Thursday, September 19, 2024

تل ابیب پر Hypersonic میزائیل حملہ اسرائیلی وزیراعظم کی بددیانتی پر دستاویزی فلم عالمی فوجداری عدالت کو متاثر کرنے کی سازش طشت ازبام فوجی جرنیل کی جانب سے ناکامی کا اعتراف نیتھن یاہو قیدیوں کی ہلاکت چاہتے ہیں۔ مارے جانیوالے قیدی کا تاثر برباد غزہ میں اسکول آباد

 

تل ابیب پر Hypersonic میزائیل حملہ

اسرائیلی وزیراعظم کی بددیانتی پر دستاویزی فلم

عالمی فوجداری عدالت کو متاثر کرنے کی سازش طشت ازبام

فوجی جرنیل کی جانب سے ناکامی کا اعتراف

نیتھن یاہو قیدیوں کی ہلاکت چاہتے ہیں۔ مارے جانیوالے قیدی کا تاثر

برباد غزہ میں اسکول آباد

غزہ نسل کشی وزیراعظم نیتھن یاہو کیلئے اعصاب کی جنگ بن گئی ہے۔دو انتہاپسند وزیروں کے سوا انکی پوری کابینہ اور فوجی قیادت تسلیم چکی ہے کہ سارے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنادینے کے باوجود اسرائیل اپنا عسکری ہدف نہیں حاصل نہیں کرسکا اور مستقبل قریب میں ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ سارے ملک میں جنگ بندی کیلئے مظاہرے ہورہے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے تل ابیب میں فوجی ہیڈکوارٹر کے گھیراو کے دوران مظاہرین جو بینر لئے کھڑے تھےان میں کچھ پر لکھا تھا ' ' فوجیو!! تمہارے پاس (جنگ سے) انکار کا راستہ موجو ہے'۔

اتوار 15 ستمبر کو یمن سے پھینکے جانیوالے منجنیقی (Ballistic) میزائیل نے اسرائیلیوں کو سراسیمہ کردیاہے۔ صبح چھ بجکر 21 منٹ پر جیسے ہی یہ میزائیل یمن سے روانہ ہوا امریکی ساختہ دفاعی نظام نے اسے پہنچان لیا اور اسکے 'استقبال' کیلے ایرو (Arrow) میزائیل شکن گولہ داغ دیا گیا۔ گیارہ منٹ بعد یمنی میزائیل کے اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی ایرو میزائیل نے اسکا راستہ روکا۔لیکن اسرائیل کا یہ تیر یمنی میزائیل کو فضا میں مکمل طور پر تحلیل نہ کرسکا اور اسکے دامن میں چھپے راکٹ بن گوریان ائرپورٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر گرے جس سے کئی جگہ آگ بھڑک اٹھی۔ ایرو نظام کا ناکام ہوجانا کوئی معمولی بات نہیں۔ ماہرین کے خیال میں اسکی دو وجہ ہوسکتی ہے۔ایک تو یہ کہ میزائیل کچھ ایسے حساس آلات سے لیس تھا جس نے ایرو کا راستہ کھوٹا کردیا اور وہ یمنی میزائیل کوجزوی نقصان پہنچاسکا یا یہ آواز سے پانچ گنا تیز Hypersonicمیزائیل تھا کہ اسرائیلی تیر کے پہنچنے سے پہلے ہی میزائیل کا سامنے والا حصہ آگے نکل چکا تھا جس نے زمین پر اپنے ہدف کا نشانہ بنایا لیکن کنٹرول سسٹم ناکارہ ہوجانے کی وجہ سے راکٹ اپنے ممکنہ ہدف یعنی بن گوریان ایر اپورٹ تک نہ پہنچ سکے۔کچھ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ یہ ایرانی ساختہ Hypersonicمیزائیل کی آزمائش تھی جسکے لئے اسرائیل کو بطور ہدف چناگیا۔

عسکری کمزوری کیساتھ، نیتھن یاہو کے ذاتی کردار پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ملک میں انکی خیانت کے قصے تو  مشہور تھے ہی، ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹول (TIFF24)میں The Bibi Filesکے نام سے ایک دستاویزی فلم بھی منظرِعام پر آگئی۔کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں 5 ستمبر سے شروع ہونے والا یہ فلم میلہ اس مہینے کی 15 تاریخ تک جاری رہا۔سواگھنٹے کے دوارنئے پر مشتمل یہ دستاویزی فلم امریکہ کی مشہور ہدائت کار و فلمساز محترمہ الیکسس بلوم (Alexix Bloom)کے زیرہدائت تیار ہوئی۔امریکی فلمساز الیکس گبنی (Alex Gibney) اوراسرائیلی صحافی رویوڈرکر (Raviv Drucker) فلمسازوں میں شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم کو انکی اہلیہ پیار سے بی بی کہتی ہیں اور یہ دستاویزی فلم بی بی, انکی بی بی اور صاحبزادے یار نیھن یاہو کی بے ایمانی، مالی خردبرد اور سرکاری خزانے میں لوٹ مار کے دلچسپ قصوں پر مشتمل ہے۔ جہاں اس میں اسلحے کی خریداری، تعمیراتی منصوبوں اوربھرتی کے بھتوں کی ہوشربا داستانوں کا ذکر ہے وہیں انکی سرکاری رہائش گاہ کے مالیاتی آڈٹ کے دوران چھوٹی موٹی چوریوں کی دلچست وارداتوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ جیسےخاتون اول سارہ نیتھن یاہو نے ایوان وزیراعظم کی مختص رقم سے اپنے ذاتی گھر کیلئے فرنیچر خریدا، ایک لاکھ ڈالرانکے ضعیف والد کے علاج پر خرچ ہوئے اور 6300 ڈالر محترمہ نے اپنے پرس میں ڈال لئے۔خوش خوراک سارہ ایوان وزیراعظم آنے والے مہمانوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر لکھواتی تھیں اور اسے بنیاد بناکر انھوں نے سرکاری مطبخ کیلئےدو تین اضافی باروچی بھرتی کروالئے جو دراصل خاتون اول کے پسندیدہ پکوان کے ماہر تھے۔ موصوفہ ونیلا اور پستے کی آئسکریم بہت شوق سے کھاتی ہیں۔سارہ نیتھن یاہو کی فرمائش پر سالانہ بجٹ میں وزیراعظم ہاوس کیلئے آئسکریم کی خریداری کی مد میں 2700ڈالر مختص کئے گئے تھےلیکن محترمہ مئی تک 2000 ڈالر کی ائسکریم چٹور گئیں جسکے بعد آئسکریم کیلئے ضمنی بجٹ منظور ہوا۔

نیتھن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات پر کئی پرچے کٹ  چکے ہیں لیکن وزیراعظم ہونے کے ناطے موصوف کو عدالت میں اصالتاً پیشی سے استثنیٰ حاصل ہے۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ غزہ خونریزی بند نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جنگ ختم ہوتے ہی نئے عام انتخابات ہونگے جس میں نیتھن یاہو اور انکے انتہا پسند اتحادیوں کی شکست یقینی ہے۔ وزارت عظمیٰ سے علیحدگی پر جیسے ہی استثنیٰ کی چھتری ہٹی، جوڑہِ اول کو کرپشن کے الزام میں جیل جانا ہوگا۔ یعنی جو کوئے یار سے نکلے توسوئے دار چلے

مالی باعنوانی پر مبنی دستاویزی فلم کیساتھ اسرائیلی میڈیا پر بھی انکے مکروفریب کا شرمناک انکشاف ہواہے۔ معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ وزیر انصاف یاریف لیون (Yariv Levin)نے اٹارنی جنرل محترمہ غالی باہراومیارا (Gali Baharav-Miara) سےغزہ جنگ میں انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف وزیوں اور اس میں وزیراعظم نیتھن یاہو و وزیردفاع سمیت دوسرے ملوث افراد کے خلاف مجرمانہ (criminal)تحقیقات کی درخواست کی۔ بادی النظر میں یہ بات بڑی خوش آئند لگی بلکہ مسلم دنیا کے اسرائیل نواز روشن خیالوں نے اسے خود احتسابی کی عظیم مثال بھی قراردینا شروع کردیا۔ لیکن اسکے دوسرے ہی دن اسرائیلی ٹیلی ویژن کے چینل 12 نے اسرائیلی جمہوریت کے پھولتے غبارے میں انکشاف کی سوئی چبھودی۔ چینل نے وزارت انصاف کے اعلیٰ حکام کے حوالے سے بتایا کہ اپنے خلاف تحقیق کی فرمائش وزیراعظم نے خود کی ہے جسکا مقصد عالمی فوجداری عدالت (ICC)میں چلنے والے مقدمے پر انداز ہونا ہے۔منصوبے کے مطابق چھان بین  شروع ہونے پر ICCکو درخواست دی جانی تھی کہ اسرائیلی عدلیہ نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں لہذا اسکے نتائج کے انتظار تک ICCکی کاروائی معطل کردی جائے۔وزیراعظم کی سیاست طشت از بام ہوجانے سے پہلے ہی اٹارنی جنرل صاحبہ نے وزیرانصاف کے نام یادداشت میں قانونی رائے دے دی تھی کہ اسرائیلی وزارت انصاف کی تحقیق سے ICCمطمئن نہیں ہوگی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ تحقیقات کا ڈول ڈال کر نیتھن یاہو ایک تیر سے دوشکار کرنا چاہتے تھے۔ یعنی ایک طرف تو ICCکی تحقیقات کو معطل کراکے نئے پینترے کیلئے مہلت حاصل کی جائے تو دوسری طرف  طوفانِ اقصیٰ کی تحقیق کیلئے جو اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ ہورہااسے یہ کہہ کر مسترد کردیا جائے کہ وزارت انصاف نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے۔وزیرانصاف کی درخواست پر اپنے جوابی مکتوب میں فاضل اٹارنی جنرل نے لکھا کہ  7 اکتوبر کا سانحہ حد درجہ سنگین اور وزارت انصاف کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔اٹارنی جنرل صاحبہ اسکے لئے ایک اعلیٰ سطحی ریاستی کمیشن بنانے کی تجویز پہلے ہی د چکی ہیں۔خبر سامنے آنے پر اسرائیلی حزب اختلاف نے نیتھن یاہو کی سستی سیاست گری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اپنے ذااتی مفاد کے تحفظ کیلئے اسرائیل کی ساکھ کو داو پر لگاریے ہیں۔

