Wednesday, July 22, 2020

باریک اور موٹا چاند


باریک  اور موٹا چاند
ذی الحجہ 1441کے چاند کے بارے میں جناب فوادچودھری کا اصرار ہے کہ چندا ماما 21 جولائی کو طلوع ہوچکے ہیں اور عیدالاضحیٰ 31 جولائی کو ہونی چاہئے جبکہ روئت ہلال کمیٹی کا کہنا ہے کہ 21 جولائی کو چاند دکھائی نہیں دیا لہذاعید الاضحی یکم اگست کو ہوگی۔ اپنے دعوے کے حق میں فواد چودھری صاحب نے کہا ہے کہ لوگ 22 جولائی کو چاند دیکھ لیں اسکی موٹائی سے اندازہ ہوجائیگا کہ یہ پہلی نہیں بلکہ 2 ذی الحجہ کا چاند ہے
جولوگ قمری کیلنڈر سے تہوار منانے کے حامی ہیں ان کی اکثریت نئے فلکیاتی چاند Astronomical New Moonاور ہلال کے فرق کو سمجھنے میں غلطی کرتی ہے۔ آج تھوڑی سے بات اس موضوع پر
چندا ماموں کا زمین کے گرد چکر 29.530588دنوں میں مکمل ہوتا ہے جسے قمریہ یا Lunationکہتے ہیں۔ چاند کی اسی رفتار بے ڈھنگی نے سارا فساد کھڑا کیا ہے۔ اسلئے کہ اب قمری مہینہ یا تو 29 دنوں کا ہے یا تیس کا اور اسکا فیصلہ ہلال یا زمین  سے نظر آنے والے چاند کی بنیاد پر ہوتا جسکے لئے حضرت مفتی منیب الرحمان ہر مہینے روئت ہلال کی پٹاری کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔
زمین کے گرد اپنا ماہانہ چکر مکمل ہونے پر چاند، سورج اور زمین کے بیچ میں آجاتا ہے۔اس موقع پر زمین، چاند، اور سورج ایک ہی مستوی میں ہونے کے باوجود ایک ہی خطِ مستقیم میں نہیں رہتے بلکہ زمین اور سورج کو ملانے والے خطِ مستقیم سے چاند ذرا اوپر یا نیچے رہتا ہے۔ اگر فلکیاتی نئے چاند کی پیدائش کے وقت چاند زمین اور سورج کو ملانے والے خط مستقیم میں پہنچ جائے تو سورج گرہن واقع ہوجاتا ہے کیونکہ اس موقع پر چاند سورج کو جزوی طور پر یا مکمل ڈھانپ لیتا ہے۔ جسکی وجہ سے سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچ پاتی۔ یکم ذوالقعدہ کے موقع پر ایسا ہی ہوا تھا
ہم انسانوں نے چاند کو حسن کا استعارہ سمجھ کر اپنے پیاروں کیلئے  مہہ وش، مہہ پارہ و مہہ جبین کے لقب تراش رکھے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ چاند بیچارہ خود بالکل تاریک ہے اور اس کا روپ سورج کی دھوپ کا مرہون منت ہے۔ چنانچہ فلکیاتی چاند ہمیں زمین سے نظر نہیں آتا۔ اگر چاند اور سورج کے اوقاتِ غروب کے درمیان مناسب وقفہ موجود ہو تو  24 سے 30 گھنٹہ پرانا چاند زمین سے نظر آنے کے قابل ہوتا ہے۔
اب آتے ہیں ذی الحجہ کے چاند کی طرف
اس ماہ کافلکیاتی چاند پیر  20 جولائی کو رات دس بجر 32 منٹ پر تولد ہوا
منگل 21 جولائی کو شام کے سات بجکر 21 منٹ پر جب کراچی میں سورج غروب ہوا اسوقت اس نونہال کی عمر  صرف 20 گھنٹہ اور 49 منٹ تھی۔ یہ نیا نویلا ہلال سورج ڈوبنے کے صرف 48منٹ بعد غروب ہوگیا۔ اس عمر کا چاند زمین سے نظر آنا خاصہ مشکل ہے اور عدم شہادت کی بنا پر روئت ہلال کمیٹی نے چاند نہ دکھائی دینے کا اعلان کردیا۔
لیکن دوسرے دن غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 44 گھنٹے اور 49 منٹ تھی اور یہ سورج ڈوبنے کے 96 منٹ بعد تک چمکتا رہا۔ عمر میں 24 گھنٹے اضافے اور غروبِ آفتاب کے بعد ہلال کے دورانئے کی وجہ سے 30 کا چاند موٹا، روشن اور دیر تک آسمان پر موجود رہا
ایک دن قبل عدم روئت کو 'موٹے چاند' کی بنیاد پر مسترد کرنے والی بات معصومانہ فریب کے سوااور کچھ نہیں۔

Saturday, July 18, 2020

ریلوے کے بعد ایران گیس منصوبے سے بھی ہندوستان کی علیحدگی


ریلوے کے  بعد ایران گیس منصوبے سے بھی ہندوستان کی علیحدگی
چاہ بہار زاہدان ریلوے کے بعد ہندوستان کو فرزاد بی گیس کے ترقیاتی منصوبے سے بھی الگ کردیا گیا
خلیج فارس میں فرزاد بی گیس کا میدان 2012میں دریافت ہوا تھا۔ 
فزاد بی دنیا کے سب سے بڑے گیس میدان پارس شمالی کے مشرق میں  واقع ہے۔
فرزاد میں موجود گیس ذخیرے کا تخمینہ 217 ہزار ارب مکعب فٹ (21.7 trillion  cubic feet)ہے۔2013سے پیداوار کا آغا ز ہوا اور ان کنوؤں سے 1.1ارب مکعب فٹ گیس روزانہ  نکالی جارہی ہے۔
ہندوستان کی ONGC و دیش لمیٹیڈ (OVL)نے میدان کی ترقی ،نئی تنصیبات اور ترقیاتی کنوؤں کی کھدائی کیلئے 6ارب ڈالر لگانے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک OVLنے اس منصوبے پر صرف 10کروڑ ڈالر خرچ کئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے ایران کی قومی تیل کمپنی NIOCکے سربراہ مسعود کرباسیان  نے کہا تھا کہ  ایران فرزاد بی میدان کی ترقی کیلئے پرعزم ہے اور انکی کمپنی اب اپنے وسائل سے کام کریگی
چاہ بہار ریلوے سے ہندوستان کی علیحدگی کا اعلان بھی ایسے ہے شگفتہ سفارتی انداز میں کیا گیا تھا
مغربی سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ عنقریب  چین کی CNPC ہندوستانی OVLکی جگہ لے لے گی
بیجنگ اور تہران کے بڑھتے ہوئے قرب سے امریکہ بہادر خاصے پریشان ہیں ۔ آج واشنگٹن نے ایران کو جوہری تنازعے سمیت تمام معاملات پر غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش کی ہے

Thursday, July 16, 2020

کرونا کا اقبال ۔۔ مقبولیت کازوال


کرونا کا اقبال ۔۔ مقبولیت کازوال
امریکہ میں کرونا وائرس یا COVID-19کی وبا خطرناک رخ اختیار کرتی جارہی ہے۔ مئی کے مہینے بحر اوقیانوس کے ساحل پر نیویارک، نیوجرسی، پنسلوانیہ، دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی  اور ورجینیا کی ریاستیں بری طرح متاثر ہوئیں۔ اسی دوران مغرب میں کیلی فورنیا اور واشنگٹن کو اس نامراد مرض نے اپنا ہدف بنالیا۔ اتفاق سے یہ تمام ریاستیں حزب اختلاف یعنی ڈیموکریٹک پارٹی کاگڑھ ہیں۔ ان ریاستوں کے تمام بڑے شہروں کے روسائے شہر (Mayors)بھی صدر ٹرمپ کے مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔اس دوران وفاق اور ریاستی و شہری حکومتوں کے درمیان کشیدگی بہت کھل کر سامنے آئی۔ صدر ٹرمپ کرنا وائرس کے پھیلاو کا الزام ڈیموکریٹک پارٹی کی بدانتظامی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی کامی (کمیونسٹ) پالیسیوں پر لگاتے رہے۔ ہمارے خیال میں تو ڈیموکریٹس کو بائیں بازو کا کہنا ایسا ہی ہے جیسےبھارت کو سیکیولر ریاست سمجھنا۔
جون کے آغاز سے وبا قابومیں آتی نظر آئی چنانچہ مہینے کے آخری ہفتے میں لاک ڈاون نرم کرنے اور کاروبار زندگی کے دوباہ شروع ہونے کا بتدریج آغاز ہوا۔ دوسری سرگرمیوں کے ساتھ میکدوں کے دروازے کھول دئے گئے اور اسی کے ساتھ تشنہ لب  جام وسبو کیلئے دیوانہ وار دوڑ پڑے۔ اس دوران شراب خانوں کے باہر تک رندوں کے ہجوم نظر آئے۔ پینے، پلانے اور پی کر بہکتے ہوئے تن دوری (Social Distancing)کا کس کم بخت کو ہوش تھا۔ شوق جام و سبو کے ساتھ منچلوں نے ساحل سمندر پر بھی جھمگھٹے لگادئے۔ اس تفریح نے جہاں دوستوں کو ہنسنے بولنے کا موقع فراہم کیا وہیں کرونا وائرس بھی تیزی لیکن خاموشی سے اپنا کام کرتا رہا۔ یعنی مرزاغالب کی فاقہ مستی کی طرح امریکیوں کی بلانوشی اور غسل آبی و آفتابی نے رنگ دکھاناشروع کردیا۔
جولائی کے پہلے ہفتے سے امریکہ کی جنوبی ریاستوں ٹیکسس، فلوریڈا، لوزیانہ اور ایریزوناکے ہسپتالوں میں مریضوں کی آمد بڑھ گئی۔اتفاق سے ان تمام ریاستوں میں صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی برسراقتدار ہے، تاہم اکثربڑے شہروں کے میئر ڈیموکریٹک پارٹی کے ہیں، چنانچہ ریاستی اور شہری حکومتوں کے درمیان چپقلش صاف نظر آرہی ہے۔ ریپبلکن پارٹی ٹیکسس کے شہر ہیوسٹن میں علاقائی کنونشن منعقد کرنا چاہتی تھی جسکی گورنر نے منظوری دیدی لیکن شہر کے سیاہ فام میئر نے مرکزی سماعت گاہ کو  عارضی ہسپتال بنانے کا اعلان کردیا۔ NRGکے نام سے مشہور یہ وہی سماعت گاہ ہے جہاں گزشتہ سال ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی نے صدر ٹرمپ کے ہمراہ بہت بڑے جلسے سے خطاب کیا تھا۔
اتوار 12 جولائی کو صرف فلورڈا میں 15 ہزار نئے مریض سامنے آئے۔ ایریزونا کے مردہ خانوں میں جگہ نہ رہی اور لاشیں رکھنے کیلئے خوراک ڈھونے والے منجمد یا Freezing Truckکرائے پر حاصل کئے گئے۔ٹیکسس اور لوزیانہ کے ہسپتالوں میں جگہ تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے ان ریاستوں میں لاک ٖڈاون کو دوبارہ سخت کردینے کی بات شروع ہوگئ ہے۔ شراب خانوں اور ریستورانوں میں بیٹھ کر پینے اور کھانےکی سہولت ختم کردی گئی ہے۔ کئی جگہ ساحل پر پولیس کے ذریعے تن دوری کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ ماسک کو بھی بہت سےشہروں میں لازم کردیا گیا ہے۔
کرونا کی وباکے ساتھ ہی 3نومبر کو ملک میں عام انتخابات بھی ہونے ہیں اور سیاست کا اثراس موذی مرض سے بچاو  کی کوششوں پر نظر آرہاہے۔ صدر ٹرمپ پُر اعتماد تھے کہ بہتر اقتصادی صورتحال، بازارحصص کی اعلیٰ سطح اور 3 فیصد سے بھی کم بے روزگاری کی بنا پر انکے لئے دوبارہ انتخاب جیتنا زیادہ مشکل نہ ہوگا۔ ملکی معیشت کو انھوں نے اپنی انتخابی حکمت عملی کی بنیاد بنایا تھا لیکن کرونا سے سار ی دنیا کی طرح امریکی معیشت بھی شدید دباو میں ہے۔ بیروزگاری کا تناسب 13 فیصد ہے۔ سیانوں کا خیال ہے کہ کرونا کی وباپر قابو پانے کے بعد بھی معیشت کی مکمل بحالی میں کم ازکم دوسال لگیں گے اور اگلے سال کے اختتام تک بیروزگاری کی شرح کے 10 فیصد سے کم ہونے کے امکان بہت کم ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کووڈ 19اتناخطرناک اور مہلک نہیں جتنا ڈاکٹر حضرات کہہ رہے ہیں۔ انکےخیال میں ڈیموکریٹک پارٹی اور بیماریوں کے کنٹرول کے قومی ادارے یا CDCنے اسے ایک ہوا بنادیا ہے جسکی وجہ سے امریکیوں میں غیر ضروری خوف و ہراس ہے۔ امریکی صدر شبہہ ظاہر کررہے ہیں کہ کرونا کا ہنگامہ کھڑا کرکے انکے مخالفین ملکی معیشت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جسے انھوں نے چار سال کی محنت شاقہ سے بام عروج پر پہنچایا ہے۔ وہ  CDCکے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فاوچی پر بھی 'بہت سی غلطیاں' کرنے کا الزام لگاچکے ہیں
اب امریکی صدر کا اصرار ہے کہ اگست میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اسکول کھولدئے جائیں۔گزشتہ روز سی این این پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرتعلیم بیٹسی ڈیواس نے کہا کہ اب ہفتے میں پانچوں دن کلاسیں شروع کرنے کا وقت آگیاہے۔ فاضل وزیر کاکہنا تھا کہ بچوں کا اسکول آنا بالکل محفوظ ہے لہذا آن لائن کے بجائے طالب علموں کو کمرہ کلاس میں بیٹھ کر سبق لینا چاہئے۔ محترمہ ڈیوس کے مطابق سائنس دانوں کا بھی یہی خیال ہے کہ بچوں کو یہ وائرس نہیں لگتا، اس لیے اسکول بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر بند رہنے والے اسکولوں کی وفاقی مدد معطل کردی جائیگی۔ دوسری طرف سی ڈی سی کو اسکولوں کے کھلنے پر شدید تحفظات ہیں۔ ٖڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ  احتیاطی تدابیر کے بغیر اسکولو ں کوکھول دینا سخت خطرناک ہوسکتا ہے۔ماسک کی پابندی تو زیادہ مشکل نہیں لیکن تن دوری کے اہتمام اتنا آسان نہیں اور ہر کلاس کیلئے کم ازکم 3 کمروں کی ضرورت پڑیگی۔یعنی عمارت میں دوتہائی توسیع کے بغیر اسکولوں کو کھولنا ممکن نہیں۔ صحت کے ماہرین کو شدید تشویش اساتذہ کی جانب سے ہے۔امریکہ میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی تعداد 15 لاکھ کے قریب ہے جس میں سے 4 لاکھ کی عمر 60 سال یا اس سے زیادہ ہے۔ اکثر سینئر اساتذہ ذیابطیس، سانس کے عارضے یا بلند فشار خون  میں مبتلا ہیں اور اس وبا کا شکار ہو سکتے ہیں۔والدین کی بڑی تعداد بھی اسکول کھولنے کے حق میں نہیں۔ 13 جولائی سے ریاست مشیگن  کے شہر ڈیٹرائٹ میں جب اسکول کے گرما سیشن کا آغاز ہوا تو سینکڑوں والدین نے اسکے خلاف مظاہرہ کیا اور اسکول بسوں کے آگے دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ اسکے جواب میں صدر ٹرمپ کے حامیوں نے اسکول کھولنے کے حق میں مظاہرہ کیا۔
صدر ٹرمپ کے سخت روئے سے انسداد کرونا کی کوششیں متاثر ہورہی ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے تک وہ ماسک لگانے پر اپنے حریف جو بائیڈن کا مذاق اڑاتے رہے بلکہ یہ بھی فرماگئے کہ بہت سے مخالفین انھیں چڑانے کیلئے ماسک استعمال کرتے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے اندازہ ہورہا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت صدر کے روئے کو پسند نہیں کرتی۔ حال میں لئے جانے والے ایک جائزے سے اندازہ ہوتا کہ ملک کے 62 فیصد لوگوں کے خیال میں کرنا وائرس کے خلاف کوششوں میں صدر ٹرمپ کا رویہ غیر سنجیدہ نظر آرہا ہے۔
اب جبکہ انتخابات میں صرف 4 ماہ باقی ہیں،ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار پر بھی گرما گرم بحث کا آغاز ہوچکا ہے۔ CDCکے افسران ووٹنگ کے دوران کرونا کے پھیلاو کا خطرہ ظاہر کررہے ہیں۔ انکاکہنا ہے ذاتی طور پر حاضر ہو کر ووٹ ڈالنے کے بجائے اسکا متبادل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں آن لائن اور بذیعہ ڈاک ووٹنگ کے طریقے تجویز کئے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر ووٹروں کا پولنگ اسٹیشن پر آناضروری ہو تو ووٹنگ کا دورانیہ بڑھاکر ہجوم کو کم سے کم کرنے کے طریقے اختیار کر نے کی ضرورت ہے۔
امریکہ میں ووٹنگ کا طریقہ کار طئے کرنا ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔اس بنا پر معاملہ کچھ اور بھی پیچیدہ ہوگیا ہے۔ ریاست کولوریڈو نے پرائمری انتخابات میں 99 فیصد ووٹروں نے بذیعہ ڈاک یا پوسٹل بیلٹ استعمال کئے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بعض پولنگ اسٹیشنوں پر اقلیتی ووٹروں کو ہراساں کئے جانے کی شکایات بہت عام ہیں اور پوسٹل بیلٹ سے اس شکائت کا ازالہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ میں قبل از وقت پولنگ کا طریقہ رائج ہے یعنی پولنگ کی تاریخ سے دوہفتہ پہلے ہی بہت سے پولنگ اسٹیشن کھول دئے جاتے ہیں تاکہ پولنگ کو روز ہجوم نہ ہو۔ ایک تجویز ہے کہ اس بار قبل از وقت پولنگ کا دورانیہ بڑھا دیا جائے۔
صدر ٹرمپ بذریعہ ڈاک ووٹنگ کے سخت خلاف ہیں۔ انکا خیال ہے کہ یہ طریقہ محفوظ نہیں اور  بڑے پیمانے پر جعلی ووٹنگ ہوسکتی ہے۔بہت سے شہریوں کو خدشہ ہے کہ بذریعہ ڈاک ووٹ ڈالنے میں انکی شناخت اور ذاتی نوعیت کی معلومات افشا ہوسکتی ہیں۔
اسی کے ساتھ کرونا وائرس کی وبا نے امیدواروں کیلئے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ ان حالات میں روایتی جلسے یا انتخابی ریلیاں ممکن نہیں اور 15 کروڑ ووٹروں سے رابطے کا سب سے موثر  ذریعہ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، ریڈیو اور ٹیلی وژن ہیں،جن پر خطیر رقم خرچ ہورہی ہے۔ 2016 کی انتخابی مہم پر مجموعی طور پر ڈھائی ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے اور اس بار شائد اس سے ڈیڑھ گنا زیادہ رقم درکار ہو۔ صدر ٹرمپ اور جو بائیڈن ووٹ سے پہلے نوٹ جمع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انتخابی چندہ جمع کرنے کی مہم میں فی الحال جوبائیڈن کو امریکی صدر پر ایک کروڑ ڈالر کی برتری حاصل ہے۔ سوشل میڈیا میں صدر ٹرمپ صرف ٹویٹر کو استعمال کررہے ہیں جو بالکل مفت ہے اسکے علاوہ وہ محدود پیمانے پر عوامی جلسے بھی کررہے ہیں۔دوسری طرف جو بائیڈن فیس بک اور سوشل میڈیا کے دوسرے پلیٹ فارم پر خطیر رقم خرچ کررہے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے ایک نشست میں عرض کیا تھا کہ امریکہ میں صدر کا انتخاب عام انتخابات میں ڈالے گئے پاپولر ووٹوں کے بجائے ریاستوں کے الیکٹرل ووٹوں سے ہوتا ہے، اسلئے نتائج کے بارے میں کچھ کہنا آسان نہیں اور اس بارکرونا وائرس نے بے یقینی کو دو چند کردیاہے۔ ماہرین طب کے خیال میں موسمِ خزاں میں کرونا وائرس کی ایک نئی لہر  خارج از امکان نہیں۔ نیا حملہ رائے عامہ کی صورت گری کس نہج پر کریگا اسکے بارے میں کچھ کہنا بہت مشکل ہے کہ اسکی وجہ سے ووٹ ڈالنے کا تناسب بھی بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔
اسوقت تک کی صورتحال جو بائیڈن کے حق میں نظر آرہی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں چار ریاستیں صدر ٹرمپ کی کامیابی کا باعث بنی تھیں۔صدر کو مشیگن میں 0.03، پنسلوانیہ میں 0.7، فلوریڈا میں 1.2 اور وسکونسن میں 0.77 فیصد ووٹوں کی برتری پر ان ریاستوں سے مجموعی طور پر 73 الیکٹرل ووٹ ملے تھے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان تمام ریاستوں میں اس بار جو بائیڈن کو برتری حاصل ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار سینیٹر ہیلری کلنٹن سیاہ فام ووٹروں کو گھر سے نکالنے میں کامیاب نہ ہوسکیں  اور 2012 کے ریپبلکن امیدوار مٹ رامنی سے کم ووٹ لینے کے باوجود صدرٹرمپ کو ان ریاستوں میں اپنی مخالف پر برتری حاصل ہوگئی۔ اس بار سیاہ فاموں میں خاصہ جوش و خروش ہے جسکی وجہ سے ٹیکسس جیسے ریپبلکن کے قلعے میں بھی کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔
سیاہ فاموں کے علاوہ غیر ملکی تارکین وطن کے ووٹ بھی اہمیت کے حامل ہیں لیکن تارکینِ وطن ان انتخابات کے نتائج پر کس حد تک اثر انداز ہوں گے اس کا دار و مدار کئی عوامل پر ہو گا۔ امریکہ کے غیر جانبدار مرکز دانش (Think Tank)پیو Pewتحقیقی مرکز کے مطابق غیر امریکی  نژاد ووٹروں کی دوتہائی کے قریب تعداد کیلی فورنیا، نیویارک، فلوریڈا، ٹیکسس اور نیوجرسی میں آباد ہے۔ ٹیکسس اور فلوریڈا کے سوا باقی تین ریاستیں ڈیموکریٹک پارٹی کے گڑھ ہیں اسلئے ان ریاستوں میں تارکین وطن کے ووٹ شائد فیصلہ کن ثابت نہ ہوسکیں لیکن فلوریڈا کے 25 لاکھ غیر ملکی نژاد ووٹر تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی طرح ٹیکسس کے 18 لاکھ تارکین وطن اگر صدارتی انتخابات پر اثر انداز نہ ہوسکے تب بھی  کانگریس اور سینیٹ کی نشستوں پر ریبپکن امیدواروں کیلئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ غیر ملکی تارکین وطن کے بارے میں صدر ٹرمپ کا رویہ توہین آمیز ہے اورگزشتہ چار سالوں کے دوران امیگریشن سے متعلق انکے فیصلوں اور اقدامات پر تارکین وطن کو خاصی  تشویش ہے چنانچہ ماہرین توقع کررہے ہیں کہ تارکین وطن بلاک کی صورت میں ریپبلکن پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔
سیاسی ماہرین کے خیال میں اس بار مشیگن اور وسکونسن سے جو بائیڈن کی کامیابی یقینی نظر آرہی ہے اور اگر ایسا ہوا تو فلوریڈا اور پنسلوانیہ میں سے کسی ایک ریاست میں بھی کامیابی قصر مرمریں کی کنجی انکے قدموں میں ڈال دیگی۔
معزز قارئین، ماہرین کی رائے سر آنکھوں پر لیکن یہ تجزیہ رائے عامہ کے جائزوں اور اس مفروضے پر مبنی ہے کہ 2020 کے نتائج 2016 کے مطابق ہونگے۔ شماریات اور تجزیاتی ٹیکنالوجی کی ترقی کے بعد  رائے عامہ کے جائزے خاصے معتبر ہیں لیکن یہ بہر حال رائے عامہ کا جائزہ ہے اور پھر ابھی انتخابات میں چار مہینے باقی ہیں یعنی پلوں کے نیچے سے ابھی بہت سارا پانی بہنا ہے اسلئے نتائج کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ انشااللہ اس موضوع پر آنے والے دنوں میں مزید گفتگو ہوگی۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 جولائی 2020
ہفت روزہ دعوت دہلی 17 جولائی
2020

تیل کے میدان سے اچھی خبر


تیل کے میدان سے اچھی خبر
ہنگری کی تیل کمپنی MOLنے خیبرپختونخواہ کے ضلع کوہاٹ سے تیل و گیس کے ایک نئے  ذخیرے کی  نوید سنائی ہے۔ مامی خیل  ساوتھ نمبر 1 کے نام سے یہ کنواں، ٹل بلاک میں کھوداگیا۔ اس مشارکے (Joint Venture)میں پاکستان آئل فیلڈ 21 فیصد، پاکستان پیٹرولیم لمیٹیڈ27.8اور او جی ڈی سی کا حصہ 27.8 فیصد ہےجبکہ 8.4فیصد ملکیتی   حقوق کے ساتھ MOLمشارکے کی قیادت کررہی ہے۔ یہ بلاک غالباً پہلے او جی ڈی سی کے پاس تھا لیکن بڑی کامیابی نہ ہونے کی بناپرکمپنی اس سے دستبردار ہوگئی اور 1998میں اسے MOLنے لے لیا۔
اس بلاک  اور MOL کے ساتھ ہماری بہت سی یادیں  وابستہ ہیں۔ یہ غالباً 1998کے وسط کی بات ہےجب میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں ہنگری کے ایک باشندے  سے ملاقات ہوئی ۔ اسوقت ہم بیکر ہیوز کے ملازم تھے۔ تعارف پر معلوم ہوا کہ  یہ MOLکے کنٹری منیجر ہیں اور انکی کمپنی  کوہاٹ میں قسمت آزمائی کرنا چاہتی  ہے۔ ان صاحب کا نام Hadjuتھا۔ اسکے بعد ہماریHadjuسےپکی دوستی ہوگئی۔ انکی رہائش میریٹ ہوٹل کے قریب تھی اور تقریبا ہر ہفتے ہماری ان ملاقات رہتی۔کچھ عرصے بعدحاجو کچھ پریشان نظر آئے، بات کرنے پر اندازہ ہوا کہ انکی کمپنی کا خیال ہے کہ اس بلاک میں ناکامی کے امکانات  زیادہ ہیں  اور MOLاس بلاک سے دستبردارہونے پر غور کررہی ہے۔حاجو کا کہنا تھا کہ MOLکے پاکستان میں رکنے کی ایک ہی صورت ہے کہ کچھ دوسری کمپنیاں اس منصوبے میں اسکی شریک یا Partnersبن جائیں۔ اسکے بعد کی کچھ روداد  کا ذکر پیشہ ورانہ رازداری کےاصول کے تحت مناسب نہیں۔ 
کچھ دن  بعدحاجو کا فون آیا، لہجہ خوشی سے کھنک رہا تھا۔ یہ ہفتے کا دن تھا، انھوں نے کھانے کی دعوت دی اور ساتھ ہی یہ بھی کہ انکا ڈرائیورچھٹی پر ہے لہٰذا میریٹ جاتے ہوئے مجھے میرے گھر سے لے لو۔ جب میں انکے گھر پہنچا تو موصوف باہر ہی کھڑے تھے،موصوف کا چہرہ خوشی سے گلنار تھا۔ کار میں بیٹھتے ہاجونے کہا کہ میں بہت خوش ہوں۔مجھے اسلام آباد بہت پسند ہے اور اب مجھے یہاں سے جانانہیں پڑیگا۔حاجونے بتایاکہ کچھ مقامی کمپنیوں نے پارٹنر شپ میں دلچسپی ظاہر کی ہےاور خیال ہے کہ معاہدہ جلدہی طئے پاجائیگا۔ اور ہوا بھی ایسا ہی، یعنی پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم اور او جی ڈی سی نے MOLسےمعاہدہ کرلیا
مول  سے  وابستہ ایک اور اہم واقعہ 2007 میں پیش آیا جب ہم ویدردفورڈ کے نوکر تھے۔ یہ وہ دور تھا جب شمالی علاقوں میں دہشت گردی عروج پر تھی اور ایک دن  مول کے ڈرلنگ منیجر احمد کا فون آیا اور انھوں نے بتایا کہ امن وامان کی صورتحال کی وجہ سے شلمرژے نے خدمات فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ویدرفورڈ وائرلائن کی خدمات بھی فراہم کرے۔ مول  کی اس دعوت  نے ویدرفورڈ کیلئے  مواقع و امکانات کے  نئےدروازے کھول دئے
ٹل بلاک کوہاٹ ضلع میں واقع ہے اور یہاں پہلا کنواں منزلائی  نمبر 1 کے نام سے 2002 میں کھوداگیا جو کامیاب رہا۔ بدقسمتی سے اس بلاک کیلئے حد درجہ محنت کرنے والےحاجو سے زندگی نے وفا نہ کی اور اس دریافت سے پہلے ہی انکا اسلام آباد میں انتقال ہوگیا۔
اس بلاک کا آخری کنواں مکوڑی  ڈیپ  تھا  جو جون 2016 میں کھودا گیا۔ 
ٹل بلاک میں مامی خیل ساوتھ دسویں کامیابی ہے۔ ابتدائی پیمائش و آزمائش کے مطابق کنویں  سے پیداوار کا تخمینہ  3240 بیرل تیل اور  ایک کروڑ 61لاکھ مکعب فٹ (16.12mmscfd )گیس روزانہ ہے۔ ارضیات کے طلبہ کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ پیداوار لوکھارٹ اور  ہنگو طبقات (formation)سے حاصل کی جارہی ہے۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ  چٹان کی تشکیلی ہئیت میں دراڑ (fault)کی بناپراوپر پائے جانے والے طبقات  کا مزید گہرائی میں دوبارہ  سامنا پیش آسکتا ہے جسے Thrust Faultingکہتے ہیں۔یہاں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ بلاک کے دوسرے کنووں میں یہ طبقات  دراڑ سے  اوپر تھے جبکہ مامی  خیل میں یہ Thrust Faultکی دوسری طرف مزید گہرائی میں پائے گئے ہیں  یعنی دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی۔ مامی خیل ساوتھ پر دراڑ کے نیچے پائے جانیوالے طبقات میں تیل و گیس کی موجودگی سے ٹل  میں مزیدذخائر کے امکانات  روشن ہوگئے ہیں۔ 
پاکستان میں تیل کی مجموعی پیدوار80ہزاربیرل یومیہ ہے جبکہ ملک کو توانائی کیلئےروزانہ 4 لاکھ بیرل تیل درکار ہے ۔اسی طرح  ہمیں  یومیہ 7 ارب مکعب فٹ گیس  کی ضرورت ہے لیکن  گیس کی مقامی پیدوار 4 ارب  مکعب فٹ  روزانہ ہے۔
جاری مالی سال کے پہلے گیارہ مہنیوں یعنی گزشتہ برس جولائی سے اس سال مئی تک پاکستان نے خام تیل و پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر 9 ارب 80 کروڑ ڈالر کا قیمتی زر مبادلہ خرچ کیا جو کل درآمدی حجم یعنی 40 ارب 86 کروڑ ڈالر کا 23 فیصدہے