Thursday, June 17, 2021

اسرائیل ۔۔ تبدیلی سرکار کی سِرکتی حمائت

 

اسرائیل ۔۔ تبدیلی سرکار کی سِرکتی حمائت

اتوار 13 جون کی شام اسرائیل میں تبدیلی سرکار یا Change Governmentنے اس شان سے حلف اٹھایا کہ 49سالہ نامزد وزیراعظم نیفتالی بینیٹ کو رائے شماری تک اپنے وزیراعظم بننے کا یقین ہی نہ تھا۔بر سرِ اقتدار اتحاد معتدل اور بزعم خود لبرل، مستقبل پارٹی، سیکیولر قوم پرست نیلے اور سفید یا B&Wاتحاد، دائیں بازو کی قدامت پسند یمینہ (دایاں بازو)، بائیں بازو کی لیبر پارٹی، قوم پرست اسرائیل مادرِ وطن پارٹی، قدامت پسند امیدِ نو پارٹی، سیکیولر امیرٹس پارٹی اور اخوانی فکر سے وابستہ رعم پارٹی پر مشتمل ہے۔

قارئین کی دلچسپی کیلئے رعم کا ایک مختصر تعارف۔

اس جماعت کا اصل نام رعد یا کڑک ہے جسکا عبرانی تلفظ رعم بن گیا۔مشہور اخوانی عالم و دانشور عبداللہ نمر درویش نے فلسطین 48اسلامی تحریک کی بنیاد رکھی۔ نام کیساتھ 48 لگانے کامقصد اس عزم کا اظہار تھا کہ وہ فلسطینی جغرافیہ میں 1948 کے بعد آنے والی کسی تبدیلی کو تسلیم نہیں کرتے۔ نابلوس سے تعلق رکھنے والے اس درویش کی عمر اسوقت صرف 23 برس تھی اور موصوف اس سے پہلے کئی سال  اسرائیلی جیلوں میں گزارچکےتھے۔ یہ وہ دور تھا جب تحریکِ آزادیِ فلسطین یا پی ایل او بہت مقبول تھی۔پی ایل او کے قائد جناب یاسر عرفات اور تنظیم کی ساری قیادت سیاسی اعتبار سے سیکیولر خیالات کی حامل تھی۔ ان حالات میں شیخ درویش نے آزادی برائے اقامتِ دین کا تصور پیش کیا اور جنوبی فلسطین کے صحرائی علاقے النقب (عبرانی تلفظ Negev)میں یہ تحریک بہت مقبول ہوگئی۔اس علاقے میں آباد فلسطینیوں کو صحرا کے حوالے سے بدو کہا جاتا ہے۔ خلیج عقبہ (ایلات) کے شمال میں واقع یہ صحرا اب ایک جدید شہر میں تبدیل ہوگیا ہے اور  ساحل پر فیشن ایبل فائیو اسٹار ہوٹلوں، مئے خانوں اور عشرت کدوں کو دیکھ کر یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ 1948 تک یہ  لق و دق صحرا تھا۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے یہاں عربوں کی اکثریت تھی لیکن جبری قبضہ و آبادکاری کی بناپر عرب  آبادی اب سکڑ کر 25 فیصد رہ گئی ہے۔

ترک خلافت کے دوران  یہاں کا سب سے بڑا شہر بئر السبع (سات کنویں) آباد ہواجو بیر شیبہ Beersheebaکہلاتا ہے۔ روائت کے مطابق صحرا میں پانی جیسی عظیم الشان نعمت کا ذکر کرکے حضرت ابراہیم خدائے واحد کی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور یہاں کنووں پر 'نو مسلم' اللہ اور صرف اللہ سے وفاداری کا حلف اٹھاتے تھے۔ اپنے عظیم الشان والد کے اتباع میں انکے جلیل القدر صاحبزادے حضرت اسحٰق کنووں کی منڈیر سے وعظ ارشاد فرماتے اور پانی عطاکرنے والے رب کی اطاعت کی دعوت دیتے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ مشرکین نے پانی دیوتا کی عبادت شروع کردی تھی جس کی نفی کیلئے حضرت اسحٰق ان کنووں پر اللہ کی توحید بیان کرتے اور یہیں لوگوں سے توحید کا حلف لیتے۔ عبرانی زبان میں حلف ، کنویں اور سات تینوں کیلئے لفظ Sheva(شبع) استعمال ہوتا ہے۔ ترک ماہرین آثار قدیمہ نے ساتوں کنویں تلاش کرلئے تھے لیکن برطانوی دور میں سپاہیوں کی آمدو رفت کیلئے سڑکوں کی تعمیر کے دوران اکثر کنوویں ملیا میٹ ہوگئے۔

اس علاقے میں ترک عثمانیوں نے مساجد، مدارس اور خانقاہیں تعمیر کیں اور ایک دور میں النقب خاص طور سے بئیر السبع اسلامی تعلیم کا بہت بڑامرکز تھا۔ اس زمانے میں دینی و دنیاوی تعلیم میں کوئی فرق نہ تھا اور ان مدارس میں تحفیظ قرآن  و شرعی علوم کیساتھ لسانیات، جغرافیہ اور علوم فلکیات بھی پڑھائے جاتے تھے۔ اسرائیل کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ  جامعہ بن گوریان النقب، بئر الشیبہ ہی میں ہے جہاں ایک چوتھائی سے زیادہ فلسطینی طلبہ زیرتعلیم ہیں تاہم جوہری طبعیات، Advanced Mathematicاور فلکیات کے شعبہ جات میں عربوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ ان علوم کی تعلیم کیلئے یہاں کے طلبہ جامعہ اسلامیہ غزہ جایا کرتے تھے جسے گزشتہ دنوں  اسرائیلی بمباروں نے پیوندِ خاک کردیا۔

 اسلامی تحریک النقب کے 'بدووں' میں بہت مقبول ہوئی، خصوصاً بئر الشیبہ اور اسکے مضافات میں تحریک نے رفاحی کاموں کا جال بچھا دیا اور جگہ جگہ اسکول، دواخانے اور فنی تعلیم کے مراکز قائم ہوگئے۔ اسرائیلی حکومت کی توجہ جنوب میں ساحلی علاقوں کی ترقی پر تھی جہاں سیاحوں کیلئے ہوٹلوں اور دوسری سہولیات کا انتظام کیا جارہا تھا۔

اسی دوران جنوبی النقب کے ارکان نے اسرائیلی انتخابات میں حصہ لینے کی تجویز پیش کی۔ اس قرارداد نے تحریک کو تقسیم کردیا۔ شمالی النقب کے ارکان نے انتخابی سیاست میں حصہ لینے کی شدید مخالفت کی۔ تحریک کے امیر ابراہیم سرسور کا موقف تھا کہ متناسب نمائندگی کے نظام کا فائدہ اٹھاکر عرب اور مسلمان، کنیسہ کی پچیس فیصد نشستیں جیت سکتے ہیں اور پارلیمان میں اتنی بڑی قوت کی حامل پارلیمانی پارٹی کو نظر انداز کردینا کسی کیلئے ممکن نہ ہوگا۔ تاہم اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا نہ ہوسکا اور معاملہ اس حد تک بڑھا کہ تحریک شمالی اور جنوبی  شاخ میں تقسیم  ہوگئی۔ انتخاب میں حصہ لینے کے حامیوں نے جنوبی شاخ کے نام سے  تل ابیب کے مضافاتی علاقے کفر(دیہات) قاسم میں اپنا مرکز قائم کرلیا جبکہ شمالی شاخ  نے بئر الشیبہ کے مرکز سے دعوتی کام جاری رکھا۔

جنوبی شاخ نے 1996میں سیاسی طور پر پہلے سے سرگرم عرب تنظیم،  قائمہ المشترکہ یا Joint Listکے پلیٹ فارم سے انتخاب میں حصہ لینا شروع کیا۔ تناسبِ آبادی کی  بنیاد پر ایک چوتھائی کنیسہ کی توقع کرنے والوں کو پہلا ذہنی دھچکہ اسوقت لگا جب 'عرب شہریوں' میں ووٹر رجسٹریشن کی مہم شروع کی گئی۔ اسرائیل قانون کے تحت 1967 کے بعد ہتھیائے گئے علاقے کے لوگ قانونی طور پر 'مہاجر' سمجھے جاتے ہیں جو اسرائیلی شہریت کے حقدار نہیں لیکن  قیام اسرائیل یعنی 1947 کے وقت جو عرب، یروشلم،  اسکے مضافات، النقبہ، حیفہ اور دوسرے علاقوں میں آباد تھے انھیں اسرائیلی شہری تسلیم کر لیا گیا۔ اسرائیل کی کل آبادی میں ایسے عربوں کا تناسب 25 فیصد کے قریب ہے جن میں 21 فیصد مسلمان اور باقی ماندہ 4 فیصد مسیحی ہیں۔ اسی بنا پر تحریک اسلامی کی شمالی شاخ اپنی کامیابی کیلئے بے حد پرامید تھی۔

لیکن ووٹر رجسٹریشن پر درج معلومات کی بنا پر سینکڑوں فلسطینی دہشت گردی کے الزام میں دھر لئے گئے۔ اسرائیل میں یہ قانون ناٖفذ ہے کہ معصوم بچے سمیت گھر کےکسی شخص پر بھی دہشت گردی کا الزام ثابت ہوجانے کی صورت میں اسکا گھر مسمار کرکے زمین نیلام کردی کردی جاتی ہے۔ قانون کے مطابق پولیس افسر کو گھور کر دیکھنا بھی دہشت گردی ہے۔ ووٹر رجسٹریشن کے فارم پر گھر کے ہر فرد کی معلومات درج کرنا ضروری ہے جسکی تفصیلی چھان بین کے بعد ووٹر فہرست میں اندراج ہوتا ہے۔ چھان بین کے اس سخت اور متعصب نظام کے خوف سے نصف کے قریب عرب بطور ووٹر رجسٹر ہی نہیں ہوتے۔انتخابات کے دن عرب علاقوں کی نگرانی سخت کردی جاتی ہے۔ 'دہشت گردوں' کی جانب سے جمہوری عمل میں متوقع  رکاوٹ کے سدباب کیلئے مسلم علاقوں میں چھاپے اور پکڑ دھکڑ کا بازار گرم رہتا ہے۔

انتخابی مراکز کی نگرانی کیلئے پولنگ بوتھ کے اندر کیمرے نصب ہیں۔ انتہاپسند اور قدامت پسندوں کی جانب سے مسلمان ووٹروں کو دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں، چنانچہ عرب اور خاص طور سے مسلم علاقوں میں ووٹ ڈالنے کا رجحان خاصہ کم رہتا ہے۔اس بار بھی پورے اسرائیل میں ووٹ ڈالنے کا تناسب ساڑھے 67 فیصد رہا لیکن عرب علاقوں میں 35 فیصد سے کم ووٹ ڈالے گئے۔یہی وجہ ہے کہ کسی بھی انتخابات میں جوائنٹ لسٹ کو 13فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں مل سکے۔

اختلافات کے باوجود شمالی اور جنوبی دھڑوں نے ایکدوسرے خلاف بیان بازی سے پرہیز کیا۔ نومبر 2015 میں اسرائیل نے حماس کی حمائت اور اخوان المسلمون سے وابستگی کا الزام لگاکر تحریک اسلامی شمالی برانچ پر پابندی لگادی لیکن یہ کالعدم تحریک فلسطینی علاقوں میں پوری طرح سرگرم ہے۔ اسکے مُرشدِ عام (امیر) شیخ رائداصلاح حیفہ کے سب سے بڑے شہر اُمّ الفحم کے رئیسِ شہر رہ چکے ہیں۔ جامعہ ہیبرون سے اسلامی شریعہ میں ایم اےکرنے والے 63 سالہ رائد اصلاح کی زندگی کا بڑا حصہ جیل میں گزرا اور آجکل بھی شیخ صاحب  پسِ دیوارِ زنداں ہیں

جنوبی دھڑے نے تحریک اور سیاسی سرگرمیوں کیلئے علیحدہ نظم قائم کررکھا ہے۔ تحریک کے ماہر جوانسال حمادابودعابس اور سیاسی ونگ یعنی رعم کے قائد منصور عباس ہیں۔ سیاسیات میں ایم اے منصور عباس ایک عالم دین بھی ہیں اور اختلافات کے باوجود شمالی دھڑے کے سربراہ شیخ رائد سے بات چیت چلتی رہتی ہے۔ جنوبی و شمالی دھڑوں کے امرا بھی رابطے میں ہیں اور اسی بناپر  متوازن بلکہ کسی حد تک لبرل سمجھے جانے والے جنوبی دھڑے کے امیر اپنے شمالی ہم منصب کے ساتھ دعوتی دروس میں شرکت کی بناپر کئی بار جیل بھی ساتھ جاچکے ہیں۔

شائد بہت سے قارئین کو تحریک اسلامی فلسطین پر یہ تفصیلی گفتگو موضوع سے کچھ ہٹی ہوئی لگی ہو جس پر معذرت لیکن ہمارا خیال ہے کہ مسلم دنیا کے نقطہ نظر سے اسرائیل کی داخلی سیاست پر سیر حاصل بحث کیلئے تحریک اسلامی فلسطین کے بارے میں بنیادی معلومات کسی حد تک ضروری ہیں اور شدید نظریاتی اختلافات  کے باوجود تحریک کے دونوں دھڑے جس اعلیٰ ظرفی اور وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کررہے ہیں اسکا مشاہدہ و مطالعہ اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ تلاش کرنے والوں دانشوروں کیلئے   مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

اب آتے ہیں حکومت سازی کی طرف۔ گزشتہ بدھ کو جب نامزد وزیراعظم نیفتالی بینیٹ کی رہائش گاہ پر آٹھ جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کامشترکہ اجلاس ہوا تو اس سے پہلے ہی نیفتالی کی یمینہ پارٹی کے ایک رکن بغاوت کا اعلان کرچکے تھے۔دوسری طرف مذہبی عناصر اور سیاسی  قدامت پسندوں نے اتحاد سے وابستہ خواتین ارکانِ کنیسہ کو ہراساں کرنے کی زبردست مہم شروع کررکھی تھی، جسکی بناپراکثر خواتین اجلاس سے غیر حاضر تھیں تاہم وہ فون پر نیفتالی کواپنی وفاداری کا یقین دلاچکی تھیں۔جب اجلاس کے اختتام پر نفری گِنی گئی تو جناب بینیٹ کو اعتماد کا یقین دلانے والوں کی تعداد61 تھی جو 120 میں کے ایوان میں حکومت سازی کیلئے کم سے کم تعداد ہے۔ضابطے کے مطابق اتحاد کے قائد اور مستقبل پارٹی کے سربراہ یار لیپیڈ نے جمعہ کی شام کنیسہ کے اسپیکر کو سرکاری خط میں حامی ارکان کی تعداد کے ساتھ نامزد وزیر اعظم اور انکی 9 خواتین سمیت 27 رکنی کابینہ کے نام بھیجدئے۔ اعتماد کیلئے کنیسہ کااجلاس اتوار کو ہونا تھا۔

کابینہ کے لئے جو نام سامنے آئے اس پر رعم کو سخت مایوسی ہوئی کہ اس میں آٹھ رکنی اتحاد کی سات جماعتوں کو بھرپور نمائندگی حاصل ہے۔ ہر جماعت کو دو سے تین قلمدان سونپے جارہےہیں لیکن رعم کو کابینہ سے دور رکھا گیا تھا۔ کچھ نام عربوں کیلئے سخت قابل اعتراض تھے جیسے

  • وزارت دفاع بینی گینٹز کو سونپی جارہی ہے جنھیں فلسطینی قصابِ غزہ کہتے ہیں۔
  • وزارت داخلہ کیلئے محترمہ ایلٹ شیکڈ کا انتخاب کیا گیا ہے جو شیخ الجراح کو ہر قیمت پر خالی کرانا چاہتی ہیں
  • انتہائی قدامت پسند زیو ایلکن وزیر ہاوسنگ و تعمیرات ہونگے۔ یہی وزارت فلسطینیوں کی زمینوں پر اسرائیلی بستیاں تعمیر کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اسی کیساتھ موصوف کو امور یروشلم بھی سونپا جارہا ہیں
  • سراغرسانی کے وزیر ایلزراسٹرن بھی سخت گیر سمجھے جاتے ہیں
  • قبضے المعروف Settlementکا قلمدان نیّر اور بش (Nir Orbach)کےپاس ہوگا۔ نیفتالی بینیٹ کے یہ  قریبی ساتھی اس بات پر روٹھے ہوئے تھے کہ رعم کو اتحاد میں کیوں شامل کیاگیا ہے۔ انھیں خدشہ تھا کہ اسلام پسند نئی اسرائیلی بستیوں کا قیام رکوا دینگے۔اربش صاحب نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیلی بستیوں کی تعمیرجاری رکھنے کی ضمانت نہ دی گئی تو وہ نیفتالی کو اعتماد کا ووٹ نہیں دینگے۔ انکے تحفظات دور کرنے کیلئے موصوف کو  وزیرِ امورِ نو آبادی یاAffairs Settlementبنادیا گیا۔
  • بارہ رکنی سیکیورٹی کابینہ یا کچن کیبینٹ بھی قدامت پسند اور سخت گیروں پر مشتمل ہے
  • معتدل و معقول ارکان میں لیبر ہارٹی کے عمر بارلیف وزیر پبلک سیکیورٹی، محترمہ ثمر زینڈبرگ وزیر ماحولیات اور محترمہ میری مشیلی شامل ہیں