فتح مبیں کے بلندو بانگ دعوے کے ساتھ فوج میں بیچینی بھی بڑی واضح  ہے۔ جمعرات 12 ستمبر کو اسرائیلی انٹیلیجنس کور (Intelligence Corps) کے سربراہ بریگیڈیر جنرل یوسی ساریل (Yossi Sariel)نے استعفیٰ دیدیا۔ یونٹ 8200 کہلانے والی اس کور کے سربراہ نے اپنے افسران اور ماتحتوں کے نام خط میں کہا کہ 'میں اپنا مشن پوراکرنے میں ناکام رہا ہوں، لہذا اس  منصب پر برقرار نہیں رہنا چاہتا۔ خفت مٹانے کیلئے فوجی قیادت نے وضاحت کی کہ 7 اکتوبر کے حملے سے بے خبری کی بنا پر جنرل صاحب کی سبکدوشی کا فیصلہ پہلے کیا جاچکا تھا۔

قیدیوں کو بزور چھڑانے کی کوششوں میں ہلاک ہونے والے الیکس لوبانوو (Alex Lobanov)کے سمعی و بصری پیغام نے وزیراعظم کیلئے مزید شرمندگی کا سامان کردیا۔ الیکس ان پانچ قیدیوں میں شامل تھا جو اس زور زبردستی  میں ماراگیا۔ تیرہ ستمبر کو الیکس کی اہلیہ نے وہ پیغام اشاعتِ عام کیلئے جاری کردیا جو آنجہانی نےاپنی موت سے چند روز پہلے ریکارڈ کرایا تھا۔ویڈیو میں دوسالہ بچے کا یہ باپ سسکیاں بھرتے ہوئے کہہ رہا تھا ہے کہ 'وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو 7 اکتوبر کو ہماری حفاظت میں ناکام ریے اور اب لگتا ہے کہ وہ ہمیں  زندہ واپس لانے میں بھی ناکام رہینگے' اپنی حاملہ بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ 'شاید خاندان میں اس خوبصورت نئے اضافے کا دیدار میری قسمت میں نہیں'۔بہت ہی دوٹوک لہجے میں الیکس نے کہا 'حکومت چاہتی ہے کہ ہم یہیں مرجائیں تاکہ  انہیں امن معاہدہ نہ کرنا پڑے'

اس ویڈیو کے بعد وزیراعظم پر تنقید میں اضافہ ہوگیا توحالات کا رخ موڑنے کیلئے نیتھن یاہو نے قومی حکومت کی تجویز پیش کردی۔ نیشنل یونٹی پارٹی کے سربراہ بینی گینٹز کے نام ایک خط میں انھوں نے کہا کہ ملک کو انتشار سے بچانے کیلئے قومی حکومت کی ضرورت ہے۔ انکی اس پیشکش کو بینٰی گینٹز اور قائد حزب اختلاف یار لیپڈ نے فوراًمسترد کریا۔ کنیسہ (پارلیمان) میں تقریر کرتے ہوئے بینی گینٹز نے  کہا کہ اتحاد و یکجہتی کیلئے قومی حکومت نہیں بلکہ منتخب حکومت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم اور انکا انتہاپسند جتھہ حق حکمرانی کھوچکا ہے۔نااہل حکومت میزائیلوں کی بارش روک سکی نہ غزہ پر قابو انکے بس کی بات ہے۔ اب غرب اردن میں بھی شورش برپا ہے۔ بی بی (وزیراعظم) کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے۔

اسرائیلی حکومت کو ملک کے اندر  سخت پریشانی کا سامنا ہے لیکن صدر بائیڈن،   بربریت، نسل کشی اور قتل عام کی پشتیبانی کے لئے اب تک پرعزم ہیں۔گزشتہ ہفتے واشنگٹن نے ٹینکوں کی نقل و حمل کیلئے اسرائیل کو ایک کروڑ 65 لاکھ ڈالر مالیت کے ٹریلر فراہم کرنے کا اعلان کیاہے۔چند ہفتہ پہلے صدر بائیڈن نے اسرائیل کیلئے 20 ارب ڈالر کے F15 بمبار طیاروں کی منظوری دی تھی۔

جہاں اسرائیل کے اتحادی اسکی وحشت و خونریزی میں سہولت کاری کیلئے پرجوش ہیں وہیں دنیا بھر میں مستضعفین کی سیاسی و اخلاقی حمائت میں بھئ کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ جامعات، سیاسی اجتماعات، نمائش و میلہ ہر جگہ فلسطیینوں کی نصرت اور ظالموں کی مذمت کیلئے تحریکی عناصر موجود ہیں۔امریکہ میں صدارتی مباحثے کے دوران بھی ہال کے باہر زبردست مظاہرہ کیا گیا۔ اس دوران ایک تقابلی کتبہ لوگوں کی نگاہ کا مرکز بنا رہا جس میں بتایا گیا تھا کہ نسل کشی، ماحول دشمنی اور تارکینِ وطن سے تضحیک آمیز برتاو کےحوالے سے ٹرمپ اور کملا بالکل ایک ہیں اور ان دونوں نے سیاست و ایوان حکومت کو بڑی کارپویشنوں کےپاس گروی رکھدیا ہے۔

آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر میلبورن میں 11 سے 13 ستمبر تک آسٹریلین آرمز کنونشن کے عنوان سے اسلحے کی نمائش ہوئی۔ اس موقع پر 'طلبہ برائے فلسطین' اور 'جنگ بند کرو محاذ' نے زبردست مظاہرہ کیا۔ گھڑ سوار پولیس نے لوگوں کو رگیدا، جواب میں مظاہرین نے پولیس پر ٹماٹر اورانڈے پھینکے۔متنانت اور باوقار صبر کے ساتھ پولیس تشدد کا سامنا  کرتے ہوئے طلبہ نے نمائش کے  آخری دن تک مظاہرہ جاری رہا۔

اخراج،اجرائے اسناد سے انکار اور گرفتاریوں کے باوجود موسم گرما کی تعطیلات کے بعد امریکی جامعات کھلتے ہی غزہ نسل کشے کے خلاف طلبہ کے مظاہرے دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ دلچسپ بات کہ ہارورڈ، ایم آئی ٹی، جامعہ پنسلوانیہ (Upen)،جامعہ جنوبی کیلی فورنیا جیسے انتہائی موقرادارے اس تحریک کا مرکز ہیں۔گذشتہ ہفتے طبی تحقیقات کے لئے مشہور جامعہ جان ہاپکنس میں زبردست مظاہرہ ہوا۔

دوسری طرف ایک لاکھ ٹن بارود برسادینے کے بعد بھی مزاحمت باقی ہے۔ بارہ ستمبر کو عسکری قیادت نے نوید سنائی کہ اہلِ غزہ کا ر فح بریگٰیڈ نیست و نابود کردیا گیا۔اس پر مبارک سلامت کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ دوسرے دن ر فح میں اسرائیلی ہیلی کاپٹر گرجانے سے اس پر سوار دو فوجی ہلاک اور سات شدید زخمی ہوگئے۔یہ حادثہ تھا یادشمن کی کاروائی؟عسکری ترجمان نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا لیکن ملبے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اسے میزائیل مار کر گرایا گیا ہے۔

مکمل تباہی کے باوجود غزہ میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل نے اسکولوں کو چن چن کر نشانہ بنایا لیکن ایک دن کیلئے بھی غزہ میں تعلیم کا سلسلہ بند یا معطل نہیں ہوا اور ملبے پر چادروں سے بنے 'اسکول' شاد و آباد ہیں۔ یعنی حسرت کی طرح آتش و آہن کی موسلا دھار بارش میں بھی 'مشق سخن' جاری ہے۔اسکے مقابلے میں شمالی اسرائیل کے چاروں اضلاع عکا، یزرعیل، كينيرت اور صفد کے علاوہ  مقبوضہ جولان کے اسکول گزشتہ سال اکتوبر سے بند پڑے ہیں۔

شوق و انہماک سے قلم و قرطاس کے اسلحے کو صیقل کرتے  فلسطینی بچے سفاک حملہ آوروں کو اپنے معصوم لیکن پرعزم لہجے میں پیغام دے رہے ہیں کہ 

اسے ہے سطوت شمشیر پر گھمنڈ بہت ۔۔ اسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ    (احمد فراز)

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 20 ستمبر 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 20 ستمبر 2024

روزنامہ امت کراچی 20 ستمبر 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 22 ستمبر 2024


اردن کے انتخابات ووٹ اخوانیوں کے، کرسیاں دوسروں کی

 

اردن کے انتخابات

ووٹ اخوانیوں کے، کرسیاں دوسروں کی

دس ستمبر کو اردن کے مجلس النواب (قومی اسمبلی یا لوک سبھا) کیلئے ووٹ ڈالے گئے۔ مراکش کی طرح یہاں بھی انتخابی نظام کچھ اسطرح تشکیل دیاگیا ہے کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کرسکے۔ انفرادی امیداروں کیلئے 18اضلاع میں 97 حلقے بنائے گئے ہیں، جبکہ متناسب نمائندگی کے ذریعے 41 نشستوں پر پارٹیوں کے  نمائندے منتخب کئے جاتے ہیں، جن میں سے 12 نشستیں اقلیتوں اور 18 خواتین کیلئے وقف ہیں۔ پینسٹھ (65) رکنی ایوان بالا(سینیٹ یا راجیہ سبھا) کا تقریر شاہی فرمان کے ذریعے ہوتا ہے۔

ساری اسلامی دنیا کی طرح یہاں بھی غزہ اور فلسطین انتخابی مہم پر چھائے رہے۔ غرب اردن سے چونکہ تھوڑی بہت آمدورفت ہے اسلئے یہاں کے لوگ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم سے زیادہ اچھی طرح اگاہ ہیں۔اردن میں اخوان المسلمون اپنے سیاسی بازو جبهة العمل الإسلامي یا اسلامی ایکشن فرنٹ (IAF)لے نام سے پارلیمانی سیاست میں حصہ لیتی ہے۔غزہ اور فلسطین کے معاملے میں فرنٹ کا موقف بہت ہی دوٹوک ہے۔ اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے خاتمے اور غرب اردن سے وابستگی کے معاملے میں IAFکسی مداہنت کی قائل نہیں۔ انتخابی میم کے دوران نہر  تا بحر فلسطین فرنٹ کا انتخابی نعرہ تھا۔

فرنٹ کا یہ دوٹوک موقف بادشاہ سلامت کیلئے ناقابل قبول ہے اور ان معاملات پر اخوانیوں کو کئی بار شاہی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا لیکن غزہ مظالم نے معتدل مزاج لوگوں کو بھی سخت مشتعل کردیا ہے بلکہ اسرائیلی دانشوروں کے خیال میں عرب روشن خیال بھی اب انتہا پسند ہوگئے ہیں۔

انتخابی مہم کے آغاز سے ہی فرنٹ کی پلہ بھاری تھا۔ انتخابی فضا دیکھ کر اسرائیل اور مغربی دنیا کو یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ جیسے صدر محمد مورسی اہلِ غزہ کیلئے حمائت و نصرت کا استعارہ ثابت ہوئےکہیں ویسی ہی صورتحال غرب اردن میں نہ پیدا ہوجائے۔ غیر جانبدار مبصرین کا خیال ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے غرب اردن کے شہری ڈھانچے کو برباد کرکے پورے علاقے کو انسانی حیات کیلئے ناقابل برداشت بنانے کی جو مہم شروع کی گئی ہے وہ اردن میں متوقع سیاسی تبدیلی کامقابلہ کرنے کی پیش بندی ہے۔

تاہم اسرائیل اور مغربی دنیا کو اطمینان تھا کہ انتخابی نظام میں خاصی موثر چھلنیاں نصب کردی گئیں ہیں اور مسند اقتدار تک پہنچننے کیلئے ان سے گزرنا فرنٹ کیلئے نا ممکن حد تک مشکل ہے۔اردنی معاشرے میں قبائلی روایات خاصی گہری ہیں جن کی وجہ سے آبادی کا ایک تہائی حصہ قومی سیاست و دھارے سے کسی حد تک الگ ہے۔

انتخابی نتائج کے مطابق فرنٹ56.24 فیصد ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہا۔حکومت نواز چارٹر پارٹی نے 11.35 فیصداور سلفی رجحان کی حامل نیشنل اسلامی پارٹی نے 10.62فیصد ووٹ لئے۔ جماعت الارادہ چوتھے نمبر پر رپی جسے 8.3 فیصد ووٹ ملے۔تاہم مہمل انتخابی نظام کی بناہر 56 فیصد سے زیادہ ووٹ لینے والے فرنٹ کو 138رکنی ایوان میں  31 جبکہ چارٹر پارٹی کو 11فیصد ووٹ کے عوض 21 نشستیں عطا ہوئیں۔ آٹھ فیصد ووٹ لینے والی الارادہ کو 19 نشستیں ملیں اور ووٹوں کے اعتبار سے تیسرے  نمبر پر آنے والی نیشنل اسلامک پارٹی 7 نشستوں کیساتھ پانچویں نمبر پر آگئی۔

دلچسپ بات کہ اسلامک ایکشن فرنٹ حق اقتدار سے محروم رکھے جانے پر مشتعل نہیں۔  فرنٹ کے ترجمان وائل السقا کا کہنا ہے کہ نظریاتی تحریک کیلئے حکومت سازی سے اہم ذہن سازی ہے جس میں فرنٹ کامیاب رہا۔

آئی اے ایف کے متعمد عام مراد العضايلة نے نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا فرنٹ کو کرسی کا شوق نہیں۔ہم ان انتخابات کو عالمی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔اردن کا ایوان نمائندگان، اسرائیلی حکومت کےانتہا پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مضبوط ہونا چاہئے۔ اگر ڈانلڈ ٹرمپ امریکی انتخابات جیت گئے تواسرائیلی انتہاپسندوں کو امریکی دائیں بازو کی نصرت واستعانت حاصل ہوجائیگی اور ہم اسی کے مقابلے کیلئے صف بندی کررہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت مقامی مسائل خاص طور سے معیشت کو بہتر  اور بیروزگاری کم کرنے میں اپنی صلاحیت کھپائے جو 21 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔ فلسطینیوں اور دنیا بھر کے مستضعفین کو سیاسی و اخلاقی مدد ہم فراہم کرنا ہماری ذمہ رای ہے۔عوام نے ہمیں جو حق نمائندگی (مینڈیٹ) دیا ہے اسے ہم اسرائیلی جبر کے خلاف علاقے میں رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے استعمال کرینگے۔

 نتائج کے سرکاری اعلان کے ساتھ ہی وزیراعظم ڈاکٹر بشر الخصاونة نے استعفیٰ دیدیا۔ بادشاہ سلامت نے ہارورڈ کے تعلیمیافتیہ ڈاکٹرجعفر حسن کو نیا وزیراعظم نامزد کیا ہے۔ خیال ہے کہ اگلے ہفتے نئی مجلس النواب کے حلف اٹھاتے ہی اسلامک فرنٹ کو حکومت سازی کی دعوت دی جائیگی لیکن غالب امکان ہے کہ فرنٹ  ڈاکٹر جعفر حسن کی حکومت جاری رکھنے کے حق میں قرارداد منطور کرائیگا۔

اسرائیلی حکومت کو آئی آے ایف کی کامیابی پر سخت تشویش ہے۔ تل ابیب کے سیاسی پندٹ اسے 2006 کی صورتحال قرار دے رہے ہیں جب فلسطین کے انتخابات میں حماس نے زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ اردن کے حالیہ انتخابات سے یہ بات بھی ثابت ہورہی ہے کہ عرب دنیا میں 1940 سے جاری بدترین تشدد کے باوجود اخوان المسلمون نہ صرف زندہ و تابندہ ہے بلکہ اسکی جڑیں عوام میں مزید گہری ہوچکی ہیں جو یمن، مصر، الجزائر، تیونس، مراکش اور اب اردن میں اس شاندار کامیابی سے ظاہر ہورہا ہے۔ یہ رجحان برصغیر میں بھی نظر آرپا کہ صف اول کی پوری قیادت کے پھانسی چڑھنے اور پندرہ سال تک جاری رہنے والے بدترین تشدد کے بعد جماعت اسلامی کو بنگلہ دیش میں کام کا جیسے ہی موقع ملا، حالیہ عوامی جائزے میں وہ دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 20 ستمبر 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 20 ستمبر 2024


