Thursday, September 22, 2022

ایس سی او(SCO)کی سمرقند سربراہی کانفر نس

 

ایس سی او(SCO)کی سمرقند سربراہی کانفر نس

شنگھائی تعاونی تنظیم Shanghai Cooperation Organization (SCO) ایک یورپ ایشیائی تنظیم ہے، جسکا آغاز  سرحدی تنازعات کے پرامن حل پر غیر رسمی بحث و مباحثے سے ہوا۔یہ دراصل اعتماد سازی کی ایک کوشش تھی۔  چین کے شہر  شنگھائی میں 26 اپریل 1996 کو  روس، تاجکستان، کرغستان، قازقستان اور چین کے سربراہ جمع ہوئے اور سرحدی معاملات پر کھل کر گفتگو ہوئی۔ یہاں معاشی مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ بات چیت کے دوران اس بات پر اصولی اتفاق ہوگیا کہ تصادم و کشیدگی اقتصادی ترقی کیلئے انتہائی مہلک ہے اور بات چیت کے ذریعے متنازعہ مسائل کے حل میں سب کا فائدہ ہے۔ یہ تو آپکو معلوم ہی ہے قازقستان اور چین دیکر چار ممالک کے پڑوسی ہیں۔روس کی سرحدیں چین اور قازقستان سے ملتی ہیں۔ کرغستان، چین، قازقستان اور تاجکستان کے پڑوس میں ہے جبکہ تاجکستان، چین اور کرغستان کی سرحدوں پر واقع ہے اور پڑوسیوں کے درمیان کھٹ پٹ چلتی ہی رہتی ہے۔ اس نشست کے دوران گفتگو جاری رکھنے پر اتفاق ہوا اور اس 'کلب'کا نام شنگھائی 5 طئے پایا۔

گویا SCOکا آغاز بھی گروپ 7 کے انداز میں ہوا جب امریکہ،  جرمنی (اسوقت مغربی جرمنی)، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خزانہ تیل کے بحران پر غیر رسمی گفتگو کرنے واشنگٹن میں جمع ہوئے اور جب یہ لوگ صدر نکسن کے پاس پہنچے تو  امریکی صدر نے ان سے قصر مرمریں (وہائٹ ہاوس) کی لائبریری میں ملاقات کی اور اس  غیر رسمی و غیر روائتی مجلس کو نام 'لائبریری گروپ'کا نام دیا گیا۔ جاپان،   اٹلی اور کینیڈا کی شمولیت کے بعد یہ محفل گروپ 7 کے نام سے ایک مضبوط اقتصادی بلاک میں تبدیل ہوگئی۔

دوسرے برس شنگھائی 5 کلب کا اجلاس ماسکو میں ہوا جہاں تمام ارکان نے اپنی سرحدوں پر فوج کی تعداد میں واضح کمی کا اعلان کیا۔ اسکے ایک ماہ بعد روس اور چین کے رہنماوں نے اعلان کیا کہ دنیا پر ایک طاقت کی بالادستی قابل قبول نہیں۔ یہ دراصل امریکہ کے اس نئے بیانئے کی طرف اشارہ تھا جسکے مطابق سوویت یونین کی تحلیل کے بعد امریکہ دنیا کی واحد 'سپر' پاور ہے۔ چینی صدر جیانک ژیمین (Jian Zemin)اور انکے روسی ہم منصب یورس یلسٹن نے ایک دستاویز پر دستخط کئے جو معاہدہ کثیر قطبی دنیا یا Multipolar World کے نام سے مشہور ہوا۔

الماتی (قازقستان) اور بشکیک (کرغزستان) اجلاس روائتی نوعیت کے رہے لیکن 2000 میں جب یہ رہنما دو شنبے (تاجکستان) میں جمع ہوئے تو 'انسانیت اور انسانی حقوق' کے نام پر دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عزم کیا گیا۔ ساتھ ہی پانچوں ملکوں نے علاقے میں فوجی، سیاسی اور معاشی استحکام کیلئے مل کر کام کرنے کا وعدہ کیا۔  

اسکے اگلے سال شنگھائی سربراہ اجلاس میں ازبکستان کو اس کلب کا رکن بنالیا گیا اور اب یہ تنظیم شنگھائی 6 کہلانے لگی۔ اسی سال یعنی 2001 میں تمام کے تمام چھ اراکین نے شنگھائی 6 کی تنظیم نو کے بعد اسے شنگھائی تعاونی تنظیم یا SCOبنادیا۔ ایک سال بعد روسی شہر سینٹ پیٹرسبرگ کی سربراہ کانفرنس میں تنظیم کے نئے دستور کی منظوری کی ساتھ اسے  ترقی و خوشحالی کیلئے ایک ہمہ جہت ادارے میں تبدیل کردیا گیا، 2015 میں ہندوستان اور پاکستان کی شمولیت کے بعد اب اس ادارے کے ارکان کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔ ایران کی رکنیت بھی منظور کرلی گئی ہے تاہم تہران کی اسنادِ رکنیت کا اجرااگلے سال اپریل میں ہوگا۔رکن ممالک کے رقبے کے اعتبار سے  SCOیورپ اور ایشیا کے 60 فیصد حصے کی ترجمانی کرتی ہے، دنیا کی 40 فیصد آبادی اور دنیا کی  30 فیصد  پیداوار و وسائل (GDP)کے مالک SCO ممالک ہیں (حوالہ: وکی پیڈیا)

افغانستان،  بیلارُس اور منگولیا کو SCOمیں مبصر کادرجہ حاصل ہے۔بیلارُس کی رکنیت پر  اصولی اتفاق ہوچکا ہے لیکن حتمی فیصلہ غالباً اگلے برس دلی سربراہی اجلاس میں ہوگا۔افغانستان SCOکا مبصر تو ہے لیکن اگست 2021میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے اسکی یہ حیثیت عملاً معطل ہے۔

چونکہ SCOکا آغاز 'گپ شپ کلب' کے طور پر ہوا تھا اسلئے مکمل رکنیت اور مبصر کیساتھ شرکاِ گفتگو یا Dialogue Partnersکے نام سے ایک مستقل شعبہ بھی ہے۔ سری لنکا، ترکی، کمبوڈیا، نیپال، آرمینیا، مصر، قطر اور سعودی عرب  گفتگو میں ادارے کے ساجھے دار ہیں۔ بحرین، کویت، مالدیپ، میانمار (برما) اور متحدہ عرب امارات SCOکے شرکاِ گفتگو بننے کا خواہشمند ہیں جنکی درخواستوں پر حالیہ اجلاس میں غور کیا گیا۔ شام اور اسرائیل کی جانب سے بھی  شریکِ گفتگو ہونے کی درخواست موصول ہوئی ہے لیکن ان پر غور ابھی نہیں شروع ہوا۔ ادارے کا نصابِ رکنیت کچھ اسطرح ترتیب دیا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں شریک گفتگو، پھر مبصر اور اسکے بعد رکنیت کی منظوری ہوتی ہے۔

شنگھائی تعاونی کونسل بنیادی طور پر باہمی گفتگو کا پلیٹ فارم ہے چنانچہ سمر قند سربراہ کانفرنس کے دوران کئی اہم ملاقاتیں ہوئیں۔حالیہ بیٹھک کا سب سے چشم کشا پہلو روسی صدر کا یہ انکشاف ہے جس میں جناب پیوٹن نے بتایا کہ  یوکرین پر  روسی حملے سے چین تشویش میں مبتلا ہے اور صدرژی جن پنگ نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کچھ سوالات اٹھائے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے چین نے یوکرین جنگ کیلئےروس کو اسلحہ فراہم کرنے سے معذرت کرلی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم کی روسی صدر سے ملاقات بہت اہم تھی۔ یہاں گفتگو غیر روائتی اور غیر رسمی ہوتی ہے اسلئے بات چیت کے مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوتا۔ شریف پیوٹن ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے بتایا کہ سمر قند میں روسی صدر سے ملاقات کے دوران جناب  شہباز شریف نے روسی تیل اور گندم خریدنے کی خواہش ظاہر کی ۔ خواجہ صاحب کے مطابق روسی صدر نے یوکرین جنگ میں پاکستان کی غیر جانبداری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انکا ملک پاکستان سے تجارتی تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ ملاقات میں صدر پیوٹن نے پیشکش کی کہ اگر پاکستان چاہے تو روس، وسط ایشیا آنے والی گیس پائپ لائن کو افغانستان کے راستے پاکستان تک وسعت دینے کیلئے بھی تیار ہے۔ تاہم یہاں اہم سوال چچا سام کا مزاجِ نازک ہے۔پاکستان کی وزارت تجارت نے اس حوالے سے امکانی امریکی اعتراض کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ ہندوستان چارملکی بحری اتحاد QUADکا رکن ہونے کے باوجود روس سے گندم اور خام تیل خرید رہا ہے، لہذا واشنگٹن کو روس پاکستان تجارت پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے،  لیکن 'عالمی چودھری' کا کونسا مطالبہ منطقی ہے جو اس معاملے پر اس سے معقولیت کی توقع کی جائے۔ شہباز شریف نے  سمر قند میں قیام کے دوران حضرت امام بخاری کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ پڑھی۔

ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی نے بھی صدر پیوٹن سے ملاقات کی۔ گفتگو کے اختتام پر شری مودی نے صحافیوں سے بس اتنا کہا کہ 'جنگ کا دور ختم ہوچکا'۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ انکا یہ جملہ دراصل پاکستان اور چین کی طرف شاخِ زیتوں لہرانے کی ایک کوشش تھی۔ اب ہندوستان SCOکا سربراہ اور 2023 کے چوٹی اجلاس کا میزبان ہے چنانچہ مودی جی اپنے دونوں پڑوسیوں سے کشیدگی کم کرنے میں سنجیدہ نظر آرہے ہیں۔لیکن سمرقند کانفرنس کے دوران ہندوستانی پردھان منتری کی اپنے پاکستانی ہم منصب اور چینی صدر سے ملاقات نہیں ہوئی۔پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرایع نے بتایا کہ جب تک کشمیر ایجنڈے پر نہ ہو  بھارت سے بات چیت نہیں ہوگی۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ  ملکہ ایلزبیتھ کی آخری رسومات کے دوران بھی چوٹی ملاقات نہیں ہوگی اور اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر جب دو نوں وزرائے اعظم نیویارک میں موجود ہونگے، باہمی ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔

چینی صدر اور وزیراعظم نریندرا مودی کی سمر قند میں ملاقات نہیں ہوئی لیکن عسکری ماہرین نے مشرقی لداخ سے ہندوستانی اور چینی فوجی دستوں کے پیچھے ہٹنے کا انکشاف کیا ہے جسکا کسی بھی فریق کی جانب سے سرکاری اعلان  نہیں ہوا۔ باخبر ذرایع کے مطابق انسدادِ کشیدگی کی اس پیشرفت کا  آغاز  بھارت نے کیاہے  جو دلی کی جانب سے چین کیلئے  خیر سگالی کا اظہارہے۔

ترکی SCOکا ایک اہم شریکِ گفتگو ہے  اور اب انقرہ نے تنظیم کی رکنیت حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ حالیہ اجلاس میں ترک صدرطیب رجب ایردوان کو شرکت کی خصوص دعوت دی گئی تھی۔ ایسی ہی دعوت پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور انکے ترکمن ہم منصب سردار برہان الدینوف بھی شریک ہوئے۔

سمر قند اجلاس کے دوران ترک صٖدر نے چینی و روسی صدور اور ہندوستانی وزیراعظم سے ملاقاتیں کیں۔ روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے ترک صدر کی سرگرمیاں شنگھائی تعاونی کونسل کے حالیہ سربراہی اجلاس کے دوران بھی جاری رہیں۔ترک صدر نے صدر پیوٹن اور انکے اتحادیوں ازبک، آذری، بیلارس اورایرانی صدر سے ناشتے پر ملاقات کی

گفتگو کے دوران صدر ایردوان نے کہا کہ وہ تنازعے کے پرامن حل کیلئے پر امید ہیں اور انھیں اس معاملے میں پر روس اور یوکرین دونوں کاتعاون حاصل ہے۔صدر پیوٹن نے امن کی کوششوں کیلئے صدر ایردوان کی کوششوں کی تعریف کی۔ انکا کہنا تھا کہ ترکیہ باوقار سفارتکاری سے یوکرینی غلے کی فراہمی بحال ہوچکی ہے اور جلد ہی روسی گندم کی ترسیل بھی شروع ہوجائیگی۔ روسی صدر نے غریب ملکوں سے خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی روسی غلے کی ترسیل شروع ہوئی روس تین لاکھ ٹن کھاد (fertilizers)مفت تقسیم کریگا اور امید ہے کہ ہمارے دوست ایردوان اس مقصد کیلئے بحراسود اور بحر روم کو پرامن جہاز رانی کیلئے کھلا رکھیں گے۔دنیا بھر کے امن پسند ترک صدر کی ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کامیابی کیلئے دعا گو ہیں لیکن مغرب کے دلوں میں چھپی آگ اب بھڑکتی نظر آرہی ہےبی بی سی پر صرف ایک دن کی سرخیاں ملاحظہ فرمائیں

“ترکیہ دونوں طرف سے کھیل رہا ہے”

“اقتدار اور پیسے کی خواہش ۔۔ صدر ایردوان کانیا چہرہ سامنے آرہا ہے”

“کہنے کو نیٹو کا رکن ، عملا روس کا اتحادی ہے”

“ایک کوسٹ گارڈ کا بیٹا ترکیہ کا جھگڑالو صدر کیسے بنا؟”

کچھ اسی قسم کی بات فرانس کے صدر بھی کہہ رہے ہیں ۔ انکو ڈر ہے کہ بحر روم پر باربدوس “قزاقوں” کا دور واپس آرہا ہے ۔ عثمانی بحریہ کے امیرالبحر خیرالدین باربروس اور انکے بھائی عروج باربروس “سمندرکےصلاح الدین ایوبی “ کہلاتے تھے جنھوں نے بحر ابیض (بحر روم)، بحر اسود اور بحیرہ بلقان پر ترکوں کی بالادستی کو ناقابل تسخیر بنادیا تھا۔ خوف کا یہ عالم کہ بحر اوقیانوس سے بحر روم میں داخل ہونے کیلئے یورپی جہاز آبنائے جبل الطارق پر کئی کئی دن ترک بحریہ کی اجازت کے انتظار میں کھڑے رہتے تھے۔اطالوی اورفرانسیسی نصاب میں باربروس کو قزاقوں یا Piratesکے سرغنے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے

اس دوران ایک مضحکہ خیز بات بھی ہوئی اور وہ کچھ اسطرح کہ  وقت کی پابندی کے معاملے میں صدر پیوٹن ذرا غیر ذمہ دار مشہور ہیں اور کئی بار انکے مہمانوں کو انتطار کی زحمت اٹھانی پڑی ہے، تاہم سمر قند میں معاملہ الٹ ہوگیا۔ہندوستان کے وزیراعظم، ترکی، آذربائیجان اور کرغستان کے صدور وقت مقررہ سے کچھ دیر بعد جلوہ افروزہوئے۔روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے فوٹوگرافر نے مہمانوں کی خالی کرسیوں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیا اور انکے ناقدین نے ٹویٹر پر طنز و چٹکلوں کے ہلکے پھلکے تیر برسائے۔ مہمانوں کی تاخیر سے آمد پر صدر پیوٹن نے شگفتہ لہجے میں کہا کہ دوست دیر سے نہیں بلکہ شو قِ ملاقات میں ہم ذرا جلدی آگئے ہیں یعنی حسابِ دوستاں در دِل

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 23 ستمبر 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 23 ستمبر 2022

روزنامہ امت کراچی 23 ستمبر 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 25 ستمبر 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


Thursday, September 15, 2022

برطانیہ، ملکہ کا انتقال، نئے فرمانروا ، نئی وزیراعظم

 

برطانیہ، ملکہ کا انتقال، نئے فرمانروا ، نئی وزیراعظم

گزشتہ ہفتے سلطنت اور حکومتِ برطانیہ میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ ستر برس کی تخت نشینی کے بعد ملکہِ برطانیہ 8 ستمبر کو  اسکاٹ لینڈ کے شاہی بلمورل قلعے Balmoral Castleمیں انتقال گئیں۔ ایک سال پہلے اپنے شوہر شہزادہ فلپ کے انتقال کے بعد سے وہ تنہائی اور دباو کا شکار تھیں اور کچھ دنوں سے اتنی زیادہ بیمار تھیں کہ نئے وزیراعظم لز ٹرس کی وزارت عظمی کی توثیق کیلئے وہ لندن کے بکنگھم محل تک سفر نہ کرسکیں اور ملکہ کی دست بوسی کیلئے نومنتخب وزیراعظم کو بلمورل قلعہ آنا پڑا۔

اپریل 1926 میں جنم لینے والی ایلزبیتھ الیکزنڈرا المعروف ایلزبیتھ دوم اپنے والد جارج ششم کے انتقال پر 6 فروری 1952کو سلطنت برطانیہ برطانیہ کی فرمانروا مقرر ہوئیں۔تاہم برطانیہ کی شاہی روائت کے مطابق سوگ کے دن گزر جانے کے بعد انکی تاجپوشی 2 جون 1953کوہوئی

پیدائش کے وقت ایلزبیتھ کے دادا شاہ جارج پنجم نے انھیں اپنے بڑے بیٹے ایڈورڈ ہشتم  اور انکے بھائی جارج ششم (والد ملکہ ایلزبیتھ)کے بعد ولی عہد نامزد کیا۔ اسوقت خیال یہی تھا کہ ایلزبیتھ صاحبہ کی تخت نشینی بہت مشکل ہے کہ شادی کے بعد اگر شاہ ایڈورڑ اولادِ سے سرفراز ہوئے تو وہ اپنے  بھائی کے بعد  بیٹے  یا بیٹی کو ولی عہد نامزد کردینگے لیکن شاہِ شاہاں کے فیصلے کو کون ٹال سکاہے۔

دادا کے انتقال پر جب 1936میں انکے چچا ایڈورڈ ہشتم  نے تخت سنبھالا تب وہ اپنے باپ کے بعد تاج برطانیہ کیلئے دوسرے نمبر پر آگئیں۔ایڈورڈ صاحب کا ایک امریکی خاتون ولس سمپسن سے معاشقہ چل رہا تھا۔ تاجپوشی کے ساتھ ہی انھوں نے اس خاتون سے شادی کرنے کا اعلان کردیا جسکی وجہ سے وہ شاہی مراعات سے محروم کردئے گئے اور جارج ششم کی تاجپوشی کیساتھ ہی ملکہ صاحبہ ولی عہد نامزد ہوگئیں۔ شہزادی ایلزبیتھ  جب  25 برس کی عمر میں تخت نشین ہوئیں تو برطانیہ کی تاریخ کی تیسری ملکہ تھیں۔ اس سے پہلے  ایلزبیتھ اول 1558 سے 1603 اور محترمہ  وکٹوریہ 1837 سے 1901 تک تخت نشیں رہ چکی ہیں۔قارئین کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ ملکہ وکٹوریہ ہی کے دور میں ہندوستان سلطنت برطانیہ کا حصہ بنایا گیا اور  1876 سے 1901 تک انھیں ملکہ ہندوستان کا خطاب عطا ہوا۔ ملکہ وکٹوریہ کے انتقال پر علامہ اقبال نے انکا مرثیہ لکھا۔

حالیہ  تبدیلی میں کچھ تاریخی اتفاقات بھی ہوئے کہ برطانوی تاریخ کی تیسری ملکہ نے انتقال سے دودن پہلے ملکی تاریخ کی تیسری خاتون وزیراعظم کی توثیق کی۔ اس سے پہلے مارگریٹ تھیچر  اور تھریسا مے کی توثیق بھی آنجہانی ملکہ نے کی تھی۔ برطانیہ میں وزیراعظم کے حلف اٹھانے سے پہلے  فرمانروا کی توثیق ضروری ہے۔

ملکہ کے انتقال پر  انکے صاحبزادے 73سالہ چارلس فلپس آرتھر جارج المعروف چارلس سوم نے برطانیہ کی بادشاہت سنبھال لی ہے۔ بادشاہ سلامت کو چھ ماہ کی عمر میں ولی عہد نامزد کیا گیا تھا گویا شہزادہِ گلفام نے بہت صبر اور سعادتمندی سے 73 برس اپنی باری کا انتظار کیا اور اس اعتبار سے وہ  طو یل ترین عرصے تک ولی عہد کے منصب پر فائز رہے۔ اسکے مقابلے میں تینوں ملکہ بڑی کم عمری میں تخت نشیں ہوئیں۔ تاجپوشی کے وقت ملکہ ایلزبیتھ اول و دوم دونوں کی  عمر 25 سال تھی۔ جب ملکہ وکٹوریہ کے سر پر تاج سجایا گیا اسوقت انکی عمر 18 برس تھی۔ملکہ ایلزبیتھ کے انتقال پر پون صدی بعد سلطنتِ برطانیہ کو قومی و ملی نعرہ بھی تبدیل ہوگیا یعنی اب God saves the Queenکے بجائے God saves the Kingپکارا جائیگا۔

برطانیہ ایک آئینی بادشاہت ہے لہذا تاجدار کی تبدیلی سے ملکی سیاست اور خارجہ امور پر کوئی فرق نہیں  پڑیگا۔ اسلئے اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف یعنی نئی وزیراعظم کا تقرر

جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا 6 ستمبر کو حلف اٹھانے والی میری ایلزبیٹھ  ٹرس المعروف لز ٹرس برطانوی تاریخ کی 56 ویں اور تیسر ی خاتون وزیراعظم ہیں۔ سیینتالیس (47) سالہ لز ٹرس ان تینوں میں سب سے کم سن ہیں۔ وزارت عظمیٰ سنبھالتے وقت مارگریٹ تھیچر 54 اور محترمہ تھریسا مے 60 برس کی تھیں۔  اتفاق سے ان تینوں خواتین کا تعلق قدامت پسند ٹوری پارٹی ہے۔

مزے کی بات کہ ٹوری سے تعلق رکھنے کے باوجود لز ٹرس خود کو نظریاتی طور پر لبرل بلکہ بائیں بازو کی طرف مائل قراردیتی ہیں۔ لز صاحبہ نے ایک لبرل خاندان میں آنکھ کھولی ۔ انکے والد ریاضی کے پروفیسر اور والدہ نرس تھیں اور یہ دونوں بائیں بازو کے حامی تھے۔ انکی والدہ  تخفیف  اسلحہ  مہم کی سرگرم کارکن تھیں۔ جامعہ آکسفورد میں تعلیم کے دوان لز طلبہ سیاست میں سرگرم تھیں اور اس دوران انھوں نے لبرل ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ یہی نہیں بلکہ  لبرل  ڈیموکریٹس کے جلسوں میں وہ شاہی نظام کے خاتمے کے بات کرتی تھیں ، 1994 میں ہونے ایک کانفرنس کے دورران انھوں نے کہا  'سب کو موقع ملنا چاہے۔ میں یہ نہیں مانتی کہ کچھ لوگ حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔‘ 

 

لز ٹرس پیشے کے اعتبار سے اکاونٹنٹ ہیں اور انھوں نے کچھ عرصہ تیل کمپنی شیل میں ملازمت کی ہے۔ عملی سیاست میں داخلے کیلئے لبرل اور بائیں بازو کی طرف مائل لڑ ٹرس نے قدامت پسند ٹوری پارٹی کا انتخاب کیا۔ سیاست کے ابتدائی ایام انکے لئے مایوس کن ثابت ہوئے ،  2001 اور اسکے بعد 2005 کے انتخابات میں انھیں شکست ہوگئی لیکن جوانسال وحوصلہ مند لز ٹرس نے ہمت نہ ہاری۔ ایک سال بعد وہ Greenwich سے کونسلر اور 2010 میں ٹوری پارٹی کی ٹکٹ پر رکن پارلیمان منتخب ہوگئیں۔انتخابی مہم کے دوران ایک رکن پارلیمان سے انکے معاشقے کا انکشاف بھی ہوا لیکن انکے شریک حیات ڈٹ کر انکے دفاع کو آئے اور انھوں نے اپنے مخالف کو 13ہزار ووٹوں سے شکست دیدی۔   

اس کامیابی کے صرف دوسال بعد انھیں  نائب وزیر تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی اور   2014 میں  وہ وزیر (سیکرٹری)  ماحولیات مقرر ہوئیں۔ دوسال بعد انھیں وزیرانصاف اور 2021 میں انھیں وزارت خارجہ کا قلمدان عطا ہوا۔ اسی دوران وزیراعظم بورس جا نسن کیخلاف کروناپابندیوں کی خلاف ورزی کے کئی واقعات سامنے آئے اور ثبوت اس قدر واضح تھے کہ انھیں اعتراف کرنا پڑا۔ بورس جانسن ٹوری پارٹی میں عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن عوامی دباو نے انھیں سبکدوشی پر مجبور کردیا۔

 وزیراعظم جانسن کے اس اعلان پر لز ٹرس نے وزارت عظمیٰ کیلئے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں انھیں سات دوسرے امیدواروں کا سامنا تھا۔آخری مرحلے میں انکا مقابلہ وزیرخزانہ رشی سونک سے ہوا۔ بیالیس برس کے رشی ہند نژاد اور راسخ العقیدہ ہندو ہیں۔ انکے والد کینیا سے انگلستان تشریف لائے جبکہ  والدہ محترمہ تنزانیہ سے آئی تھیں۔

برطانیہ کی ٹوری پارٹی میں وزیراعظم کے انتخاب کا حتمی فیصلہ جماعت کے اجتماع ارکان میں ہوتا ہے اور صرف انھیں ارکان کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے جو اپنے واجبات وقت پر ادا کرچکے ہیں۔ اسوقت پارٹی کے ایسے ارکان کی تعداد 18000 ہے۔ براہ راست مقابلے میں لزٹرس نے 57 فیصد ووٹ حاصل کرکے وزارت عظمیٰ اپنے نام کرلی۔ چناومیں ووٹ ڈالنے کا تناسب 83 فیصد کے قریب تھا

لز ٹرس کا سیاسی ماضی یو ٹرن U-Turnsسے عبارت ہے۔ دور طالب علمی میں وہ  مزدور انجمنوں کی حامی اور شہنشاہیت کی سخت مخالف تھیں لیکن عملی سیاست کیلئے انھوں نے قدامت پسند ٹوری پارٹی کا انتخاب کیا۔ جامعہ میں 'سرخ سویرا' کا نعرہ لگانیوالی لز ٹرس نے ٹوری کے ٹکٹ پر رکنِ پارلیمان منتخب ہونے کے بعد اپنے چار قدامت پسند ارکانِ پارلیمان کے ساتھ مل کر Britannia Unchained کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں اور باتوں کے علاوہ برطانوی  مزدوروں کو 'دنیا کے بدترین کاہلوں میں سے ایک' بیان کیا گیا۔مزدرو انجمنوں کے احتجاج پر لز ٹرس صاحبہ نے اس سطر سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ انکے الفاظ نہیں۔  

بریکزٹ یعنی برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر لز ٹرس کی قلابازی بڑی دلچسپ تھی۔لز ٹرس نے یورپی یونین میں رہنے یعنی بریکزٹ کے خلاف  مہم چلائی۔ مشہور اخبار روزنامہ 'سن' میں انہوں نے لکھا کہ 'بریگزٹ برطانیہ کے حق میں نہیں۔ اسکے نتیجے میں یورپ کو اشیا فروخت کرتے وقت مزید قواعد، مزید مشکلات اور  تاخیر کا سامنا ہو گا'۔ لیکن جب ریفرنڈم میں برطانوی عوام نے بریکزٹ قبول کرلیا تو لز ٹرس نے ایک لمحہ توقف کئے بغیر فرمایا ’بریگزٹ نے ہمارے انداز فکر کو تبدیل کردیا ہے اور اب ہم  معاملات کو نئے انداز میں دیکھ رہے ہیں ۔‘

محترمہ لز ٹرس کے ناقدین کا خیال ہے کہ موصوفہ کو اپنی زبان پر قابو نہیں اور وہ حساس موضوعات پر باتیں کرتے ہوئے الفاظ کے چناو میں بے احتیاطی کرجاتی ہیں۔ فرانسیسی صدر کی ان پر تنقید کے  بعد جب  محترمہ سے پوچھا گیا کہ '(صدر) میکراں ہمارے دوست ہیں یا دشمن'  تو انھوں نے برا سا منہہ بناتے ہوئے کہا کہ 'وقت فیصلہ کریگا' ۔ اسکاٹ لینڈ کی وزیرِاول (وزیراعلیٰ) محترمہ نکولا سٹرجن Nicola Sturgeon اپنے صوبے کی برطانیہ سے علیحدگی کیلئے ریفرنڈم کی خواہشمند ہیں۔ایک صحافی نے جب  لز ٹرس سے اس بارے میں سوال کیا تو وزیراعظم صاحبہ نے نخوت سے کہا  'سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر  توجہ کی بھوکی فرد ہیں، جنھیں  نظر انداز کرنا ہی بہتر ہے۔‘

نئی برطانوی وزیراعظم کی تلون مزاجی اور غیر محتاط گفتگو  اپنی جگہ لیکن انکی اصل آزمائش دباو کا شکار برطانوی معیشت ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ کساد بازاری کا یہی حال رہا تو حجم کے اعتبار سے برطانوی معیشت ہندوستان سے پیچھے ہو جائیگی۔

بریکزٹ کی وجہ سے برطانوی برآمدکنندگان کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور معاملہ صرف یورپی یونین تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک سے تجارتی معاہدوں پر نظر ثانی کا اعصاب شکن مرحلہ درپیش ہے۔ اسلئے کہ تجارت یورپی یونین معاہدے کے تحت ہورہی تھی اور یہ معاہدات اب عملاً غیر موثر ہوگئے ہیں۔کرونا سے پہنچنے والے نقصان کا ماتم ابھی جاری تھا کہ روس یوکرین جنگ نے ایک نیا بحران پیداکردیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق توانائی چھ گنا مہنگی ہوچکی ہے۔ تجارتی معاہدوں کی پریشانی اپنی جگہ،  توانائی مہنگی ہونے کی وجہ سے مصنوعات کی پیداواری لاگت بہت بڑھ گئی ہے نتیجے کے طور پر برآمدات میں کمی واقع ہورہی ہے۔

وزارت عظمیٰ کی انتخابی مہم کے دوران انھوں نے مہنگائی کو اپنا اولین ہدف قراردیا تھا۔ اسکے حل کیلئے محترمہ نے ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے وعدے کے ساتھ بہت سختی کیساتھ صاف صاف کہا کہ  'وہ غیر ضروری رعایتوں پر یقین نہیں رکھتیں'۔ وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرکے حکومتی اخراجات کو بڑھانے کے حق میں بھی نہیں۔  

انکے ٓمخالفین سوشل میڈیا پر پوچھ رہے ہیں کہ انکے پاس وہ کون سی گیڈر سنگھی ہے جسکے ذریعے وہ  رعائت (سبسڈی) اور تنخواہوں میں اضافے کے بغیر مہنگائی کے مارے عوام کو راحت عطا فرمائینگی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 ستمبر 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 16 ستمبر 2022

روزنامہ امت کراچی 16 ستمبر 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 18 ستمبر 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


Thursday, September 8, 2022

چین کے ویغور مسلمان ۔۔ انسانیت سوز برتاوکا شکار

 

چین کے ویغور  مسلمان ۔۔ انسانیت سوز برتاوکا شکار

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی ہائی کمشنر کی  رپورٹ

گزشتہ ہفتےاقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر محترمہ  مِشل بیچلیٹ نے  سنکیانک کے بارے میں رپورٹ جاری کر دی،  جس  کے  مطابق چینی صوبے سنکیانگ (مقامی تلفظ شنجاک)  میں  ویغور مسلمانوں سے جو سلوک ہورہا ہے اسےانسانیت کے خلاف جرائم سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

مِشل بیچلیٹ  کہتی ہیں

  • سنکیانگ میں ویغور اقلیت کے خلاف  2017 سے 2019 کے درمیان چینی حکومت نے پکڑ دھکڑ شروع کی تھی جس کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مہم کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے ہمیں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ بین الاقوامی قانون کے تحت خدشات کو جنم دیتی ہیں۔
  • ویغوروں  کے انفرادی اور اجتماعی حقوق سلب کرلئے گئے ہیں
  • سنکیانگ کے 10 لاکھ ویغور افراد کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا ہے
  • ویغوروں اور قازق مسلمانوں سے ہونے والی بدسلوکی میں  تشدد، جبری نس بندی، جنسی استحصال اور ماں باپ سے بچوں کی علیحدگی شامل ہے
  • مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کی جاتی ہے جسکا مقصد اسلامی شناخت کو تباہ کرنا ہے۔

رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ’ہیومن رائٹس واچ چائنا‘ کی ڈائرکٹر سوفی رچرڈسن نے کہا کہ اس رپورٹ سے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کا پتہ چلتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو اس رپورٹ کی روشنی میں انسانیت کے خلاف جرائم کی جامع تحقیقات کرواکے ذمہ دار افراد کو جواب دہ ٹھیرانا چاہیے۔
دوسری طرف چین نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں چین کے مندوب ژانگ جن (Zhang Jun) نے کہا کہ سنکیانگ کے من گھڑت مسئلے کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں، جن کا مقصد چین کے استحکام کو نقصان پہنچانا اور اس کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ چینی مندوب نے اپنی حکومت کا یہ موقف دہرایا کہ امریکہ جنہیں حراستی کمپاؤنڈ قرار دے رہا ہے وہ دراصل پیشہ ورانہ تعلیم کے مراکز ہیں، جن کا مقصد وہاں زیر تربیت لوگوں کے انتہا پسندانہ نظریات کی درستگی اور دہشت گردی کا انسداد کرنا ہے۔

ایک سال قبل لندن کے آزاد بین الاقوامی ٹریبونل نے بھی چینی حکومت کو سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں اور دوسری لسانی اقلیتوں کی نسل کشی، بہیمانہ تشدد اور بدسلوکی کا مرتکب قرار دیا تھا۔ تحقیقات کے دوران ایغور متاثرین سمیت 30 گواہ پیش ہوئے جن میں عالمی شہرت یافتہ وکیل اور دانشور شامل ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے بیانات کے حق میں ناقابل تردید ثبوت فراہم کیے تھے۔

ٹریبونل کے سربراہ سر جیفری نائس نے ستمبر 2021 میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چینی حکومت ایغوروں کی آبادی کم کرنے کے لیے جبری بانجھ پن کے گھناونے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں موصول ہونے والے تمام شواہد مستند اور ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہیں۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ظلم و ستم کی یہ کارروائی وفاقی حکومت کے ایما اور حکم پر ہو رہی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ایغور مسلمانوں کو غیر انسانی اور ناقابل بیان تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بائیس مربع میٹر کی کھولیوں میں 15 افراد ٹھنسے ہوئے ہیں جو سخت سردی میں گرم کپڑوں اور کمبل کے بغیر کنکریٹ کے فرش پر سلائے جا رہے ہیں۔

ستمبر 2020 میں قائم ہونے والے اس ٹریبونل کو کسی حکومت کی مدد یا سرپرستی حاصل نہیں تھی اور اس کے اخراجات دنیا بھر کی غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد NGO Coalition for Genocide Responseنے اداکیے تھے۔ ٹریبونل اس وقت قائم کیا گیا جب عالمی عدالت انصاف یا ICJ نے اس معاملے کی تحقیق کا یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ چین ICJ کا رکن نہیں ہے۔ عالمی عدالت انصاف اس اعتبار سے ایک مہمل و مفلوج ادارہ ہے جسے افغانستان میں اسے امریکی فوج کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیق سے روک دیا گیا ۔ غزہ اور فلسطین میں اسرائیلی فوج کی مجرمانہ سرگرمیوں کی تحقیق کا عدالت نے وعدہ کیا لیکن اب تک سماعت کا آغاز تک نہیں ہوا۔ عدالت کی طرف سے نوٹس جاری ہوتے ہی امریکہ کی نائب صدر کملا دیوی ہیرس نے اسرائیلی وزیر اعظم کو فون کر کے یقین دلایا کہ امریکہ عالمی عدالت کو اسرائیل کے اندرونی معاملے میں مداخلت اور دہشت گردوں کو معصومیت کی سند عطا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ستم ظریفی کہ کملا جی کی انتظامیہ اپنے سیاسی مخالف ڈونالڈ ٹرمپ پر الزام لگارہی ہے کہ سابق صدر اپنے عہدِ صدارت کی تکمیل پر اہم دستاویزات دفتر سےاٹھا کر لے گئے جن میں سے کئی 6 جنوری 2021 کو انتخابی ووٹوں کی گنتی کے دوران کانگریس (امریکی پارلیمنٹ) پر حملے کے متعلق تھیں۔ بائیڈن انتظامیہ اس حملے کو امریکی آئین کے خلاف مسلح بغاوت یا Coup قرار دے رہی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کا خیال ہے کہ دستاویز ’چرانے‘ کا مقصد بغاوت کے ذمہ داروں کومحاسبے سے بچانا ہے چنانچہ سابق امریکی صدر پر فراہمیِ انصاف کی راہ میں رکاوٹ کا مقدمہ دائر کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اگر ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں بائیڈن سرکار کی منطق کو درست مان لیا جائے تو ڈراونے ڈرون اور تاریخ کے سب بڑے غیر جوہری بم سے رزق خاک بننے والے معصوم افغانوں، غزہ کے نہتے شہریوں پر بمباری، مغربی کنارے کے شہروں اور دیہاتوں میں ہدف بنا کر فلسطینی نوجوانوں کے شکار کی تحقیق سے عالمی عدالت انصاف کو روکنا بھی انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ان الزامات پر صدر بائیڈن اور اسرائیلی قیادت کے خلاف عالمی عدالت انصاف کو از خود نوٹس لینا چاہیے۔

افغانستان اور فلسطین کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل کے ہٹ دھرمی پر مبنی موقف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چینی حکومت نے تحقیقات میں تعاون سے انکار کرتے ہوئے سر جیفری نائس سمیت ٹربیونل کے ارکان پر سفری پابندیاں عائد کردی تھیں۔ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ ٹربیونل چین کے خلاف سفید جھوٹ کا پرچار کر رہا ہے۔
گزشتہ برس اپریل میں برطانوی پارلیمان بھی ایک قرارداد منظور کر چکی ہے، جس میں ایغور مسلمانوں سے بدسلوکی کو نسل کُشی قرار دیا گیا تھا۔ تجویز کنندہ کشمیری نژاد قدامت پسند رکن پارلیمان نصرت منیر الغنی نے کہا کہ ایغور خواتین کو بانجھ بنایا جا رہا ہے۔ چینی حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق 2014 میں ایک سال کے دوران دو لاکھ خواتین کی نسوانی نس بندی کی گئی اور اب اس آپریشن میں 60 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ نصرت غنی نے کہا کہ جبری نس بندی نسل کشی کی بدترین شکل ہے۔ ایسی ہی قرارداد اس سے پہلے کینیڈا کی پارلیمان بھی منظور کر چکی ہے۔

لندن ٹربیونل کے فیصلے اور برطانوی اور کینیڈا کی پارلیمان کے قراردادوں پر چین نے اس شان سے کان دھرا کہ سر جیفری نائس سمیت ٹربیونل کے ارکان پر سفری پابندیاں عائد کردی گئیں۔ کچھ ایسا ہی سلوک نصرت غنی کے ساتھ بھی کیا گیا۔اس سے پہلے جنوری 2021 میں امریکی پارلیمان کے ایگزیکیوٹیو کمیشن برائے چین (CECC) نے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانک سے ملنے والے نئے شواہد کی بناپر ایغوروں کی نسل کشی کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ یہ اعلیٰ اختیاراتی کمیشن امریکی وزارت تجارت، وزارت خارجہ اور وزارت محنت کے ایک ایک سینئر رکن کے علاوہ امریکی ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) کے 9 اور 9 سینیٹروں پر مشتمل ہے۔

مسلمانوں سے برے سلوک کی چین کی طرف سے تردید پر تعجب کی کوئی بات نہیں۔ دوسری جانب مغربی ممالک  بھی ایغور مسلمانوں کی حالتِ زار کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ایغوروں کو سب سے زیادہ افسوس اور مایوسی مسلمان ممالک کی بے حسی پر ہے۔ چین سے اچھے تعلقات کی توقع پر مسلمان ممالک ایغوروں کی حالتِ زار پر گفتگو نہیں کرتے۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی 57 اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں نہ صرف اس مسئلے کو نظر انداز کیا گیا بلکہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اس اعلیٰ سطحی کانفرنس میں بطور خاص شرکت کی۔ مارچ میں ہونے والی اس کانفرنس کا افتتاح سابق وزیر اعظم عمران خان نے کیا تھا اور کپتان نے بھی اس موضوع پر گفتگو سے گریز کیا تھا۔

ایغوروں کی کسی حد تک حمایت ترکیہ کر رہا ہے۔ اسلام آباد وزرائے خارجہ کانفرنس میں بھی صرف ترک وزیر خارجہ میلوت چاوش اوغلو نے اس مسئلے کو اٹھایا۔ جولائی میں چین ترک پارلیمانی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کے اسپیکر مصطفےٰ شینتوپ نے کہا ہم چین سے دوستی اور تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں لیکن ایغوروں کے معاملے سے بھی لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ ترک رہنما کا کہنا تھا کہ ایغوروں سے ہمارا گہرا سماجی، اخلاقی اور دینی تعلق ہے جسے کسی بھی صورت پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ ترکیہ چین سے سیاسی و تجارتی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے لیکن ایغوروں کے معاملے میں ہمارا موقف بہت دوٹوک، واضح اور مبنی بر انصاف ہے۔ سمعی و بصری رابطے پر ہونے والی اس بیٹھک میں مصطفےٰ صاحب کی تقریر کے بعد چینی وفد کے قائد نیشنل پیپلز کانگریس (قومی اسمبلی) کے سربراہ لی زانشو (Li Zhanshu) نے کہا کہ ترک چین تعلقات کی بنیاد صاف گوئی، بے تکلفی شفافیت اور باہمی احترام پر ہے۔ ہم ہر معاملے پر اپنے ترک دوستوں سے رابطے میں ہیں۔ چین انسانی حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اس حوالے سے ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

بیجنگ نے کئی بار ’تربیتی کیمپوں‘ کا دبے لفظوں اور مبہم انداز میں اعتراف بھی کیا ہے۔ ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک بار لکھا ’کچھ اقدامات تکلیف دہ ضرور ہیں لیکن ان سخت اقدامات ہی کی وجہ سے یہ خطہ ’شام‘ یا ’لیبیا‘ بننے سے محفوظ رہا ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان سمیت دنیا کے 18 مسلم ممالک نے چین کے اس موقف کی بھر پور حمایت اور ذہنی تربیت کے ذریعے شدت پسندی کے علاج کو قابل تحسین قرار دیا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 9 ستمبر 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی  9 ستمبر 2022

روزنامہ امت کراچی 9 ستمبر 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 ستمبر 2022

روزنامہ قومی صحافت 11 ستمبر 2022


Thursday, September 1, 2022

چین کے ویغور مسلمان ۔۔ انسانیت سوز برتاوکا شکار

 

چین کے ویغور  مسلمان ۔۔ انسانیت سوز برتاوکا شکار

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی ہائی کمشنر کی  رپورٹ

آج اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر محترمہ  مِشل بیچلیٹ نے  سنکیانک کے بارے میں پورٹ جاری کر دی،  جس  کے  مطابق چینی صوبے سنکیانگ (مقامی تلفظ شنجاک)  میں  ویغور مسلمانوں سے جو سلوک ہورہا ہے اسےانسانیت کے خلاف جرائم سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

مِشل بیچلیٹ  کہتی ہیں

  • سنکیانگ میں ویغور اقلیت کے خلاف  2017 سے 2019 کے درمیان چینی حکومت نے پکڑ دھکڑ شروع کی تھی جس کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مہم کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے ہمیں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ بین الاقوامی قانون کے تحت خدشات کو جنم دیتی ہیں۔
  • سنکیانگ میں انفرادی اور اجتماعی حقوق سلب کرلئے گئے ہیں
  • سنکیانگ کے 10 لاکھ ویغور افراد کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا ہے
  • ویغوروں اور قازق مسلمانوں سے ہونے والی بدسلوکی میں  تشدد، جبری نس بندی، جنسی استحصال اور ماں باپ سے بچوں کی علیحدگی شامل ہے
  • ویغوروں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کی جاتی ہے جسکا مقصد ویغور شناخت کو تباہ کرنا ہے۔

رپورٹ پر تبصرہ کرتےہوئے  ’ہیومن رائٹس واچ چائنا‘ کی ڈائریکٹر سوفی رچرڈسن نے کہاکہ اس رپورٹ سے چین کی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کا پتہ چلتا ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کو اس رپورٹ کو ایغور اقلیت سمیت دیگر افراد کو نشانہ بنا نے والی چین کی حکومت کے انسانیت کے خلاف جرائم کی جامع تحقیقات  کرکے  ذمہ دار افراد کو جواب دہ ٹھہرانا چاہیے۔

 دوسری طرف چین نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں چین کے مندوب ژانگ   جن   (Zhang Jun)نے کہا  کہ سنکیانگ کے من گھڑت مسئلے کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں، جن کا مقصد چین کے استحکام کو نقصان پہنچانا اور اس کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ چینی مندوب نے اپنی حکومت کا یہ موقف دہرایا کہ امریکہ جنھیں حراستی کمپاؤنڈ قرار دے رہا ہے وہ دراصل پیشہ ورانہ تعلیم کے مراکز ہیں، جنکا مقصد وہاں زیر تربیت لوگوں کے انتہا پسندانہ نظریات کی درستگی اور دہشت گردی کا انسداد کرنا ہے۔

چین سے اچھے تعلقات کی توقع پر مسلمان ممالک ویغوروں کی حالتِ زار پر گفتگو نہیں کرتے۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی 57 اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں نہ صرف اس مسئلے   نظر انداز  کیا گیا بلکہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اس اعلیٰ سطحی کانفرنس میں بطور خاص شرکت کی، مارچ میں ہونے والی اس کانفرنس کا افتتاح سابق وزیراعظم عمران خان نے کیا تھا اور کپتان نے اس موضوع پر گفتگو سے گریز کیا۔

ویغوروں کی کسی حد تک حمائت ترکی کررہاہے۔ اسلام آباد وزرائے خارجہ کانفرنس میں بھی صرف ترک وزیر خارجہ میلوت چاوش اوغلو نے اس مسئلے کو اٹھایا۔

 گزشتہ ماہ چین ترک (سمعی و بصری) پارلیمانی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کے اسپیکر مصطفےٰ شینتوپ نے کہا چین سے دوستی اور تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں لیکن ویغوروں کے معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ ترک رہنما کا کہنا تھاکہ  ویغوروں سے ہمارا گہرا سماجی، اخلاقی اور دینی تعلق ہے جسے کسی بھی صورت پسِ پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ ترکیہ چین سے سیاسی و تجارتی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے لیکن ویغوروں کے معاملے میں ہمارا موقف بہت دوٹوک واضح اور مبنی بر انصاف ہے

مصطفےٰ صاحب کی تقریر کے بعد چینی وفد کے قائد نیشنل پیپز کانگریس (قومی اسمبلی) کے سربراہ لی زانشو (Li Zhanshu) نے کہا کہ ترک چین تعلقات کی بنیاد صاف گوئی، بے تکلفی شفافیت اور باہمی احترام پر ہے ۔ہم ہر معاملے پر اپنے ترک دوستوں سے رابطے میں ہیں۔ چین انسانی حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اس حوالے سے ہمارے پاس چھپانے کیلئے کچھ بھی نہیں۔


آ۔

ڈانلڈٹرمپ کے گھر پر امریکہ کی خفیہ دستاویزت کا انبار

 

ڈانلڈٹرمپ  کے گھر پر امریکہ کی خفیہ دستاویزت کا انبار

جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی، انصاف کی راہ میں رکاوٹ اور اہم دستاویزات کو سنبھالنے میں مجرمانہ غفلت

سابق امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ ایک غیر روائتی سیاستدان اور ہر اعتبار سے مختلف امریکی صدر تھے۔ حساس قومی معلومات اور دستاویزات کے معاملے میں ٹرمپ صاحب کا رویہ بہت ہی عجیب سا تھا۔ انکے سابق  مشیرِ قومی سلامتی جان بولٹن کا کہنا ہے کہ 'ڈانلڈ ٹرمپ حساس معلومات کو محفوظ رکھنے میں بہت سست اور غیر ذمہ دار تھے اور ہم اس حوالے سے مسلسل پریشان رہتے تھے'۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ صدر ٹرمپ نے تقرر کے صرف ایک سال بعد جناب بولٹن  پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے  انھیں سبکدوش کردیاتھا اور انکی برطرفی کا اعلان صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ سے کیا جو دراصل بصد سامانِ رسوائی کامظہر تھا ۔اس اعتبار سے جناب بولٹن کے بیان کو ذاتی مخاصمت کا شاخسانہ قراردیا جاسکتا ہے۔