پسندیدہ وزارت کی شکل میں نیر اورباش پر خصوصی مہربانی اور انکی جانب سے حمائت کے اعلان کے بعد  نیفتالی بینیٹ 61 ووٹوں کی حمائت کی 'امید' کررہے تھے جو واضح اکثریت کیلئے 'کافی' تھی۔ کنیسہ میں اجلاس کے آغاز پر قدامت پسندوں کا رویہ خاصہ جارحانہ تھا۔ نیفتالی کے ایوان میں آتے ہی ہال غدار، بے ایمان، ووٹ چور، عربوں کا کاسہ لیس اور سازشی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ ارکان دیکر تک فرش پر جوتے رگڑتے رہے۔ سیٹیوں اور نعروں کے شور میں کوئی بات سنائی نہ دیتی تھی۔ حتٰی کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے خود اپنے ارکان سے متانت اختیار کرنے کی درخواست کی۔ جب شور تھما تو رعم پارٹی کے رکن سعید الحرومی کھڑے ہوگئے اور انھوں نے گفتگو کی اجازت طلب کی۔ضابطے کے تحت اعتماد کے ووٹ سے پہلے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت نہیں لیکن سعید صاحب نے کہا کہ 'اسپیکر صاحب میں نہیں میرا ضمیر کچھ عرض کرنا چاہتا ہے' اجازت ملنے پرجذبات سے رندھی آواز میں سعید الحرومی نے کہا 'میں کیسے اس وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دے سکتا ہوں جو ہمیں بیدخل کرکے ہماری زمینوں پر اسرائیلی آبادیوں کا قیام جاری رکھنا چاہتا ہے۔ جس کی پوری کابینہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جنکے ہاتھوں  پر ہمارے بچوں کا لہو ہے'۔ انھوں نے سوال کیا کہ 'بی بی (نیتن یاہو) اور نیفتالی بینیٹ میں کیا فرق ہے اور میں نیفتالی پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں؟' تبدیلی سرکار سے ہماری قسمت تبدیلی نہیں ہوگی اور یہ قبضہ مافیا کا تسلسل ہے۔ سعید کی تقریر سے نیفتالی اور تبدیلی اتحاد کےارکان ہکا بکا رہ گئے ، نیتن یاہو کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا لیکن سعید الحرومی نے یہ کہہ کر بی بی کو بھی مایوس کردیا کہ “میں اس تماشے کاحصہ نہیں بنونگا”رائے شماری کے دوران سعید غیر جانبدار رہے۔کنیسہ کے 120میں سے 60ارکان نے نیفتالی پر اعتماد کا اظہار کیا جبکہ 59 ارکان نے مخالفت میں ہاتھ بلند کئے۔نیفتالی کی وزارت عظمٰی اخلاقی اعتبار سے مستند نہیں کہ وہ واضح اکثریت یعنی 61ووٹ لینے میں ناکام رہے۔

اسی بنا پر سبکدوش ہونے والے وزیرعظم نیتن یاہو نے کہا کہ حکومت ایوان کا اعتماد حاصل  میں ناکام ہوگئی ہے۔ اسپیکر صاحب! معاملہ آگے کیسے  بڑھے گا؟ انھوں نے اپنے حامیوں کو نئے انتخابات کی تیاری کی ہدائت کی۔

معاہدے کے تحت نفتالی بینیٹ پہلے ڈھائی سال وزیراعظم رہینگے جسکے بعد مستقبل پارٹی کے سربراہ یار لیپڈ اقتدار سنبھالینگے۔ انچاس سالہ نیفتالی امریکی ریاست کیلی فورنیا سے اسرائیل منتقل ہونے یہودی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ وہ اسرائیلی فوج کے چھاپہ مار دستے میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ نامزد وزیردفاع بینی گینٹز کی طرح نیفتالی بھی  بہت فخر سے کہتے ہیں کہ انھوں نے درجنوں فلسطینی دہشت گردوں کو اپنے ہاتھوں سے ہلاک کیا ہے۔ جنوری 2013 میں اسرائیلی کنیسہ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بہت دوٹوک انداز میں کہا' اسرائیل خود ہی ننھا سا ملک اور ہماری ضرورت سے بہت چھوٹا ہے۔ ہمارے پاس کہاں اتنی گنجائش کہ فلسطینی ریاست تشکیل دے سکیں'۔ فلسطینی ریاست ہمارے لئے تباہی کا پیش خیمہ ہوگی۔

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارنے جانیوالے فلسطینی بچوں کے بارے میں انھوں نے کہا ' یہ بچے نہیں دہشت گرد ہیں، ہمارا میڈیاخود ہمیں ہی بیوقوف بنارہا ہے'

تاہم جمعہ کو رعم کے ارکان کنیسہ سے ملاقات میں انھوں نے یقین دلایا کہ تبدیلی سرکار، بلا امتیاز تمام اسرائیلیوں کی یکساں خدمت کریگی۔ مذہبی عناصر ہوں یا دیندار، قدامت پسند یہودی یا عرب سب ایک ہیں۔ وزیراعظم نیفتالی کے دعوے اور  ضمیر کی آزمائش 15مارچ کو ہوگی جس دن انتہاپسندوں نے یوم یروشلم منانےکا اعلان کیاہے۔  

یہ دن 1967 کی جنگ میں یروشلم پر قبضے کی یاد میں عبرانی سال کے دوسرے مہینے ایار Iyarکی 28تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ اس سال 10 مئی کو ایار کی 28 تھی جب القدس شریف میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید تصادم ہوا۔مسجد اقصی کی بیحرمتی پر مشتعل ہوکر اہل غزہ نے تل ابیب پر راکٹ حملے کئےجسکے نتیجے میں گیارہ روزہ جنگ کا آغاز ہوا۔لڑائی کی بنا پر یروشلم مارچ معطل کردیا گیا۔ جنگ بندی کے بعد جلوس کیلئے 10 جون کی تاریخ دی گئی لیکن منتظمین نے مظاہرہ  نئی حکومت کے قیام تک ملتوی کردیا۔ اس مارچ کیلئے جو اجازات نامہ جاری کیا گیا ہے اسکے مطابق مظاہرین کو مشرقی بیت المقدس یعنی مسجد اقصیٰ تک جانے کی اجازت ہوگی۔ نئی وزیرداخلہ نے امن بحال رکھنے کے عزم کیساتھ فرمایا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی شہریوں کا بنیادی حق ہے اور اس میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائیگی۔ یہ ان فلسطینیوں کیلئے انتباہ ہے جو پرعزم ہیں کہ مظاہرین کو اقصےٰ کمپاونڈ میں نہیں داخل ہونے دیا جائیگا۔ خیال ہے کہ کچھ وزرا بھی مارچ میں شریک ہونگے۔ حماس نے اسی روز یوم سیاہ منانے کا اعلان کیاہے، سیاسی مبصرین منگل کو ایک اور خونریز تصادم کا خوف ظاہر کررہے ہیں۔

نیفتالی صاحب کی یقین دہانیاں اپنی جگہ لیکن انتہاپسندوں کو مسجد اقصیٰ تک آنے کی اجازت کے بعد اسلامی خیالات کی حامل جماعت  کے ووٹوں سے برسراقتدار انے والی حکومت سے بھی  فلسطینیوں کو راحت کی کوئی توقع نہیں رہی

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 18 جون 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 18 جون 2021

روزنامہ امت کراچی 18 جون 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر 20 جون


2021

 

 

Thursday, June 10, 2021

'متوقع' نئی اسرائیلی حکومت ۔۔۔ بھان متی کا کنبہ؟؟؟؟

'متوقع' نئی اسرائیلی حکومت ۔۔۔ بھان متی کا کنبہ؟؟؟؟

اسرائیل کے متحارب سیاسی گروہ مخلوط حکومت کے ایک فارمولے پر رضامند ہوگئے جسے تبدیلی سرکار یا Change Governmentکہا جارہا۔ تبدیلی ان معنوں میں کہ  بارہ سال بعد بن یامین نیتن یاہو المعروف بی بی سابق وزیراعظم ہوجائیں گے۔ فروری 2009 کے انتخابات میں انتہا پسند لیکڈ اتحاد اپنے پارلیمانی حجم کے اعتبار سے دوسرے نمر پر تھا لیکن بی بی نے مذہبی اور قوم پرست جماعتوں سے اتحاد کرکے حکومت بنالی۔ جوڑ توڑ کے ماہر نیتن یاہو سودے بازی اور مول تول کے ذریعے گزشتہ بارہ سال سے وزیراعظم کے عہدے پر فائز بلکہ کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں۔ سیاس، لسانی اور مذہبی تقسیم بلکہ منافرت کی بناپر اسرائیل میں گزشتہ تیس سال سے مستحکم حکومت نہ بن سکی اور کئی  قبل از وقت انتخابات  کے باوجود کئی دہائیوں سے کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے سے محروم ہے۔باربار انتخابات کے موجودہ سلسلے کا آغاز جنوری 2019 میں ہوا جب لازمی فوجی بھرتی کے قانون میں ترمیم کے مسئلے پر شریکِ اقتدار اسرائیلی ربائیوں (علما)  اور قدامت پسند قوم پرستوں میں جھگڑا شروع ہوا۔جلد ہی کشیدگی اتنی بڑھی کہ حکومت تحلیل ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

وزیراعظم کی اتحادی اسرائیل مادرِوطن وطن پارٹی (Yisrael Beitinu)کے سربراہ لائیبرمین کو  مدارس کے طلبہ کیلئے فوجی خدمت سے استثنےٰ پر شدید اعتراض ہے انکا خیال ہے کہ ایک طبقے  سے خصوصی برتاو، دوسروں سے ناانصافی ہے۔ چنانچہ انھوں نے 2019 کے آغاز پر فوجی خدمت سے مدارس کے طلبہ کا استثنیٰ ختم کرنے کیلئےایک قانون متعارف کروادیا۔ اس 'جسارت' پر ربائی سخت مشتعل ہوگئے اور انکی دونوں جماعتوں یعنی شاس اور توریت پارٹی نے دھمکی دی کہ اگر بی بی نے بل کی حمائت کی تو وہ حکومت سے علیحدہ ہوجائینگے۔ اسوقت وزیراعظم نیتن یاہو کو پارلیمان کے 73 ارکان کی حمائت حاصل تھی جن میں ان دونوں جماعتوں کے 13 ارکان بھی شامل تھے۔شاس و توریت پارٹی کی حمائت کے بغیر 120 رکنی کنیسہ میں واضح اکثریت برقرار رکھنا ممکن نہ تھا۔ بی بی نے اپنے حلیفوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن دونوں ہی اپنی بات پر اڑے رہے چنانچہ وزیراعظم نے صدر سے کنیسہ تحلیل کرنے کی درخواست کردی اور  9 اپریل 2019کو نئے انتخابات ہوئے ۔

انتخابات کااعلان ہوتے ہی جناب لائیبر مین نے صاف صاف کہا کہ حکومت سازی کیلئے  وہ صرف اسی  جماعت کی حمائت کرینگے جو انکے بل کی حمائت کا پیشگی وعدہ کرے۔اس ضمن میں ربائیوں کا موقف بھی بالکل بے لچک تھا اور توریت پارٹی کے سربراہ موشے گیفنی نے اپنا یہ عزم دہرایا کہ بل کس قیمت پرمنظور نہیں ہونے دیا جائیگا۔ دوسری طرف وزیراعظم کو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا تھا اور استغاثہ نے کچھ ایسے ٹھوس ثبوت پیش کردئے جسکی روشنی میں بی بی کی گرفتاری کا مطالبہ ہوالیکن وزارت عظمیٰ کے اسثنٰی کی بناپر وہ گرفتاری سے اب تک بچے ہوئے ہیں۔

اسی دوران صدر ٹرمپ نے امریکی سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے اور  مقبوضہ گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے کا اعلان کردیا جسکی وجہ سے بی بی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔مقبولیت کے باوجود انتخابات میں بی بی کی کارکردگی واجبی سی رہی اور نتائج نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے۔ مقررہ آئینی مدت میں   کوئی بھی جماعت حکومت نہ بنا سکی، چانچہ صدر نے نوزائیدہ اسمبلی تحلیل کردی اور گزشتہ سال 17 ستمبر کو نئے انتخابات ہوئے۔ اس عرصے میں استثنیٰ کی چھتری کیساتھ بی بی عبوری وزیراعظم کے طورپر برقرار رہے۔

نئے انتخابات کے نتائج  بھی ویسے کے ویسے ہی تھے۔ وہ ایوان بھی کھِلنے سے پہلے مرجھا گیا اور 2 مارچ 2020 کو تیسرے انتخابات منعقد ہوئے۔ اس بار بھی معلق کنیسہ وجود میں آیا لیکن بی بی نے اپنے مخالف نیلے اور سفید یا B&Wاتحاد کو شرکتِ اقتدار کا جھانسہ دیکر مخلوط حکومت بنالی۔معاہدے کےتحت نومبر میں B&Wکے سربراہ کو  وزیراعظم بننا تھا۔ بی بی کے سیکیولر و قوم پرست اتحادیوں نے فوجی تربیت سے مدارس کا استثنیٰ ختم کرنے میں  دلچسپی نہیں لی لیکن وزیراعظم کا استثنی مزید موثر بنانے کیلئے قانون سازی سے بھی انکار کردیا۔ ساتھ ہی استغاثہ نے سپریم کورٹ کے روبرو موقف اختیار کیا کہ موجودہ قانون کے تحت وزیراعظم کو اصالتاً(in person) حاضری سے استثنیٰ تو حاصل ہے لیکن سنگین الزامات پر مقدمہ چل سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے قانونی سقم کے حوالے سے وکلائے صفائی کے جواب کو غیر تسلی بخش قراردیتے ہوئے وزیراعظم کے خلاف مقدمے کی کاروائی شروع کردی۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ اصالتاًحاضری سے استثنیٰ وزیراعظم کا حق نہیں بلکہ  رخصت، عدالت کی توثیق سے مشروط ہے۔ پہلی حاضری کے بعد سے کرونا کا بہانہ بناکر نیتن یاہو ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

وزیراعظم کے  وکلا نے بی بی کو متنبہ کیا کہ اگر  B&Wسے شرکت اقتدار کے معاہدے کے تحت  نومبر میں انھوں نے وزرات عظمیٰ چھوڑی تو عدالت سے انکی گرفتاری کا حکم جاری ہوسکتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے B&W  کو دھمکی دی کہ اگراستثنٰی کے قانون میں ترمیم کرکےوزیراعظم کے ساتھ سابق وزیراعظم کو بھی تحفظ دیکر اسے ناقابل دست اندازیِ عدالت نہ بنایا گیا تو وہ حکومت تحلیل کردینگے۔  آخرِ کار سانجھے کی یہ ہنڈیا پھوٹ گئی اور 23 مارچ کو نئے انتخابات منعقد ہوئے۔

ان انتخابات کے نتائج بھی ملے جلے رہے۔ کنیسہ کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے بی بی کوحکومت سازی کی دعوت دی گئی۔نیتن یاہو گزشتہ بارہ سال سے دائیں بازو، قوم پرست اور مذہبی جماعتوں سے اتحاد کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔ لیکن اس بار دائیں بازو کی یمینہ کے سربراہ نیفتالی بینیٹ نے اتحاد کیلئے وزارت عظمیٰ کی شرط رکھدی۔ بی بی اسکے لئے تیار ہوگئے اور طئے پایا کہ پہلے ڈھائی سال نیتن یاہو وزیر اعظم رہینگے اور اسکے بعد شمعِ اقتدار نیفتالی کے آگے رکھ دی جائیگی۔ اسی دوران قوم پرست جماعت کے لائیبرمین نے فوجی تربیت سے مدارس کا استثنیٰ ختم کرنے کی بحث دوبارہ شروع کردی اور معاملہ یہاں تک بڑھا کہ بی بی، لائیبر مین یا مذہبی جماعتوں میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور ہوگئے۔ لائیبرمین کی اسرائیل مادرِوطن پارٹ کی 7 کے مقابلے میں ربائیوں کے پاس 16 نشستیں ہیں چنانچہ بی بی نے لائیبرمیں سے جان چھڑاکر اسلامی خیالات کی حامل رعم اور عرب اتحاد کو مہرومحبت کےاشارے شروع کردئے۔اس سے پہلے کہ مسلم عناصر کی جانب سے کوئی جواب آتا لیکڈکے مذہبی اتحادیوں نے  صاف صاف کہدیا کہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں اگر وزیراعظم عربوں اور اخوانیوں سے  ہاتھ ملائینگے تو ہماری طرف سے پیشگی شلوم (سلام)۔ بی بی نے حکومت سازی کیلئے 21 روز کی آئینی مہلت ختم ہونے پر صدر سے معذرت کرلی۔

اسکے بعد اسرائیلی صدر نے دوسری بڑی جماعت مستقبل پارٹی کے یار لیپڈ کو حکومت سازی کی دعوت دی۔ لیپڈ صاحب نظریاتی طور پر لبرل و سیکیولر ہیں چنانچہ لیبر پارٹی اور میرٹس پارٹی انکے پرچم تلے آگئی۔ 'یہودی مولویوں' سے الرجک لائیبرمین نے بھی یار کی حمائت کا عندیہ دیا۔ لیکڈ سے الگ ہونے والے گیدون سعر اور  وزارت عظمیٰ کی لالچ دیکر یار نے نیفتالی کو بھی اپنا ہمنوا بنالیا۔ دوسری طرف رعم نے اعلان کیا کہ انھیں وزارت کا کوئی شوق نہیں لیکن وہ ایک مستحکم حکومت کیلئے لیپڈ کو اعتماد کا ووٹ دینے کو تیار ہیں۔

اسی دوران شیخ الجراح سے فلسطینیوں کی بےدخلی کے معاملے پر کشیدگی بڑھی۔ بی بی نے اسے طولِ اقتدار کا سنہری موقع جانا اور پوری قوتِ قاہرہ کے ساتھ غزہ پر چڑھ دوڑے۔ فوجی مہم کی قیادت وزیردفاع بینی گینٹز کررہے تھے جو یار لیپڈ کے نائب ہیں۔قوم پرستی اور جنگی جنون کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت سازی کو بالائے طاق رکھدیا۔ کیا انتہا پسند ربائی اور کیا لبرل و سیکولرِ  'غزہ کو فنا کردو' سب ہی کا وظیفہ زبان ہوگیا۔ نیفتالی بینیٹ نے یہ کہہ کر لیپڈ کا ساتھ چھوڑدیا کہ اسوقت دہشت گردوں کے مقابلے کیلئے بی بی کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ لیبر اور امیریٹس کے روشن خیالوں نے غزہ کے نہتوں پر بمباری کے بصری مشمولات (ویڈیو کلپس) کو اپنے ٹویٹس کی زینت بناکر اسرائیلی فضائیہ کی 'جرات و شجاعت' کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ یار لیپڈ خود بھی دباو میں آکر گھر بیٹھ رہے۔

تاہم جنگ بندی کے بعد صورتحال ایک دم تبدیل ہوگئی۔ قوم پرستوں نے اسے اعتراف شکست گردانا اور ہرطرف جنگ بندی نامنظور کے نعرے سنائی دینے لگے۔ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یار لیپیڈ نے حکومت سازی کی مہم دوبارہ شروع کردی اور نیفتالی بینیٹ کو وزارت عظمی کی پیشکش کرکے ساتھ ملالیا۔ جلد ہی بی بی مخالف قوم پرست، لبرل و سیکیولر بھی ساتھ آگئے اور سات جماعتوں کے مشترکہ محاذ کا مجموعی حجم 58 ہوگیا جو حکومت سازی کے نشان نے 3 کم تھا۔ یار لیپڈ نے رعم پارٹی کے منصور عباس سے غیر رسمی بات چیت شروع کی۔منصورعباس نے  اعتماد کے ووٹ کو عرب اکثریتی علاقوں کی میونسپل کمیٹیوں کو دوسرے علاقوں کی طرح بااختیار بنانے، کمیٹیوں کو وزارت داخلہ کی نگرانی سے آزاد کرنے اور عرب علاقوں میں اسرائیلی فوج کے داخلہ کیلئے مئیر کی اجازت سے مشروط کردیا۔ قوم پرستوں نے ان شرائط پر شدید رد عمل کااظہار کیا۔ نئی کابینہ کی مجوزہ وزیرداخلہ اور نیفتالی بینیٹ کی نائب محترمہ ایکٹ شیکڈ نے کہا کہ 'شرط مان لینے سے فلسطینی اکثریتی علاقوں پر وزارت داخلہ کا عمل دخل ہی ختم ہوجائیگا'۔وزارت عظمیٰ کی لالچ میں نیفتالی نے منت سماجت کرکے اپنی نائب کو منالیا۔ وزارت اور پارلیمان کی مجالس قائمہ کی تقسیم پر اتحادیوں کے درمیان اختلافات ابھرے لیکن نیفتالی اور یار نے بہلا پھسلا کر معاملے کو ٹھنڈا کرلیا۔

دوجون کو یار لیپڈ نے مستقبل پارٹی، امیدِ نو پارٹی، مادرِ وطن پارٹی، ایمرٹس، لیبر، نیلے اور سفیداتحاد، یمینہ اور رعم کے دستخطوں سے حکومت سازی کیلئے آمادگی کا خط اسرائیلی صدر کو بھیجدیا۔ان آٹھ جماعتوں کا مجموعی پارلیمانی حجم 62 ہے۔ صدر نے یہ خط کنیسہ کے اسپیکر کی طرف اس ہدایت کیساتھ آگے بڑھادیا کہ نامزد وزیراعظم نیفتالی بینیٹ کو جلد ازجلد اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدائت کی جائے۔

بی بی کیلئے یہ تبدیلی ناقابل قبول ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اخوان اور حماس نے کمیونسٹوں سے مل کر اسرائیل کو تباہ کرنے کی سازش تیار کی ہے۔ یہ کمزور حکومت رعم کے چار ووٹوں کی مرہونِ منت رہیگی اور دہشت گرد حکومت گرانے کی دھمکی دیکر نئی اسرائیلی آبادیوں کی تعمیر رکوادینگے، دوریاست کے نام پر بیت المقدس کی حیثیت تبدیل ہوجائیگی اور کمیونسٹ ایجنڈے کو آگے بڑھاکر ملکی معیشت کو برباد کردیا جائیگا۔

معاملہ صرف بیانات تک محدود نہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے یمینہ کے ارکانِ کنیسہ کے گھروں پر مظاہرے ہورہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اللہ کے غضب سے دھمکانے کے ساتھ خواتین ارکان کا پیچھا کرنے اور انکے اہل خانہ کو دھمکی آمیز برقی خطوط بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔یمینہ کی جوانسال رکنِ کنیسہ ایدت سلمان کا اسوقت پیچھا کیا گیا جب وہ اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے جارہی تھیں۔ گاڑیوں پر نصب لاوڈاسپیکر سے 'عیدت غدار'، 'فلسطینیوں کی بے دام کنیز' 'عرب ناگن' اور دوسرے فحش و  شرمناک نعرے لگائے گئے۔ عیدت صاحبہ اتنی خوفزدہ ہیں کہ بچوں کو اسکول سے چھٹی دلاکر وہ نامعلوم مقام منتقل ہوگئی ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال یمینہ کی نائب سربراہ محترمہ ایکٹ شیکڈ کا ہوا۔ ایکٹ صاحبہ کے گھر پر حفاظتی دستہ تعینات ہے اور موصوفہ نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا ہے حتٰی کہ اتوار کی شب انھوں نے پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔معاملہ صرف دائیں بازو کے ارکان تک محدود نہیں۔ لبرل و سیکیولر خواتین کو بھی ہراساں کیا جارہاہے۔ ایمرٹس پارٹی کی محترمہ ثمیر زینڈبرگ کو 'مشورہ' دیا گیا کہ وہ کنیسہ کے اجلاس میں شرکت کے بجائے اپنی نوزائیدہ بچی کا خیال کریں، شرپسند اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔حال ہی میں فیس بک نے فرزندِ اول یار نیتن یاہو کا اکاونٹ ایک دن کیلئے معطل کردیا کہ موصوف  نے یمینہ کے ارکان کے گھیراو کیلئے اشتعال انگیز پوسٹ اور انسٹاگرام پر تصاویر جاری کی تھیں۔

نیتن یاہو نے شاس پارٹی کےسربراہ ارے دیری کے گھر عشائیے میں تقریر کرتے ہوئے مذہبی قدامت پسندوں کو یقین دلایا ہےکہ اللہ انکے مخالفین کا وہی حشر کریگا جو اس نے موسیٰ کے دشمنوں کا کیا تھا۔ معروف اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق انھوں نے کہاکہ 'کیا آپ لوگوں کو یاد نہیں اللہ نے موسیٰ کے دور میں آستین کے سانپوں سے کیسے نمٹا تھا؟ زمین پھٹی اور وہ دولتمند دشمنِ خدا اسبابِ دولت و زینت سمیت زندہ دفن ہوگیا'۔

دھمکی ا ور کشیدگی سے حکومتی اہلکار بھی پریشان ہیں۔اتوار کو اندرونی سلامتی کے ادارے شین بیت المعروف شاباک کے سربراہ نے وزارت داخلہ و دفاع کے نام اپنے خط میں کہا کہ آسمان سے باتیں کرتی گرو ہی و سیاسی نفرت کی بناپر ملک کسی بھی وقت بدترین خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔

جلتی پر تیل ڈالنے کیلئے انتہاپسندوں نے مشرقی بیت المقدس میں یروشلم مارچ کا اعلان کردیاہے۔ یہ دن 1967 کی جنگ میں یروشلم پر قبضے کی یاد میں عبرانی سال کے دوسرے مہینے ایار Iyarکی 28تاریخ کو منایا جاتا ہے، اس سال 10 مئی کو ایار کی 28تاریخ تھی جب القدس شریف میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید تصادم ہوا۔مسجد اقصی کی بیحرمتی پر مشتعل ہوکر اہل غزہ نے تل ابیب پر راکٹ حملے کئےجسکے نتیجے میں گیارہ روزہ جنگ کا آغاز ہوا۔لڑائی کی بنا پر یروشلم مارچ معطل کردیا گیا۔ Haaretzاور چینل 12کا کہنا ہے کہ وزیردفاع بینی گینٹز کی مخالفت کے باوجود وزیراعظم نے دباو ڈال کر منتظمیں کو مظاہرے کی اجازت دلوادی ہے اور اب یہ مارچ پیر 14 جون کو ہوگا۔ سیاسی مبصرین اس روز ایک اور خونریز تصادم کا خوف ظاہر کررہے ہیں۔وزیراعظم نیتن یاہو المعروف بی بی کیلیے یہ طول اقتدار کا سنہرا موقع ثابت ہوسکتا ہے۔

دھمکی اور ہراساں کرنے کی مہم بی بی کے حق میں 'مثبت' ثابت ہورہی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق یمینہ پارٹی کے موشے شکیل نے نفتالی بینیٹ کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اپنے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے موصوف اتوار کی شب نفتالی کی رہائش گاہ پر بلائے پارلیمانی اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے۔ اگر یہ بات درست ہے تو اب ایوان میں تبدیلی سرکار کے حامی صرف 61 رہ گئے ہیں جو  اعتماد کیلئے کم سے کم تعداد ہے اور اگر نیتن یاہو مزید ایک رکن کی وفاداری تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پانسہ پلٹ جائیگا۔یہی وجہ ہے کہ وہ کنیسہ کے اسپیکر یاریو لیون پرزور دے رہے ہیں اعتماد کا ووٹ ہفتے دس دن کیلئے ملتوی کردیا جائے جبکہ نیفتالی اور یار لیپیڈ کا مطالبہ ہے کہ اسپیکر صاحب جلد ازجلد اعتماد کے ووٹ کا اہتمام کریں۔ یہ افواہ بھی گرم ہے کہ تبدیلی سرکار نے 'معقولیت' اختیار کرنے کی صورت میں نئی مدت کیلئے اسپیکر کو اپنے ووٹوں سے منتخب کرانے کی پیشکش کی ہے۔شائد اسی پیشکش کا اثر ہے کہ اعتماد کے ووٹ کیلئے کنیسہ کاخصوصی اجلاس 13 جون کو طلب کرلیا گیا ہے۔

کشیدگی کے اس سنسنی خیز ماحول میں یہ کہنا مشکل ہے کہ تبدیلی سرکار اعتماد کا ووٹ حاصل کرسکے گی یا نہیں کہ معاملہ بس ایک ووٹ تک آچکا ہے یعنی ایک رکن نے آنکھ پھیری اور نفتالی صاحب کا وزیراعظم بننے کا خواب چکنا چور۔ جب ہمارے موقر قار ئین ان گزارشات کو شرفِ مطالعہ عطافرمارہے ہونگے اسوقت تک غالباً اونٹ کسی کروٹ بیٹھ چکا ہوگا۔ انشااللہ اگلی نشست میں ہم تبدیلی سرکار (اگر قائم ہوگئی) کے عزائم اور نئی قیادت سے وابستہ توقعات اور اندیشوں پر بات کرینگے۔ اللہ کرے ہمارا تجزیہ غلط ثابت ہو لیکن اس بات کی کوئی توقع نہیں کہ نفتالی اور یار کا اقتدار مظلوم و مقہور فلسطینیوں کیلئے راحت یا علاقائی امن کیلئے کسی مثبت امکان کا نقطہ آغاز بن سکے۔ نفتالی صاحب نے کل ہی فرمایا ہے کہ  بی بی کے مقابلے میں تبدیلی سرکار کا جھکاو 10 درجہ مزیددائیں طرف ہوگا۔ فلسطینیوں کے معاملے میں یار لیپڈ کے خیالات بھی کچھ مختلف incest نہیں۔موصوف بزعم خود لبرل اور مذہبی انتہاپسندی کے سخت خلاف ہیں لیکن فلسطین مخالف جذبات کے اظہار میں کسی تکلف و مداہنت سے کام نہیں لیتے۔ انکا خیال ہے کہ  'فلسطینی ماضی میں جی رہے ہیں اور انھیں امن سے کوئی دلچسپی نہیں'۔ موصوف فلسطینیوں کی اراضی پر اسرائیلی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنےکے  حامی ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 جون 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 جون 2021

روزنامہ امت کراچی 11 جون 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 جون


2021

 

Thursday, June 3, 2021

افغانستان! امریکی مداخلت کا تسلسل

افغانستان سے نیٹو افواج کی واپسی جاری ہیں۔گزشتہ ہفتے کابل ائرپورٹ کا انتظام اشرف انتظامیہ کے حوالے کرکے امریکی پرچم لپیٹ دیا گیا۔عسکری ذرایع کے مطابق افغانستان میں تمام فوجی اڈے بندکرکے ساری کی ساری نفری واپسی کیلئے بگرام بلا لی گئی ہے۔کابل سے 45 کلومیٹر شمال میں بگرام (صوبہ پروان) کے قریب واقع یہ ہوائی مستقر امریکہ کی مدد سے 1950 میں تعمیر ہوا۔ سرد جنگ کے اُس دور میں افغانستان امریکہ کا اتحادی تھا۔تعمیر کے بعد یہاں پہلی پرواز امریکہ سے آئی جس پر صد آئزن ہاور سوارتھے۔ نائن الیون کے بعد اسکا انتظام امریکی فضائیہ نے سبنھال لیا اور اسکی حفاظت کیلئے زمین سے فضا میں مارکرنے والے میزائل نصب کئے گئے۔ بگرام میں جنگی قیدیوں کیلئے ایک جیل بھی بنائی گئی تھی جسے عقوبت کدہ کہنا زیادہ مناسب ہے۔ اسی جیل میں پاکستان سے اغوا کی جانیوالی ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی رکھی گئی تھیں۔ڈاکٹر صاحبہ کو تفتیش کے دوران اس بہیمانہ انداز میں تشدد کا نشانہ  بنایاگیا کہ انکی چیخوں سے سارا جیل خانہ گونجتا تھا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق دیوپیکر مال بردار طیاروں میں حساس عسکری سامان کی واپسی یکم مئی سے جاری ہے اور  روزانہ تین سے پانچ طیارے سامان ڈھو رہے ہیں۔ اس ہوائی اڈےکی قباحت یہ ہے کہ یہاں ایک ہی رن وے ایسا ہے جس پر سے  بڑے طیارے اڑان بھر سکتے ہیں۔سپاہیوں کے انخلا کیلئے مشہور زمانہ عقابِ اسود (Black Hawk)ہیلی کاپٹر استعمال ہورہے ہیں۔ امریکہ میں غیر ملکی فوج کی کل نفری کتنی ہے اسکے بارے میں حقیقی اعدادوشمار تک رسائی ممکن نہیں لیکن کہا جارہا ہے کہ صدر جوبائیڈن کی جانب سے انخلا کے حتمی اعلان سے پہلے 2500 امریکی اور نیٹو کے 7000 سپاہی سارے افغانستان میں مختلف فوجی اڈوں پر تعینات تھے۔ باوردی اہلکاروں کے ساتھ 17000 سویلین بھی امریکی فوجی کمان کی زیرنگرانی مخلتف اداروں میں کام کررہے تھے۔ سویلین ٹھیکیداروں میں 6000 تو امریکی شہری ہیں جو فوج کیساتھ واپس جارہے ہیں۔ ایک بڑا مسئلہ امریکی فوج کیساتھ کام کرنے والے 10000افغان شہریوں کا ہے۔ ان  افراد کو ڈر ہے کہ انھیں غدار قراردیکرانتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جائیگا چنانچہ یہ لوگ اہلِ خانہ سمیت امریکہ جانے پر اصرار کررہے ہیں۔ امریکی حکومت کیلئے تیس چالیس ہزار افراد کو امریکی شہریت دینااتنا آسان نہیں۔ دوسرے غیر ملکیوں میں زیادہ تر مصری فوج کے جلاد ہیں جنھیں القاعدہ اور دوسرے عرب چھاپہ ماروں سے تفتیش اور لب کشائی کیلئے یہاں لایا گیا تھا۔

آسٹریلیا کے 80 سپاہیوں کا انخلا 28مئی کو مکمل ہوگیا جسکے بعد کابل میں آسٹریلیا کا سفارتخانہ  بند کردیاگیاہے۔ آسٹریلوی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سفارتخانے کی بندش عارضی ہے اور صورتحال واضح ہوتے ہی معمول کی سفارتی سرگرمیاں بحال کردی جاینگی۔

برطانیہ کے فوجیوں کی واپسی بھی تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔ اسکے 750 عسکری ماہرین  کابل اکیڈمی میں سرکاری فوجوں کو تربیت دے رہے تھے۔خیال ہے کہ جون کے پہلے ہفتے تک برطانیہ کے تمام سپاہی وطن واپس چلے جائینگے۔

گزشتہ کچھ ہفتوں سے امریکی فوج کی واپسی میں تیزی آگئی ہے اور فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جولائی کے آغاز تک انخلا مکمل ہونے کا امکان ہے۔ نیٹو فوجیوں کی واپسی بھی خاصی تیز ہے اور ایسا لگتا ہے کہ  وسط جولائی تک تمام کی تمام غیر ملکی سپاہ افغانستان سےچلی جائینگی۔

افغان مُلّا انخلا میں تاخیر سے خوش تو نہیں لیکن اب تک انکی جانب سے واپس ہوتی نیٹو افواج کے خلاف پُرتشدد پیشقدی کی کوئی اطلاع نہیں ملی بلکہ واپسی کیلئے فوجی اثاثوں کی دوسرے اڈوں سے بگرام منتقلی کے دوران تحفظ فراہم کیا گیا۔ قطر معاہدے کے تحت یکم مئی تک تمام غیر ملکی افواج کو نکلنا تھااور صدر بائیڈن کی جانب سے انخلا 11 ستمبر تک مکمل کرنے کے اعلان پراپنے ردعمل میں طالبان نے کہا تھا کہ 'ہم پورے اخلاص کیساتھ قطر معاہدے پر عمل کررہے ہیں اور اگر امریکہ نے وعدے کی پاسداری نہ کی تو تمام نقصانات کا ذمہ دار وہ خود ہوگا'۔ تاہم ملاوں کی جانب سے برداشت و متانت کا اظہار کیا جارہا ہے جو افغان امن کیلئے خوش آئند ہے۔ 

تاخیر کے باوجود انخلا کی رفتار اطمینان بخش ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ طالبان نے افغان ملت کے وسیع تر مفاد میں امریکہ کی وعدہ خلافی کو'بکراہت' قبول کرلیا ہے لیکن چچا سام، فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان پر نظر رکھنے کے جو جتن کررہے ہیں اس پر ملاوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

طالبان کے اضطراب کا سبب وہ خبر ہے جسکے مطابق افغانستان پر نظر رکھنے کیلئے پاکستان اپنے چند یا کم از کم ایک فضائی اڈہ امریکہ کو دینے پر تیار ہوگیا ہے۔ اس سلسے میں اسلام آباد اور واشنگٹن سے متضاد اشارے مل رہے ہیں۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے 11 مئی کو اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوےبہت ہی غیر مبہم انداز میں کہا تھا کہ 'ہم امن کی کوششوں میں امریکہ کے ساتھ ہیں لیکن اپنی سرزمین پر غیر ملکی بوٹ لانے کا سوال نہیں پیدا ہوتا'

تاہم گزشتہ ہفتے امریکی سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے عسکری خدمات کے سامنے سماعت کے دوران جب سینیٹر جو منشن نےسوال کیا کہ پاکستانی فوج اور خاص طور سے پاکستانی خفیہ ایجنسی افغان امن میں کیا تعاون کررہی ہے تو امریکہ کے نائب وزیردفاع برائے ہندوبحرالکاہل ڈیوڈ ہیلوی (David Helvey)نے کہا کہ 'افغان امن کیلئے پاکستان کا کردار بہت کلیدی نوعیت کا ہے۔ وہ امن کوششوں میں ہم سے تعاون کررہا ہے اور پاکستان نے افغانستان میں ہماری فوج کی مدد کیلئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیدی ہے'۔ہفتہ 22 مئی کو نیویارک میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'پاکستان، افغانستان کے معاملے پر امریکہ سے وسیع البنیادتزویراتی (strategic)تعاون کا خواہشمند ہے'۔

واشنگٹن کے صحافتی ذرائع بہت وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ فوجی انخلا کے دوران پسپا ہوتی نیٹوفوج کے تحفظ اورا سکے بعد'دہشت گرد' سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے شمسی فضائی مستقر ایک بار پھر امریکہ کو دیا جارہاہے۔نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملے میں تعاون کیلئے مکران کے ضلع واشوک کے قریب شمسی ہوائی اڈہ امریکہ کے حوالے کیاگیاتھا۔ یہ اڈہ ہلمند،  قندھار اور شمالی وزیرستاں پر ڈرون حملوں کیلئے استعمال ہوتارہا۔شمسی کے علاوہ جیکب آباد کے قریب شہباز کا فضائی اڈا بھی امریکیوں کے استعمال میں تھا جسے 2009 میں  بند کر دیا گیا تھا۔ مہمند ایجنسی میں سلالہ چوکی پر امریکی حملے کے بعد  نومبر 2011 میں شمسی ہوائی اڈہ بند کردینے کے علاوہ  پاکستان کے فضائی اور زمینی راستوں تک امریکیوں کی رسائی بھی مسدود کردی گئی تھی۔

پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) میں فلسطین اسرائیل تنازع پر بحث کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ 'امریکہ کو افغانستان کی سرزمین پر ڈرون آپریشنز کے لیے نہ تو پاکستان کی جانب سے کوئی فوجی اڈہ دیا جا رہا ہے اور نہ کوئی ایئر بیس'۔ شاہ صاحب کا کہنا تھا کہ یہ ماضی کی بات تھی، اب ’ماضی کو بھول جائیں۔‘پاکستانی وزیرخارجہ نے جذباتی انداز میں کہا ’یہ ایوان اور پاکستانی قوم میری گواہی یاد رکھے کہ عمران خان کی قیادت میں اس ملک میں امریکہ کے لیے کوئی فوجی اڈہ مختص نہیں ہو گا‘۔

پیر، 23 مئی کو پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے امریکہ کو کوئی اڈا دینے سے متعلق خبروں کی ایک بار پھر سختی سے تردید کی لیکن یہ بات کہہ کرمعاملے کو مشکوک بنادیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان 2001 میں ہونے والے معاہدے ’ایر لائنز آف کمیونیکشن (اے ایل او سی) اور گراؤنڈ لائن آف کمیونیکشن (جی ایل او سی) کے معاہدے موجود ہیں اور دونوں ممالک ان کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ جب چودھری صاحب سے پوچھا گیا کہ اے ایل او سی اور جی ایل او سی  کے تحت کس نوعیت کا تعاون کیا جاتا ہے تو انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ مزید کچھ نہیں کہہ سکتے۔

بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں پاک فضائیہ ایک ہوائی اڈہ تعمیر کررہی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اڈہ امریکہ کیلئے بنایاجارہا ہے۔ فضائیہ کے ترجمان نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے اس بات کی تو تصدیق کی کہ بلوچستان میں نئے فضائی اڈے کی تجویز زیرغور ہے لیکن کہا کہ اس حوالے سے اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔نصیر آبادمشرقی بلوچستان میں سندھ کی سرحد پر ہے لہٰذا اسکا افغانستان کیلئے استعمال مناسب نظر نہیں آتا۔تیسری دنیا میں حساس معاہدوں کی تفصیلات کمی کمین عوام سے خفیہ رکھی جاتی ہیں چنانچہ انکی  تفصیلات  جاننے کیلئے عرق ریزی وقت کا زیاں ہوگا۔

ممتاز دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل (ر)امجد شعیب کا خیال ہے کہ اے ایل او سی اور جی ایل او سی  معاہدوں کے تحت امریکی، پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود استعمال کرسکیں گے مگر اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔اس ضمن میں تازہ ترین خبر یہ ہےکہ واشنگٹن، افغانستان کے شمالی پڑوسیوں ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان سے بھی رابطے میں ہے۔

گزشتہ دنوں ایسوسی ایٹیڈ پریس نے امریکہ کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی کی یہ گفتگو شایع کی، جس میں جنرل صاحب نے کہا کہ 'ہم افغانستان کے پڑوسی ملکوں سے فضائی حدود کے استعمال اور فوجیوں کی تعیناتی کیلئے مذاکرات کررہے ہیں مگر اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا'۔ جنرل صاحب کی  بات کو آگے بڑھاتے ہوئے  24 مئی کو امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں فوجی مشن مکمل ہوجانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔

اکتوبر سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کیلئے بائیڈن انتظامیہ نے جو میزانیہ کانگریس کو بھجوایا ہےاس میں افغانستان کے جنگی اخراجات (war cost)کیلئے 13 ارب ڈالر مختص کئے گئے ہیں، گزشتہ برس اس مد میں 8ارب 90 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ عسکری تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ 2021 کے مقابلے میں اٖضافی چار ارب ڈالرانخلا کے اخراجات کیلئے رکھے گئے ہیں۔بجٹ میں افغان فوج کو 3 ارب تیس کروڑ ڈالر دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے افغانستان میں انسداد دہشت کے خلاف مہم کیلئے 36 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیاہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق امریکی حکومت نے پاکستانی فوج کی تربیت کا پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کیلئے ملٹری ایجوکیشن اور ٹریننگ پروگرام منسوخ کردیا تھا، لیکن نئے سال کیلئے اس مد میں 35 لاکھ ڈالر مختص کیے جارہے ہیں۔ پاکستان کی اقتصادی مدد یعنی اکنامک سپورٹ فنڈ کیلئے 4 کروڑ 75 لاکھ ڈالر کی سفارش کی گئی ہے۔خطے میں منشیات کی روک تھام کے لیے 10 کروڑ 78 لاکھ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔اس  رقم کا بڑا حصہ پاک افغان سرحد کے حفاظتی انتطامات پر خرچ ہونگے۔انسداد منشیات کیلئے مختص رقم سے ساحلِ مکران کے حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ کے حوالے سے مکران میں کبھی کوئی بڑی سرگرمی نہیں دیکھی گئی، چنانچہ بجٹ میں اسکا ذکر شکوک و شبہات پیدا کررہا ہے اور نظریہ سازش پر یقین کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ رقم شمسی ہوائی اڈے کو چالو کرنے کے لئے ضروری مرمت، ریڈار کی تنصیب اور تزئین و آرائش پر خرچ ہوگی۔

ان خبروں پر طالبان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ابتدائی بیان میں انکے ترجمان نے کسی ملک کا نام لئے بغیر کہا تھاکہ علاقے میں امریکی اڈوں کا قیام تاریخی غلطی ہوگی۔خطے میں اجنبی فوجیں بے امنی اور جنگ کا اصل سبب ہیں اور ہمیں امید ہے ہمسائیہ ممالک ہم پر حملے کے لیے اپنی زمین اور فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ملاوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہدیا کہ اگر ایسا ہوا تو افغان قوم اس طرح کے گھناؤنے اقدام کے خلاف خاموش نہیں رہے گی اور ذمہ داروں کو نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی انخلا کے بعد وہ افغان سرزمین دوسروں کی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینگے اوروہ  چاہتے ہیں کہ کوئی دوسری سرزمین بھی افغانیوں کے خلاف استعمال نہ ہو۔

افغانستان کے طلوع نیوز نے 22 مئی کو طالبان کا جو دوسرا بیان شائع کیا ہے اس میں ملاوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جاسوسی کیلئے امریکہ ڈیورند لائن (پاک افغان سرحد) کے قریب پاکستان کی فضائی حدود اور زمین کو استعمال کرنے کا ارارہ رکھتا ہے۔ طلوع کے مطابق طالبان نے کہا کہ 'یہ تو ایسے ہی ہےجیسے بگرام اور شین ڈنڈ پر امریکہ بیٹھا رہے اور ایسا ہوا تو افغان ملت مقدس جہاد جاری رکھے گی'

علاقے میں امریکی اڈوں کے ممکنہ قیام سے طالبان کے علاوہ چین اور ایران کو بھی تشویش ہے۔ صدر بائیڈن نے حلف اٹھاتے ہی ہندوستان، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کے مابین 'اتحادِ اربعہ' یا Quad کا چوٹی اجلاس طب کیا تھا جس میں آبنائے ملاکا کی کڑی نگرانی پر غور کیا گیا۔ یہ تنگ سی آبی  پٹی، بحرِ جنوبی چین کو بحر ہند تک رسائی دیتی ہے۔ کرونا کی وجہ سے گزشتہ اجلاس مجازی یا Virtual ہواتھا اور خبرگرم  ہے کہ اس سال کے آخر تک حقیقی سربراہی اجلاس آسٹریلیا میں ہوگا۔ چین کا خیال ہے کہ کواڈ کا بنیادی ہدف اسکی ناکہ بندی ہے۔

اسی طرح ایران کو بھی علاقے میں چچا سام کی عسکری موجودگی پر اعتراض ہے۔ اسکے جوہری پروگرام پر اسرائیل کا رویہ بے حد جارحانہ ہے۔گزشتہ دنوں وزیراعظم نیتن یاہو نے صاف صاف کہا کہ انکے لئے آئت اللہ (ایران) کا جوہری پروگرام ناقابل قبول ہے اور امریکہ ساتھ دے یا نہ دے ایران کو ہتھیار بنانے سے روکنے کیلئے اسرائیل آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس تناظر میں ایرانی سرحدوں کے قریب  اسرائیل کے سرپرست و اتحادیوں کے اڈے  پرتہران کی تشویش بے وجہ نہیں۔

انخلا کے دوران امریکہ اور نیٹو کیلئے زمینی و فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت تو ٹھیک ہے کہ قطر امن معاہدےکے تحت طالبان بھی پسپا ہوتے غنیم کو محفوظ راستہ دے رہے ہیں لیکن واپسی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد پڑوس میں امریکی فوج کی تعیناتی یاافغانستان پر حملے کیلئے سرزمین کے ممکنہ استعمال کو طالبان اپنی پشت میں خنجر زنی سمجھیں گے۔ اس حوالے سے ملاوں کے تحفظات کا ازالہ ضروری ہے۔دوہفتہ پہلے پاکستان کی وزارت خارجہ نے یہ بیان داغا تھاکہ  'اسلام آباد کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کا حامی نہیں'۔ تختِ کابل پر کون بیٹھے گا اس فیصلے کا اختیار صرف اور صرف افغان عوام کو ہے اور ساری دنیا کو یہ فیصلہ کشادہ دلی سے قبول کرنا چاہئے۔ اسلام آباد، واشنگٹن، دلی و برسلز کو اس فکر میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کی سفارتی بقراطی طالبان کو مشتعل کرنے کا سبب بنے گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 4 جون 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 4 جون 2021

روزنامہ امت کراچی 4 جون 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 جون


2021