Sunday, September 15, 2024

ڈانلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان مباحثہ افغانستان سے پسپائی پر دلچسپ نونک جھونک تارکین وطن کا حقارت انگیز ذکر کملا کم عقل ہیں، دو جملے ترتیب نہیں دے سکتیں ۔ ڈانلڈ ٹرمپ خواتین کی بیحرمتی اور ٹیکس چوری جیسے 34الزامات پر مجرم قرار پانیوالاہمیں لیکچر دے رہا ہے۔ کملا کا جواب

 

ڈانلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان مباحثہ

افغانستان سے پسپائی پر دلچسپ نونک جھونک

تارکین وطن کا حقارت انگیز ذکر

کملا کم عقل ہیں، دو جملے ترتیب نہیں دے سکتیں ۔ ڈانلڈ ٹرمپ

خواتین کی بیحرمتی اور ٹیکس چوری جیسے  34الزامات پر مجرم قرار پانیوالاہمیں لیکچر دے رہا ہے۔ کملا کا جواب

 منگل 10 ستمبر کو سابق صدر ڈانلڈ ٹرمپ اور نائب صدر کملا ہیرس کے درمیان براہ راست  مباحثہ ہوا۔ اسکا اہتمامABC  ٹیلی ویژن نے کیا تھا۔جائزے کے مطابق 1 ایک کروڑ 20 لاکھ امریکیوں نے 90 منٹ کا یہ مباحثہ براہ راست دیکھا۔ سوا دوماہ پہلے 27 جون کو ڈانلد ٹرمپ اور صدر بائیڈن کے مابین مباحثے کو چار کروڑ لوگوں نے ملاحظہ کیا۔ حوالہ: ChatGPT۔ ناظرین کی کم تعداد معنی خیز اور امریکی انتخابات میں عوام کی عدم دلچسی کو ظاہر کرتی ہے۔ پہلےمباحثے میں صدر بائیڈن کی مایوس کن کارکردگی نے انھیں دوڑ سے دستبرداری پر مجبور کیا۔

یہ کملا ہیرس کا پہلا صدارتی مباحثہ تھا جبکہ ڈانلڈ ٹرمپ 2016 کی مہم کے دوران ہیلیری کلنٹن اور 2020 میں صدر باییڈن سے کئی بار بحث کرچکے ہیں۔ہیرس صاحبہ نے مباحثے کیلئے بھرپور تیاری کی اوروہ ماہرین کی نگرانی میں  دو ہفتے سے مشق کررہی تھیں۔ یہ درست کہ کملا ہیرس کو صدارتی مباحثے کا تجربہ نہیں لیکن وہ ایک منجھی ہوئی وکیل اور فنِ گفتگو و تقریر کی ماہر ہیں۔ دوسری طرف اس میدان میں جناب ڈانلڈ ٹرمپ کی صلاحیت قابلِ رشک نہیں۔ انکا ذخیرہ الفاط  بے حد مختصر ہے جسکی بنا پر تقریر کے دوران وہ ایک ہی لفظ کو  بار باردہراتے  ہیں۔

گفتگو کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے اپنی حریف پر کمیونسٹ ہونے کی پھبتی کسی اور بولے 'کامریڈ ہیرس مارکسسٹ ہیں، انکے والد مارکسزم کے پروفیسر تھے'۔جناب ٹرمپ کے خیال میں کملا جی کم عقل ہیں، یہ دوجملے ترتیب نہیں دے سکتیں اور اگر محترمہ  صدر منتخب ہوگئیں تو امریکہ کیلئے یہ ایک المیہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ  اس ملک کے دو بڑے مسائل ہیں۔ایک شکستہ سرحد جسکی وجہ سے ملک میں جرائم پیشہ لوگوں کا سیلاب آیا ہوا ہے اور دوسرا غیر شفاف انتخابی نظام۔ لاکھوں غیر ملکی تاریکین وطن کو ووٹر بنایا جارہا ہے۔انکا کہنا تھا کہ بائیڈن انتطامیہ کی مہمل امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے ہر ملک کے مجرم پیشہ عناصر، دہشت گرد اور عصمت دری کے عادی امریکہ آرہے ہیں۔ دنیا میں جرائم کم ہورہے ہیں لیکن امریکہ میں پُر تشدد جرائم کی شرح آسمان پر ہے، اسلئے کہ سب وحشی یہاں آگئے ہیں۔ اس پر میزبان ڈیوڈ موئر نے توجہ دلائی کہ اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ چارسالوں کے دوران امریکہ میں سنگین جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے جسے مسترد کرتے ہوئے ڈانلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جھوٹی حکومت فیک اعدادوشمار جاری کررہی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ آنے والے غیر ملکی،  مقامی شہریوں کےپالتو کتے اور بلیاں کھارہے ہیں جس پر میزبان نے پھر مداخلت کی اورکہا کہ سوشل میڈیا پر آنے والی اس خبر کو شہری انتظامیہ نے من گھڑت خبر قراردیا ہے۔

اسکا جواب دیتے ہوئے کملا ہیرس نے کہا 'واہ واہ ذرا دیکھو یہ کون کہہ رہا ہے۔ وہ شخص جس پر خواتین کی بیحرمتی، ٹیکس چوری، قومی راز افشا کرنے سمیت 34 سنگیین جرائم ثابت ہوچکے ہیں اور موصوف کو نومبر میں سزا سنائی جائیگی۔ جواب میں ٹرمپ بولے کہ  بائیڈن انتظامیہ نے عدالت اور محکمہ انصاف میں اپنے حامی بٹھادیے ہیں جو میرے خلاف انتقامی کاروائی کررہے ہیں۔ انکے جھوٹے پروپینگنڈے کی وجہ سے مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔

نوے منٹ پر میط اس مباحثے کے  تمام نکات کو اس کالم میں سمونا ممکن نہیں تاہم اس دوران غزہ نسل کشی اور افغانستان کے معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی اور ان نکات پر ان دونوں رہنماوں نے بہت ہی بے شرمی سے جھوٹ بولے۔

 افغانستان سے پسپائی کا ذکر کرتے ہوئے ڈانلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بائیڈن حکومت نے وہاں سے بھاگنے میں جس بدحواسی بلکہ نامردی کا مطاہرہ کیا اس نے اقوام عالم میں امریکہ کا رعب و دبدبہ ختم کردیا۔ امریکہ کے تیرہ جوان مارے گئے اور 85 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ افغانوں نے ہتھیالیا۔ حسبِ عادت شیخٰی بگھاری کہ 'میں نے عبدل (قطر امن مذاکرات میں افغان وفد کے سربراہ ملا عبدالغنئ برادر) کو فون کیا اور کہا 'خبردار جو اب ہمارے کسی جوان پر حملہ کیا۔ میں نے اسکے گھر کی تصویر اسکو بھیجی، یہ ایک پیغام تھا کہ تمہارا گھر بھی ہمارے نشانے پر ہے'۔ اسکا جواب دیتے ہوئے کملا بولیں' صدر بش، صدر اوباما اور صدر ٹرمپ تینوں نے افغانستان سے فوج بلانے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی صدر بائیڈن کو نصیب ہوئی۔ امریکی نائب صدر نے انکشاف کیا کہ افغان جنگ کا خرچہ 300 ملین یا 30 کروڑ ڈالر روزانہ تھا۔ انھوں نے جوابی الزام لگایا کہ ٹرمپ دور میں افغان معاہدہ دب کر کیا گیا اور افغان حکومت کے بجاے دہشت گردوں سے مذاکرات ہوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے پر دونوں نے جھوٹ کا سہارا لیا۔افغان حکومت کے بجائے ملاوں سے مذکرات کا اصولی فیصلہ اوباماحکومت کے آخری دنوں ہوچکا تھا۔ ملاوں کو منانے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کئی بار غیر اعلانیہ دورے پر پاکستان آئے لیکن ملا انکی بات نہ مانے اور آخرِ کار واشنگٹن براہ راست مذاکرات پر مجبور ہوا۔اسی طرح ٹرمپ صاحب کی جانب سے عبدل کو ڈرانے کا دعوی نری شیخی اور لن ترانی ہے۔ فون گفتگو کی حقیقت یہ ہے کہ جب قطر امن معاہدے پر اصولی اتفاق ہوگیا تو سوال اٹھا کہ افغانستان سے فوجی انخلا کیسے ہو؟ امریکہ کے مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے جب یہ معاملہ افغان وفد کے کے سامنے رکھا تو 'عبدل' نے کہا کہ ہم امریکی سپاہیوں کو واپسی کیلئے محفوظ راستہ دینے و تیار ہیں لیکن ہتھیار واپس نہیں لے جانیں دینگے۔ کافی بحث مباحثے کے بعد یہ طئے پایا کہ ہر سپاہی گولیوں کے بغیر اپنا ذاتی اسلحہ ساتھ لےجاسکتا ہے۔ محفوظ راستے کی یہی ضمانت حاصل کرنے کیلئے صدر ٹرمپ نے عبدل کو فون کیا تھا۔ گھر کی تصویر دکھانے والی بات اس اعتبار سے لغو ہے کہ امریکی حملے کے آغاز پر ہی عبدل کراچی میں گرفتار ہوگئے تھے اور زلمے خلیل زاد کی درخواست پر انھیں رہا کرکے کراچی سے قطر بھیجا گیا۔ انکا کابل میں کوئی گھر تھا ہی نہیں جسکی ٹرمپ صاحب تصویر دکھاتے۔ یہ معاہدہ 1400 سال پہلے ہونے والے بنو نضیر معاہدے کی نقل ہے جب اس شرط پر ان لوگوں کی جان بخشی کی گئی تھی کہ وہ اسلحہ چھوڑ کر جلا وطن ہونگےجائیں۔

غزہ نسل کشی کے معاملہ اٹھانے کیلئے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے صبح کو مباحثے کے مقام نیشنل کانسٹیٹیوشن سینٹر فلاڈیلفیا جانیوالی مرکزی سڑک پر دھرنا دیا۔ پولیس سے مذاکرات کے بعد یہ نوجواان اس شرط پر وہاں سے اٹھے کہ انھیں ہال کے مرکزی دروازے پر مظاہرے کی اجازت ہوگی۔روائیتی کفیہ اوڑھے نوجوان غزہ نسل کشی کیخلاف نعرے لگاتے رہے۔ وہان ایک  تقابلی کتبہ لوگوں کی نگاہ کا مرکز بنا رہا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ غزہ نسل کش، ماحول دشمنی اور تارکینِ وطن سے تضحیک آمیز برتاو کےحوالے سے ٹرمپ اور کملا بالکل ایک ہیں اور ان دونوں نے سیاست و ایوان حکومت کو بڑی کارپویشنوں کےپاس گروی رکھدیا ہے

غزہ خونریزی کے سوال پراسرائیل نوازی کا بھرم رکھتے ہوئے کملا ہیرس نے کہا کہ موجودہ تنازعے کا آغاز 7 اکتوبر کو ہوا جب دہشت گردوں نے 1200 بے گناہ اسرائیلیوں کو ہلاک، خواتین کو بے آبرو اور سینکڑوں معصوم لوگوں کو یرغمال بنایا۔اس تناظر میں اسرائیل کو اپنے دفاع اور جوابی کاروائی کا حق حاصل ہے۔ لیکن دفاع اور جواب دیتے ہوئے اخلاقی اقدار کی پاسداری ضروری ہے۔ غزہ میں 40 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے اور سارا علاقہ کھنڈر بن چکا ہے۔فوری جنگ بندی اور غزہ کی تعمیر نو ہماری ترجیح ہے۔ محفوظ اسرائیل کیساتھ پرامن، بااختیار،مستحکم اور خوشحال فلسطینی ریاست ضروری ہے۔اپنی بات ختم کرتے ہوئے نائب صدر صاحبہ بولیں 'پھر سن لیں!! اسرائیل کے تحفظ کیلئے میرا عزم آہنی ہے۔

اسکا جواب دیتے ہوئے ڈانلڈ ٹرمپ نے کہا 'ہیرس کواسرائیل سے نفرت ہے۔اگریہ صدر بن گئیں تو اسرائیل ختم ہوجائیگا۔ تاہم یہ عربوں کی بھی دوست و ہمدرد نہیں۔

صدارتی مباحثے کے بعد ناظرین کا جو جائزہ CNNنے شایع کیا اسکے مطابق 63 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ کملا ہیرس بحث کے دوران چھائی رہیں جبکہ 37 فیصد کہتے ہیں کہ ٹرمپ غالب رہے۔جناب ٹرمپ نے CNNکےجائزے کو تعصب سے آلودہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے جائزوں میں 72 سے 92 فیصد لوگوں نے انھیں فاتح گردانا ہے۔ صدر بائیڈن اور جناب ٹرمپ کے درمیان 27 جون کو ہونے والے مباحثے میں 67 فیصد افراد نے سابق صدر کو فاتح تسلیم کیا تھا

ہفت روزہ سنڈے میگزین، روزنامہ جسارت کراچی 15 ستمبر 2024


Thursday, September 12, 2024

سرائیلی عوام سڑکوں پر غزہ سے فوج بلاو، ہمارے پیاروں کو واپس لاو انتہا پسند وزیراندرونی سلامتی کے منہہ پر خاک پھینک دی گئی ناروے، نسل کشی کے سہولت کار اداروں میں سرمایہ کاری نہیں کریگا

 

اسرائیلی عوام سڑکوں پر

غزہ سے فوج بلاو، ہمارے پیاروں کو واپس لاو

انتہا پسند وزیراندرونی سلامتی کے منہہ پر خاک پھینک دی گئی

ناروے، نسل کشی کے سہولت کار اداروں میں سرمایہ کاری نہیں کریگا

پیر، 8 ستمبر کی صبح امریکی سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنس نے لندن میں اپنے برطانوی ہم منصب رچرڈ مور کے ہمراہ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے نوید سنائی کہ 'غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پر 90فیصد اتفاق ہوچکا ہے'۔نوے فیصد سن کر ہمیں اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ  مشغلہ زبان سے زیادہ کچھ نہیں۔ برنس صاحب اگر 99 فیصد کہہ دیتے تب بھی غلط نہ ہوتا کہ اختلاف تو بس غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا پر ہے۔ اور ہوا بھی ایسا ہی کہ شام کو اسرائیل کے ٹیلی ویژن چینل 12 نے  مذاکرات کاروں کے حوالے سے بتایا کہ اہل غزہ قیدیوں کی رہائی سے پہلے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا چاہتے ہیں اور وہ اپنے موقف میں لچک دکھانے کو تیار نہیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد پرامید نظر آنے والے سی آئی اے کے سربراہ نے مذاکرات ناکام ہونے کا مایوس کن اعلان کردیا۔دوپہر کو CNNکے ایک پروگرام میں اسرائیلی مذاکراتی وفد کے قائد ریٹائرڈ بریگیڈئر جنرل گال ہرش (Gal Hirsch) نے فرمایا اگر مزاحمت کار قیدی رہا کردیں تو جنگ ابھی بند ہوسکتی ہے اور پھر 'فراخدلانہ' یشکش کی کہ ہم دہشت گرد رہنماوں کو غزہ سے  بحفاطٹ نکلنے کیلئے راستہ دینے کو بھی تیار ہیں۔ غزہ سے اسکا ترنت جواب آیا کہ ہم اپنے گھر میں ہیں، واپسی کا راستہ حملہ آوروں اور قبضہ گردوں کو ڈھونڈنا ہے

فوج کے انخلا پر فریقین کے غیر لچکدار روئے کی وجوہات بہت واضح ہیں۔ مزاحمت کارجانتے ہیں کہ زیرِحراست اسرائیلی قیدی وہ آنکُس ہے جس سے انھوں نے بدمست ہاتھی اور انکے سرپرستوں کو قابو کیا ہوا ہے اور اپنی تمام شرائط منوائے بغیر وہ انھیں رہا کرنے کو تیار نہیں۔ زمینی حقائق بھی اسرائیل کیلئے مایوس کن ہیں کہ سارے غزہ کو ریت کا ڈھیر بنادینے کے باوجود وہ مزاحمت ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ بارش کی طرح برستے لبنانی میزائیلوں اور راکٹوں سے شمالی اسرائیل تیزی سے کھنڈر بن رہا ہے۔ بحالی مراکز معذوراسرائیلی سپاہیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ چار ستمبر کو سالانہ دماغی صحت کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے وزیرصحت یوریل بیوسو (Uriel Buso)نے کہا کہ ملک کو دماغی صحت کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔اس تناظر میں جنگ بندی اسرائیل کی ضرورت ہے اسلئے کہ اہل غزہ ے پاس اب کھونے کو کچھ نہیں

شیخی اور لاف زنی اپنی جگہ لیکن نیتھن یاہو کی وزارت عظمیٰ بیساکھیوں پر کھڑی لڑکھڑارہی ہے کہ 120رکنی اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) میں برسراقتدار لیکڈ پارٹی کی صرف 32 نشستیں ہیں اور وہ کرسی برقرار رکھنے کیلئے توریت پارٹی، پاسبان توریت یا Shasپارٹی، عظمت یہود پارٹی اور دینِ صیہون جماعت کے محتاج ہیں۔ بھان متی کا یہ کنبہ جوڑ کر نیتھن یاہو نے رائے شماری کے دوران 64 ووٹ حاصل کئے جو کم سے کم کے نشان سے صرف 3 زیادہ ہے اور پارلیمانی حلیف صاف صاف کہہ  چکے ہیں کہ اگر حکومت نے انخلا کا فیصلہ قبول کیا تو وہ اتحاد سے نکل جائینگے۔معاملہ صرف اقتدار کا نہیں بلکہ نیتھن یاہو کے خلاف بدعنوانی اور بے ایمانی کے کئی مقدمات تیار ہیں۔ وزارت عظمیٰ ختم ہونے پر جیسے ہی استثنیٰ کی چھتری ہٹی، موصوف کو جیل جانا ہوگا۔ یعنی جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

عوامی سطح پر حکومت سخت دباو میں ہے۔ بندوق کی نوک پر قیدی چھڑانے کی کوشش میں ناکامی کے بعد سے اسرائیلی سڑکوں پر ہیں۔اس مہم جوئی میں پانچ اسرائیلی قیدی ہلاک ہوئے تھے۔ قیدیوں کے لواحقین نے علامتی تابوتوں کیساتھ اسرائیلی فوج کے ہیڈکوارٹر کے باہردھرنا دے رکھا ہے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایک قیدی کی والدہ نے کہا'اگر اپنے پیاروں کی جان بچانا چاہتے ہو تو اس جلاد کو ازا اسٹریٹ (اسرائیلی وزیراعظم کی سرکاری رہائشگاہ) سے نکال باہر کرو اور اس قصاب کی جگہ کسی درد مند انسان کو لے آو'۔ 'بی بی اور بی بی کے بے ضمیر وزیرو!! تاریخ میں تمہارے نام قتل ہونے والے یرغمالیوں کے خون سے لکھے جائیں گے'۔ جنگ سے نفرت کے اظہار میں کچھ مظاہرین نے تل ابیب کے چوک پر لگے غزہ کے 'اسرائیلی شہدا' کی تصویریں پھاڑدیں۔

اسرائیلی Hostages and Missing Families Forum کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا 'قیدیوں کی ہلاکت نیتن یاہو کی جانب سے امن معاہدوں کوثبوتاژ کرنے اور فلاڈیلفی کوریڈور میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر اصرار کا براہ راست نتیجہ' ہے۔ کرائم منسٹر عسکری ترجمان کے پیچھے نہ چھپیں اور عوام کو قیدیوں سے غداری کا حساب دیں۔ اتوار 8 ستمبر کو تل ابیب میں اسرائیلی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ ہوا جس میں ساڑھے سات لاکھ افراد شریک ہوئے۔ کئی جگہ پولیس نے تشدد کیا اور صحافی، قانون نافذ کرنے والوں کا نشانہ بنے۔

حزب اختلاف کے رہنما اب کھل کر ان مظاہروں میں شرکت کررہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے تل ابیب میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے  اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ اور نیشنل یونٹی پارٹی کے قائد بینی گینٹز نے کہا کہ ہماری بنیادی ترجیح قیدیوں کی واپسی ہونی چاہے اسکی کوئی بھی قیمت اداکرنی پڑے۔ ہمارے پیارے اہم ہیں فلاڈیلفی راہداری نہیں۔ 'بی بی استعفیٰ دو' کی گونج میں جرنیل صاحب نے کہا کہ وزیراعظم نیتھن یاہو ہمارے قیدی واپس لاسکتے ہیں نہ وہ لبنانی میزائیلوں سے ملک کا دفاع کرسکتے ہیں۔شمالی اسرائیل، راکٹ بازی اور میزائیل حملوں سے کھنڈر بنتا جارہا ہے۔ غزہ بھی بی بی کے بس کی بات نہیں۔

صحافیوں کی جانب سے بھی اب اسرائیلی وزیراعظم کاکڑا احتساب ہورہا ہے اور قلم کے مزدور نیتھن یاہو کو آئینہ ایام میں انکی ادا دکھلا رہے ہیں۔پانچ ستمبر کواخباری کانفرنس میں ایک صحافی نے  اپنے موبائل پر وزیراعظم کو انکی اس تقریر کا بصری تراشہ دکھایا جو موصوف نے اپریل کے آغازمیں کی تھی۔ اس خطاب میں موصوف فرمارہے تھے کہ 'غزہ میں اسرائیلی فوج، 'فتح مبیں' سے بس ایک قدم دور ہے'۔ تراشہ دکھاکر الارض (Haaretz)کے صحافی نے پوچھا کہ 'اسرائیلی فوج کا ایک قدم کتنا بڑا ہے کہ چار ماہ میں بھی عبور نہیں ہوا بلکہ قومی سلامتی کے مشیر زکی حنگبی نے کل ہی کہا کہ جنگ 2025 کے دوران بھی جاری رہیگی'۔ نیتھن یاہو، انتہائی ڈھٹائی سے بولے ''اس وقت میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہم اس اہم سنگِ میل سے ایک قدم دور ہیں جہاں سے ہماری فتح کی راہ ہموار نظر آرہی ہے' واقعی،  جب آدمی بے حیا ہوجائے تو جو چاہے کہتا پھرے

وزیراعظم کی جانب سے فتح مبیں اور قیدی چھڑانے کے بلند باند دعووں پر اب عام اسرائیلیوں کو اعتماد نہیں رہا۔ رائے عامہ پر نظر رکھنے والے انتہائی موقر ادارے اسرائیل ڈیموکریسی انسٹیٹیوٹ  نے 4 ستمبر کو ایک جائزہ شائع کیا ہے جسکے مطابق 73فیصد سے زیادہ اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ حکومت غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کو بحفاظت واپس لانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل

عوامی مقامات پر نظر آنے والے وزرا کو عام لوگوں کی جانب سے ناراضگی کا سامنا ہے۔ چند روز پہلے وزیرتعلیم یوو کیش (Yoav Kisch) کفر مناحم اسکول کے دورے پر آئے تو مظاہرین نے انھیں گھیر لیا اور 'قیدی واپس لاو یا گھر جاو' کے نعرے لگائے۔ پولیس نے نرغے میں لے کر وزیرباتدبیر کو وہاں سے بحفاظت نکال لیا۔

انتہا پسند عظمتِ یہود جماعت کے سربراہ اور وزیراندرونی سلامتی اتامر بن گوئر 6 ستمبر کو تل ابیب کے ساحل پر عوام کے ہاتھوں رگیدے گئے۔لوگوں نے قاتل قاتل کے نعرے لگائے اور ایک 27 سالہ خاتون نے انھیں  دہشت گرد کہتے ہوئے وزیر کے منہہ پر ریت پھینک دی۔مکافات عمل کی اس سے زیادہ عبرتناک مثال اور کیا ہوگی کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت ساری دنیا سے مستضعفین کو دہشت گرد قرار دلوانے والوں کو اب خود انکے اہل وطن دہشت گرد کہہ رہے ہیں۔

غزہ جنگ اور قیدیوں کے بارے میں ہیجان حکومتی و سیاسی ایوانوں میں بھی نظر آرہا ہے۔ گزشتہ ہفتے شادی کی ایک نجی تقریب میں بینی گینٹز نے اتمار بن گوئر سے مصافحہ کرلیا۔ یہ تصویر دکھا کر جب ایک صحافی نے قائد حزب اختلاف سے تبصرہ کرنے کو کہا تو یار لیپڈ بولے 'میں دہشت گردوں کے پشت پناہوں سے ہاتھ نہیں ملاتا' اس بات پر اتامر بن گوئر سخت مشتعل ہوگئے اور دوسرے دن خصوصی پریس کانفرنس طلب کرکے کہا "یار لیپڈ نے اسلامی تحریک سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی مدد سے حکومت تشکیل دی، وہ فوجیوں کے قتل کی حمائت اور دہشت گردی کی مذمت کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ہمیں انکے لیکچر کی ضرورت نہیں۔ آپ ( مقتدرہ فلسطین کے سربراہ) عباس اور دیگر دوستوں سے ہاتھ ملاتے رہئے جن سے آپ کودلی محبت ہے۔

بربریت کے حوالے سے دہلی میں مقیم اسکاٹ لینڈ کے مشہور ادیب و مورخ ولیم ڈلرمپل (William Dalrymple)   نے  غزہ پر بمباری کے جو اعدادوشمار شایع کئے اسے دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جناب ڈالرمپل کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے شہر ہیروشیما پر جو جوہری بم گرایا گیا اسکی شدت 15000ٹن بارود کے مساوی تھی۔ س عرصے میں جرمنوں نے لندن پر 20 ہزار ٹن بارود برسایا، جبکہ غزہ پر اب تک 85 ہزار ٹن بارود گرایا جاچکا ہے۔ حوالہ؛ ٹویٹر

فراہمیِ اسلحے کے حوالے سے کسی حد تک حوصلہ افزا خبر یہ ہے کہ برطانیہ نے اسرائیل کو جاری ہونے والے  اسلحے کے 350 میں سے 30 لائسنس معطل کردئے۔وزیرخارجہ ڈیوڈ لیمی کے مطابق 'تفصیلی جائزے سے پتہ چلا اسرائیل کو بعض ہتھیاروں کی فروخت سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا خدشہ ہے۔ بلا شبہہ یہ بہت تاخیر سے اٹھایا گیا بہت ہی چھوٹا قدم ہے۔ کی مرے قتل کے بعد اس سے جفا سے (علامتی) توبہ

ایسا ہی تاخیری سجدہ سہو فیس بک کے مالک ادارے metaنے اداکیا ہے یعنی 11 ماہ سوچ و بچار کے بعد 'نہر ٰتا بحر فلسطین' کے نعرے کو 'جائز' قرار دیدیاگیا۔دنیاکی اس مقبول ترین پکار اور نوشتہ دیوار کو فیس بک سے نفرت انگیر مواد یا Hate Speechقرار دیکر حذف کیا جاتا رہا۔اب meta کی نگراں کمیٹی (Oversight Board)نے فیصلہ دیا ہے کہ یہ نعرہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے، جس میں دعوتِ تشدد یا کسی قوم، ملک یا لسانی و معاشرتی اکائی کے خلاف نفرت کا اظہار نہیں چانچہ یہ جملہ کمپنی کی پالیسیوں سے متصادم تصور نہیں کیا جاسکتا۔کاش امریکہ کے اسرائیل نواز ارکان کانگریس بھی اپنا ذہن ذرا وسیع کرلیں جنکے خیال میں نہر تا بحر فلسطین کا نعرہ اسرائیلی ریاست کو مٹانے کا عزم اور antisemitism کی ایک شکل ہے۔

ایسی ہی ایک خبر ناروے سے کہ سرکای وقف المعروف Norway Wealth Fundنے غزہ نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں مدد اور سہولت فراہم کرنے والے اداروں میں سرمایہ کاری نہ کرنےکا عندیہ دیا ہے۔فنڈکی کمیٹی برائے اخلاقیات نے سرمایہ کاری کمیٹی کے نام خط میں ہدائت کی ہے کہ ان اداروں میں سرمایہ کاری نہ کی جائے جو نسل کشی اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی پامالی میں کسی بھی طرح مدد کررہے ہیں۔ناروے ویلتھ فنڈ دنیا بھر کی 8800 کمپنیوں میں 1700ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرتا ہے

غزہ قتل عام کیساتھ شمالی غرب اردن کو پتھروں کے دور میں پہنچادینے کاعمل جاری ہے۔جنین میں شہری سہولیات ( پانی، سیوریج، بجلی اورگیس) تباہ کرنے کے بعد سڑکیں بلدوزروں سے ادھیڑ دی گئیں۔شہر رہنے کے قابل نہیں رہا، لیکن اہل جنین کہتے ہیں یہ ہماری زمین ارضِ فلسطین ہے ، ہم یہاں سے کہیں جانے والے نہیں

فوجی کاروائی کیساتھ انتہا پسند قبضہ گردوں نے غنڈہ گردی کا بازار گرم کررکھا ہے۔ جمعہ 6 ستمبر کو رام اللہ کے مضافاتی علاقے خربۃ ابو فلاح پر فوج کی نگرانی میں مسلح قابضین (Settlers) نے حملہ کیا۔ درجنوں مکانات تباہ،کاریں نذرِ آتش اور زیتون کے باغ نوچ ڈالے گئے۔ مقامی لوگوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے ان اوباشوں نے جاتے جاتے دیوارں پر ستارہ داودؑ بنا کر (غزہ کا) انتقام لکھدیا۔عین اسی وقت غارتگر قابضین کی ایک اور ٹولی نابلوس کے گاوں قریوت پر حملہ آور ہوئی۔اندھاھند فائرنگ سے ایک 13 سالہ بچی بنا امجد بکر جان سے گئی۔اسی دن نابلوس کے مضافاتی علاقے بیتا میں فوج کی فائرنگ سے 26 سالہ ترک امریکی خاتون عائشہ نور آئیگی جاں بحق ہوگئی۔ عائشہ نور فلسطینیوں سے یکجہتی کیلئے کام کرنے والے ادارے International Solidarity Movement (ISM) کی رضاکار تھی جسے مظاہرے کے دوران ماتھے پر گولی ماری گئی۔

امریکہ میں گرفتاری، انتقامی کاروائیوں اور اخراج کی دھمکیوں کے باوجود جامعہ کولمبیا میں تعطیلات کے بعد تعلیمی سال کے پہلے ہی دن غزہ نسل کشی کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا گیا۔ جامعہ ہاوروڈ اور جامعہ جنوبی کیلی فورنیا (USC)میں بھی جلوس نکالے گئے۔ نائب صدارت کیلئے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جے ڈی وانس نے جامعات میں مظاہروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ پر زوردیا ہے کہ وہ کیمپس پر مظاہروں کو غیر قانونی قراردیں۔ ڈانلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں  کہ اگر وہ انتخابات جیت گئے تو امریکہ بھر میں اسرائیل کے خلاف مظاہروں پر پابندی لگادی جائیگی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 ستمبر 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 13 ستمبر 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 ستمبر 2024


Sunday, September 8, 2024

امریکی انتخابات کملا دیوی ہیرس کا تعارف

 

امریکی انتخابات  

کملا دیوی ہیرس کا تعارف

امریکہ میں انتخابی مہم  زوروں پر ہے۔انتخابات تو 5 نومبر کو منعقد ہونگے لیکن اکثر ریاستوں میں پندرہ اکتوبر سے 'قبل از وقت ووٹنگ' یا Early Votingکا آغازہوجائیگا۔ ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے والوں کو بھی اگلے ماہ کے وسط سے پرچہ انتخابات کا اجرا شروع ہوگا۔

عام انتخابات کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی کے علاوہ لیریٹیرین پارٹی، گرین پارٹی اور سوشلسٹ پارٹی سمیت 11 دوسری جماعتوں کے علاوہ درجن بھر آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ لیکن امریکہ کے مہمل انتخابی نظام میں تیسرے امیدوار کی کامیابی کاکوئی خفیف سا بھی امکان نہیں۔اسلئے اصل مقابلہ ریپبلکن پارٹی کے سابق صدر ڈانلڈ ٹرمپ اور ڈیمو کریٹک پارٹی کی ٹکٹ یافتہ نائب صدر کملا دیوی ہیرس کے درمیان ہے۔ کملا صاحبہ خود کوکمالا کہلاتی ہیں۔ اس سے پہلے ایک نشست میں ہم ڈانلڈ ٹرمپ کا تعارف پیش کرچکے ہیں۔ آج شریمتی کملا صاحبہ پر چند سطور

کملا دیوی صاحبہ کو امریکی تاریخ کی پہلی غیر مسیحی، ہندنژاد خاتون نائب صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان سے پہلے امریکہ کی ڈھائی سوسالہ تاریخ میں صرف دو خواتین کو کسی بڑی جماعت نے نائب صدر کیلئے امیدوار نامزد کیا۔ محترمہ جیرالڈین فرارو 1984 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار والٹر مانڈیل کے ہمراہ میدان میں اتریں اور صدر ریگن کے امیدوار برائے نائب صدارت جارج بش سے شکست کھاگئیں۔ اسکے چوبیس سال بعد 2008 میں محترمہ سارہ پیلن کو ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مک کین نے نائب صدارت کیلئے نامزد کیا لیکن انھیں جو بائیڈن نے ہرادیا۔

صدارت کیلئے کملا جی امریکی تاریخ کی دوسری خاتون امیدوار ہیں اس سے پہلے 2016 میں انھیں کی پارٹی کی سینیٹر ہلیری کلنٹن کو ڈانلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں شکست ہوچکی ہے۔

کملا صاحبہ کی والدہ انجہانی شیمالہ گوپلان مدراس سے امریکہ تشریف لائیں۔ انھیں امریکہ کے انتہائی موقر دانشگاہ جامعہ کیلی فورنیا کے شعبہ حیاتیات میں داخلہ مل گیا۔ امریکہ آمد کے وقت شیمالہ صاحبہ صرف 17 سال کی تھیں۔ انھوں نے برکلے سے تغذیہ و درافرازیات (Nutrition & Endocrinology) میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ اسی جامعہ میں انکی ملاقات جمیکا کے جناب ڈانلڈ ہیرس سے ہوئی جو مارکسسٹ معاشیات میں پی ایچ ڈی کرنے کےبعد جامعہ اسٹینفورڈ میں پروفیسر تھے۔ملاقات پسند اور محبت کے مرحلے طئے کرتی چند ہی ماہ میں نکاح تک جاپہنچی۔ شیمالہ صاحبہ اپنے شوہر سے صرف چار مہنیہ چھوٹی تھیں۔ شادی کے ایک سال بعد کملا بی بی نے جنم لیا اور اسکے تین سال بعد انکی چھوٹی بہن مایہ نے آنکھ کھولی۔ مایہ کی پیدائش کے چار سال بعد شیمالہ جی کو طلاق ہوگئی۔ کملا ہیرس کے اپنے والد سے تعلقات رسمی نوعیت کے ہیں۔ شائد اسکی وجہ یہ ہے کہ طلاق کے وقت وہ صرف 9 سال کی تھیں اور انکی پرورش والدہ نے کی جو ہندوستانی اقدار سے وابستہ رکھنے کیلئے کملا اور انکی بہن کو کئی بار چنائے (ہندوستان) لے گئیں۔

کملا ہیرس نے امریکی دارالحکومت کی جامعہ ہوورڈ (Howard)سے معاشیات اور سیاسیات میں بی اے کرنے کے بعد جامعہ کیلی فورنیا سان فرانسسکو سے قانون کی سند حاصل کی۔

انھوں نے عملی زندگی کا آغاز 1990 میں اپنی ہی کاونٹی کی ڈسٹرکٹ اٹارنی کی حیثیت سے کیا اور وہ دبنگ مستغیث (Prosecutor)مشہور ہوئیں۔ چار سال بعد انکا کیلی فورنیا اسمبلی کے اسپیکرولی براون سے معاشقہ شروع ہوا جو ان سے عمر میں24سال بڑے تھے۔ ولی براون صاحب نے کملا جی کو Unemployment Insurance Appeals Boardاور پھر غریبوں کے علاج معالجے کے کمیشن کا رکن نامزد کردیا۔ ولی براون کے علاوہ کملا ہیرس کے ٹی وی میزبان مونٹیل ولیمز (Montel Williams)سے بھی رازونیاز رہے جسے یہاں کی اصطلاح میں datingکہتے ہیں۔

کملا ہیرس کی شہرت کا آغاز 1998 میں ہوا جب سان فرانسسکو ڈسٹرکٹ اٹارنی جنرل نے انھیں اسسٹنت اٹارنی نامزد کیا اور وہ فوجداری (Criminal)ڈویژن کی سربراہ مقرر ہوئیں۔ اس دوران سیاہ فاموں سے انکا رویہ بہت سخت تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ایک قانوں منظور ہوا تھا کہ لگاتار تین چھوٹے جرائم کے مرتکب شخص کوعادی مجرم گردانا جائیگا۔ یہ بدنام زمانہ قانون Three strikes law کے نام سے مشہور ہے۔ اس غیر منصفانہ قانون کی زد میں آکر ہزاروں سیاہ فام بچے طویل قید بھگت رہے ہیں۔ اپنا رعب بٹھانے کیلئے کملا ہیرس نے اس قانون کا بیدریغ استعمال کیا اور سیاہ فاموں کو سخت سزا دلوائیں۔ اسی پس منظر کی بنا پر وہ طنزیہ کہتی ہیں 'میں 'ٹرمپ ٹائپ' کے مجرم پیشہ لوگوں کو خوب جانتی ہوں۔

نومبر 2002 میں کملا سان فرانسسکو کو ڈسڑکٹ اٹارنی جنرل منتخب ہوئیں، وہ سان فرانسسکو کی پہلی رنگدار اٹارنی جنرل تھیں۔ نومبر 2010میں انھیں ریاست کیلی فورنیا کی اٹارنی جنرل منتخب کرلیا گیا، یہاں بھی انھوں نے ریاست کی پہلی ایشیا نژاد سیاہ فام خاتون اٹارنی جنرل ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ چار سال بعد ہونے والے انتخابات میں انھوں نے یہ نشست برقرار رکھی۔ اسی دوران 2013 میں انکی ملاقات مشہور وکیل ڈک ایمہوف (Doug Emhoff)سے ہوئی۔ ڈگ مذہباً یہودی ہیں اور پانچ سال پہلے انکی طلاق اس وجہ سے ہوگئی کہ موصوف کا اپنی صاحبزادی کی استانی سےمعاشقہ چل رہا تھا۔ ایک سال بعد کملا ہیرس اور ڈگ نے شادی کرلی۔

بیس سال تک امریکی سینیٹ کی رکن رہنے کے بعد 2015 میں سیننٹر باربراباکسر نے سیاست سے سبکدوشی کا اعلان کیا اور 2016 میں انکی خالی ہونے والی نشست پر کملا ہیرس سیینیٹر منتخب ہوگئیں۔جب اقتدار سنبھالتے ہی صدر ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم المعروف Muslin Ban کے ذریعے ایران، لبیا، شام، صومالیہ، سوڈان اور عراق کےباشندوں کیلئے امریکی ویزے پر پابندی لگائی تواسکے خلاف سب سے توانا آواز سینیٹر کملا ہیرس کی تھی۔ 

2020 کے صدارتی انتخاب میں کملا ہیرس نے بھی قسمت آزمائی کی اور مباحثے کے دوران انکی جو بائیڈن سے کئی بار تلخ کلامی ہوئی۔تاہم نوشتہ دیوار پڑھ کر وہ پرائمری انتخابات کےآغاز سے پہلے ہی دوڑ سے باہر نکل آئیں،  جناب بائیڈن نے انھیں نائب صدر کا امیدوار نامزد کردیا اور 3 نومبر 2020 کو وہ نائب صدر مائک پینس کا ہراکر امریکہ کی پہلی خاتون نائب صدر بن گئیں۔

صدارت کیلئے کملا ہیرس کی نامزدگی کو اس اعتبار سے حادثاتی کہا جاسکتا ہے کہ صدر بائیڈن تمام کی تمام 50ریاستوں اور وفاقی دارالحکومت میں پرائمری انتخابات جیت کر نامزدگی کیلئے مندوبین کی مطلوبہ تعدادکی حمائت حاصل کرچکے تھے۔انھوں نے مجموعئ طور پر ایک کروڑ 44 لاکھ 65 ہزار ووٹ حاصل کئے جو کل ووٹ کے 87فیصد سے زیادہ ہے۔ نامزدگی کیلئے مندوبین کے 1886 ووٹوں کی ضرورت ہے جبکہ بائیڈن حمائت سے منتخب ہونے والے یعنی committed مندوبین کی تعداد 3586 تھی۔اس اعتبار سے پارٹی کے قومی کنونشن سے انکی نامزدگی بس ایک رسمی کاروائی تھی۔

کچھ عرصے سے صدر بائیڈن لغزشِ زبان اور وقتی نسیان کا شکار نظر آنے کیساتھ انکی حرکات و سکنات سے خیالات کے الجھاو، بے ترتیبی و پراگندگی کا اظہار ہورہا تھا۔ اس کا بڑا مظاہرہ 27 جون کو صدر ٹرمپ کیساتھ انکے مباحثے میں ہوا جب انکی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ گفتگو کا زیروبم غیر مستحکم تھا یعنی آواز کبھی اتنی ہلکی کہ جیسے سرگوشی فرمارہے ہیں اور کبھی ایسی کہ چیخنے کا گماں ہورہاتھا۔بحث کے دوران کئی بارایسا محسوس ہوا کہ گویا سوال انھیں سجھ ہی نہ آیا اوردماغی مشق و سوچ بچار کے بعد جب وہ بات کی تہہ تک پہنچے تو جواب دینے کیلئے الفاط کے انتخاب میں غیر ضروری تاخیر ہوئی۔ اس صورٹحال سے جناب ٹرمپ نے خوب فائدہ اٹھایا۔یعنی سابق صدردھڑلے سے جھوت بولتے رہے اور بائیڈن صاحب سے بولا ہی نہ گیا۔ اپنی خراب کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے انھوں نے اسے سفرِ یورپ، نزلے  اور تھکن کا شاخسانہ قراردیا۔ تاہم ڈیموکریٹک پارتی کے اندرونی دباو سے مجبور ہوکر انھوں نے کملا ہیرس کو امیدوار نامزد کردیا۔

سیاسی و نظریاتی اعتبار سے کملا ہیرس ایک روائتی سیاستدان ہیں۔امریکی سرحدوں کو غیر ملکیوں پر بند کرنے، چین کے گھیراو، یوکرین کے ذریعے روس کی مرمت، ایران اور افغانستان میں عدم استحکام اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کی غیر مشروط حمائت کے معاملے میں انکے خیالات اپنے حریف ڈانلڈ ٹرمپ سے زیادہ مختلف نہیں۔ کملا ہیرس نے صاف صاف کہا کہ اسرائیل کو مسلح رکھنا انکے منشور کا حصہ ہے اور  اسرائیل کی سلامتی یقینی بنانے کیلئے  وہ انتہائی پر عزم ہیں۔

سماجی معاملات پر کملا دیوی ہیرس اسقاط یا Reproductive Rightsکو خواتین کا استحقاق سمجھتی ہیں۔ ہم جنس ہرستی (LGBT)کے حوالے سے  جنسی ترجیح پر پابندی یا جبری ترغیب انکے خیال میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ دلچسپ بات کہ پیدائشی ہندو ہونے کے باوجود وہ ہندوتوا اور بی جے پی کی سخت مخالف اور کشمیریوں کے حقوق کی حامی ہیں۔   

ہفت روزہ سنڈے اسہیشل کراچی 8 ستمبر 2024