Thursday, April 8, 2021

ایران جوہری معاہدہ۔ مثبت پیشرفت

 

ایران جوہری معاہدہ۔ مثبت پیشرفت 

ایران تک جوہری ہتھیاروں کی رسائی  روکنے کیلئے 2015میں ہونے والا معاہدہ  بحال کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ ایران اور مغرب کے درمیان حالیہ تنازعے کا آغاز 2007 میں اسوقت ہوا جب ایران نے اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے جوہری وسائل استعمال کرنے کا اعلان کیا۔ امریکہ، اسرائیل اور انکے خلیجی اتحادیوں کا خیال تھا کہ ایران توانائی کی آڑ میں جوہری ہتھیار بنا رہا ہے چنانچہ ایران پر سخت تجارتی پابندیاں عائد کردی گئیں اور چین نے وعدے کے باوجود پابندیوں کی قرارداد کو ویٹو نہ کیا۔

سخت پابندیو ں سے پریشان ہوکر ایران نے بات چیت کا ڈول ڈالا اور برسوں کے جانگسل اور اعصاب شکن مذاکرات کے بعد 14 جولائی 2015 کو پابندیاں ہٹانے کے عوض ایران یورینیم کی افزودگی ختم کرکے اپنے جوہری پروگرام کو roll-backکرنے پر رضامند ہوگیا۔ معاہدے کے متن کی تیاری کا مرحلہ بھی اتنا آسان نہ تھا۔اس کام میں تین ماہ صرف ہوئے اور آخرِ کار 18 اکتوبر 2015کو معاہدے پر دستخط کے بعد 16 جنوری 2016 سے اس پر عملدرآمد شروع ہوا۔ اسی کیساتھ ایران پر سے پابندیاں ہٹالی گئیں۔ یہ معاہدہ برنامہ جامع اقدام مشترک Joint Comprehensive Plan of Actionیا JCPOAاور فارسی میں برجام کہلاتا ہے۔ سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے علاوہ جرمنی  بھی برجام  میں فریق ہے چانچہ اسے5+1معاہدہ بھی کہا جاتاہے۔ بعد میں ضامن کی حیثیت سے یورپی یونین نے بھی اس پر دستخط کئے ۔ 

برجام معاہدے کو صدراوباما اور اقوام متحدہ نے مثالی قراردیا تھاکہ طاقت کے استعمال کے بغیر جوہری تنازعہ پُرامن انداز میں حل کرلیا گیا۔لیکن اسرائیل کو برجام پر شدید تحفظات تھے۔ وزیراعظم نیتھن یاہو نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا تھاکہ انکا ملک ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس دوران امریکہ میں صدارتی مہم چل رہی تھی۔ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈانلڈ ٹرمپ برجام کے سخت مخالف تھے۔ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ایران جوہری معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ۔ انھوں نے تہران کے جوہری پروگرام کو اسرائیل کی سلامتی کیلئے شدید خطرہ قراردیااور انکا خیال تھا کہ ایرانیوں نے صدر اوباما کو بے وقوف بناکر ایک جعلی معاہدہ کیا جسکے نتیجے میں اس پر عائد معاشی پابندیاں ختم کردی گئیں۔جناب ٹرمپ  نے وعدہ کیا تھاکہ برسراقتدار آکر وہ اس معاہدے کو منسوخ کردینگے۔ دلچسپ بات کہ برجام کی امریکی سینیٹ سے 1 کے مقابلے میں 98 اور ایوان زیریں سے 25 کے مقابلے میں 400 ووٹوں سے توثیق ہوچکی ہے۔

معاہدے کو عالمی جوہری کمیشن IAECکی ششماہی  تصدیق سے مشروط کیا گیا ہے۔ ہرششماہی جائزے کے بعد تمام  ممالک کے سربراہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایران  برجام پر مخلصانہ عمل کررہا ہے۔ صدر ٹرمپ نےاس نوعیت کی تصدیق مارچ 2018میں بقلمِ خود فرمائی لیکن  تصدیق کے صرف دو ماہ بعد  8 مئی کو اپنی نشری تقریر میں برجام سے علیحدہ ہونے کا اعلان  کردیا۔ انکے لئے امریکی کانگریس سے اپنے فیصلے کی توثیق ممکن نہ تھی چنانچہ انھوں نے صدارتی فرمان جاری کرکے اپنی خواہش کو مہر تصدیق عطاکردی۔ اسی کے ساتھ انھوں نے عالمی برادری پر زوردیا کہ ایران پر دوبارہ وہی پابندیاں عائد کردی جائیں جو اس معاہدے سے پہلے اس پر لگائی گئی تھیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ  ایک آمرانہ حکومت ایرانی عوام کے سروں پر مسلط ہے جو 1979ء کے شدت پسند اسلامی انقلاب کا تسلسل ہے۔ ملاوں کی یہ حکومت مذہبی انتہا پسندی اور عدم رواداری کی راہ پر گامزن ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران یمن میں دہشت گردی کی سرپرستی کررہا ہے۔ ایران حزب اللہ، حماس اور القاعدہ کا پشتیبان ہے اور مرگ بر امریکہ و مرگ بر اسرائیل ایران کا قومی نعرہ ہے۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کی مدد کے علاوہ ایران عراق اور افغانستان میں بھی  شدت پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کو فروغ دے رہا ہے۔ امریکی صدر نے الزام لگایا کہ ایران درپردہ (proxy)لڑائیوں کی سرپرستی کے ذریعے علاقے میں عدم استحکام پھیلارہا ہے جسکی وجہ سے تہران علاقائی اور بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ تہران کے خلاف فرد جرم میں یہ الزام بھی ٹانک دیا گیا کہ ایرانی حکومت شمالی کوریا کو مالی و تیکنیکی مدد فراہم کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص متکبرانہ لہجے میں کہا کہ  اس بات کو یقینی بنانے کیلئےکہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیاریا حاصل نہ کرسکے تہران پر عبرتناک پابندیاں عائد کیجائینگی۔

امریکہ کی پابندیوں نے ایران کیلئےدوا اورغذاکاحصول بھی مشکل کردیا اور عالمی ادارہ صحت کا خیال ہے کہ ان پابندیوں سے تہران کی انسداد کرونا مہم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایرانی وزارت صحت کے مطابق بروقت دوائیں نہ ملنے سے ہزاروں مریضوں دم توڑ گئے۔

معاہدے کی یکطرفہ منسوخی نے جہاں امریکہ کو متکبر ریاست اور عالمی معاہدے کے تناظر میں واشنگٹن کو ناقابل  اعتبار ملک ثابت کیا وہیں معاہدے کے دوسرے دستخط کنندگان کا اخلاقی معیار بھی کھل کر سامنے آگیا۔

عالمی ایٹمی کمیشن کی ایک کے بعد دس رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ  ایران برجام پر اخلاص کے ساتھ عمل کررہا تھا لیکن امریکہ کو برجام کی پاسداری پر مجبور کرنے کے بجائے واشنگٹن کے دباو پر چین سمیت تمام دوسرے دستخط کنندگان نے ایرانی تیل کی خریداری منقطع کردی۔ ایرانی وزیرخارجہ جاوید ظریف نے اس بارے میں یورپی یونین کے نام ایک خط میں توجہ دلائی اور ساتھ ہی کہا کہ اگر60 دن کے عرصے میں یورپی ممالک   نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو تہران برجام  سے علیحدہ ہوکر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کردیگا۔ اس خط کے جواب میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر 'افسوس' کا اظہار کیا۔ جوابی مکتوب میں اس بات کی تعریف و تحسین کی گئی کہ ایران اب تک اس معاہدے پر اسکی متن اور روح کے مطابق عمل کررہاہے۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ کیجانب سے پابندیاں ختم کرنے کی بات  کو گول کرتے ہوئے ایران کو  برجام پر مخلصانہ عملدرآمد کی تلقین کی گئی۔

یورپ کے مایوس کن جواب پر ایران نے یورینیم کی افزودگی کے کام کو دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ اپنے میزائیلوں کے نظام کو بھی بہتر بنانا شروع کردیا۔جواب میں اسرائیل نے ایرانی جوہری پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر محسن فخرزادے کو ایک کار بم دھماکے میں قتل کرادیا۔ایرانی جوہری ماہرین کے قتل کاسلسلہ 2010 سے جاری ہے۔گزشتہ تیرہ سال کے دوران ایران کے 5انتہائی تجربہ کار سائنسدان اسرائیلی ایجنٹوں کے ہاتھوں قتل اور ایک ماہر اپاہج ہوچکے ہیں۔

برنامج بلاشبہ سابق صدر اوباما کا ایک بڑا کارنامہ تھا اور نائب صدر جو بائیڈن نے بھی اس سلسلے میں اہم کردار اداکیا۔اب صدر کی حیثیت سے انھوں نے سی آئی اے، وزارت خارجہ و قومی سلامتی کیلئے جن وزیروں اور مشیروں کا انتخاب کیا ہے اس سب نے برجام مذاکرات اور تدوینِ معاہدہ کی اہم ذمہ داریاں اداکی تھیں۔ وزیرخارجہ انٹونی بلیکنکن نائب صدر بائیڈن کے مشیر قومی سلامتی تھے جو بعد میں صدر اوباماکے نائب وزیر خارجہ مقرر ہوئے۔صدر بائیڈن کے مشیر قومی سلامتی جیک سولیون، نائب صدارت کے دوران بھی جناب بائیڈن کے مشیر سلامتی تھے جنھیں بعد میں صدر اوباما نےاپنا نائب مشیر تعینات کیا۔ سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنس صدر اوباما کی کابینہ میں نائب وزیرخارجہ تھے۔

ایران کے حوالے سے بائیڈن ٹیم کے ایک انتہائی اہم رکن جناب رابرٹ ملّے (Robert Malley)ہیں۔ اٹھاون سالہ مصری نژاد رابرٹ صدر اوباما کے مشیر خصوصی برائے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور خلیجی امور تھے۔ برجام کو جناب ملے کی کامیاب سفارتکاری کا کمال قراردیا جاتا ہے۔ اب جناب ملّے صدر بائیڈن کے خصوصی نمائندہ برائے ایران ہیں۔

برنامج سے امریکہ کی علیحدگی پر جو بائیڈن نے شدید تنقید کی تھی۔ انتخابی مہم کےدوران صدر ٹرمپ سے مباحثہ کرتے ہوئے انھوں نے کہاکاجوہری معاہدے سے یک طرفہ نکل آنے کے نتیجے میں باہمی تناؤ کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوا اور 2015  کے مقابلے میں  ایران آج جوہری ہتھیار تیار کرنے کے زیادہ قریب ہے۔جو بائیڈن نے عندیہ دیا تھاکہ اگر ایران برنامج کی شرائط پر مخلصانہ عمدرآمد کی یقین دہانی کروادے تو امریکہ معاہدے میں واپس آ جائے گا۔ چنانچہ اقتدار سنبھالتے ہی صدر بائیڈن نے برنامج میں امریکہ کی واپسی کیلئے مشاورت شروع کردی۔

جمعہ 2اپریل کو یورپی یونین نے مصالحت کار کے طور پر ایک آن لائن اجلاس کا اہتمام کیا، جس میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور ایران کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایران کو امریکہ کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ اگر وہ یورینیم کی افزودگی روک کر  برجام پر عملدرآمد شروع کردے تو واشنگٹن ایران پر عائد پابندیاں بتدریج نرم کردیگا۔ ایران نے اس پیشکش کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شرمناک اور غیر قانونی پابندیوں کو مکمل اور فوراً ختم ہوجانا چاہئے۔ ایرانی وزات خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے اپنے بیان میں کہا کہ پابندیوں کے مکمل خاتمے سے پہلے تہران کسی بھی  قسم کی گفتگو کو غیر ضروری اور وقت کا زیاں سمجھتا ہے۔ امریکہ کے اس بیان پر ایران کے اشتعال کو کم کرنے کیلئے فرانسیسی وزیرخارجہ جین ڈرین (Jean Drian)نے اپنے ایرانی ہم منصب سے فون پر بات کی۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماوں کے درمیان بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ فرانسیسی وزیرخارجہ نے جوہری تنازعے کو بات چت کے ذریعے کرنے کیلئے ایران کے مثبت روئے کی تعریف کرتے ہوئے جناب تہران  پر زور دیا کہ وہ برجام پر عملدرآمد جاری رکھے تاکہ بامقصد مذاکرات شروع کئے جاسکیں۔ گفتگوکے دوران ایرانی وزیرخارجہ جاوید ظریف نے دوٹوک انداز میں کہا کہ براہ راست بات چیت کے آغاز سے پہلے امریکہ کو ایران پر عائد پابندیاں ہٹانی ہونگی اور تہران اپنی اس شرط سے کسی قیمت پر دستبردار نہیں ہوگا۔

یورپی یونین کی کوششوں سے ایران امریکہ سے بالواسطہ بات چیت پر راضی ہوگیا اور اس سلسلے میں 6 اپریل کو  آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایران، برطانیہ، فرانس، چین اور روس کے درمیان پہلی  اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی جبکہ امریکہ کے نمائندے  دوسرے ہوٹل سے انٹرنیٹ کے ذریعے شریک گفتگو رہے۔ ایک شہر میں ہوتے ہوئے بھی آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کے بجائے مصالحت کاروں کے  ذریعے یہ 'انوکھے' مذاکرات بظاہر کامیاب رہے اور تجزیہ نگار اسے مستقل پیشرفت قراردے رہے ہیں۔اس دوران پابندیاں ہٹانے کے تیکنیکی امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وفد کے سربراہ عباس عراقچی نے کہا کہ وہ بات چیت سے مطمئن ہیں اور ایران گفتگو جاری رکھنے کے حق میں ہے۔ امریکہ کے خصوصی نمائندے رابرت ملّے نے کہا کہ جوہری معاہدے کے بعد پابندیاں اٹھانے کا جو وعدہ کیا گیا تھا اسکے معاشی فوائد سے مستفید ہونا ایران کا حق ہے۔

جوہری تنازعے کے باعزت تصفئے اور ایران سے تعلقات بہتر بنانے میں امریکہ کی دلچسپی کی ایک وجہ تہران کی چین سے بڑھتی ہوئی قربت ہے۔ ستائیس مارچ کو چین اور ایران نے 25 سالہ تزویراتی(Strategic )معاہدے پر دستخط کئے ہیں جسکا مجموعی حجم چارسو ارب ڈالر   سے زیادہ ہے۔ تہران میں طئے پانے والے معاہدے کے تحت ایرانی تیل و معدنیات کے عوض یہ خطیر رقم چین فراہم کریگا اور دونوں ملک دفاع، معیشت ، ابلاغیات ، مواصلات اور جہاز رانی کے میدان میں قریبی تعاون کرینگے۔ امریکہ کو ڈر ہے کہ چین ایران قریبی تعاون سے علاقے میں امریکہ  کا اثرورسوخ کم ہوجائیگا۔ حال ہی میں عراقی وزیراعظم نے کہا ہے کہ انکے ملک کواپنے دفاع کیلئے امریکی فوج کی ضرورت نہیں۔ واشنگٹن پر افغانستان سے فوج واپس بلانے کیلئے دباو بھی  بڑھتا جارہاہے۔ جمال خاشقجی قتل پر امریکہ کے موقف کو خلیجی ممالک اندرونی معاملات میں مداخلت سے تعبیر کررہے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو امریکی اسلحے کی فراہمی معطل کرنے اور یمنی حوثیوں کا نام دہشت گردوں کی فہرست سے محدود مدت کیلئے ہٹانے جیسے اقدامات سے بھی امریکہ اور اسکے خلیجی اتحادیوں کے درمیان تعلقات کی گرمجوشی ماند پڑتی نظر آرہی ہے۔اس تناظر میں ایران اور چین کا اتحاد امریکہ بہادر کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ سیانوں کا خیال ہے کہ بیجنگ تہران دوستی نے امریکہ کو اپنا رویہ بدلنے پر مجبور کیا ہے۔

عوامل ومحرکات سے قطع نظر ایران امریکہ کشیدگی میں کمی، امن دوستوں کیلئے اچھی خبر ہے۔ اس تناو نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کابیمہ مہنگا کردیا ہے۔ اس آبی شاہراہ سے دنیا کا 40 فیصد خام تیل گزرتاہے۔ متوقع حملوں کے خوف سے جہازوں کے حفاظتی اقدامات پر بھی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر ان پابندیوں کی وجہ سے ایرانی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کرونا کی ستائے ایرانی عوام راحت کےمستحق ہیں۔

اس مرحلے پر اس شخص کو کٹہرے میں لانا بھی ضروری ہے جس نے محض انا کی تسکین کیلئے نہ صرف اپنے ملک کو یکطرفہ طور پر معاہدے سے سبکدوش کرلیا بلکہ ناروا پابندیاں عائد کرکے ساڑھے آٹھ کروڑ انسانوں کو عذاب میں مبتلا کردیا۔ صدر ٹرمپ کے ظالمانہ روئے سے زیادہ شرمناک مہذب دنیا کی بے حسی ہے۔ امریکہ کے علاوہ معاہدے کے پانچوں دوسرے فریق اور ضامن نے ایک سے زیادہ بار گواہی دی کہ ایران برجم پر اسکے الفاظ اور روح کے مطابق عمل کررہا ہے۔ ایرانی تنصیبات کا دس بار  تفصیلی جائزہ لیا گیا اور معاہدے کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت نہ ملا۔ ماہرین کے ہر وفد میں امریکی سائینسدان بھی شامل تھے۔ اسکے باوجود کسی ایک ملک کو امریکی تکبر کے آگے کھڑا ہونے کی جرات نہ ہوسکی۔ اس معاہدے پر مبارک سلامت کی جو گلپاشی کی گئی تھی اسکی چند کلیاں یہاں پیشِ خدمت ہیں:

  • یہ علا قے میں امن و استحکام کیلئے اہم ترین قدم ہے۔ بان کی مون، معتمدِ عام اقوام متحدہ
  • معاہدے پر عملدرآمد کی ضمانت ہر نقص سے پاک ہے، یوکیا امانو  Yukia Amano ، سربراہ عالمی ایٹمی ایجنسی
  • تمام فریق کیلئے بہترین اور تاریخی معاہدہ ہے، صدر اوباما
  • اس عظیم الشان کامیابی کو سہرا تمام فریقوں کے سرہے۔ جرمن چانسلر محترمہ اینجیلامرکل

اگر بین الاقوامی معاہدوں کو اسی طرح بیک جنبش قلم منسوخ کرنے کی روش چل نکلی تو  اس سے معاہدوں اور وعدوں کی ساکھ ختم ہوجائیگی۔اس جانب شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ انھ بھی اشارہ کرچکے ہیں۔ ویتنام چوٹی کانفرنس کی ناکامی کے بعد شمالی کوریا کے چئر مین نے کہا کہ اگر میرا ملک امریکہ سے معاہدہ کرکے اپنا جوہری پروگرام ختم کر دے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ صدر ٹرمپ کے بعد آنے والی انتظامیہ معاہدہ منسوخ کرکے شمالی کوریا پرنئی پابندیاں نہیں لگادیگی؟ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے چاہئے لیکن  اس لاچار عفیفہ کے بارے میں حضرت انور مسعود کے چار مصرعوں پر ہم اپنی بات ختم کرتے ہیں۔

 تمہاری بھینس کیسے ہے کہ جب لاٹھی ہماری ہے

اب اس لاٹھی کی زد پر جو بھی آئے سو ہمارا ہے

مذمت کاریوں سے تم ہمارا کیا بگاڑو گے

تمہارے ووٹ کیا ہوتے ہیں جب ویٹو ہمارا ہے

ہفت روزہ  فرائیڈے اسپیشل کراچی 9 اپریل 2021

ہفت روزہ  دعوت دہلی 9 اپریل 2021

روزنامہ امت کراچی 9 اپریل 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر 11 اپریل


 

Friday, April 2, 2021

امریکی کانگریس کی عمارت (Capital) پر کار حملہ

 

امریکی کانگریس کی عمارت  (Capital) پر  کار حملہ

آج واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کے  پولیس ناکے پر  ایک شخص  نے  اپنی کار ٹکرانے کے بعد  خنجر سے  پولیس افسران پر حملہ کردیا  جس سے ایک پولیس افسر ماراگیا۔ پولیس کی فائرنگ سے حملہ آور  شدید زخمی ہوگیاجو ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔

 حملہ آور کی شناخت 25 سالہ نوح گرین کے نام سے کی  گئی ہے جو نسلاً سیاہ فام امریکی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارہ  حملے کے محرکات اور  ملزم کے پس منظر کی تحقیقات کررہا ہے۔ نوح نے  جامعہ نیوپورٹ،  ورجنیاسے فنانس میں بی بی اے کیا تھا۔ حملہ آور  کو  مبینہ طور پر سیاہ فام رہنماوں سے گہری عقیدت   تھی اور مالکم ایکس (Malcolm X) کی طرح  وہ بھی اپنا نام نوح ایکس لکھا کرتا تھا۔ مالکم ایکس مرحوم کا خیال تھا کہ گورے آقاوں نے اپنے غلاموں کی شناخت ختم کرنے کے لئے انکے  نام تبدیل کر دئے ہیں۔ اسی لئے وہ  آقا کے دئے خاندانی نام (Last name)کی جگہ  Xلکھتے تھے۔

چھ جنوری کو اس عمارت پر سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں نے حملہ کیا تھا جس کے بعد سے یہاں حفاظت کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں  اور نیم فوجی دستے کے  22 سوجوان تعینات ہیں۔عمارت کے گرد  بیرونی حفاظتی  باڑھ کو اسی ہفتے ہٹایا گیا تھا،تاہم  حفاظتی جنگلوں کا اندرونی حصار ابھی اپنی جگہ موجودہے۔ آجکل امریکی کانگریس کی تعطیلات ہیں اور واقعے سے پہلے  صدر بائیڈن بھی ہفتہ وار چھٹی منانے کیمپ ڈیوڈ روانہ ہوچکے تھے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق مبینہ ملزم نوح گرین نے ابلاغ عامہ کے سماجی ذرایع پر  ایک ہفتہ پہلے کہا تھا کہ 'اسکی نوکری ختم ہوگئی ، اسکی صحت خراب اور وفاقی حکومت  نے اسے پاگل کردیا ہے'۔

حملے سے دو گھنٹہ پہلے اس نے انسٹاگرام پر کہا کہ 'امریکی حکومت سیاہ فاموں کی دشمن نمبر ایک ہے' ۔ایک  تبصرے کے جواب میں کہ نوح نے کہا  'میرے گھر چوریاں ہوئیں، مجھے زہر دینے کی کوششیں کی گئی، حملے ہوئے اور میں ہسپتال میں دواوں کے منفی اثرات کا شکار ہوا'

نوح نے ایک پوسٹ میں مبینہ طور پر لکھا کہ آخری چند سال اسکے لئے سخت اور پچھلے دوماہ بہت سخت رہے ہیں۔اسکا کہنا تھاکہ وہ نیش آف اسلام کے سربراہ لوئیس فرخان کو مسیحِ حقیقی  (Jesus)اور نجات دہندہ سمجھتا ہے۔ نوح نے مبینہ طور پر نیشن آف اسلام کو 1085ڈالر کا عطیہ بھی دیا تھا۔ نوح نے لکھا کہ  (عیسٰی (ع) کی طرح اپنی صلیب وہ خود اٹھائیگا۔

فیس بک نے اپنے اعلان میں کہا ہےکہ کمیونٹی پالیسی کے تحت نوح کی تمام پوسٹ، پیغامات، تبصرے اور تصاویر  حذف کردئے گئے ہیں۔سی این این کے مطابق نیشن آف اسلام اور لوئیس فرخان کے ترجمان نے نوح کے متعلق کسی تبصرے سے انکار کردیا ہے۔

نیشن آف اسلام کے ستاسی سالہ سربراہ  لوئیس فرخان سیاہ فاموں پرہونے والے مظالم کے خلاف  ایک توانا آواز ہیں اوروہ  اس معاملے میں کسی تکلف و مداہنت کے قائل نہیں۔  انکے خیال  میں دنیا کی تمام خرابیوں کی جڑ نسل پرستی، رنگداروں سے امتیازی سلوک اور انکا استحصال ہے۔شعلہ بیان مقرر  لوئیس کے بے لچک اور سخت موقف پر سخت تنقید ہوتی ہے اور ان پر کئی بار مقدمات بھی قائم ہوئے تاہم وہ سیاہ فاموں میں خاصے مقبول ہیں۔


Thursday, April 1, 2021

اسرائیل کے چوتھے انتخابات بھی غیر فیصلہ کن

اسرائیل کے چوتھے انتخابات بھی غیر فیصلہ کن 

دوسال کے دوران اسرائیل کے چوتھے انتخابات 23 مارچ کو منعقد ہوئے اور اس بار بھی کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل  نہ کرسکی۔انتخابی نتائج کے تجزئے سے پہلےاسرائیلی سیاست میں عرب و مسلم آبادی کے کردار پر مختصر سی گفتگو۔

 اسرائیل میں 1967 کے بعد ہتھیائے گئے علاقے کے لوگ قانونی طور پر 'مہاجر' سمجھے جاتے ہیں جو اسرائیلی شہریت کے حقدار نہیں لیکن  قیام اسرائیل یعنی 1947 کے وقت جو عرب، یروشلم اور اسکے مضافات میں آباد تھے انھیں اسرائیلی شہری تسلیم کر لیا گیا۔ اسرائیل کی کل آبادی میں ایسے عربوں کا تناسب 25 فیصد کے قریب ہے جن میں 21 فیصد مسلمان اور باقی ماندہ 4 فیصد مسیحی ہیں۔

ووٹر رجسٹریشن کیلئے چھان بین کا نظام بہت سخت ہے اور دہشت گرد قرار دے دئے جانے کے خوف سے نصف کے قریب عرب بطور ووٹر رجسٹر ہی نہیں ہوتے۔انتخابات کے دن عرب علاقوں کی نگرانی سخت کردی جاتی ہے۔ 'دہشت گردوں' کی جانب سے جمہوری عمل میں متوقع  رکاوٹ کے سدباب کیلئے مسلم علاقوں میں چھاپے اور پکڑ دھکڑ کا بازار گرم رہتا ہے۔ یہ سلسلہ اس بار بھی جاری رہا اور یروشلم کے کئی کارخانوں اور گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ ایسی ہی واردات میں زیرتعمیر عمارت پر چھاپے کے دوران ایک فلسطینی مزدور لفٹ کیلیے بنائے جانے والے گڑھے میں گر کر جاں بحق ہوگیا۔

انتخابی مراکز کی نگرانی کیلئے پولنگ بوتھ کے اندر کیمرے نصب ہیں۔ انتہاپسند اور قدامت پسندوں کی جانب سے مسلمان ووٹروں کو دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں، چنانچہ عرب اور خاص طور سے مسلم علاقوں میں ووٹ ڈالنے کا رجحان خاصہ کم رہتا ہے۔اس بار پورے اسرائیل میں ووٹ ڈالنے کا تناسب ساڑھے 67 فیصد رہا لیکن عرب علاقوں میں 35 فیصد سے کم ووٹ ڈالے گئے۔ ستم ظریفی کہ مہذب دنیا اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کی اکلوتی جمہوریت قراردیتی ہے۔ جہاں مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکاجائے اس معاشرے کو جمہوری کیسے کہا جاسکتا ہے؟

بار بار انتخابات کی بنیادی وجہ اسرائیل میں رائے عامہ کی مذہبی و نظریاتی بنیادوں پر تقسیم ہے۔ اسرائیلی کنیسہ (پارلیمنٹ) 120 نشستوں پر مشتمل ہے اور گزشتہ چار  انتخابات میں کوئی  بھی جماعت 36 سے زیادہ نشستیں نہ لے سکی۔

اسرائیلی سیاست پانچ واضح گروہوں بلکہ راجواڑوں پر مشتمل ہے:

  • وزیراعظم نیتن یاہو المعروف بی بی کی قیادت میں دائیں بازو کا  لیکڈ اتحاد
  • یہودی ربائی
  • عرب  مسلم اتحاد
  • قوم پرست
  • بایآں بازو اور لبرل قوتیں

عرب اتحاد کی حیثیت ہندوستان کے دلتوں کی سی ہے کہ کوئی  جماعت انھیں منہہ نہیں لگاتی۔ 

بی بی کو بدعنوانی و بے ایمانی کے مقدمات کا سامنا ہے اور وزیراعظم کی حیثیت سے استثنی نے انھیں ابھی تک عدالتی شکنجے سے دور رکھا ہوا ہے، چنانچہ خود کو اس  منصب برقرار رکھنا بی بی کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔انکے مخالفین  وزیراعظم کے استثنی کا خاتمہ جبکہ بی بی  استثنی کو مزید موثر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن کینسہ میں کسی فریق کےپاس اتنے ووٹ نہیں کہ وہ حسبِ منشا قانون سازی کرسکے۔

باربار انتخابات کے موجودہ سلسلے کا آغاز جنوری 2019 میں ہوا جب لازمی فوجی بھرتی کے قانون میں ترمیم کے مسئلے پر شریکِ اقتدار اسرائیلی ربائیوں (علما)  اور قدامت پسند قوم پرستوں میں جھگڑا شروع ہوا۔جلد ہی کشیدگی اتنی بڑھی کہ حکومت تحلیل ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ یہ تنازعہ کیا ہے؟ اس پر چند سطور

اسرائیل میں لازمی فوجی بھرتی کا قانون نافذ ہے جسکے تحت ہر اسرائیلی لڑکے کو 2 سال  آٹھ ماہ  اور لڑکی کو دو سال فوجی خدمات سرانجام دینی ہوتی ہیں۔ یہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی لام بندی قانوں کے تحت  ریاست جب چاہے کسی بھی  شہری کو فوجی خدمت کیلئے واپس بلاسکتی ہے۔ اسرائیل کے  مسلمان شہریوں پر چونکہ اسرائیل پولیس اور فوج میں داخلہ بند ہے لہٰذا انھیں فوجی خدمت کیلئے طلب نہیں کیا جاتا۔ یہودی، دروز، مسیحی اور سرکیشیائی (Circassians) مسلمانوں کیلئے فوجی تربیت لازمی ہے۔ سرکیشیائی نسلاً تاتار ہیں جنکے آباو اجداد کوہ قاف سے ہجرت کرکے بحر اسود کے کنارے آباد ہوگئے تھے۔ عثمانی خلافت کے دوران  یہ لوگ فلسطین آگئے اور اسرائیل کے قیام پر انھوں نے خود کو یہودی ریاست سے وابستہ کرلیا۔

 لازمی فوجی خدمت کے قانون سے قدامت پسند حریدی (Heridi) فرقہ   یا  Ultra-Orthodox Jewsمستثنیٰ ہیں۔ اسرائیلی روایات کے مطابق حریدیوں کے آباواجداد حضرت عیسیٰ (ع)  پر سب سے پہلے ایمان لائے  تھے۔ عبرانی انجیل یا کتابِ عیٰسی میں خوف  آخرت سے کانپتے اور لرزتے ہوئے  لوگوں کو حریدی  کہا گیا ہے۔دلچسپ بات کہ حضرت مسیح سے تعلق و وفاداری کی بنا پر بعض یہودی علما، حریدیوں کو مسیحی فرقہ قرار دیتےہیں۔ حریدی خود کو   توریت اور احکامات ربانی  یا تلمود (Talmud)کا وارث سمجھتے ہیں اور انکے یہاں ہر مرد کیلئے توریت و تلمود کی   تعلیم فرض سمجھی جاتی ہے۔ درس و تدریس کیلئے مخصوص مدارس ہیں جہاں طلبہ ٹاٹ پر بیٹھ کر توریت حفظ کرتے  ہیں۔ ان مدارس کو  Yeshivaکہا جاتا ہے۔ Yeshiva کے معنی ہی ہیں  زمین پر بیٹھنا۔ حریدیوں کا کہنا ہے کہ لازمی فوجی تربیت کیلئےمدراس سے 32 مہینے کی غیرحاضری  تعلیم میں حرج کا سبب بنے گی جسے حریدی اپنے مذہبی معاملات میں مداخلت تصور کرتے ہیں۔

 حریدی اسرائیلی سیاست میں بے حد سرگرم ہیں۔ دونوں حریدی جماعتیں یعنی شاس پارٹی (Shas Party) اور متحدہ توریت پارٹی (UTJ) نیتں یاہو کی پرجوش اتحادی ہیں۔اسرائیل میں حریدیوں کی آبادی 10 فیصد کے قریب ہے اور متناسب طرز انتخاب کی بنا پرا نھیں اپنے حجم کی مطابق کنیسہ میں نمائندگی حاصل ہوجاتی ہے۔

وزیراعظم کی اتحادی اسرائیل مادروطن وطن پارٹی (Yisrael Beitinu)کے سربراہ لائیبرمین کو حریدیوں کیلئے فوجی خدمت سے استثنےٰ پر شدید اعتراض ہے انکا خیال ہے کہ ایک فرقے سے خصوصی برتاو، دوسروں سے ناانصافی ہے۔ چنانچہ انھوں نے 2019 کے آغاز پر فوجی خدمت سے حریدیوں کا استثنیٰ ختم کرنے کیلئےایک قانون متعارف کروادیا۔ اس 'جسارت' پر ربائی سخت مشتعل ہوگئے اور انکی دونوں جماعتوں یعنی شاس اور توریت پارٹی نے دھمکی دی کہ اگر بی بی نے بل کی حمائت کی تو وہ حکومت سے علیحدہ ہوجائینگے۔ اسوقت وزیراعظم نیتن یاہو کو پارلیمان کے 73 ارکان کی حمائت حاصل تھی جن میں ان دونوں جماعتوں کے 13 ارکان بھی شامل تھے۔شاس و توریت پارٹی کی حمائت کے بغیر 120 رکنی کنیسہ میں واضح اکثریت برقرار رکھنا ممکن نہ تھا۔ بی بی نے اپنے متحارب حلیفوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن دونوں ہی اپنی بات پر اڑے رہے چانچہ وزیراعظم نے صدر سے کنیسہ تحلیل کرنے کی درخواست کردی اور  9 اپریل 2019کو نئے انتخابات ہوئے ۔

انتخابات کااعلان ہوتے ہی جناب لائیبر مین نے صاف صاف کہا کہ حکومت سازی کیلئے  وہ صرف اسی  جماعت کی حمائت کرینگے جو انکے بل کی حمائت کا پیشگی وعدہ کرے۔اس ضمن میں حریدیوں کا موقف بھی باکل بے لچک تھا اور توریت پارٹی کے سربراہ موشے گیفنی نے اپنا یہ عزم دہرایا کہ بل کس قیمت پرمنظور نہیں ہونے دیا جائیگا۔

اسی دوران وزیراعظم کے خلاف مالی بدعنوانیوں کے حوالے سے کچھ نئے انکشافات سامنے آئے اور ان کے احتساب کی تحریک زور پکڑ گئی۔ دوسری طرف  صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے اور گولان الحاق کی حمائت نے  بی بی کی مقبولیت میں اضافہ کردیا۔ نئے انتخابات میں بھاری اکثریت سےکامیابی کیلئے پُراعتماد بی بی کا خیال تھا کہ اکثریت کے بل پر وہ وزیراعظم کے استثنی کو مزید بہتر کروا لیں گے لیکن انتخابات کے نتائج نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے۔ مقررہ آئینی مدت میں   کوئی بھی جماعت حکومت نہ بنا سکی، چانچہ صدر نے نوزائیدہ اسمبلی تحلیل کردی اور 17 ستمبر کو نئے انتخابات ہوئے۔ اس عرصے میں استثنیٰ کی چھتری کیساتھ بی بی عبوری وزیراعظم کے طورپر برقرار رہے۔

ستمبر میں جب دوبارہ انتخابات ہوئے تب بھی نتائج  ویسے کے ویسے ہی تھے۔ وہ ایوان بھی کھِلنے سے پہلے مرجھا گیا اور 2 مارچ 2020 کو تیسرے انتخابات منعقد ہوئے۔ اس بار بھی معلق کنیسہ وجود میں آیا لیکن بی بی نے اپنے مخالف نیلے اور سفید یا B&Wاتحاد کو شراکت اقتدار کا جھانسہ دیکر ٓمخلوط حکومت بنالی۔معاہدے کےتحت اس سال  نومبر میں B&Wکے سربراہ کو  وزیراعظم بننا تھا۔ بی بی کے سیکیولر و قوم پرست اتحادیوں نے فوجی تربیت سے حریدیوں کا استثنیٰ ختم کرنے میں  دلچسپی نہیں لی لیکن وزیراعظم کا استثنی مزید موثر بنانے کیلئے قانون سازی سے بھی انکار کردیا۔ ساتھ ہی استغاثہ نے سپریم کورٹ کے روبرو موقف اختیار کیا کہ موجودہ قانون کے تحت وزیراعظم کو اصالتاً(in person) حاضری سے استثنیٰ تو حاصل ہے لیکن سنگین الزامات پر مقدمہ چل سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے قانونی سقم کے حوالے سے وکلائے صفائی کے جواب کو غیر تسلی بخش قراردیتے ہوئے وزیراعظم کے خلاف مقدمے کی کاروائی شروع کردی۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ اصالتاًحاضری سے استثنیٰ وزیراعظم کا حق نہیں بلکہ  رخصت، عدالت کی توثیق سے مشروط ہے۔ پہلی حاضری کے بعد سے کرونا کا بہانہ بناکر نیتن یاہو ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

وزیراعظم کے  وکلا نے بی بی کو متنبہ کیا کہ اگر  B&Wسے شرکت اقتدار کے معاہدے کے تحت  نومبر میں انھوں نے وزرات عظمیٰ چھوڑی تو عدالت سے انکی گرفتاری کا حکم جاری ہوسکتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے B&W  کو دھمکی دی کہ اگراستثنا کے قانون میں ترمیم کرکےوزیراعظم کے ساتھ سابق وزیراعظم کو بھی تحفظ دیکر اسے ناقابل دست اندازی عدالت نہ بنایا گیا تو وہ حکومت تحلیل کردینگے۔  آخرِ کار سانجھے کی یہ ہنڈیا پھوٹ گئی اور 23 مارچ کو نئے انتخابات منعقد ہوئے

حالیہ انتخابات میں پہلی بار اسلام پسندوں نے اپنے نام پر حصہ لیا۔ ہواکچھ اسطرح کہ انتخابات سے پہلے نشستوں کی تقسیم پر عرب اتحاد (Joint List) میں اتفاق رائے نہ ہوسکا اور منصور عباس نے القائمہ عربیہ الموحدہ یا یونائیٹد عرب لسٹ کی حیثیت سے دھڑا الگ کرلیا۔اس دھڑے کا عبرانی محفف رعم Ra’amہے۔ چھالیس سالہ منصور عباس پیشے کے اعتبار سے طبیبِ داندان (Dentist)ہیں اور ساتھ ہی انھوں نے جامعہ حیفہ سے سیاسیاتِ اسرائیل میں ایم اے بھی کیاہے۔ اسی کیساتھ موصوف عالم و خطیب بھی ہیں اور 17 برس کی عمر سے یروشلم کی مسجدِ امن میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔اسرائیل میں اخوانی فکر سے وابستہ نوجوانوں نے 1971میں اسلامی تحریک برائے اسرائیل کے نام سے تنظیم قائم کی۔ آزادی فلسطین  سے اظہار وابستگی کیلئے اب یہ تحریک Islamic Movement in 48 Palestineکہلاتی ہے یعنی  وہ فلسطین جو اسرائیل کے قیام سے پہلے تھا۔ منصور عباس تحریک اسلامی اسرائیل کی مجلس شوری کے رکن اور منطقہ جنوبی کے نائب امیر ہیں۔

حالیہ انتخابات میں اصل مقابلہ بی بی کے لیکڈبلاک  اور Yesh Atidیا مستقبل پارٹی میں تھا۔ مستقبل پارٹی کے سربراہ  57 سالہ ییر لیپڈ Yair Lapidہیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے وہ صحافی، بلاگر اور کالم نگارتھے۔ موصوف بزعم خود لبرل اور مذہبی انتہاپسندی کے سخت خلاف ہیں لیکن فلسطین مخالف جذبات کے اظہار میں کسی تکلف و مداہنت سے کام نہیں لیتے۔ انکا خیال ہے کہ  'فلسطینی ماضی میں جی رہے ہیں اور انھیں امن سے کوئی دلچسپی نہیں'۔ موصوف فلسطینیوں کی اراضی پر اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے بھی حامی ہیں۔

مشترکہ پارلیمانی حجم کے اعتبار سے قائم المشترکہ یا عرب اتحاد اور منصور عباس کی رعم پارٹی کنیسہ کی  تیسری بڑی جماعت ہے۔حریدیوں کی شاس اور توریت پارٹی کی طرح دائیں بازوکی یمین پارٹی مخصوص طبقات میں مقبول ہے۔ جناب لائیبر مین کی اسرائیل مادروطن پارٹی کا پارلیمانی حجم تو کوئی خاص نہیں لیکن اپنے بانی و قائد کی مول تول میں مہارت کی وجہ سے یہ جماعت بادشاہ گری کے حوالے سےبے موثر سمجھی جاتی ہے۔ لائیبرمین خود کو روشن خیال سیکیولر کہتے ہیں لیکن انکے روسی والدین نے اپنے فرزند کی تربیت ایک متعصب اشکنازی یا یورپی نژاد یہودی کی حیثیت سے کی ہے جنھیں حریدیوں سے شدید نفرت ہے۔ ربائیوں کا کہنا کہ حریدیوں سے نفرت ہی میں لائیبرمین نے  فوجی تربیت سے استثنا کا شوشہ اٹھایا ہے۔

نئی پارلیمان کی مجموعی صورتحال یہ ہے کہ بی بی کے لیکڈ اتحاد اور انکے مذہبی حلیفوں کی مجموعی نشستیں 52 اور انکے مخالفین کا پارلیمانی حجم 51 ہے۔ سات نشستوں کے ساتھ دائیں بازو کی یمینیہ اب تک کسی اتحاد میں شامل نہیں تاہم یمینیہ کو ملاکر بھی حکومت سازی کیلئے 61 کا مطلوبہ عدد پورا نہیں ہوتا اور ایوان وزیراعظم کی کنجی اب  10 نشستوں والےعرب اتحاد کے پاس ہے۔ عربوں کو اپنے ساتھ ملانے والااسرائیل کا غدار کہلائے گا اسلئے بی بی اورانکے مخالف مسٹر لیپڈ عربوں کے سائے بھی دور ہیں۔

مسلم دنیا کے 'اعتدال پسندوں' کا خیال ہے کہ لڑائی سے کوئی نتیجہ نکلتانظر نہیں آتا اور اب زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے فلسطینیوں کو اسرائیلیوں کے ساتھ مل کر رہنے کی عادت ڈال لینی چاہئے۔ اسرائیل کو وطن قراردینے والے عربوں نے یہ بھی کرکے دیکھ لیکن  انکے منتخب نمائندوں کو شریک اقتدار کرنا تو دو ر کی بات ان کے حلف کے دوران کنیسہ خالی رہتا ہے۔ پارلیمنٹ میں قومی سلامتی سے متعلق حساس معاملات پر بحث کے دوران انھیں بائیکاٹ کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔سابق امریکی صدرجمی کارٹر کہتے ہیں کہ دورحاضر میں Apartheid کا جو عملی مظاہرہ اسرائیل میں ہورہا ہے وہ جنوبی افریقہ میں بھی نہیں دیکھا گیا۔

اس نفرت انگیز  سوچ  سے فلسطینیوں کو جو نقصان پہنچ رہا ہے وہ اپنی جگہ لیکن معلق پارلیمان اور فریقین کے غیر لچکدار رویوں کی بناپر دو سال سے جاری سیاسی بحران ختم ہوتا نظر نہیں آتا اور سیاسی پنڈت پانچویں عام انتخابات کی پیشنگوئی کررہے ہیں۔ حکومت سازی سے قبل نیتن یاہو کے مخالفین قانون سازی کے ذریعے ان پر ایوان اقتدار کا راستہ بند کردینا چاہتے ہیں۔ خیال ہے کہ آئندہ چندروز میں بی بی مخالف اسپیکر لانے کی کوشش کی جائیگی، جسکے بعد نئے صدر کیلئے انتخاب ہوگا۔ان نکات پر عرب اتحاد اور رعم بھی حزب اختلاف کی ہمنوا ہوگی۔ اگر بی بی کے مخالف، اُن کے اسپیکر اور صدر کو ہٹانے میں کامیاب ہوگئے تو زیرِمقدمہ شخص کی  وزیراعظم کے منصب کیلئے نااہلی کا بل پیش کیا جائیگا۔ حزب اختلاف کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کی نااہلی کے بعد لیکڈ سے مل کر ایک قومی حکومت کی  تشکیل ممکن ہوجائیگی۔

اسرائیلی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ قومی حکومت بھی بہت دن چلنے والی نہیں کہ جناب لائیبر مین لازمی فوجی تربیت سے حریدیوں کا استثنیٰ ہر قیمت پر ختم کرانا چاہتے ہیں تو دوسری طرف ربائی کہتے ہیں کہ اگر کنیسہ نے انکے مذہبی معاملات میں مداخلت کی تو فیصلہ سڑکوں پر ہوگا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 2 اپریل 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 2 اپریل 2021

روزنامہ امت کراچی 2 اپریل 2021

ہفت روزہ  رہبر سرینگر 4 اپریل


2021