اپنی مدتِ اقتدار کی تکمیل کے بعد سے جناب ڈانلڈ ٹرمپ بہت سی تحقیقات بھگت رہے ہیں۔ ان پر  امریکی صدارتی انتخاب کے  لئے کلیہ انتخاب (Electoral College)کے ووٹوں کی گنتی کے دوران امریکی مقننہہ پر حملے کی منصوبہ بندی، سرپرستی اور 'بغاوت' کی حوصلہ افزائی کا الزام ہے۔

صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ریاست جارجیا کے سکریٹری آف اسٹیٹ (ریاستی وزیر اعلیٰ) پر دباو ڈالا کہ جارجیا کے  نتائج کوتبدیل کرکے سابق صدر کی برتری ظاہر کی جائے۔ اس ضمن میں انکی فون گفتگو کا پورا ریکارڈ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے پاس موجود ہے۔ امریکی قانون کے تحت انتخابی نتائج سے 'چھیڑ چھاڑ' ایک سنگین جرم ہے جسکی تحقیقات جاری ہیں۔

 سابق صدر پر انکی نیویارک میں واقع جائیداد کی قیمت کم ظاہر کرنے اور  ریاستی ٹیکس  بچانے کیلئے غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام بھی ہے۔ جناب  ٹرمپ کو نیویارک کی اٹارنی جنرل محترمہ لٹیٹاجیمز نے  اصالتاً طلب کیا۔ دس اگست کو پیشی کے دوران سابق صدر نے امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کا سہارا لیکر مکمل خاموشی اختیار کی۔ اس ترمیم کے تحت تحقیقات کے دوران ملزم کو سوال و جواب کے دوران خاموش رہنے کی اجازت ہے اسلئے کہ ادا کیا ہوا ہر جملہ ملزم کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے چنانچہ ملزمان تحقیقاتی افسر سے انفرادی ملاقات کے دوران خاموش رہ سکتے ہیں۔ ڈیڑھ گھنٹہ طویل اس ملاقات میں سابق صدر نے صرف ایک سوال کا جواب دیا اور وہ یہ تھا کہ آپ کا نام کیا ہے ، باقی ہر سوال کے جواب میں وہ فرماتے   Madam, I take 5 یعنی 'محترمہ پانچویں ترمیم کے تحت ملنے والے تحفظ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں خاموشی اختیار کررہا ہوں' اب ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی جائیگی جسکی سنگینی کے پیش نظر پروانہ گرفتاری کا اجرا بھی خارج از امکان نہیں۔

ان تمام الزامات کیساتھ سب سے سنگین معاملہ  حساس سرکاری دستاویزات کے ساتھ انکا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ امریکہ کے جاسوسی ایکٹ مجریہ 1917 کے تحت حساس مواد کی تصویر لینے، اہم معلومات کی نقل بنانے اور امریکی دفاع سے متعلق معلومات کوکسی دوسرے ملک کے فائدے کے لیے استعمال کرنا سنگین جرم ہے جسکی کم ازکم سزا دس سال قید ہے۔ امریکی صحافیوں کی تنظیمیں اور آزادیِ اظہار رائے کی انجمنیں اس قانوں کو پسند نہیں کرتیں، انکا خیال ہے کہ اس دفعہ کا سہارا لے کر کئی صحافیوں کے خلاف کاروائی کی گئی ہے۔ گزشتہ 105 سال کے دوران جاسوسی ایکٹ کے تحت 1000 افراد کو سزا ہوچکی ہے۔ اسی بناپر 1920 میں ایک ترمیم کے ذریعے ایک خاص مدت کے بعد خفیہ معلومات کو مشتہر کرنے کی ہدائت کی گئی لیکن یہ صدر کے صوابدیدی اختیار سے مشروط ہے۔صدر اوباما کے دور میں اس قانون کے تحت 8 اور ڈانلڈ ٹرمپ نے 6 صحافیوں پر فرد جرم عائد کی۔

قصرِ مرمریں کے ذرایع کہتے ہیں کہ اپنے دورِ اقتدار میں صدر ٹرمپ بہت سی سرکاری فائلیں اور دستاویز اپنے ساتھ گھر لے جاتے  تھے اور ان کاغذات میں خفیہ یا کلاسیفائیڈ مواد بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ  کا موقف تھا کہ وہ نو سے پانچ کام کرنے والے کلرک نہیں بلکہ امریکہ کے  ہمہ وقتی صدر ہیں لہٰذا وہ بہت سی فائلیں رات کا کھانا کھاکر فرصت کے اوقات میں گھر پر دیکھتے ہیں۔ بادی النظر میں صدر کا موقف بہت معقول ہے کہ بحیثیت صدر انتہائی خفیہ یا عام ہر قسم کی دستاویزات تک انھیں رسائی حاصل تھی اور اگر وہ مطالعے کیلئے کچھ دستاویزات گھر لے گئے تو کیا برائی ہے۔ تاہم اس میں ایک آئینی سقم ہے۔ امریکی قانون کے تحت  خفیہ دستاویزات کو ٓمحفوظات یا Archive سے باہر لے جانے سے پہلے انکا مکمل اندراج ضروری ہے جسکا صدرٹرمپ نے کوئی اہتمام نہیں کیا۔ اس بارے میں سابق صدر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے گھر لے جانیوالے مواد کو محدود مدت کیلئے غیر مخفی یا declassify کردیا کرتے تھے لیکن اسکے لئے باقاعدہ یادداشت یا memorandum جاری کرنے کے تکلف میں پڑے بغیر وہ ان فائلوں کے کلاسیفائیڈ لیبل پر خط تنسیخ پھیر کر  پینسل سے 'عارضی طور پر غیر مخفی' لکھ دیتے تھے۔

معاملہ یہاں تک بھی رہتا تو ٹھیک تھا۔ بائیڈن انتظامیہ کے محکمہ انصاف کا خیال ہے کہ سابق صدر جو فائلیں اور دستاویزات مطالعے کیلئے اپنے گھر  لےگئے ان میں سے بہت سی انھوں نے اپنی مدت صدارت مکمل ہونے پر واپس نہیں کیں  جو ایک سنگیں جرم ہے۔

چنانچہ چند ماہ پہلے جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی، انصاف کی راہ میں حائل ہونے اور اہم دستاویزات کو سنبھالنے میں مجرمانہ غفلت کے شبہے میں انکے خلاف کھاتہ کھول دیا گیا اور دورانِ تحقیق  وزارت انصاف کے اہلکاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سابق صدر جنوری 2021 میں اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کی معلومات کے علاوہ کچھ حساس نوعیت کا ریکارڈ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ یہ  دستاویزات ان  فائلوں کے علاوہ ہیں جو جناب ٹرمپ دوران صدارت اپنے گھر لے جایا کرتے تھے۔

ابتدائی معلومات کی تصدیق کے بعد اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ (Merrick Garland)کی درخواست پر وفاقی عدالت کی فلورڈا رجسٹری سے  ڈانلڈ ٹرمپ کے پر تعیش گالف کورس اور سیاحتی مرکز مارا لاگو کی تلاشی کا پروانہ یا سرچ وارنٹ حاصل کیا گیا۔  ٹرمپ دور صدارت میں مارا لاگو جنوب کا وہائٹ ہاؤس کہلاتا تھا۔ پروانہ حاصل کرنے کے بعد  11 اگست کو مارے جانے والے چھاپے میں ایف بی آئی اہلکاروں نے  تلاشی کے دوران  20 بکسوں پر مشتمل خفیہ دستاویزات کے 11 سیٹ برآمد کرلئے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ چھاپے میں  300سے زیادہ خفیہ یا کلاسیفائیڈ دستاویزات برآمد کی  گئی ہیں جن میں سی آئی اے ، نیشنل سیکیورٹی اور ایف بی آئی کا ریکارڈ شامل ہے۔ بعض ذرایع کےمطابق کچھ فائلیں جوہری ہتھیاروں سے متعلق ہیں۔ ان میں سے کچھ ڈبوں پر 'ٹاپ سیکریٹ'، 'سیکریٹ' اور 'کانفیڈینشل' لکھا ہوا ہے۔ کچھ مواد پر 'پوٹینشل پریذیڈینشل سیکریٹ'، 'متفرق خفیہ دستاویزات،' لکھا ہوا ہے۔ کچھ فائلوں میں ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس اور تصاویر بھی ہیں۔ ایف بی آئی کے چھاپے کے دوران ٹرمپ کی رہائش گاہ میں اُن کے دفتر، خوابگاہ، کمرہِ مطالعہ، اسٹور رومز اور  اُن کے اسٹاف کے زیرِ استعمال کمروں کی تلاشی لی گئی۔

چھاپے کے وقت صدر ٹرمپ نیویارک میں تھے اور اطلاعات کےمطابق سابق خاتون اول اور ٹرمپ کے چھوٹے صاحبزادے گھر پر موجود تھے جنھوں نے ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے مکمل تعاون کیا۔ ملانیہ ٹرمپ صاحبہ نے بھی تلاشی کے دوران کسی تلخ کلامی بحث مباحثہ یا ناخوشگوار واقعہ کا ذکر نہیں کیا۔

چھاپے کے دوسرے روز  ریاست اوہایو کے شہر سنسناٹی Cincinnati میں ایک مسلح  شخص نے ایف بی آئی کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے ہلاک کردیا گیا۔ تحقیقات کے بعد  اس شخص کی شناخت رکی شفر Ricky Shiffer کے طور پر کئی گئی۔ مبینہ ملزم کا  تعلق ٹرمپ نواز انتہا پسندوں سے تھا۔ بیالیس سالہ رکی 6 جنوری کو دارالحکومت پر حملے کا نامزد ملزم اور ایف بی آئی کو مطلوب تھا۔

اپنے گھر پر چھاپے  کو صدرٹرمپ نے سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر بائیڈن کے ایما پر پر اٹھاے گئے ان اقدامات کامقصد انھیں 2022 کے وسط مدتی انتخابات کیلئے رپیبلکن پارٹی کی ا نتخابی مہم سے روکنا اور 2024 کے صدارتی انٹخابات میں جناب ٹرمپ کو نااہل کرانا ہے۔ سابق صدر نے 2024 کے انتخابات میں صدر بائیڈن کا مقابلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ڈانلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انکے پیشرو  صدر براک حسین اوباما آفس چھوڑتے ہوئے 3 کروڑ 30 لاکھ صفحات پر مشتمل کلاسفائیڈ دستاویزات اپنے ساتھ لے گئے تھے جن میں بہت سی جوہری ہتھیاروں سے متعلق تھیں۔ تاہم امریکہ کے قومی محفوظات (National Archive) کیجانب سے ترنت جاری ہونے والے بیان میں ٖڈانلڈ ٹرمپ کے دعوے کی تردید کردی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما کی مدت صدارت مکمل ہوتے  ہی  حساس نوعیت کی تمام دستاویزات  قومی محفوظات نے اپنے قبضے میں کرلی تھیں۔

دوسرے دن صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے وضاحت کی یہ کاروائی انکے حکم پر عدالت سے اجازت لے کر کی گئی ہےاور اس بارے میں صدر بائیڈن سے مشورہ تو کجا امریکی صدرکو پیشگی اطلاع بھی نہیں دی گئی۔ اسی کیساتھ امریکہ محکمہ انصاف نے پروانہِ تلاشی جاری کرنے والے  منصف (جج) سے وارنٹ اور تلاشی کے دوران ملنے والی معلومات کو مشتہر کر نے کی درخواست کی۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ انکا ادارہ انتقام نہیں فروغ انصاف کیلئے قائم کیا گیا ہے اور قانون کی حکمرانی کیئے امریکی محکمہ انصاف پرعزم ہے۔

اپنی جوابی درخواست میں جناب ٹرمپ کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ انکے موکل نے حساس معلومات رکھنے سے متعلق صدارتی استحقاق کی وضاحت کیلئے درخواست دائرکررکھی ہے اور اسکا فیصلہ ہونے تک ایف بی آئی کو ان دستاویزات کے جائزے سے روکا جائے۔ٹرمپ نے حساس معلومات رکھنے سے متعلق صدارتی استحقاق کے تعین کے لیے 'خصوصی ماسٹر' مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے خصوصی ماسٹر ایسی ضبط شدہ دستاویزات کے جائزے کے لئے نامزد کیا جاتا ہےجنہیں کوئی اہم شخصیت اپنے پاس رکھنے کا استحقاق رکھتی ہو۔ یعنی عام ایف بی آئی اہلکار ان دستاویزات کی چھان پھٹک نہیں کرسکتے۔

جناب ٹرمپ کی درخواست پر جج نے کہا کہ منفی پروپیگنڈے کے حوالے سے درخواست گزار کی تشویش جائز ہے لیکن  عوامی دلچسپی کی بنا پر دستاویز کا مکمل طور پر سربمہررہنا بھی مناسب نہیں۔جج نے محکمۂ انصاف کو ہدایت کی کہ وہ اس حلف نامے میں جن معلومات کو خفیہ رکھنا چاہتا ہے ان کے بارے میں ترمیم کی تجویز پیش کرے۔ دوسرے دن وفاقی عدالت نے ٹرمپ کے اعتراض کے باوجود سربمہر وارنٹ کو کھول دیا۔

پروانہ تلاشی کی درخواست میں  سابق صدر  کی جانب سے جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی، انصاف کی راہ میں حائل ہونے اور اہم دستاویزات کو سنبھالنے میں مجرمانہ غفلت کے شبہے کا اجمالی ذکر تو ہے لیکن ان مبینہ جرم کے تحت کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔ قانونی ماہرین  کا کہنا ہے کہ  ایک وفاقی جج  کی جانب سے ارتکاب جرم کے ممکنہ ارتکاب کے  شبہے  پر پروانہِ تلاش کا اجرا صدر ٹرمپ کیلئے نیک شکون نہیں۔

انکے گھر سے برآمد ہونے والی دستاویزات کی تفصیل بھی سنسنی خیز ہے۔ اب اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہے کہ  مدت صدارت کے اختتام کے بعد ان دستاویزات کی  ڈانلڈ ٹرمپ کے پاس موجودگی قانون کی خلاف ورزی ہے یا نہیں؟ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی نجی رہائش گاہ سے جو مواد قبضے میں لیا گیا ہے ان میں  سے کچھ پر قومی سلامتی کے حوالے سے اہم اور خفیہ ترین کے نشان لگے ہوئے ہیں جنہیں صرف نامزد سرکاری تنصیبات میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

اپنے دفاع میں سابق صدر نے کہا کہ وہ اپنی مدت صدارت کے دوران گھر لے جانیوالی تمام دستاویزات کو اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرت ہوئے انکی خصوصی حیثیت کو ختم کرچکے تھے، جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا امریکی آئین کے رو سے انھیں یہ اختیار حاصل تھا لیکن وہ اسکا کوئی دستاویزی ثبوت اب تک پیش نہیں کرسکے اور برآمد ہونے والی دستاویزات میں اصل لیبل اب تک چسپاں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جن ایجنٹوں نے انکے گھر کی تلاشی لی ہے وہ جو کچھ بھی چاہتے وہاں رکھ سکتے تھے ۔یہ الزام اس اعتبار سے  مہمل ہے کہ تلاشی، عدالتی حکم پر لی گئی اور ایف بی آئی ایجنٹوں  نے  تلاشی کے دوران فارنزک ثبوت کا اہمتام کررکھا ہے۔سابق امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے قومی محفوظات  سے یہ دستاویزات اٹھوانے کی درخواست کی تھی اور اس سال کے شروع میں ان کی رہائش گاہ سے کچھ بکس واپس محفوظات میں جمع کرادئے گئے لیکن باقی دستاویزات اٹھوانے کا انتظام نہیں کیا گیا چنانچہ محفوظات کی کوتاہی کا انھیں ذمہ دار ٹہرانا درست نہیں۔

جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی، انصاف کی راہ میں حائل ہونے اور اہم دستاویزات کو سنبھالنے میں مجرمانہ غفلت ایک سنگین جرم ہے اور لگتا ہے کہ محکمہ انصاف جلد ہی اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کردیگا اور بظاہر سابق صدر کے خلاف الزامات سنگین نظر آرہے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 2  ستمبر 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 2 ستمبر 2022

روزنامہ امت کراچی 2 ستمبر 2022

ہفت روزہ رہبر  سرینگر  4 ستمبر 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو