Thursday, March 17, 2022

توانائی کا بحران ۔۔یہ عارضہ، عارضی نوعیت کا ہے

توانائی کا بحران ۔۔یہ عارضہ، عارضی نوعیت کا ہے

مشرقی یورپ کی خونریزی چوتھے  ہفتے میں داخل ہوچکی ہے اور اسکے جلد ختم ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ صدر پیوٹن کئی بار کہہ چکے ہیں کہ یوکرین کے ہتھیار ڈالنے تک فوجی کاروائی جاری رہیگی جبکہ یوکرینی صدر ولادیمر زیلنسکی کیلئے ہتھیار ڈالنے کا تصور ہی ناقابل قبول ہے۔ اس جنگ کا انجام کیا ہوگا اسکے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے لیکن غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہر گزرتے دن کیساتھ یوکرین کے افغانستان بننے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔ یوکرینیوں کی غیر متوقع مزاحمت پر خود کریملن کو بھی حیرت ہے۔

روسی بمباری میں شدت کے باوجود میدانِ جنگ میں وسعت کا امکان فی الحال کم ہے کہ یوکرینی صدر کی متعدد جذباتی درخواستوں کے باوجود امریکہ اور نیٹو اس جنگ میں براہ راست ملوث ہونے کو تیار نہیں۔ ہم نے جان کرامکان  صفر کے بجائے 'کم ' لکھا ہے کہ روسی صدر پیوٹن کے خیال میں یوکرین کو اسلحے کی فراہمی بھی جنگ میں براہ راست شرکت ہے اور 12 مارچ کو روسی وزارت دفاع نے صاف صاف کہا کہ وہ پولینڈ سے اسلحہ لے کر یوکرین آنے والے قافلوں کو عسکری ہدف سمجھتے ہیں۔ا سی شام روسی بمباروں نے مغربی یوکرین کے شہر لویو (Lviv)کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جس میں یوکرینی وزارت دفاع کے مطابق کئی غیر ملکی تربیت کاروں (انسٹرکٹر) سمیت 35 افراد ہلاک ہوگئے۔ یاوورِو (Yavoriv)نامی سوویت دور کا یہ  اڈہ پولینڈ کی سرحد پرہے۔روس کا دعویٰ ہے کہ یاورو نیٹو سے آنے والے اسلحے کا ابتدائی پڑاو ہے۔

اب تک مشرقی و شمالی یوکرین روسی بمباری کا ہدف تھا لیکن یاوورِو پر حملے سے اندازہ ہوتاہے کہ نیٹو سے آنے والی کمک کا راستہ روکنے کیلئے روسی فضائیہ اپنی کاروائی کا دائرہ یوکرین کے مغرب میں نیٹو ممالک کی سرحد تک بڑھارہی ہے۔ اگر نیٹو سے مدد کا یہ راستہ مسدود ہوگیا تو یوکرین کیلئے مزاحمت بہت مشکل ہوجائیگی۔ یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ روس کی اس نئی حکمت عملی پر نیٹو کا ردعمل کیا ہوگا اور اس خطرے کے سدباب کیلئے چچاسام اور انکے اتحادی کیا جوابی چال چلیں گے؟

لڑائی کا حتمی انجام کیا ہوگا اسکے بارے میں فی الحال کچھ کہنا ممکن نہیں لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد براعظم یورپ میں لڑی جانے والی اس پہلی جنگ کے منفی اثرات ساری دنیا میں محسوس کئے جارہے ہیں۔ خاص طور سے غریب ممالک کا برا حال ہے۔ لبنان، شام اور یمن کا دارومداد یوکرینی گندم، جو، مکئی اور خوردنی تیل پر ہے۔بنیادی غذائی اجناس کی  فراہمی معطل ہوجانے سے لاکھوں لوگ نان شبینہ سے محروم ہوگئے ہیں۔ مصر، ترکی اور بنگلہ دیش بھی 'دانوں' کی طرف سے اندیشہ ہائے دوردراز میں مبتلا ہیں۔ ترکی میں روٹی کے نرخ دگنے ہوگئے اور دیہاتوں میں نانبائیوں کی دوکانوں پر قطاریں نظر آرہی ہیں۔

اسی کیساتھ دنیا بھرمیں توانائی کے دام بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔ اولادِ آدم کی بدنصیبی کہ ایک عرصے تک COVID 19المعروف کرونا نے حیات  اور اسبابِ حیات کو غارت کیا اور جب اس نامراد سے نجات کا امکان پیداہوا تو مشرقی یورپ میں خون کی اس ہولی نے ادھ موئی انسانیت کو توانائی اور غذائی بحران میں مبتلا کردیا۔اس جنگ کے  انجام اور ممکنہ غذائی بحران پر گفتگو انشااللہ پھر کسی نشست میں۔ آج ہم اس 'انسانی وحشت' کے تیل کی تجارت و سیاست پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینگے۔

یہ بات بہت عرصے سے کہی جارہی تھی کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان لڑائی چھڑگئی تو مہنگی توانائی کی صورت میں ساری دنیا کو اسکی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ فروری کے وسط میں جب کشیدگی اپنے عروج کوپہنچی، اسوقت یہ بات واضح  تھی کہ نیٹو جارحیت کے جواب میں روس کے پیٹ پر حملہ کریگا۔ صدر جو بائیڈن اور یورپ کے زعما بہت ہی غیر مبہم انداز میں کہہ چکے تھے کہ حملے کی صورت میں براہ راست میدان سجانے کے بجائے پابندیاں لگا کر روسی معیشت کا گلا گھونٹا جائیگا۔

اس محاذ پر کریملن کو شدید آزمائش کا سامنا ہے۔ روسی وزارت خزانہ کے مطابق پابندیوں سے ساری دنیا میں پھیلے 300 ارب ڈالر کے روسی اثاثے منجمد ہیں۔معاشی میدان میں نیٹو کا ہدف روسی تیل اور گیس ہے۔ دنیا میں تیل اور گیس کی پیداوار کا 30 فیصد حصہ امریکہ، روس اور سعودی عرب سے حاصل ہوتا ہے۔ ماہ بہ ماہ معمولی کمی و بیشی کے ساتھ ان تینوں ملکوں کی پیدوار تقریباً برابر ہے اور اوسطاً ہر ملک اپنے کنووں سے ایک کروڑ بیرل تیل یومیہ نکالتاہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کی پیداوار ایک کروڑ ساڑھے گیارہ لاکھ اور روس کی ایک کروڑ دس لاکھ بیرل بتائی جارہی ہے جبکہ سعودی عرب کی پیدوار 95 لاکھ سے ایک کروڑ پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ دلچسپ بات کہ تیل کی عالمی پیدوار میں امریکہ بہادر کا حصہ دس فیصد ہے لیکن چچا سام دنیا سے حاصل ہونے والی تیل اور گیس کے مجموعی حجم کا 20 فیصد روزانہ پھونک ڈالتے ہیں۔

تیل اور گیس کی روسی برآمدات کا تخمینہ 47 لاکھ بیرل روزانہ ہے جس میں سے 25 لاکھ بیرل یورپ کو فراہم کیا جاتا ہے جو یورپی ضرورت کا چالیس فیصد ہے۔ پولینڈ، ہنگری، فن لینڈ، مالدووا اور چیکو سلاواکیہ (سلاوانیہ اور چیک ریپبلک) کی 70 سے 80 فیصد ضرورت روسی تیل اور گیس سے پوری ہوتی ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ جب تیل اور گیس کی بات ہوتی ہے تو اسکا ذکر بیرل میں کیا جاتا ہے۔یہ تو آپکو معلوم ہی ہے کہ  بیرل مائع کو ناپنے کا پیمانہ ہے جبکہ  گیس کی پیمائش حجم یا حرارت کے معیار (Thermal)پر ہوتی ہے لیکن تجزیاتی آسانی کیلئے تیل اور گیس کے مجموعی حجم کو  'تیل کے مساوی'کی شرح سے فی بیرل Oil Equivalent  میں پیش کیا جاتا ہے۔ یعنی آج جب ہم روسی توانائی کا ذکر کررہے ہیں تو  اعدادوشمار میں تیل اور گیس کی مجموعی مقدار بیرل کی شکل میں پیش کی جائیگی۔

جنگ سے پہلے یہ تاثر عام  تھا کہ جیسے ہی یوکرین پر حملہ ہوا روس سے جرمنی آنے والی گیس پائپ لائن بند کردی جائیگی۔ اس ضمن میں قطر، ناورے، آذر بائیجان اور الجزائر سمیت کئی گیس فراہم کنندگان سے بات بھی کی گئی۔ روس پر پابندی کی صورت میں فراہمی کی ضمانت دینے قطر کے امیر بنفسِ نفیس واشنگٹن تشریف لائے۔ لیکن حملے کے بعد بھی یورپ کو روسی گیس کی فراہمی جاری ہے تاہم گیس کی اضافی پائپ لائن Nord Stream 2 پر کام روک دیا گیا ہے۔ روس سے جرمنی آنے والی 48 انچ قطر کی 1222 کلومیٹر طویل اس پائپ لائن سے 55 ارب مکعب میٹر گیس سالانہ فراہم کی جاسکتی ہے۔ دھمکیوں کے باوجودیورپی یونین نے یورپ کو روسی گیس کے بہاو پر کوئی پابندی نہیں لگائی بس اضافی پائپ لائن پر کام رکوادیا جس سے گیس کی آمد شروع ہی نہیں ہوئی۔کریملن کیلئے اصل دردِ سر فروخت شدہ گیس کی قیمت کی وصولی ہے۔ روسی بینکوں پر پابندی کی وجہ سے خریدار ادائیگی نہیں کرسکتے۔

جنگ شروع ہوتے ہی تیل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ دیکھا گیا لیکن جب اصل صورتحال سامنے آئی تو قیمتیں نیچے آنا شروع ہوگئیں۔گزشتہ ہفتے امریکی صدر بائیڈن نے امریکہ آنے والے روسی تیل پر پابندی لگادی اور اس اعلان پر تیل کی قیمتیں ایک دم 14 ڈالر فی بیرل بڑھ گئیں۔ مال تجارت (Commodities)کی قیمتوں میں 'خبروں' کی بنیاد پر اس غیر معمولی اتار چڑھاو کو Headlines Effectکہا جاتا ہے۔ عام طور سے صورتحال واضح ہوتے ہی قیمتوں میں استحکام آجاتا ہے۔ چنانچہ اس بار بھی ایسا ہی ہوا کہ جب دوسرے دن یہ بات سامنے آئی کہ روس سے امریکہ آنے والےروسی تیل کی مقدارصرف چھ لاکھ بیرل روزانہ ہے جو کُل امریکی ضروت کے تین فیصد سے بھی کم ہے تو قیمتوں میں گراوٹ شروع ہوگئی۔

اسی کیساتھ کچھ مزید خبروں نے تیل کی قیمتوں پر دباو کو مزید بڑھادیا۔ پہلی غیر مصدقہ مثبت  خبر یہ تھی کہ صدر بائیڈن ویینزویلا کے تیل پر سے پابندیاں ختم کررہے ہیں۔ وینیزویلا کے صدارتی انتخاب میں امریکی  منظور نظر امیدوار کی شکست پر صدر ٹرمپ نے دھاندلی کاالزام لگایا اور گزشتہ سال جولائی میں وینیزویلا سے تیل کی برآمدات پر پابندی لگادی گئی۔ اس بندش کے خاتمے کو اس بات سے تقویت ملی کہ وییزویلا نے ان دو امریکیوں کو رہا کردیا جو کئی سالوں سے جاسوسی اور فراڈ کے الزام میں نظر بند تھے۔

دوسری خبر ایران جوہری معاہدے برجام یا JCPOA میں امریکہ کی واپسی کے بارے میں تھی۔ اس معاہدے پر 2016 سے عملدرآمد شروع ہوا تھا جسکے مطابق ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے اسکی تصدیق  کیلئےعالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA)کو اپنی تنصیبات کے معائنے کی غیر مشروط اجازت دی تھی۔ اس معاہدے پر سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان کے ساتھ جرمنی نے دستخط کئے تھے اسی لئے برجام کو 5 plus oneبھی کہتے ہیں۔ معاہدے کے بعد ایران پر سے تمام پابندیاں ختم کردی گئی تھیں۔ دوسال قبل صدر ٹرمپ نے امریکہ کو اس معاہدے سے نکال کر ایران پر دوبارہ  پابندیاں لگادیں۔خبروں کے مطابق طویل مذاکرات کے بعد امریکہ JCPOAکا حصہ بننے اور ایران پر سے پابندیاں ختم کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔

ایک اور خبر کچھ اسطرح تھی کہ لیبیا میں تیل کے ایک بڑے میدن الفیل کو دہشت گردوں کے قبضے سے چھڑا کر اس میدان سے تیل کی برآمدات بحال کردی گی ہیں۔ اسکے علاوہ متحدہ عرب امارات اور کوئت نے کہا ہےکہ وہ اوپیک کے مقررہ کوٹے سے زیادہ تیل بازار میں لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف عالمی توانائی ایجنسی (IEA)نے اعلان کیا کہ تیل کی قیمتوں کو قابومیں رکھنے کیلئےامریکہ تیل کے تزویراتی (Strategic)ذخیرے سے 3 کروڑ بیرل بازار میں لارہا ہے۔ اسی کیساتھ یورپی ممالک نے بھی اس مہم میں حصہ لیتے ہوئے اپنے ذخائر سے مجموعی طور پر تین کروڑ بیل جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ان خبروں سے قیمتوں میں استحکام پیدا ہوا اور ایک ہفتہ قبل 130 ڈالر فی بیرل  فروخت ہونے والے تیل کی قیمت اب 107 ڈالر کے نشان سے نیچےآچکی ہے۔

یہ قیمت بھی تیل درآمد کرنے والے ممالک کیلئے بہت زیادہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں صرف ایک ڈالر فی بیرل اضافے سے ہندوستان کے درآمدی اخراجات 12 کروڑ ڈالر ماہانہ بڑھ جاتے ہیں جبکہ پاکستان کو تیل کی درآمد کیلئے ماہانہ ایک کروڑ پینتیس لاکھ ڈالراضافی خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ قیمتی زرمبادلہ پر اس دباو سے ملکی کرنسی کی قدر بھی  متاثر ہوتی ہے۔

 یورپ اور امریکہ کی جانب سے تیل کی خریداری رک جانے سے 16 لاکھ بیرل روسی تیل بازار میں آگیا ہے اور ساری دنیا کے آڑھتی اسکے لئے گاہک تلاش کررہے ہیں۔ وینیزویلا  اپنے آٹھ سے دس لاکھ بیرل تیل کیلئے گاہک ڈھونڈ رہا ہے اور ایران پر سے پابندیاں ختم ہوگئیں تو پندرہ لاکھ بیرل ایرانی تیل بھی بازار میں ہوگا۔اس تجزئے سے ہمارے قارئین کو یقیناً کچھ راحت محسوس ہورہی ہوگی جنکے گھریلو بجٹ کا بڑا حصہ بجلی اور گیس کے بلوں اور پیٹرول پمپوں پر خرچ ہوجاتا ہے۔ تاہم اچھی و مثبت صورت گری کیساتھ ایک خدشے کا ذکر  بھی سن لیجئے۔

آج روسی نائب وزیراعظم دیمتری گریگورینکوDmitry Grigorenkoنے امریکہ  اور یورپ کی جانب سے روسی تیل کے بائیکاٹ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر تیل بطور ہتھیار ہمارے خلاف استعمال ہوتا رہا تو گیس بند کرکے ہم بھی یورپ کو تاریکی میں دھکیل سکتے ہیں۔ماہرین نے فاضل نائب وزیراعظم کے اس ارشاد عالیہ کو بہت زیادہ اہمیت  نہیں دی کہ اس وقت جبکہ 16 لاکھ بیرل تیل پہلے ہی فالتو پڑاہوا ہے، یورپی گیس پائپ لائن بند کرکے 25 لاکھ بیرل مزید تیل (Oil Equivalent) کو کہاں ٹھکانے لگایا جائیگا، یعنی یورپ کو روسی گیس کی بندش کی کوئی تُک نہیں۔ لیکن دنیا پر قبضے کا خناس جب سر میں سماجائے تو منطق، عقل اور دلیل و برہان کا کیا ذکر؟؟؟

 ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 18 مارچ 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 18 مارچ 2022

روزنامہ امت کراچی 18 مارچ 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 20 مارچ 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


 

Thursday, March 10, 2022

روس یوکرین جنگ!! اندیشے اور امکانات

 

روس یوکرین جنگ!! اندیشے اور امکانات

روس یوکرین جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے۔روسی جرنیلوں نے اپنے صدر کو یقین دلایا تھا کہ ساری کاروائی 96 گھنٹے میں مکمل کرلی جائیگی۔ طئے یہ ہوا تھا کہ دارالحکومت کیف پر قبضہ کے بعد ماسکو کی منظورِ نظر حکومت کو اقتدار سونپ کر واپسی کا سفر شروع کردیا جائے گا۔ نصف صدی قبل مستقبل کی صورت گری میں کچھ ایسی ہی غلطی سوویت یونین کے سابق سربراہ لیونڈ بریزنیف سے ہوئی تھی جب 24 دسمبر 1979 کو لاکھوں روسی سپاہی افغانستان روانہ کئے گئے۔ روسی افواج نے تبدیلیِ اقتدار کا ہدف منصوبے کے مطابق صرف تین دن میں حاصل کرلیا اور تختِ کابل پر ببرک کارمل براجمان ہوگئے۔ ابتدائی کامیابی پر کریملن کیساتھ پاکستان کے کمیونسٹوں اور قوم پرستوں نے خوب جشن منایا لیکن ائے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔۔۔ لاکھوں معصوم افغانوں کے قتل اور سارے ملک کو ریت کا ڈھیربنادینے کے بعد 15 فروری 1989کو شکست کا داغ سجائے روسی فوجیں اس شان سے واپس ہوئیں کہ وسط ایشیا اور یورپ کا بڑاحصہ آزاد ہوگیااور عظیم الشان سوویت یونین سُکڑ کر صرف روس رہ گئی۔

افغان مجاہدین نے روس کا جغرافیہ تراشنے کیساتھ کمیونسٹ طرزِ فکر کو بھی آمو دریا میں بہادیا۔ مشرقی یورپ کی کمیونسٹ ریاستیں اشتراکیت سے توبہ کرکے آزاد تجارت اور کثیرالجماعتی سیاسی نظام کے گن گانے لگیں۔ یادش بخیر ایک زمانے تک Private Property is a theft پولینڈ، رومانیہ، ہنگری اور چیکوسلاواکیہ کا قومی نعرہ ہ ہوا کرتا تھا۔ معامہ صرف یہیں تک نہ رہا بلکہ مشرقی یورپ کی کمیونسٹ ریاستیں نیٹو کی سامراجی چھتری تلے آگئیں۔

جیسے افغان حملے کے آغاز پر جناب بریزنیف نے کہا تھاکہ بیرونی مداخلت کاروں کے قلع قمع  کیلئے، افغانستان حکومت کی 'درخواست' پر کچھ 'فوجی مشیر' کابل بھیجے گئے ہیں۔ بالکل اسی انداز میں صدر پیوٹن نے فرمایا کہ نازی خیالات کی حامل وفاقی حکومت مشرقی یوکرین  علاقے دنباس (Donbas) میں مقامی لوگوں کی نسل کشی کررہی ہے اور یوکرینی بھائیوں کی جان و مال کی حفاظت کیلئے روسی فوج کو 'محدود کاروائی' کا حکم دیا گیا ہے۔ انھوں نے بہت صراحت سے کہا کہ روس کسی قسم کے جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور  ہم  یوکرین کی سلامتی و خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔

 لیکن دوسرے ہی دن یوکرین کے طول و عرض میں شدید بمباری کیساتھ ہر جانب سے پیشقدمی کا آغاز ہوا اور  جنوب میں بحر اسود کی بندرگاہ اوڈیسا پر روس کے چھاپہ مار اتر گئے۔ صدر پیوٹن نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ یوکرین کو غیر مسلح (Demilitarize)اور نازی اثرات سے پاک کرنے تک روسی فوجی آپریشن جاری رہیگا۔ انھوں نے یوکرینی سپاہیوں سےکہا کہ  'اپنی مجرم پیشہ حکومت کی بات مت مانو اور پرامن انداز میں گھر چلے جاو، ہماری تم سے کوئی لڑائی نہیں ہے لیکن جو روسی فوج کے مقابلے پر آیا اسے سنگین نتائج بھگتنا ہونگے'

شدید بمباری و گولہ باری کے باوجود تادم تحریر روسی فوجیں کیف  میں داخل نہیں ہوسکیں۔صرف  بارہ گھنٹے میں روسی فوج نے یوکرینی دارالحکومت کے مضافات میں مرکزی فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کرلیا تھا۔اینتونوو Antonovکا فوجی اڈہ دارالحکومت سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں تعینات لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر روس کے تحویل میں آگئے۔ اس کامیاب کاروائی کے بعد روسیوں نے دعوی کیا کہ یوکرین کا فضائی دفاعی نظام غیر موثر کردیا گیا اور پیشقدمی کرتی روسی فوج کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں۔ لیکن اب تک روسی صرف ایک بڑے شہر یعنی خیرسون (Khairson)پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یوکرین کے دوسرا بڑا شہرخارکیف (Kharkiv)بھی شدید ترین بمباری کے باوجود اب تک سرنگوں نہیں ہوا۔ 

اس ضمن میں کیف کی جانب پیشقدمی کرتے روس کے عظیم الشان فوجی قافلے کی سست رفتاری پر عسکری ماہرین کے بہت ہی متضاد نوعیت کےتجزئے پیش کررہے ہیں۔ سیٹلائٹ کی مدد سے حاصل کی گئی تصویروں میں بتایا گیا ہے روس کا ایک بڑا فوجی قافلہ کیف کی طرف پیشقدمی کررہا ہے۔ ٹینک، بکتر بند گاڑیوں اور دورمار توپوں پر مشتمل اس قافلے کی لمبائی 40 میل بتائی جارہی ہے۔ یکم مارچ کو  یہ قافلہ کیف سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور خیال کیا جارہا تھا کہ تین کی شام کو کیف پہنچ کر منگل چار مارچ کو دارالحکومت پر خوفناک حملے کا آغاز ہوگا لیکن گزشتہ چھ دنوں میں اس قافلے نے صرف چندکلومیٹر کا فاصلہ طئے کیاہے۔

برطانوی اور امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ کیف اور خار کیف میں روسی فوج کو جس غیر معمولی مزاحمت کا سامنا ہے اسکی وجہ سے حملہ آور فوج کے حوصلے پست اور سپاہ میں تھکن کا غلبہ نظر آرہا ہے۔ روس کے فوجی سازوسامان، خاص طور سے انکی گاڑیوں کی دیکھ بھال کا انتظام موثر نہیں جسکی وجہ سے انکی نقل و حرکت (Logistics)کا نظام مسائل کا شکار ہے۔ ممتاز عسکری ماہر اور رطانوی فوج کے سابق جرنیل سر رچرڈ بیرنز (Richard Barrons)کا خیال ہے کہ  سست رفتاری اور ایک جگہ پر بھیڑ ہو جانے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔خوراک اور ایندھن کی فراہمی بھی نا مناسب ہے۔گاڑیوں میں جو  پہیے نصب ہیں وہ  بھاری وزن کے ساتھ لمبے سفر کیلئے موزوں نہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزئے کی بنیادپر جنرل بیرنز کا خیال ہے کہ بعض بہت بھاری گاڑیوں کے پہیے مٹی میں پھنس گئے ہیں۔ گاڑیوں کے درمیانی فاصلہ اتنا کم ہے کہ پیچھے آنے والی گاڑیاں لین نہیں بدل  سکتیں اور 'ٹریفک جام' کی وجہ سے قافلے کی کرین بردار گاڑیاں اور Tow Truck بھی عملاً جامد ہیں۔(حوالہ بی بی سی)

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی بھی آزاد ذرایع سے جنرل بیرنز کے خدشات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ امریکیوں کا خیال ہے کہ دوسرے مسائل کیساتھ روسی فوج کا ریڈیو نیٹ ورک بھی مہمل قسم کا ہے جسے یوکرینی ماہرین بار بار جام کردیتے ہیں جسکی وجہ سے قافلے کا کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام میں خلل پڑرہا ہے۔

یوکرین کےعسکری ماہرین کا خیال ہے کہ غیر متوقع یوکرینی مزاحمت کی بنا پر قافلے کے شرکا آگے بڑھنے سے ہچکچارہے ہیں۔  پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی وجہ یہ ڈرہے کہ کہیں یوکرینی اس قافلے کو فضا سے نشانہ نہ بنائیں۔ کریملن اپنے اس دعوے پر قائم ہے کہ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کے ساتھ انکی فضائیہ کو بھی غیر موثر کردیا گیا ہے لیکن  یوکرینی فضائیہ کے پاس ترک ڈرون کی صورت میں محدود فضائی قوت اب بھی موجود ہے۔ اسی کیساتھ برطانیہ کے فراہم کردہ NLAWٹینک شکن میزائیلوں سے بھی روسی خوفزدہ ہیں۔ گزشتہ ہفتے روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف (Igor Konashenkov)نے انکشاف کیا کہ 27 فروری تک روس کے 254 ٹینک، 31 طیارے، 164 فوجی گاڑیاں اور دوسرا جنگی سازوسامان تباہ ہوگیا۔ اٖفغانستان کی دس سالہ جنگ میں روس کے 147 ٹینک، 1314بکتر بند گاڑیاں اور 451 طیارے تباہ ہوئے تھے۔

جنگ کے متوقع نتائج پر فی الحال کچھ  کہنا مشکل ہے، لیکن کئی عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ اگر  اہلِ کیف اگلے دوہفتوں تک ڈٹے رہے تو یوکرین روس کا دوسرا افغانستان بن سکتا ہے۔ ہفتے کے روز خیرسون میں ہزاروں شہریوں نے زبردست مظاہرہ کیا اور روسی فوج کی فائرنگ کے باوجود آزادی کے حق میں نعرے لگائے، کچھ منچلے یوکرین کے پرچم لئے روسی بکتر بند گاڑیوں پر چڑھ گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں مزاحمتی تحریک شروع ہوچکی ہے۔

روسی فوج کو حائل مشکلات کے بارے میں اگر امریکی و برطانوی جرنیلوں کے تجزئے درست ہوں تب بھی اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے کہ ماسکو اپنے طئے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے اور یوکرین میں بھی وہی ذلت روس کا مقدر بنے گی جسکا سامنے اسے افغانستان میں کرنا پڑا تھا۔ یہ درست کہ روسی افواج اس تیزی سے پیشقدمی نہیں کرپارہیں جسکی روسیوں کو توقع اور نیٹو کو خدشہ تھا لیکن اب بھی کریملن کے ترکش میں بہت سے مہلک تیر موجود ہیں۔

بری فوج کی کارکردگی پر سوالات کئے جاسکتے ہیں لیکن اسکی فضائیہ پوری قوت کے ساتھ اپنے اہداف کو نشانہ بنارہی ہے۔ مستقبل میں یہ کاروائیاں مزید مہلک ہوسکتی ہیں۔ کچھ عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ کیف کی جانب آنے والے قافلے کی سست رفتاری روسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کریملن تابڑتوڑ فضائی حملوں کے ذریعے یوکرینی مزاحمت کو کچلنا چاہتا ہے۔ روس سڑکوں، پلوں، سرکاری عمارات، بجلی گھروں اور دوسری  اہم تنصیبات کو تباہ کرکے شہری انتطامیہ کو مفلوج کردینے کے بعد اپنی زمینی  فوج کو آگے بڑھائیگا۔ اسی کیساتھ بینک اور دوسرے اہم قومی اداروں پر  سائبر حملوں کے ذریعےبینکنگ، بجلی، گیس، پانی اور مواصلاتی نظام کو منقطع کردینا بھی خارج ازامکان نہیں۔ آزادی و استقلال کیلئےیوکرینیوں کے عزم پر کوئی شک نہیں لیکن اس نوعیت کی تباہی سے مزاحمت دم توڑ سکتی ہے۔ اس صورت میں روسی فوج کیلئے کیف پر قبضہ کرکے پیوٹن کی منظورِ نظر حکومت کا قیام ممکن ہوجاییگا۔ جسکے بعد یوکرین سے باعزت واپسی کا اعلان ہوسکتا ہے۔

اس صورت میں روسی صدر فوری فتح کا فخر تو حاصل کرلینگے لیکن  قبضہ برقرار رکھنے کیلئے انھیں فوج کی بھاری نفری لمبی مدت تک یوکرین میں تعینات رکھنی پڑیگی جس کیلئے قومی وسائل کا بڑا حصہ مختص کرنا ہوگا۔ جس انداز میں یوکرینی مزاحمت منظم ہورہی ہے اس سے لگتا ہے کہ جلد ہی روسی فوج کو بھرپور شورش یا Insurgency کا سامنا کرنا پڑیگا۔ نیٹو اور یورپ یوکرین کی حفاظت کیلئے فوج اتارنے کو تو تیار نہیں لیکن وہ اندرونی شورش کی حوصلہ افزائی کرکے صڈر پیوٹن کیلئے سخت مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ پولینڈ، سلاواکیہ، ہنگری اور رومانیہ کی طویل سرحد یوکرین سے ملتی ہیں جہاں سے عسکری مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔ نیٹو نے اسی طرح افغانستان کو روس کیلئے دلدل بنایا تھا۔ بلاشبہ یوکرینی مزاحمت کاافغان مجاہدین کے جذ بہ جہاد سے کوئی مقابلہ نہیں لیکن یہاں سارے کا سارا نیٹو یوکرین کی دہلیز پر موجود ہے۔

روسیوں کی سب سے بڑی آزمائش معاشی پابندیاں،اقتصادی دباو اور سفارتی تنہائی ہے۔ شمالی کوریا اور وینزویلا کے علاوہ کوئی بھی ملک کھل کر یوکرینی آپریشن کی حمائت نہیں کررہا۔ چین، پاکستان اور ہندوستان سمیت نیٹو سے شاکی ممالک بھی عملاًغیر جانبدار ہیں۔ سلامتی کونسل میں بحث کے دوران روس کا ساتھ دینے کے بجائے چین،  متحدہ عرب امارات اور ہندوستان  غیر جانبدار رہے۔ اس تنازعے میں برصغیر کے دو 'ازلی دشمن' یعنی پاکستان اور ہندوستان کا سرکاری موقف بالکل ایک جیسا ہے۔جنرل اسمبلی میں روس کے خلاف پیش کی جانیوالی قرارداد پررائے شماری کے دوران اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں غیر جابندار رہے۔مالیاتی اعتبار سے چین کی احتیاط اور حفظ ما تقدم کا یہ عالم کہ اسکے دوبڑے بینکوں انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک (ICBC) اور بینک آف چائنہ نے روسی کمپنیوں کو خام مال کی خریداری کیلئے رقومات کی فراہمی محدود کردی ہے۔ (حوالہ بلوم برگ)۔

امریکہ اور اسکے اتحادی روس کیخلاف سونے کی گولیاں بہت مہارت سے استعمال کررہے ہیں۔ ماسکو کی ڈالر، یورو، پونڈ اور جاپانی ین میں کاروبار کی صلاحیت بہت محدود کردی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک پر پابندیوں کی وجہ سے روسی بینکوں کیلئے بین الاقوامی لین دین ناممکن حد تک مشکل ہوگیا ہے۔ واشنگٹن، روسی حکومت میں شامل روسا کے یورپ میں موجود اثاثوں کو  تاک تاک کر نشانہ بنانا رہا ہے۔ صدر پیوٹن کے قریبی دوستوں کی پرتعیش کشتیوں (Yacht)، محلات، لکژری گاڑیوں کے بیڑے اور دوسرے قیمتی اثاثے ضبط کئے جارہے ہیں۔

صدر پیوٹن کیلئے یوکرین پر حملہ جنگ سے زیادہ ایک جوئے کی حیثیت رکھتا ہے جسے وہ ہر قیمت پر جیتنا چاہتے ہیں کہ یہ انکی سیاسی زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ اگر یوکرین کی جنگ کا نتیجہ روس کی 'فتح مبیں' کی شکل میں نہ نکلا تو روس کا اقتدار بھی انکے ہاتھ سے نکل جائیگا۔ اگر جنگ طول پکڑ گئی اور گلی کوچوں میں گوریلا لڑائی پھوٹ پڑی تو پابندیوں کی بنا پر دباو میں آئی روسی معیشت کیلئے اس جنگ کے اخراجات اٹھانا بہت مشکل ہوگا، اسکے مقابلے میں امریکہ اور نیٹو کی جیب خاصی گہری ہے۔

 اس بات کا ڈر بھی ہے کہ صدر پیوٹن اس تنازعے کو اپنی اناکا مسئلہ بناکر سب کچھ داو پر لگادینے کو تیار ہوجائیں جن میں جوہری ہتھیار اورمیدانِ جنگ میں  توسیع شامل ہے۔ گزشتہ ہفتے روسی صدر نے اعلی عسکری حکام سے کہا تھا کہ وہ جوہری قوت سمیت تمام دفاعی اثاثوں کو استعمال کیلئے تیار رکھیں۔ بعض امریکی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نوشتہ دیوار دیکھ کر صدر پیوٹن کی جانب سے جوہری ہتھیار کے بٹن کو دبادینا خارج ازامکان نہیں۔

جہاں تک جنگ کے پھیلاو کا تعلق ہے تو روسی صدر نے گزشتہ ہفتے کہا ہے کہ نیٹو کی جانب سے اقتصادی پابندیاں اور یوکرین کو اسلحے کی فراہمی کو وہ روس کے خلاف جارحیت سمجھتے ہی۔ ماضی میں روس  مالدوواMoldovaپر اپنا دعویٰ جتا چکا ہے۔ مالدووا کے آئین میں صاف صاف درج ہے کہ ریاست ہمیشہ غیر جانبدار رہیگی لہذا یہ ملک نیٹو کا رکن نہیں۔ اسکی طویل سرحدیں  یوکرین سے ملتی ہیں اور بحری آمدورفت کیلئے مالدودوا یوکرین کی بندرگاہ اوڈیسا سے مستفید ہورہا ہے۔ اوڈیسا کے قریب روسی فوج کی بھاری نفری موجود ہے۔ جنگ کا دائرہ کار بڑھانے کیلئے صدر پیوٹن مالدووا کی جانب مہم جوئی کرسکتے ہیں۔ فن لینڈ اور سوئیڈن میں عوامی سطح پر روسی خطرے سے حفاظت کیلئے نیٹو میں شمولیت کی عوامی تحریک چل رہی ہے۔ اسے بنیاد بناتے ہوئے فن لینڈ کی طرف پیش قدمی بھی ممکن ہے۔

تنازعے کے ممکنہ خوفناک انجام کیساتھ اس کے پرامن حل کی امید ختم نہیں ہوئی۔ توپوں کی گھن گرج کے دوران روس اور یوکرین کے مابین امن بات چیت کے دو  دور ہوچکے ہیں۔ یہ دونوں نشستیں بے نتیجہ ختم ہوگئیں لیکن بات چیت جاری رکھنے پر ماسکو اور کیف دونوں متفق ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گولیوں سے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کی صورت میں صدر پیوٹن باعزت پسپائی کیلئے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔

امن بات چیت کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن یوکرینی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق روس فائر بندی کیلئے کریمیا اور دونباس کو روس  کا حصہ تسلیم کرنے کی شرط عائد کررہاہے۔ اسی کیساتھ ماسکو یوکرین  سے یہ وعدہ بھی چاہتاہے کہ اسکی نیٹو رکنیت روسی توثیق سے مشروط ہوگی۔ صدر پیوٹن چاہتے ہیں کہ معاہدے کی اس شق پر نیٹو ضامن کی حیثیت سے دستخط کرے۔اب تک صدر پیوٹن اپنی عسکری فتح کے بارے میں حددرجہ پُراعتماد ہیں اسلئے روس  اپنی ان شرائط پرسودے بازی کو تیار نہیں لیکن اگر زمینی صورتحال مزید خراب ہوئی تو  روسی صدر کیلئے اپنے موقف میں نرمی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ ہوگا۔

اس میدان کا ایک اہم اور کلیدی کھلاڑی چین بھی ہے۔ بیجنگ کا خیال ہے کہ واشنگٹن چین سمیت دنیا بھر میں  مداخلتِ بے جا کا مرتکب ہورہا ہے۔ روس یوکرین جنگ کے حوالے سے چین، امریکہ کے روئے کو پسند نہیں کرتا جسکا بیجنگ نے کئی بار کھل کر اظہار بھی کیا ہے لیکن سرکاری طور پر چین غیر جانبدار ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے چین کی ترجیحِ اول اسکی معیشت ہے لہٰذا وہ امریکہ سے اپنے اختلافات کوبیان بازی تک محدود رکھے ہوئے ہے۔یورپ، چینی مصنوعات کی بہت بڑی منڈی ہے اور یورپ روس کشیدگی سے چینی معیشت متاثر ہورہی ہے چنانچہ بیجنگ اس تنازعے پر بے حد فکر مند ہے۔اگر روس اس تنازعے کو بات چیت کے ذریعے نبٹانے پر آمادہ یا (مجبور) ہوا تو چین باعزت راستہ تلاش کرنے میں ماسکو کی مدد کرسکتا ہے۔معاشی پابندیوں کے اگلے مرحلے میں روسی تیل صدر بائیڈن کا ہدف ہے۔ روسی معیشت کا دارومدار تیل کی برآمد پر ہے اورچین  روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 مارچ 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 مارچ 2022

روزنامہ امت کراچی 11 مارچ 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 مارچ 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


Sunday, March 6, 2022

جھوٹے لوگ ، جھوٹے وعدے

جھوٹے لوگ ، جھوٹے وعدے

امن مذاکرات کیساتھ روس اور یوکرین کے مابین خونریز لڑائی جاری ہے۔ پیر 28 فروری کو امن بات چیت کا پہلا مرحلہ ملاقات جاری رکھنے کے عزم کیساتھ ختم ہوگیا۔ جو کچھ مشرقی یورپ میں اسوقت ہورہا ہےاسے جنگ کے بجائے وحشت و درندگی کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بے اماں یوکرینیوں پر آسمان سے آگ و آہن کی بارش ہورہی ہے۔ شہری ٹھکانے، مواصلاتی نظام، اسکول، ہسپتال اور آبنوشی کے ذخائر کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔خون جمادینے والی سردی میں لاکھوں افراد پناہ کیلئے مارے مارے پھررہے ہیں۔ بمباری کی وجہ سے سڑکیں تباہ اورپُل گِرگئے ہیں۔ چیختے سائرن اور طیاروں کی گھن گرج  میں دہشت زدہ بچوں کو سینے سے لگائے خواتین مغرب کی طرف پیدل نکل پڑی ہیں کہ شائد پولینڈ میں پناہ مل جائے۔اقوام متحدہ کے مطابق چھ  لاکھ یوکرینی پولینڈ میں پناہ گزیں ہیں۔ وہ کمزور افراد جو اتنے لمبے سفر  کی قوت و استطاعت نہیں رکھتے، ملک کے اندر ہی محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں ایک شہر سے دوسرے شہر جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اس قسم کے لوگوں کو IDPکہتی ہے۔

عسکری ذرایع کا کہنا ہے کہ25 فروری  کی صبح تک روس 250 تباہ کن میزائیل داغ چکاہے۔ یوکرینی وزارت صحت کے مطابق حملے کے پہلے 24 گھنٹوں میں 137 یوکرینی شہری ہلاک ہوئے جن میں کئی شیرخوار بچے بھی ہیں۔

روس کے پاس ایک آزادو خودمختار ملک پر حملے اور شہری آبادی کو تاراج و بے گھر کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس بدامنی کی بنیادی وجہ، دنیا میں اپنا اقتدارو اختیار مسلط کرنے کی شیطانی خواہش اور دوسری اقوام کے قدرتی وسائل پر قبضے کی ہوس ہے۔ اس مرحلے پر اس تنازعے کے تاریخی پسِ منظر کے حوالے سے چند سطور

سوویت یونین (USSR)کی تحلیل سے پہلے  یورپ کو مشرق و مغرب میں تقسیم کرنے والی نظریاتی سرحد دیوارِ برلن تھی۔ سیاسی جغرافئے کی رو سے اس دیوار کے مشرق میں روس تک کا علاقہ مشرقی یورپ اور اسکا دوسرا رخ مغربی یورپ کہلاتا تھا جو امریکہ کی قیادت میں قائم ہونے والے نیٹو (NATO)اتحاد کے رکن ممالک پر مشتمل تھا۔ روس کے مشرقی یورپی اتحادی نیٹو کے انداز میں معاہدہِ وارسا(Warsaw Pact) کے تحت منظم تھے۔ مشرقی بلاک کی سرحدیں سوویت یونین کی ریاستوں بیلورشین سوشلسٹ ریپبلک اور یوکرین سوشلسٹ ریپبلک سے ملتی تھیں۔

افغانستان سے پسپائی کے بعد گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں سوویت یونین کی شکست و ریخت کا آغاز ہوا۔ وسط ایشیا کی سوویت ریاستوں نے آزادی کا اعلان کردیا اور اسی کیساتھ یورپ کی رشین سوشلسٹ ریپبلک، بلارشین سوشلسٹ ریپبلک اور یوکرین سوشلسٹ ریپبلک بھی بالترتیب روس، بلارُس اور یوکرین کے نام سے خودمختار ملک بن گئے۔ سوویت یونین کے خاتمے پر فلسفِہ کمیونزم غیر موثر اور وارسا معاہدہ معدوم ہوگیا اور جلد ہی مشرقی یورپ کے سوشلسٹ ممالک نہ صرف آزادانہ تجارت کی راہ پر گامزن ہوئے بلکہ حفاظت کیلئے یہ ریاستیں نیٹو کی چھتری تلے آگئیں۔

نطریاتی تبدیلی سے یورپ کا سیاسی جغرافیہ یکسر بدل گیا اور اب نیٹو کی سرحد دیواربرلن سے گیارہ سو کلو میٹر مشرق کی جانب بلارُس اور یوکرین تک آگئی یا یوں کہئے کہ بلارُس اور یوکرین نے روس اور نیٹو کے درمیان حائلی یا Bufferریاستوں کی شکل اختیار کرلی۔

اس نظریاتی تبدیلی سے بحرِ اسود بھی  نیٹو کے 'نرغے´ میں آگیا۔ مغربی اور جنوبی روس کیلئے بحراسود کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ اس سمندر کے مغربی ساحل پر رومانیہ اور بلغاریہ ہیں تو جنوب میں ترکی۔ بحر اسود کا بڑا حصہ یوکرین سے لگتا ہے اور اسکے مراسم روس سے اس حد تک دوستانہ تھے کہ حفاظت کی تحریری ضمانت پر یوکرین اپنا جوہری پروگرام ختم کرکے تمام ایٹمی ہتھیار کریملن کے حوالے کرچکا ہے۔ اس ضمن میں بدترین وعدہ خلافی کی تفصیل آگے آئیگی۔

یوکرین اور روس کے تعلقات کافی عرصہ بہتر رہے لیکن روسیوں اور تاتاروں کی صدیوں پرانی چپقلش کیساتھ جزیرہ نمائےکریمیا اور اس سے متصل بحر اسود کی تہوں میں مدفون تیل و گیس کے بھاری ذخائر سے ماسکو کی نیت میں فتور پیدا ہوگیا۔ دس ہزار مربع میل رقبے پر مشتمل یہ علاقہ بحر اسود اور بحر ازاق سے گھرا ہوا ہے اور تین میل لمبی ایک تنگ سی خشک پٹی اسے یوکرین سے ملاتی  ہے۔

فروری 2014 میں روس نے کریمیا پر قبضہ کرلیا اور ہزاروں تاتار، قازقستان کی طرف دھکیل دئے گئے۔ جلد ہی ایک ریفرنڈم کے ذریعے کریمیا کو رشین فیڈریشن میں ضم کرلیا گیا۔اسی کے ساتھ روسی خفیہ فوج نے مشرقی یوکرین کےدو اوبلاسٹ (صوبوں) یعنی دونیسک اور لوہانسک میں مقامی حکومتوں کو مفلوج کردیا۔ جلد ہی روس نواز باغیوں نے ان صوبوں کے کچھ علاقوں میں آزاد ریاست قائم کرلی اور یہاں بھی کریمیا کے انداز میں ریفرنڈم کے ذریعے اسکی توثیق کرالی گئی۔ تاہم ان ریاستوں کو روس سمیت کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔دنبس Donbasکے نام سے مشہور یہ زرخیز علاقہ گندم، جو اور مکئی کی پیداوار کیلئے مشہور ہے۔

کریمیا اور دو مشرقی صوبے کھودینے کے بعد یوکرینی قیادت کو احساس ہواکہ مستقبل میں روس کی چیرہ دستیوں سے بچنے کیلئے ایک مضبوط سہارے کی ضرورت ہے، چنانچہ نیٹو سے سلام و پیام کاسلسلہ شروع ہوا۔ زرعی اجناس، معدنیات اور تربیت یافتہ انسانی وسائل کے اعتبار سے یوکرین ایک مالامال ملک ہے یعنی اس طرف ہے گرم خون اور انکو عاشق کی تلاش۔ چنانچہ نیٹو نے یوکرین کی خواہش کا مثبت جواب دیا۔

یہ صوررتحال روس کیلئے ناقابل قبول تھی۔ اس وقت تو یوکرین، روس اور نیٹو کے درمیان حائل ہے لیکن نیٹو کا رکن بن جانے کی صورت میں امریکہ نواز اتحاد، روس کی دہلیز تک آجائیگا۔ صدر پیوٹن نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ کسی صورت نیٹو کو اپنی سرحدوں کے قریب نہیں آنے دینگے۔

اگر دیکھا جائے تو روس کا یہ خدشہ بے بنیاد بھی نہیں۔ اس ضمن میں معروف امریکی سیاستدان اور امریکی سینیٹ کے رکن برنی سینڈرز نے اپنی حکومت کو یاد دلایا کہ سابق صدر کینیڈی نے کیوبا میں روسی میزائیل کی تنصیب کو ناقابل قبول قراردیا تھا اور اس حوالے واشنگٹن کاموقف اتنا غیر لچکدار  تھا کہ 1962 میں  امریکہ اور روس کے مابین خوفناک جوہری جنگ کا خطرہ پیدا ہوگیا ۔ کیوبا تو امریکہ سے 90 میل کے فاصلے پر ہے جبکہ یوکرین کی  سرحدیں روس سے ملی ہوئی ہیں۔

زبانی گولہ باری اور دھمکیوں کے بعد 24 فروری کو روس نے اپنے حملے کا آغاز مشرقی یوکرین سے کیا اور ڈنبس کے دونوں صوبوں پر قبضہ کرکے انھیں آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرلیا۔

یوکرینی تنازعے کا سب سے نمایاں پہلو  جھوٹ و افترا ہے۔ صدر پیوٹن مسلسل کہتے رہے کہ انکا فوج کشی کا کوئی ارادہ نہیں اور سرحد پر عسکری سرگرمیاں فوجی مشقوں کا حصہ ہیں۔حتٰی کہ فوجی کاروائی کے آغاز پر بھی صدر پیوٹن نے اسے جنگ  کے بجائے محدود عسکری کاروائی یا Limited Operationکہا جسکی درخواست بقول انکے، ڈنبس کے لوگوں نے کی تھی۔قوم سے اپنے خطاب میں روسی صدر نے کہا کہ ڈنبس کے لوگوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے نسل کشی کا خطرہ تھا جسکی وجہ سے انھوں اپنے روسی بھائیوں کو مدد کیلئے پکارا۔جلد ہی سار ے یوکرین کو روسی فضائیہ نے اپنے نشانہ رکھ لیا اور بری افواج نے مشرق اور شمال کی جانب سے تیزرفتاری پیشقدمی شروع کردی۔ صدر پیوٹن نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کو غیر مسلح اور 'نازی عزائم' سے پاک کرنا انکی عسکری مہم کا حصہ ہے۔

اگلے دن بحر اسود کی سب سے بڑی بندرگاہ اوڈیسا پر روسیوں نے قبضہ کرکے جنوب کی جانب سے بھی آگے بڑھنا شروع کردیا اور روسی بمباروں نے دوسری بندرگاہ خیرسن کو عارضی طور پر ناکارہ کردیا۔ اوڈیسا پر قبضے اور خیرسن کو ناقابل مرمت نقصان پہنچا کر یوکرین کی سمندر تک رسائی مسدود کردی گئی۔

تادمِ تحریر خونریز جنگ جاری ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس جنگ میں کون فاتح  رہیگا اور کس کو شکست کی ذلت برداشت کرنی ہوگی لیکن غیر جانبدار عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ 'ننھی' سے یوکرینی فوج شدید مزاحمت کرہی ہے۔ حملے کے آغاز پر کہا جارہا تھا کہ 25 فروری تک دارالحکومت کیف روسیوں کے قبضے میں آجائیگا لیکن اپنے دارالحکومت پر یوکرینی فوج کی گرفت ہنوز بہت مضبوط ہے۔مذاکرات پر صدر پیوٹن کی آمادگی سے بھی اندازہ ہورہا ہے کہ میدان جنگ کی کامرانیاں انکی توقعات سے کم ہیں۔ اس سے پہلے صدر پیوٹن بات چیت کیلئے ہتھیار ڈالنے پر اصرار کررہے تھے۔ جنگ کے متوقع نتائج اور دنیا پر اسکے اثرات کے بارے میں گفتگو انشاللہ آئندہ نشست میں۔

جنگ کی وجہ سے ایندھن اور اناج کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر کے غریبوں کو جس مشکل میں مبتلا کردیاہے اسکا ماتم اپنی جگہ لیکن اس جنگ نے 'مہذب قوتوں' کی وعدہ خلافی اور  اخلاقی دیوالیہ پن کو جس بیرحمی سے بے نقاب کیا ہے اسکا ذکر قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوگا

جب 1991 میں یوکرین نے آزاد ریاست کی حیثیت سے اپنے سفر کا آغاز کیا اسوقت نہ صرف سوویت دور کی جوہری تنصیبات وہاں موجود تھیں بلکہ بھاری مقدار میں ایٹمی اسلحہ بھی یوکرینی فوج کے ہاتھ لگ گیا۔دنیا کے پانچ بڑوں کو جوہری ہتھیاروں پر سخت تشویش تھی لہٰذا یوکرین پر زور دیا گیا کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرکے جوہری ہتھیار سے دستبردار ہوجائے۔ ایسی ہی 'تلقین' قازقستان اور بلارس کو بھی کی گئی جنکے پاس سوویت دور کے جوہری ہتھیار موجود تھے۔ تاہم  تینوں ہی اپنے سلامتی کے خوف سے ایٹمی ہتھیار تلف کرنے پر تیار نہ تھے۔

ان  ملکو ں کے خدشات دور کرنے کیلئے دفاع اور تعاون کی یورپی تنظیم OSCEکے بینر تلے ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں ایک اجلاس ہوا۔ جہاں سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان نے یقین دلایا کہ اگر یوکرین، قازقستان اور بیلارس  اپنے جوہری پروگرام ختم کردیں تو برطانیہ، روس اور امریکہ  انکے تحٖفظ اور سلامتی کے ذمہ دار ہونگے۔ طویل مذاکرات کے بعد 5 دسمبر 1994 کو ضمانتِ تحفط کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے جسے Budapest Memorandum on Security Assuranceکہا جاتا ہے۔ اس چھ نکاتی یادداشت میں برطانیہ، روس اور امریکہ نے بہت صراحت کیساتھ ضمانت دی  کہ اگر قازقستان، یوکرین اور بیلارُس اپنا جوہری پروگرام ختم کرکے ایٹمی اسلحہ روس کے حوالے کردٰیں تو:

  1. بیلارُس، قازقستان اور یوکرین  کی سلامتی، خودمختاری اور سرحدوں کا مکمل احترام کیا جائیگا
  2. بیلارُس، قازقستان اور یوکرین  کو دھمکی یا انکے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائیگا
  3. بیلارُس، قازقستان اور یوکرین کے خلاف کسی قسم کی معاشی پابندی نہیں لگائی جائیگی
  4. بیلارُس، قازقستان اور یوکرین  کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے گریز کیا جائیگا
  5. اگر یہ ملک دھمکی یا طاقت کا نشانہ بنے تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل انکے دفاع کی ذمہ دار ہوگی
  6. اگر اس عہد سے متعلق کبھی کوئی شک یا ابہام پیدا ہوا تو تینوں ضامن مشورے کے بعد ان ملکوں کو اعتماد میں لینگے

اس تحریری معاہدے کے باوجود 2014 میں روس نے کریمیا اور یوکرین کےدو مشرقی صوبوں کے بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا یعنی ایک ضامن نے خود ہی معاہدے کو ہوا میں اڑادیا اور  دوسرے  ضامنوں سمیت ساری دنیا خاموش رہی۔ اب ایک بار پھر بے اماں یوکرینی روسی بمباری کا نشانہ بن رہے  ہیں۔ اگر یوکرین کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو اسکے عوام اس بے بسی کے عالم میں نہ مارے جاتے۔بھولی یوکرینی قیادت نے 'بھیڑیوں' کو معصوم سمجھنے کی مجرمانہ غلطی کا ارتکاب کیا جسکی قیمت آج ساڑھے چار کروڑ یوکرینی ادا کررہے ہیں۔

اس یادادشت پر روس کے سابق صدر بورس یلسٹن، امریکی صدر بل کلنٹن، اور برطانیہ کے وزیراعظم جان میجر نے دستخط کئے تھے۔ان میں سے بورس یلسٹن آنجہانی ہوچکے  لیکن جان میجر اور بل کلنٹن اب بھی حیات ہیں۔  اپنے دستخطوں  سے جاری ہونے والی ضمانت کی دھجیاں بکھرتی دیکھ کر انھیں ذرا شرم نہ آئی۔

سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکا ن کی جانب سے وعدہ خلافی کی اس سنگین وادات کے بعد دنیا، خاص طور سے ایران اور شمالی کوریا عالمی ادارے کی یقین دہانیوں پر کیسے اعتماد کرسکتے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 4مارچ 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 4 مارچ 2022

روزنامہ امت کراچی 4 مارچ 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو