزشتہ برس بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا اوراب گولان کو اسرائیل کا اٹوٹ انگ تسلیم کرنے کیلئے صدارتی فرمان جاری کردیا۔ کچھ احباب نے فرمائش کی ہے کہ گولان کا  ایک مختصر سا تعارف پیش کیا جائے تو ان احباب کے حکم کی تعمیل میں چند سطور:
سطح سمندر سے 9 ہزار 2 سو فٹ بلند 1800 مربع کلومیٹر یہ سطح  مرتفع ہضبۃالجولان یا Golan Heightsکہلاتا  ہے۔ آتشیں چٹانوں پر مشتمل اس سطح مرتفع کے جنوب میں دریائے یرموک رواں دواں ہے جو شام اور اردن کیلئے آبنوشی کا ذریعہ جبکہ مغرب میں بحیرہ طبریہ واقع ہے جو دنیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی نہر ہے۔ عبرانی کہانیوں کے مطابق قرب قیامت کے آغاز پر یاجوج ماجوج بحیرہ طبریہ کا سارا پانی پی کر اسے خشک کردینگے۔ بحیرہ طبریہ اسرائیل کو پانی کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
گولان کے دو تہائی حصے پر 1967کی  جنگ میں اسرائیل  نے قبضہ کرلیا تھا ۔ 1981 میں  مقبوضہ گولان کواسرائیل میں ضم کرلیا گیا تاہم امریکہ اور  اقوام متحدہ نے اسرائیلی اقدام کو تسلیم نہیں کیا اور عالمی نقشوں میں گولان اب بھی شام کا حصہ ہے۔ اس  ضمن میں سلامتی کونسل  کی قرراداد 242 میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ گولان شام کا حصہ ہے۔ دفاعی اعتبار سے یہ بلند مقام اسرائیل کیلئے بے حد اہم  ہے کہ یہاں سے  اردن، لبنان اور شام پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔

الجزائر۔۔ نیا جال لائے پرانے شکاری


الجزائر۔۔ نیا جال لائے پرانے شکاری
الجزائز میں جاری حکومت مخالف تحریک  کو گلا گھونٹنے  کیلئے سیکیولرازم کی محافظ فوج میدان میں  آگئی لیکن عوام کے تیور سمجھتے ہوئے اس بار  گولی کے بجائے پاکستان میں مروج گولی  (دھوکہ) دی جارہی ہے۔ فوج کے سربراہ  لیفٹیننٹ احمد قائد صالح نے آج  صدر عبد العزيز بوتفليقة سے ملاقات  کے بعد انھیں  صحت کی بنیاد پر نااہل قرار دینے کی تجویز پیش کی ۔اس  تجویز سے بظاہر  تو ایسا لگا کہ اب فوج  نے    عوامی امنگوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن بعد میں جو تفصیلات سامنے آئیں   اس سے لگ رہا ہے کہ 28 سال پہلے عوامی مینڈیٹ  پرجو ڈاکہ ڈالا گیا تھا اسے قانونی موشگافیو ں سے  مزید کچھ عرصے کیلئے تحفظ  دیا جارہا ہے۔ فوجی نے صدر کی نااہلی کیلئےالجزائری دستورکے  ضابطہ  (article) 102 کے اطلاق کی تجویز دی ہے۔
ضابطہ  102کے تحت  صدر کی نااہلی کی تحریک پارلیمینٹ  کے مشترکہ اجلاس سے پیش  کی جائیگی جس  کا دوتہائی اکثریت سے منظور ہونا ضروری ہے۔ قرارداد کی منظور ی کے بعد صدر کو 45 دن کیلئے معطل کردیا جائیگا۔ اس دوران   سینیٹ کے سربراہ  ملک کے نگراں صدر کا عہدہ  سنبھال لینگے جبکہ صدر کا سرکاری  خرچ پر علاج کیا جائیگا۔ 45 دن بعد صدر کا ایک تفصیلی معائنہ ہوگا اور ڈاکٹروں کے بورڈ نے انھیں ایک بار پھر طبی اعتبار سے نااہل قراردیدیا تو سینیٹ کے سربراہ 3 ماہ کیلئے ملک کے نگراں صدر بن  جائنگے جس کے بعد انتخابات ہونگے۔ اس دوران اگر صدر کی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو انکی بحالی کا معاملہ ایک بار پھر  پارلیمان  میں پیش کیا جائیگا۔ یعنی  یہ سلسلہ غیر معینہ مدت تک جاری رہیگا۔
سینیٹ کے سربراہ  عبدلقادر بن صلاح ایک سکہ بند سیکیولر اور فوج کے منظور نظر ہیں۔ بن صلاح  صاحب  صدر عبدالعزیزکی بیماری کے باعث ایک سال سے  عملاً ملک کے صدر ہیں۔ حزب اختلاف کو خدشہ ہے کہ  صدر عبد العزیز کی رخصت موجودہ کرپٹ نظام کا تسلسل برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ قائم مقام صدر کے ساتھ ٹیکنوکریٹس کی ایک قومی کونسل بھی بنائی جارہی ہے جسکابنیادی کام  تو انتخابات کرانا ہے لیکن اسے  احتساب، انتخابی نظام میں اصلاح اوردستور میں 'مناسب  ترمیم' کی جو ذمہ داری سونپی جارہی ہے  وہ کئی برسوں کا کام ہے۔Army chief Ahmed Gaid Salah called for the application of Article 102, which could remove Bouteflika by declaring him unfit for office [Algerian TV]
ا۔