Thursday, August 27, 2020

سعودی آرامکو کی مشکلات

 

سعودی آرامکو کی مشکلات

قیمتوں میں کمی سے جہاں دوسری تیل کمپنیوں کی طرح سعودی آرامکو کی آمدنی متاثر ہورہی ہے وہیں بازارپر کمپنی کی گرفت بھی کمزور پڑتی نظر آرہی ہے۔ آرامکوکا سب سے بڑا گاہک  ،  چین  اب سعودی عرب کے مقابلے میں عراق سے زیا دہ تیل خرید رہا ہے۔ اس سال کے پہلے 7 مہنیوں کے دوران چین نے

روس سے 77 لاکھ

عراق سے 60لاکھ

سعودی عرب سے 56 لاکھ 

امریکہ سے 50 لاکھ اور

برازیل سے 48 لاکھ بیرل تیل ماہانہ  خریدا

چین کو تیل فراہم کرنے والے ممالک میں سعودی عرب کا اب تیسرا نمبر ہے  اور یہ مقام بھی خطرے میں ہے کہ امریکہ آرامکو سے صرف  20 ہزار بیرل  یومیہ  کم ہے

حوالہ: آئل پرائس ڈاٹ کام

Wednesday, August 26, 2020

امریکہ کے صدارتی انتخابات۔ امیدواروں کا تعارف۔ کملادیوی

امریکہ کے صدارتی انتخابات۔ امیدواروں  کا تعارف۔ کملادیوی 

55 سالہ کملا دیوی ہیرس نائب صدارت کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیں۔ کملا ہیرس امریکی تاریخ کی پہلی سیاہ فام اور ہندوستانی نژاد خاتون ہیں جنھیں نائب صدرکیلئے امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 1984 میں سابق نائب صدر والٹر مانڈیل نے  نائب صدارت کیلئے جیرالڈین فرارو اور 2008میں انجہانی سینیٹر جان مک کین نے محترمہ سارا پیلن کو نائب صدارت کیلئے نامزد کیا تھا۔ بدقسمتی سے یہ دونوں خواتین ہارنے والے پینل کا حصہ ثابت ہوئیں۔

کملا کی والدہ ڈاکٹر شیا مالا گوپلان مدراس، ہندوستان سے  اعلی تعلیم کیلئے جامعہ کیلی فورنیا برکلے آئی  تھیں جہاں انکی ملاقات جمیکا (Jamaica)کے ڈاکٹر ڈانلڈ ہیرس سے ہوئی۔ جلد ہی  دونوں نے شادی کرلی۔ کملا کی پیدائش کے صرف سات سال بعد انکے والدین کی طلاق ہوگئی۔  جسکے بعد  کملا اور انکی چھوٹی بہن مائرہ اپنی ماں کیساتھ رہنے لگیں۔ انکی والدہ مذہبی خاتون تھیں اور وہ رواداری کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو ہندومندر کے ساتھ انکے پتاجی کےسیاہ فام گرجا بھی لے جایا کرتی تھیں۔کملا کو کم عمری سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ کہتی ہیں کہ بچپن میں سفید فام بچے انکے ساتھ نہیں کھیلتے تھے۔ کملا کی والدہ 2011میں انتقال کر گئیں۔

کملا ہیرس نے امریکی دارالحکومت کی جامعہ ہورورڈ (Howard) سے سیاسیاست اور معاشیات میں بی اے کیا۔ احباب کی وضاحت کیلئے عرض ہے کہ Howardاور جامعہ ہارورڈHarvardمحتلف تعلیمی ادارے ہیں۔ ہارورڈ میسیچیوسٹس کے شہر بوسٹن میں ہے۔ Howardسیاہ فام تعلیمی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ بی اے کے بعد کملا نے جامعہ کیلی فورنیا  سان فرانسسکو سے قانون کی سند حاصل کی۔ کملا کی اب تک اپنی کوئی اولاد  نہیں لیکن انکے شوہر ڈگلس ایمہوف کی سابق اہلیہ کے دو بچے انکے ساتھ رہتے ہیں۔ کملا کے بے پناہ پیار کی وجہ سے انکے سوتیلے بچے (ایک بیٹی اور ایک بیٹا) انھیں مومالا (موم کمالا) کہتے ہیں۔ ڈگلس ایمہوف ایک راسخ العقیدہ یہودی ہیں۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد محترمہ کملا المیڈا کاونٹی کی نائب ایڈوکیٹ جنرل (Assistant District Attorney)مقرر ہوئیں۔ 2003 میں انھیں سان فرانسسکو کی سرکاری وکیل (District Attorney)منتخب کرلیا گیا،جبکہ 2010 کے انتخابات میں کملا کیلی فورنیا کا اٹارنی جنرل منتخب ہوئیں۔ 2016 میں  جب ڈیموکریٹک پارٹی کی سینئر سینیٹرباربرا باکسر نے عملی سیاست کو خیر باد کہا تو انکی خالی کردہ نشست پر کملا ہیرس  سینیٹر منتخب ہوگئیں۔

2018کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعدکملا ہیرس نے 2020 کے صدارتی انتخاب کیلئے مہم شروع کردی۔ وہ جو بائیڈن کی سخت مخالف تھیں اور ایک مباحثے میں انھوں نے جو بائیڈن پر نسل پرستی  کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ انکا کہنا تھا کہ  جب وہ چھوٹی تھیں تو کملا محلے کے اسکول جانے کے بجائے بس پر بیٹھ کر بہت دور واقع ایک اسکول جاتی تھیں کہ محلے کے سفید فام اسکول میں انکا داخلہ ممنوع تھا۔ کملا ہیرس نے الزام لگایا کہ اسوقت جو بائیڈن سینیٹر تھے اور انھوں نے اس نسلی امتیاز کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔ اس موقع پر کملا اور جوبائیڈن کے درمیان سخت تلخ کلامی ہوئی اور مباحثے کے بعد وہ جو بائیڈن سے ہاتھ ملائے بغیر پیر پٹختی اسٹیج سے اتر گئیں۔

پرائمری انتخابات کے دوران کملا کی کارکردگی شروع ہی سے خراب تھی۔ چنانچہ  وہ نوشتہ دیوار پڑھ کر جلد ہی دستبردار ہوگئیں۔ مہم ختم کرتے ہوئے کملا نے کہا کہ انکے پاس انتخابی مہم جاری رکھنے کیلئے مالی وسائل نہیں۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے جو بائیڈن کی غیر مشروط حمائت کا اعلان کردیا۔

 کملا ہیرس ہیں تو نسلی اعتبار سے سیاہ فام لیکن اٹارنی اور مستغیث (Prosecutor)کی حیثیت سے انھوں نے زیادتی اور نسلی امتیاز کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسران کا دفاع  اور چھوٹے چھوٹے جرائم پر عدالتوں سے سخت ترین سزاوں کامطالبہ کیا۔ 1994 میں منشیات اور پرتشدد جرائم کے سد باب کیلئے صدر بل کلنٹن  نے عادی وپیشہ ور مجرموں کو سخت سزادینے کیلئے Habitual Offenders Lawsمنظورکیا جسکے مطابق تین چھوٹی واردات کے مرتکب افراد کو خطر ناک و ناپسندیدہ عنصر سمجھ کر انکے لئے عدالتوں سے سخت سزا کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ یہ ضابطہ تین خلاف ورزی یا Three-strikes laws کے نام سے مشہور اور سیاہ فاموں میں بدنام ہے۔ پولیس سیاہ فام بچوں کو دوکان سے چاکلیٹ کی ٹکیہ چرانے، شراب خریدنے کیلئے جعلی شناخت دکھانے، اسکول میں لڑائی جھگڑے، آدھی رات کے بعد آوارہ گردی ، سڑک پر زیبرا کراسنگ کو نظر انداز کرکے سڑک پار(jay walking)کرنے جیسے تین چھوٹے الزامات میں ملوث کرکے ان کیلئے سخت سزاوں کا مطالبہ کرتی ہے۔ امریکی جیلوں میں ہزاروں کم عمر سیاہ فام اور ہسپانوی نوجوان 'تین خلاف ورزیوں' کے الزام میں طویل سزا بھگت رہے ہیں۔ سرکاری وکیل کی حیثیت سے کملا نے کم عمر رنگدار بچوں کو سخت سزائیں دلوائیں۔


 

 

Tuesday, August 25, 2020

معاہدہ ابراہیم کو دھچکہ؟؟؟؟

 

معاہدہ ابراہیم کو دھچکہ؟؟؟؟

خبر گرم ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد  بن سلمان نے اپناامریکہ کا دورہ منسوخ کردیا ہے، واشنگٹن کے صحافتی حلقوں کے مطابق 31اگست کو صدر ٹرمپ کی میزبانی میں محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی ملاقات طئے تھی جس میں ان دونوں رہنماوں کی جانب  سے عرب اسرائیل امن منصوبے کے بارے اہم اعلان ہونا تھا۔ صدر ٹرمپ اس تاریخی ملاقات کیلئے بے حد پرجوش تھے اور انھیں توقع تھی کہ اس سے انکی انتخابی مہم کو زبردست تقویت حاصل ہوگی۔ اسی لئے یہ نشست  ریپبلکن پارٹی کے قومی کنونشن کے اختتام کے فوراً بعدآراستہ ہونی تھی۔

اب کہا جارہا ہے کہ محمد بن سلمان نے دورہ منسوخ کردیا ہے۔ مشرق وسطٰی کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کا عرب دنیا میں شدید رد عمل ہے اور سوشل میڈیا پر اسے فلسطینیوں کی پشت میں چھرا اور بد ترین خیانت قراردیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اماراتی فیصلے کے زبردست خیرمقدم کے باوجود بحرین، اور عمان نے اب تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سرکاری اعلان نہیں کیا۔ سوڈان میں اس مسئلے پر سول انتظامیہ اور فوجی جنتا کے درمیان شدید کشیدگی ہے۔ مراکش، تیونس اور الجزائر بھی خاموش ہیں۔

باخبر ذرایع کے مطابق داماداول جیرڈ کشنر ،  شہزادہ گلفام کومنانے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔

عربوں کی سردمہری کی ایک اور وجہ اسرائیل کی جانب سے F-35طیاروں کی فروخت کی مخالفت ہے۔ امارات اور سعودی عرب یہ جدید ترین طیارے امریکہ سے خریدنا چاہتے ہیں۔لیکن امریکہ کے غیر تحریری قانون یا روائت کے مطابق جدید ترین اسلحہ اسرائیل  کے دشمنوں کوفروخت کرنے پر پابندی ہے

امارات کو توقع تھی کہ سفارتی تعلقات قائم کرلینے کے بعد اسکے ماتھے سے اسرائیل دشمنی کا ٹیکہ صاف ہوچکا ہوگا لیکن وزیراعظم نیتن یاہونے صاف صاف کہدیا کہ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعدبھی  اس باب میں اسرائیل کے تحفظات  ختم نہیں ہوئے۔


امریکہ کے صدارتی انتخابات۔ امیدواروں کا تعارف

امریکہ کے صدارتی انتخابات۔ امیدواروں  کا تعارف  

گزشتہ نشست  میں ہم نے صدر ٹرمپ کا تعارف پیش کیا تھا۔ آج انکے حریف  جوبائیڈن کا ذکر

77 سالہ جو بائیڈن 2009 سے جنوری 2017 تک امریکہ کے نائب صدر رہ چکے ہیں۔ انکا تعلق امریکی ریاست ڈیلاویئر Delawareسے ہے۔جناب بائیڈن کی والدہ آئرش نژاد اور ددھیالی شجرہ فرانس اور انگلستان سے ملتا ہے۔انکے والد تیل کی صنعت سے وابستہ ایک خوشحال تاجر تھے لیکن جو کی ولادت کے وقت انکا کاروبار گھاٹے کا شکار ہوگیا اور ننھے جو کا بچپن سختیوں میں گزرا۔انھوں نے خاصی کم عمری سے معاشی جدوجہد میں اپنے والد کا ہاتھ بٹایا ۔جو بائیڈن کالج کے دنوں میں فٹبال کے کھلاڑی تھے۔

جناب باییڈن کی نظریں زمانہ طالب علمی سے ہی وہائٹ ہاوس پر ہیں۔ انکی سابق اہلیہ آنجہانی نیلا ہنٹر نے اپنی ایک سہیلی کو بتایا کہ پہلی ملاقات میں جو بائیڈن نے ان کو اپنے ارادے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ 30 سال کی عمر میں  سینیٹر اور اسکے بعد امریکہ کے صدر بننا چاہتے ہیں۔ 1969 میں 27 برس کے بائیڈن لبرل منشور پرریپبلکن پارٹی کو شکست دیکر بلدیاتی کونسلر منتخب ہوگئے۔ یہ حلقہ ریپبلکن پارٹی کا گڑھ تھا اور قدامت پسندوں کو شکست سے دوچار کرکے جو بائیڈن نے ریاستی سیاست میں اپنامقام بنالیا۔ 

1972کے عام انتخابات میں جو بائیڈن نے سینیٹ کا انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا۔ انکا مقابلہ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی رہنما کیلب بوگس Caleb Boggsسے تھا جو 1960 سے اس نشست پر کامیاب ہوتے چلے آرہے تھے۔ تجربےکا فرق یوں سمجھئے کہ جب 1942 میں جو بائیڈن کی ولادت ہوئی اسی سال کیلب بوگس بلدیاتی کونسلر منتخب ہوئے تھے۔ یعنی جوبائیڈن جس شخص کے مقابلے میں خم ٹھونک کر میدان میں آئے تھے اسکا سیاسی تجربہ موصوف کی مجموعی عمر سے زیادہ تھا۔ سب سے بڑی بات کہ جو بائیڈن کی جیب  بھی خالی تھی ۔ جو بائیڈن کی ہمشیرہ ویلیری باییڈن انکی انتخابی مہم کی ناظمہ تھیں۔ انھوں نے ٹیلی ویژن اور اخبارات میں اشتہارات کے بجائے گھر گھر دستک اور گلی محلوں میں چھوٹے چھوٹے جلسوں کی منفرد حکمت عملی اختیار کی۔یہ وہ وقت تھا جب جنگ ویتنام کے حوالے سے عوام میں بیچینی تھی۔ جناب بائیڈن نے ویتنام سے امریکی فوجیوں کی واپسی کو مہم کی بنیاد بنایا اور شدید مقابلے کے بعد 'سرپھرے لڑکے' کے نام سے مشہور جو بائیڈن مسٹر بوگس کو ہرانے میں کامیاب ہوگئے۔

بلاشبہ یہ انکی عظیم الشان کامیابی تھی لیکن صرف چندہفتوں بعد انکی شدید ترین آزمائش کا آغاز ہوا اور ٹریفک کے خوفناک حادثے میں انکی اہلیہ اور شیرخوار بچی ہلاک اور دو نوں بیٹے شدید زخمی ہوگئے۔ انکی حلف برداری کی تقریب اس ہسپتال کی عبادت گاہ میں منعقد ہوئی جہاں انکے بچے زیرعلاج تھے۔اس سانحے نے بائیڈن کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کئے اور یہ خدا سے بھی متنفر ہوگئے۔ چند سال بعد انکی ملاقات ایک ماہر تعلیم محترمہ جل جیکبس سے ہوئی جنھوں نے انکی دلجوئی کی۔ جلد ہی یہ ملاقات ایک مخلصانہ رفاقت میں تبدیل ہوئی اور 1977 میں دونوں نے شادی کرلی۔ دوسری طرف انکے بچے بھی مکمل صحتیاب ہوگئے اور جوزف بائیڈن خوش و خرم رہنے لگے۔ وہ سیینٹ کی نشست پر مسلسل 6 بار منتخب ہوئے۔ امریکہ میں سینیٹر کی مدت 6 برس ہے گویا وہ 36 سال تک سینیٹ کے رکن رہے۔

اسی کیساتھ انھوں نے امریکی صدارت کیلئے قسمت آزمائی جاری رکھی۔ 1988 کے انتخابات میں انھوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی ٹکٹ کی خواہش ظاہر کی لیکن نوشتہ دیوار پڑھ کر دستبردار ہوگئے۔ اسی دوراں انھیں ایک دماغی عارضہ لاحق ہوا لیکن جلد ہی وہ صحتیاب ہوگئے۔ انھوں نے یکسوئی کیساتھ سینیٹ کی خارجہ کمیٹی میں دلچسپی لینی شروع کردی، 2007 میں وہ سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے سربراہ مقرر ہوئے۔

وہائٹ ہاوس کا خواب آنکھوں میں سجائے جو بائیڈن 2008 میں ایک بار پھر صدارتی دوڑ میں شامل ہوگئےاور بھرپور مہم چلائی۔ وہ پرائمری انتخابات میں تو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے لیکن انکے مخالف بارک اوباما جو بائیڈن کے مدلل انداز گفتگوسے بہت متاثر تھے۔  چنانچہ نامزدگی یقینی ہوتے ہی بارک اوباما نے جو بائیڈن کو نائب صدر کیلئے اپنا امیدوار نامزد کردیا۔نائب صدرکی حیثیت سے جوبائیڈن نے بہت ہی اخلاص اور 'فرمانبرداری' سے صدر اوباما کی نیابت کی۔