Thursday, February 17, 2022

کینیڈا کا ٹرک دھرنا۔ پہلے سے شکستہ زنجیرِ فراہمی مزید خستہ ہوگئی

 

کینیڈا کا ٹرک دھرنا۔  پہلے سے شکستہ زنجیرِ فراہمی مزید خستہ ہوگئی

تحفظ و انسدادِ کرونا کی پابندیوں  کے خلاف کینیڈا میں اکیس (21)دن سے جاری ٹرک دھرنے کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے طاقت کا استعمال شروع کردیا ہے۔ جمعرات ، 10 فروری کو  کینیڈین ریاست اونٹاریو کی عدالت عظمیٰ نے دھرنا  غیر قانونی قراردیتے ہوئے جمعہ کی شام سات بجے تک اونٹاریو کے شہر ونڈسر اور امریکی ریاست مشیگن کو ملانے والا Ambassador Bridge خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔ جسکے بعد گورنر ڈگلس فورڈ نے ہنگامی حالت  نافذ کرکے  پولیس کو دھرنا ختم کرنے کیلئے طاقت کے استعمال کی اجازت دیدی۔وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی ٹرک ڈرائیوروں سے  گھر جانے یا اپنی راہ لینےکی درخواست کی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق عدالتی احکامات کے احترام میں درجنوں  ٹرک راستے سے ہٹالئے گئے ہیں اور وہاں موجود ڈرائیوروں نے  پولیس کو پرامن رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ پرامن رہنا  کافی نہیں  بلکہ شاہراہ کو ہر قسم  کے ٹریفک کیلئے کھلا رکھنا ضرور ی ہے۔ ایک دن پہلے پولیس نے متنبہ کیا تھا کہ ہفتے کے دن  11 بجے کے بعد وہاں کھڑے ٹرکوں میں موجود ڈرائیوروں کی گرفتاری شروع ہوجائیگی۔ٹرکوں کے ساتھ انکی حمائت میں شاہراہ پر دھرنا دئے عام لوگوں کو بھی وہاں سے چلے جانے کی ہدائت کی گئی ہے۔

دھرنے پر مُصِر ٹرک ڈرائیوروں اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ  کرونا کی ناروا پابندیوں نے انکے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کردئے اور لاکھوں افراد نان ِ شبینہ کو محتاج ہو گئے ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ قومی خزانے سے ملنے والی  تنخواہوں اور مراعات پر عیش کرنے والے پالیسی سازوں کو کیا پتہ کہ اگر پابندیوں اور لاک ڈاون کی وجہ سے دہاڑی دار ایک  دن   مزدوری پر نہ جاسکے تو اسکے زیرکفالت افراد کو کس عذاب کا سامنا کرناپڑتاہے۔ پولیس کی متعدد تنبیہ کے باجود سینکڑوں ٹرک اور ہزاروں مظاہرین  پُل پر موجود ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ تمام لوگ غیر مسلح اور پُرامن ہیں اور ہم کسی صورت  نہ تو قانون اپنے ہاتھ میں  لیں گے اور نہ کسی قسم کا تشدد کرینگے۔ کینیڈا کا دستور اپنے شہریوں پر امن احتجاج و مظاہرے کی ضمانت دیتا ہے اور ہم اپنے اسی حق کے استعمال کیلئے یہاں جمع ہیں۔پولیس افسران  بہلا پھسلاکر ڈرائیوروں کو ٹرک راستے سے ہٹانے پر امادہ کرتے نظر آرہے تھے۔

بات چیت کیساتھ پکڑ دھکڑ اور آنسو گیس کا سلسلہ بھی جاری کہ بقول پولیس  'مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر'۔ اکثر جگہ جزوی ٹریفک تو بحال ہوگیا ہے لیکن تادم تحریر  مجمع منتشر نہیں ہوا۔ دارالحکومت اٹاوا میں اب بھی ہزاروں نعرہ زن  افرد چوکوں اور چوراہوں پر بیٹھے ہیں۔ مظاہرے کی سیاسی و نظریاتی ہئیت خاصہ متنوع ہے۔ ان کی اکثریت تو لازمی جدرین کاری کے مخالفین پر مشتمل ہے لیکن ہجوم میں دائیں بازو کے قدامت پسند بھی ہیں جنھیں  وزیراعظم ٹروڈو کی لبرل معاشی پالیسی پسند نہیں۔ مہنگائی اور غربت کے ستائے لوگ بھی ہیں۔ ویکسین پاسپورٹ کے ساتھ، ہائے مہنگائی اور ٹروڈو مردہ باد کے نعرے بھی زور شور سےلگائے جارہے ہیں۔ 

کینیڈین حکا م کا کہنا ہے کہ کرونا کی پابندیاں 15 فروری سے بتدریج ختم کی جارہی ہیں  اسلئے دھرناجاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں اور لاک ڈاون  کے دوران ٹرک ڈرائیوروں کو جو نقصان پہنچا ہے اسکی تلافی کیلئے حکومت  بات کرنے کو تیار ہے۔

تنازعے کا آغاز اسوقت ہوا جب نومبر میں کرونا کی نئی قسم اومکرون Omicronنے کینیڈاکے بڑے حصے کو لپیٹ میں لے لیا۔ اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ اومکرون سے متاثر ہونے والوں کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہے جنھوں نے حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے۔ چنانچہ یورپی ممالک کی طرح کینیڈا میں بھی لازمی جدرین کاری Vaccine Mandateکا سلسلہ شروع ہوا۔ فضائی راستوں سے کینیڈا آنے والے غیر ملکیوں اور مقامی شہریوں کیلئے جانچ پڑتال اور شک کی صورت میں قرنطین کا انتظام موجودتھا لیکن زمینی راستے سے  واپس آنے والے کینیڈا کے شہریوں کیلئے کوئی روک ٹوک نہ تھی۔چنانچہ ملک واپس آنے والے کینڈین شہریوں کیلئے ویکسین پاسپورٹ لازمی قراردیدیا گیا جس پر جدرین کاری کی تفصیل موجود ہے۔ ویکسین پاسپورٹ پیش نہ کرنے والے افراد کیلئے امیگریشن کے بعد گھر جانے سے پہلے  دوہفتے قرنطین ضروری ہے۔

 ٹرک ڈرائیوروں کیلئے یہ پابندی بے حد تکلیف دہ ہے۔ اسوقت تک 60 فیصد ٹرک ڈرائیوروں کی جدرین کاری ہوچکی ہے جنکی اکثریت کے پاس ویکسین پاسپورٹ موجود ہے۔ کچھ ڈرائیوروں کو ویکسین پر اعتماد نہیں اور وہ اس انجیکشن کو مضر صحت سمجھتے ہیں جبکہ باقی افراد مذہبی اور دوسرے تحفظات کے پیش نظر جدرین کاری سے اجتناب کررہے ہیں۔ ان لوگوں کو کینیڈا واپسی پر مہنگے ہوٹلوں میں قرنطین کی آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔ جن لوگوں کی جدرین کاری ہوچکی ہیں ان میں سے بھی بہت لوگوں نے ویکسین پاسپورٹ نہیں بنوایا۔ ایسے افراد کو سرحد پر جانچ پڑتال کے مشکل  مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے۔ ٹرک ڈرائیور طویل سفر کے بعد ملک پہنچتے ہیں۔ سفر کی تکان اور اہل خانہ سے علیحدگی کا عذاب سہنے والے یہ محنت کش ملک میں داخل ہوتے ہی فوری طور پر گھر پہنچنا چاہتے ہیں چنانچہ جانچ پڑتال کی کاروائی انھیں بہت گراں گزرتی ہے۔ چڑچڑے ڈرائیوروں اورامیگریشن حکام کے درمیان ناشائستہ جملوں کا تبادلہ عام ہے۔

اس سال کے آغاز پر ٹرک ڈرائیوروں نے کرونا پابندیاں خاص طور سے لازمی جدرین کاری اور ویکسین پاسپورٹ ختم کرنے کیلئے تحریک چلانے کا منصوبہ بنایا۔ اس مشن میں انھیں امریکی ٹرک ڈٖرائیوروں کی بھی اخلاقی حمائت حاصل تھی۔ احتجاجی تحریک کیلئے کاروانِ آزادی یا Freedom Convoy 2022نکالنے کا اعلان کیا گیا۔اخراجات کیلئے اعانت جمع کرنے کی مشہور ویب سائٹ GoFundMeپر اپیل شایع کی گئی۔ کارواں کے مقاصد کی وضاحت کرتےہوئے تحریک کے ترجمان بین ڈکٹر (Ben Dichter) نے کہا کہ ہمارا نصب العین لازمی جدرین کاری اور ویکسین پاسپورٹ کا خاتمہ ہے۔ جناب ڈکٹر کے خیال میں ویکسین پاسپورٹ نے ڈرائیوروں کی  زندگی جہنم بنادی ہے اور اسکے خاتمے پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ویکسین پر ٹرک ڈرائیوروں کو کوئی اعتراض نہیں لیکن ریاست اسے لازم نہیں کرسکتی۔ کینیڈا آزاد انسانوں کا ملک ہے اور حکومت کو ہماری رضامندی کے خلاف کوئی ضابطہ مسلط کرنے کا حق نہیں۔

ڈرائیوروں کے اس اعلان پر جہاں امریکہ اور کینیڈا کی حکومتوں کے ماتھے پر بل آئے وہیں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فرانس اور برطانیہ سمیت کئی دوسری ملکوں کی ٹرک ڈرائیور انجمنوں نے اس فیصلے کا زبردست خیر مقدم کیا۔  

 تحریک کا آغاز برٹش کولمبیا صوبے سے ہوا اور 22 جنوری کو صبح سویرےساحلی شہر پرنس روپرٹ سے روانہ ہونے والا قافلہ شمالی برٹش کولمبیا کے سب سے بڑے شہر پرنس جارج پہنچ گیا۔ دوسرے دن ایک اور قافلہ وینکور Vancouver کے مضافاتی شہر ڈیلٹاسے روانہ ہوا اور ان دونوں قافلوں نے شہر سے نکلنے والی مرکزی شاہراہ بند کردی۔

یہ دونوں کارواں منتظمین کی توقع سے بڑے تھے جس سے حوصلہ پاکر ہر صوبے سے قافلے نکالنے کااعلان کیا گیا۔ چوبیس (24) جنوری کو امریکی سرحد کے قریب کنیڈین شہر ریجینا(Regina)سے 1200 گاڑیوں کے قافلے نے مرکز شہر پہنچ کر ٹریفک کے نظام کو مفلوج کردیا۔

اسکے دوسرے دن یعنی 25 جنوری کو تمام قافلے دارالحکومت اٹاوا (Ottawa) پہنچے ، جہاں سینکڑوں گاڑیوں کے ساتھ 2000 سے زیادہ پیدل مظاہرین بھی تھے۔ اسکے بعد ہر روز کئی سو اضافی گاڑیاں اٹاوا آنے لگیں۔ ٹرک ڈرائیوروں سے یکجہتی کیلئے نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر دارالحکومت آنے والے افراد نے عملاً شہر پر قبضہ کرلیا اور ایمبیولینس کے علاوہ کسی گاڑی کو گزرنے کی اجازت نہیں تھی۔ قرب وجوار کے دیہاتوں سے نعرہ زن کسان اپنے ٹریکٹر بھی وہاں لے آئے

دوسرے مرحلے میں امریکی سرحد کو مسددود کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، 29 جنوری کو کینیڈا کے صوبے البرٹا (Alberta)اور امریکی ریاست مونٹانا (Montana)کی سرحد بند کردی گئی۔ البرٹا مویشی بانی کا بڑا مرکز ہے اور یہاں سے سینکڑوں ٹن گوشت امریکہ بھیجا جاتا ہے۔ سرحد بند ہونے سے جہاں امریکہ میں سور کے گوشت کی قلت پیدا ہوگئی تو دوسری طرف کینیڈا کے قصاب اور گوشت کے آڑھتی پریشان ہوگئے۔ منت سماجت کے بعد دھرنا دینےوالوں نے گوشت سے لدے 50 ٹرکوں کو امریکہ جانے کی اجازت دیدی۔

چچاسام کی حقیقی پریشانی 7 فروری سے شروع ہوئی جب مظاہرین نے  ایمبیسیڈر پُل کو ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند کردیا۔ دریائے ڈیٹرائٹ پر تعمیر کئے جانیوالا یہ سوا دوکلومیٹر طویل پُل، گاڑی سازی  کی امریکی صنعت کیلئے شہہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کینیڈا اور امریکہ کے مابین تجارتی حجم 511 ارب ڈالر ہے، جس میں دوتہائی یعنی 337 ارب ڈالر مالیت کا سامانِ تجارت بری راستے سے بھیجا جاتا ہے (حوالہ الجزیرہ)

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مال و اسباب کی ایک چوتھائی نقل و حمل اسی پل کے ذریعے ہوتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ امریکیوں کا روزگار ایمبیسیڈر پل سے ہونے والی آمدورفت سے وابستہ ہے۔ ڈیٹرائٹ ایک زمانے تک دنیا کا موٹر وہیکل کیپیٹل کہلاتا تھا۔ اب  ڈیٹرائٹ گاڑی سازی کاعالمی مرکز تو نہیں رہا لیکن  یہ شہر امریکہ میں  اِس صنعت کی شناخت ہے۔

امریکی اور کینیڈین گاڑی کی صنعتوں کا انحصار ایک دوسرے پر ہے،  یعنی انجن کہیں بنتا ہے تو بریک دوسرے ملک سے آتے ہیں۔ گاڑیوں کے دروازے امریکی ساختہ ہیں تو اسکے ہینڈل کینیڈا میں بنتے ہیں۔ ایمبیسڈر پُل کے بند ہونے سے گاڑیاں بنانے کے دونوں بڑے کارخانے فورڈ اور جنرل مورٹرز کے ساتھ جاپانی کارساز ادارے ٹویوٹا کے ڈیٹرائٹ پلانٹ پرپیداوارمعطل ہوگئی جسکی وجہ سے نئی گاڑیوں کی قلت کیساتھ پرانی گاڑیوں کی مرمت کا کام مشکل اور مہنگا ہوگیا ہے کہ ضروری پرزہ جات کینیڈا سے آتے ہیں۔

اسی کیساتھ اشیائے خوردونوش خاص طور سے گوشت اور گوشت سے بنی مصنوعات کی دستیابی مشکل ہوگئی ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دکاندار من مانے نرخ وصول کررہے ہیں۔ کرونا کی پابندیوں کی وجہ سے امریکی بندرگاہوں پر کام بہت سست ہے۔جہازوں سے مال اتارنے اور چڑھانے میں تاخیر اور پھر بندرگاہ سے سامان شہر لانے کیلئے ٹرک ڈرائیور بھی ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں جسکی وجہ سے جہاں بازاروں میں مال کی قلت ہے تو وہیں دوسرے ممالک سے امریکہ آنے والے جہاز کئی کئی دن گہرے پانیوں میں چکر لگاتے ہوئے ایندھن پھونک رہے ہیں کہ بندرگاہ کے قریب ایک بھی لنگر خالی نہیں جہاں وہ پڑاو ڈال سکیں۔کھلونوں، الیکڑانکس، فیشن ایبل ملبوسات، بھاری مشنریوں اور دوسرے مصنوعات سے لدے جہازان بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے  ہیں۔ دنیا بھر میں خام تیل اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں جو غیر معمولی اضافہ نظر آرہا ہے اسکی بڑی وجہ امریکہ، چین، اور یورپین بندگاہوں پر بحری ٹریفک جام ہے۔ جسے کاروباری اصطلاح میں شکستگیِ زنجیرِ فراہمی (Supply Chain) کہا جارہا ہے۔

بحری ٹریفک جام کے نتیجے میں نازل ہونے والا قلت و مہنگائی کا عذاب کیا کم تھا کہ ٹرکوں کے دھرنے نے زنجیرِ فراہمی کے ایک اور حلقے کو مفلوج کردیا ہے۔

فی الحال تو یہ بحران صرف امریکی کی شمالی سرحدوں تک محدود ہے لیکن خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا نظرآرہا ہے۔امریکی وزارتِ داخلی سلامتی (DHS) کا کہنا ہے کہ کیلی فورنیا کے ٹرک ڈرائیور بھی اجرتوں میں اضافے اور بہتر سہولیات کیلئے ٹرک کارواں نکالنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ ہفتے کو جب کینیڈین حکام اپنے ٹرک ڈرائیوروں کو  دھرنا ختم کردینے پر آمادہ کررہے تھے تو عین اسی وقت ٹرکوں کا ایک قافلہ فرانس کے دارالحکومت پیرس کی طرف جاتا نظر آیا۔ آنسو گیس، گرفتاریوں اور پولیس رکاوٹوں کے زریعے ٹرکوں کا یہ جلوس منتشر کردیا گیا لیکن جاتے جاتے ڈرائیور کہہ گئے ہیں کہ 'ہم دوبارہ آئینگے' ۔اشیائے ضرورت کی قلت اور مہنگائی سے دنیا بھر کے محنت کش مضطرب  ہیں۔لاک ڈاون اورانسداد کرونا کی دوسری پابندیاں غریبوں کے اسباب حیات کو چاٹ چکی ہیں۔ حکومتیں ان لوگوں کی دادرسی کے بجائے اپنے دکھڑا رورہی ہیں۔ ماہرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ ٹرک دھرنا اور سرحدوں کی بندش آنے والے دنوں میں احتجاج کا نیا عنوان بن سکتا ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 18 فروری 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 18 فروری 2022

روزنامہ امت کراچی 18 فروری 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 20فروری 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


 

Friday, February 11, 2022

امریکہ میں سیاہ فاموں اور رنگدرا اقلیت کیخلاف نفرت کی مہم

 

امریکہ میں سیاہ فاموں کی جامعات اور کالجوں کو بم سے اڑادینے کی دھمکیاں دی جارہی ہے۔ افریقی نژاد باشندے قیامِ امریکہ کے وقت سے نسلی امتیاز کا شکار ہیں۔خانہ جنگی کے اختتام پر1865 میں تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے غلامی ختم کردی گئی۔ لیکن سیاہ فاموں کے خلاف امتیازی سلوک میں کوئی کمی نہیں  آئی۔ انھیں تعلیمی اداروں اور عبادت گاہوں میں داخلے کی اجازت نہ تھی۔ بازاروں اور سرکاری دفاتر میں انکے آنے جانے کے اوقات متعین تھے۔ ریل گاڑیوں اور سرکاری بسوں پر رنگدار لوگ صرف اپنے لئے مختص ڈبوں ہی میں بیٹھ سکتے تھے۔

ستم ظریفی کہ اس امتیازی سلوک کو امریکہ کی سپریم کورٹ نے قانونی جواز بھی مہیاکیا۔ اسکا قصہ کچھ اسطرح ہے کہ 1890 میں ریاست لوزیانہ نے ریلوے کیلئے جداگانہ بوگی ایکٹ (Separate Car Act)منظور کرلیا جسکے تحت گورے اور رنگداروں کیلئے ریل گاڑیوں میں علیحدہ ڈبے مختص کردئے گئے۔ لوزیانہ پہلے فرانس کی کالونی تھا جسے 1803 میں ڈیڑھ کروڑ ڈالر کے عوض خرید کر USAکا حصہ بنایا گیا۔ لوزیانہ میں فرانسیسی نژاد سیاہ فام بھی تھے۔ ایسے ہی ایک 30 سالہ شخص ہومر پلیسی نے 7 جون 1892 کو ریل گاڑی کے درجہِ اول (فرسٹ کلاس) کا ٹکٹ خریدا اور سفید فام لوگوں کیلئے مختص ڈبے میں بیٹھ گیا۔ جب کنڈکٹر ٹکٹ کی جانچ پڑتال کیلئے آیا تو یہاں ایک کالے کو بیٹھا دیکھ کر آپے سے باہر ہوگیا۔ اس نے زنجیر کھینچ کر گاڑی روکی اور گارڈ کو  وہاں بلالی جسکے حکم پر ریلوے پولیس نے پلیسی کو جیل بھیج دیا۔

پلیسی پر ریلوے قوانین کی خلاف وزری کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا۔ پلیسی نے گرفتاری کے خلاف امریکی عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا، جس نے 18 مئی 1896 کو فیصلہ سنایا کہ سیاہ فاموں کے لیے جداگانہ برتاؤ اور انتظام، آئین کے خلاف نہیں۔ نسلی بنیادوں پر  تفریق کیلئے عدالت نے ’جداگانہ لیکن برابر‘ کا نظریہ اختیار کیا۔

خاتمہِ غلامی ترمیم کے بعد 1868 میں چودھویں ترمیم نے سیاہ فام امریکیوں کو (برابر کی) شہریت کا حق دیا جسکے دوسال بعد پندرہویں ترمیم کے ذریعے سیاہ فاموں کو ووٹ کاحق بھی دیدیا گیا لیکن باوجودیکہ شدت کم ہوچکی ہے، رنگداروں کے خلاف  امتیازی بلکہ وحشیانہ سلوک کا ارتکاب اب تک جاری ہے۔ پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام نوجوانوں کا قتل اور افریقی امریکیوں پر نسل پرستوں کے حملے برابر ہورہے ہیں۔

غلامی کے خاتمے کے بعد بھی سیاہ فاموں کا تعلیمی اداروں میں داخلہ ممنوع تھا۔ مزے کی بات کہ 1954 میں امریکی عدالت عظمیٰ نے تعلیمی اداروں میں نسلی بنیادوں پر تفریق کو غیر آئینی قرار دےدیالیکن عوامی رد عمل کی بناپر کئی برس تک اس فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوسکا بلکہ سابق صدر بل کلنٹن کی آبائی ریاست آکنسا Arkansasکے دارالحکومت لٹل راک میں تو گورے والدین کی مزاحمت اس قدر شدید تھی کہ ایک عرصے تک ابتدائی جماعتوں کیلئے نسلی بنیادوں پر الگ کلاسوں کا سلسلہ جاری رہا۔لٹل راک کے سنٹرل ہائی اسکول میں 1957 کے تعلیمی سال سے سفید و سیاہ فام طلبہ کی مشترکہ کلاس کا آغاز کیا گیا اور 9 سیاہ فام طلبہ نے نسلی اعتبار سے مخلوط کلاس میں داخلہ لیا۔ ان میں  چھ لڑکیاں اور تین لڑکے تھے

یہ خبر ملتے ہی اسکول انتظامیہ حرکت میں آئی اور ایک خط کے ذریعے ریاستی گورنر کو خبردار کیا گیا کہ اسکولوں میں نسلی بنیادوں پر علیحدگی کے خاتمے سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اسی دوران 19 سینیٹروں اور ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی)کے 81 ارکان نے ایک مشترکہ خط میں علیحدگی کے خاتمے کی مخالفت کی۔ اس خط میں جو 'منشورِ جنوب' کے نام سے مشہور ہوا، یہ موقف اختیار کیا گیا کہ تعلیم کا انتظام و انصرام ریاستوں کی ذمہ داری ہے اور وفاق کی مداخلت سے ریاستی خود مختاری متاثر ہورہی ہے۔ خط میں انتظامیہ کو متنبہ کیا گیا کہ اسکولوں میں جداگانہ کلاس ختم کرنے سے سیاہ و سفید کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا، اسلئے کہ  دونوں فریق 'اِدھر تم اور اُدھر ہم ' کے اصول پر اپنی اپنی جگہ خوش ہیں۔

شہر میں کشیدگی کے پیش نظر گورنر نے سنٹرل ہائی اسکول پر آرکنسا نیشنل گارڈ (ریاستی نیم فوجی دستے) تعینات کردئے۔ نیشنل گارڈ کو سیاہ فام بچوں کے تحفظ کیلئے لایا گیا تھا لیکن پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ان سپاہیوں نے خود ہی سیاہ فام طلبہ کو اسکول میں داخلے سے روک دیا یعنی جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔

دوسری طرف واپس جاتے ان بچوں کو گوروں نے گھیر لیا اور تحقیر آمیز نعرے لگائے۔ ایک سیاہ فام طالبہ کو ہجوم نے طمانچے مارے۔ اس صورتحال کا عدلیہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئےاٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈال کر ریاستی نیشنل گارڈ بحیثیت ادارہ توہین عدالت کا مرتکب ہوا ہے چنانچہ اس پر مقدمہ قائم کیا جائے۔

دوہفتے بعد جب یہ سیاہ فام طلبہ دوبارہ اسکول آئے تو ہزاروں افراد نے انکے خلاف مظاہرہ کیا اور کئی بچے تشدد کا نشانہ بنے تاہم یہ تمام کے تمام نو طلبہ اسکول داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔اس دوران سارا شہر وہاں امڈ آیا اور اسکول کا گھیراو کرلیا۔ مظاہرین کو مقامی پولیس کی حمائت حاصل تھی۔صورتحال اتنی خراب ہوگئی کہ صدرآئزن ہاور نے ان طلبہ کے حفاطت کیلئے وفاقی فوج بھیج دی۔ ان  9 طلبہ کی حفاظت کیلئے اسکول کے اندر اور باہر 350 مسلح فوجی تعینات کئے گئے جبکہ فوجی ہیلی کاپٹر اسکول کی فضا میں پرواز  کررہےتھے۔ سبق کے دوران کمرہِ جماعت کے باہر یہ فوجی پہرہ دیتے اور سیاہ فام طلبہ فوجیوں کی حفاظت ہی میں ایک کلاس سے دوسری کلاس تک جاتے۔ اسی طرح باتھ روم جاتے وقت بھی انھیں حفاظت فراہم کی جاتی۔

پورے تعلیمی سال کے دوران مسلح فوجی اسکول میں تعنیات رہے۔ جیسے اقبال کا مردِ مومن تلوار کی چھاوں میں کلمہ پڑھتا تھا ویسے ہی یہ سیاہ فام طلبہ بندوقوں کے سائے میں تعلیم حاصل کرتے رہے، لیکن مسلح سپاہیوں کی موجودگی میں بھی ان بچوں کو مسلسل ہراساں کیا جاتا رہا، اس دوران اشتعال انگیز جملوں کا ترکی بہ ترکی جواب دینے کی پاداش میں ایک سیاہ فام طاب علم کو اسکول سے نکال دیا گیا۔ باقی طلبہ بھی تعلیم مکمل نہ کرسکے اور نفرت و حقارت کا پامردی سے مقابلہ کرکے صرف ایک نوجوان نے مئی 1958 میں ہائی اسکول کی سند حاصل کی۔ معلوم نہیں یہ اشتعال تھا یا جنجھلاہٹ کہ اسی سال گورنر صاحب نے لٹل راک ہائی اسکول کو بند کردیاکہ نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا جداگانہ تعلیم 1970 تک امریکہ کی کئی ریاستوں میں جاری رہی۔

رنگداروں کے خلاف تعصب اور بدسلوکی کے اس واقعہ کے تفصیلی ذکر سے قارئین کو افریقی امریکی تعلیمی اداروں کیخلاف حالیہ مہم کا پس منظر سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

افریقی امریکیوں نے غلامی ختم ہوتے ہی اپنے بچوں کیلئے جامعات قائم کرنی شروع کردیں۔ سیاہ ووٹ کے تعقب میں ڈیموکریٹک صدور نے بھی سرکاری خرچ پر ایسی جامعات کی بنیاد رکھی۔ اعلیٰ تعلیم کے یہ ادارے Historically Black Colleges and Universitiesیا HBCUsکہلاتے ہیں۔

اس سال چار جنوری کو جامعہ ایگزاوئیر (Xavier University) کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ سیاہ فام طلبہ کی اعلی تعلیم کا یہ ادارہ ریاست لوزیانہ کے عرو س البلاد نیواورلینز (New Orleans)میں 1925 سے کام کررہا ہے۔ ابھی قانون نافذ کرنے والے ادارےجامعہ ایگزاوئیر کو دی جانیوالی دھمکی کی تحقیقات کر ہی رہے تھے کہ فروری کی پہلی تاریخ کوسیاہ فام طلبہ کے سب سے بڑے ادارے جامعہ ہاورڈ (Howard University)کو نامعلوم افرادکی جانب سے دھمکی موصول ہوگئی جس میں کہا گیا تھا کہ اسکی کئی عمارتوں میں تباہ کن بم نصب کردئے ہیں۔ خیال رہے کہ ہاو رڈ اور ہارورڈ (Harvard)  دو مختلف ادارے ہیں۔ رنگداروں کی ہاورڈ یونیورسٹی دارالحکومت واشنگٹن میں جبکہ روسااور اشرافیہ کی ہارورڈ، ریاست میسیچیوسٹس میں ہے۔

جامعہ ہاورڈ 1867 میں قائم کی گئی۔ نائب صدر شریمتی کملا دیوی ہیرس اور امریکی سپریم کورٹ کے پہلے سیاہ فام جج آنجہانی تھرگوڈمارشل اسی جامعہ کے فارغ التحصیل ہیں۔ جسٹس تھرگوڈ مارشل سے یاد آیا کہ جب  1967 میں انھیں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر جانسن نے سپریم کورٹ کا جج نامزد کیا تو سینیٹ سے توثیق کے دوران قائدایوان مائک منسفیلڈ اور  قائد حزب اختلاف ایورٹ ڈرکسن نے ووٹ ڈالنے سے اجتناب کیا۔ غیر جانبدار رہنے والے سینٹروں کی تعداد 20 تھی۔

ہاورڈ کیساتھ ہی لوزیانہ کے دارالحکومت بیٹن روج کی سدرن یونیورسٹی، فلورڈا کی بتھونی کوک مین یونیورسٹی (Bethune-Cookman University)، سٹیٹ یونیورسٹی میری لینڈ ، آلبنی سٹیٹ یونیورسٹی جارجیا اور صدر بائیڈن کی آبائی ریاست کی ڈیلیوئر سٹیٹ یونیورسٹی (Delaware State University)کو بھی اسی نوعیت کی دھمکیاں ملیں۔ امریکی نشریاتی ادارے NBCکے مطابق ایک درجن سے زیادہ  HCBU’sکو سلسلہ تعلیم جاری رکھنے کی صورت میں سنگین نتائج سے ڈرایاگیا ہے۔ خطرے کے پیش نظر نہ صرف ان اداروں میں درس و تدریس کا سلسلہ معطل کردیا گیا بلکہ ہاسٹل کے طلبہ کو بھی اپنے کمروں تک محدود رہنے کی ہدائت دیدی گئی۔ یہ تعطل بعض جامعات میں تین دن سے زیادہ جاری رہا جسکے نتیجے میں طلبہ اور اساتذہ میں شدید خوف پھیل گیا۔ اگرچہ کہ تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد اب صورتحال معمول پر آچکی ہے لیکن خوف و ہراس کی فضا اب بھی قائم ہے۔اب تک اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

یہ دھمکی اسوقت دی گئی ہے جب امریکی سیاہ فام، بلیک ہسٹری منتھ Black History Monthمنارہے ہیں۔ اس ضمن میں ہم ایک تفصیلی مضمون گزشتہ ہفتے قارئین کی نذر کرچکے ہیں۔ ان دھمکیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے رکن کانگریس محترمہ کوری بش نے کہا کہ نسل پرستوں کو چاہئے کہ وہ اس ماہ کے دوران ہونے والی تقریبات سے فائدہ اٹھا کر سیاہ فاموں کی تاریخ کا مطالعہ کریں جس سے انھیں اندازہ ہوجائیگا کہ

وہ اور ہی ہونگے کم ہمت جو ظلم و تشدد سہہ نہ سکے

شمشیرو سنا کہ دھارے پر روداد صداقت کہہ نہ سکے

جس بات سے تم نے روکا تھا اور دار پہ ہم کو کھینچا تھا

مرنے پہ ہماری عام ہوئی گو جیتے جی ہم کہہ نہ سکے

ہم نے کوری بش کے بیان کی بامحاورہ  ترجمانی کیلئے جناب الطاف حسین قریشی کے کلام کا سہارالیا ہے۔ قریشی صاحب نے  مولانامودودی مرحوم کی سزائے موت کی خبر سن کر یہ اشعار غالباً 1953 میں کہے تھے۔ جن اداروں کو دھمکی دی گئی ہے ان میں کوری بش کی مادر علمی ہیرس اسٹو اسٹیٹ یونیورسٹی بھی شامل ہے۔ ریاست مزوری کے شہر سینٹ لوئیس میں سیاہ فاموں کی یہ جامعہ 1857 میں سرکاری خرچ پر قائم ہوئی تھی۔

یہ تمام دھمکیاں کھوکھلی ثابت ہوئیں اور کسی جگہ سے بھی کوئی مشتبہ مواد نہیں۔ ڈرانے دھمکانے کی یہ منظم مہم رنگداروں کیخلاف نفرت کی حالیہ مہم کا تسلسل محسوس ہورہا ہے۔ رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق 2021 کے دوران  یہاں نفرت پر مبنی جرائم میں 164 فیصد اضافہ ہوا ہے جسکا نشانہ سیاہ فام، ہسپانوی اور ایشیائی افراد ہیں۔

نسل پرستی کے حوالے سے جامعہ ہارورڈ اور اشرافیہ کی دوسری جامعات میں داخلہ دیتے وقت ایشیائی طلبہ کو دیوار سے لگانے  کا انکشاف بھی ہواہے ۔حال ہی میں(SFFA) Students for Fair Admissionsکے نام سے منظم ہونے والے طلبہ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹادیا۔طلبہ کو موقف ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی حیلوں بہانوں سے ایشیائی امریکیوں کی تعداد کو کم رکھ رہی ہے جسکا مقصد جامعہ میں ایک مخصوص (سفید) نسل کی اکثریت کو یقینی بنانا ہے۔عدالت نے SFFAکے موقف سے اتفاق نہیں کیا۔ وفاقی جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ہارورڈ میں داخلوں کا طریقہ 'بالکل' درست تونہیں ہے، لیکن کسی قسم کے نسلی امتیاز کا ثبوت نہیں ملا۔ شنید ہے کہ SFFAجج کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کررہی ہے۔

اس قانونی جنگ کا منفی پہلو یہ ہے بادی النظر میں یہ ایشیائی اور سیاہ فام طلبہ کا تنازعہ نظر آرہا ہے۔ سماعت کے دورانSFFAکے وکلا نے کہاکہ داخلوں کے معاملے میں ایشیائی امریکیوں کے لیے معیار اونچا رکھا گیا اور ایسے سیاہ فام اور ہسپانوی طالبعلموں کو فوقیت دی گئی جنکی تعلیمی کارکردگی کمتر تھی۔ دلیل کے طور پر SFFAنے ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک رپورٹ پیش کی جو 2013  میں جاری کی گئی تھی۔ اس دستاویز کے مطابق کی اگر میرٹ کی بنیاد پر درخواستوں کا جائزہ لیا جاتا تو نئے آنے والے43 فیصد طلبا ایشیائی نژاد ہوتے جب کہ حقیقتاً ان کا تناسب صرف 19 فیصد تھا۔ صفائی پیش کرتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی نے اس رپورٹ کو نامکمل اعداد و شمار پر مبنی قرار دیا ہے۔

سیاہ فام طلبہ اس قانونی جنگ میں غیرجانبدار ہیں۔ رنگداروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم NAACPکا کہنا ہے کہ تعصب تمام  رنگداروں کے خلاف برتا جارہا ہے، چاہے وہ افریقی نژاد ہوں، ہسپانوی یا ایشیائی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 فروری 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 فروری 2022

روزنامہ امت کراچی 11 فروری 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 فروری 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


 

Thursday, February 3, 2022

امریکی سیاہ فام۔۔ تحریکِ اسلامی کا ہراول دستہ

فروری کا مہینہ امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک میں Black History Monthکے طور پر منایا جاتا ہے۔ امریکی مسلمانوں کیلئے سیاہ فام امریکیوں کی تاریخ دراصل شمالی امریکہ کی اسلامی تاریخ ہے۔ نئی دنیا کی طرف پہلا مسلمان کب آیا، اس کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے۔

مورخین کے مطابق امریکہ میں افریقیوں کی آمد کا آغاز1619 میں ہوا جب افریقہ کے ساحلوں سے لاکھوں کی تعداد میں افریقیوں کو پکڑ کر یہاں لایا گیا۔ کچھ مسلم محققین کا کہنا ہے کہ سیاہ فام غلاموں کی امریکہ آمد کا سلسلہ 1555میں شروع ہوا جب سیرالیون سے پکڑے ہوئے غلام امریکہ میں فروخت کئے گئے۔ اس صدی آغاز پر ممتاز امریکی مورخ ڈاکٹر کمبیز غنی بصیری (Kambiz Ghanea Bassiri)نے دعویٰ کیا کہ افریقی غلاموں کے علاوہ مسلم تاجر اور مبلغین بھی شمالی امریکہ آئے تھے۔ ڈاکٹر بصیری امریکی ریاست اوریگن کے رییڈ (Reed)کالج میں علم المذاہب کے استاد ہیں اور انھوں نے اس موضوع پر  A History of Islam in Americaکے عنوان سے ایک کتاب بھی تصنیف کی ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے مطابق انیسویں صدی کے اختتام پر مارکیٹ اینڈ فلٹن بینک نیویارک کے منیجر رابرٹ بیلز نے جب اپنے وراثتی تبرکات کا جائزہ لیا تو انھیں کانسی کا ایک منقش طشت، قرآن کریم کا نسخہ  اور تام چینی کی ایک چائے دانی ملی۔ یہ انکے خاندان کے کسی بزرگ کا اثاثہ تھا جنکا نام مردم شماری کی دستاویزات میں انتھونی جینسن ون سیلے (Anthony Jansen Van Salle)درج تھا جبکہ عرفیت یا also known as (AKA)کے کالم میں van Vaesلکھا تھا۔ 'Salle' دراصل شمالی مراکش  کے مشہور تہذیبی مرکز فاس (Fez)کا بربر تلفظ ہے۔ فتح ہسپانیہ کے وقت سے ترکوں کو مور (زندیق بدمذہب ) اور حقارت  سے واعظ یا Vaes کہا جاتا تھا۔ اس دور میں صلیبیوں کیلئے ہر مسلمان 'ترک' تھا جیسے آج کے امریکی نسل پرستوں کے نزدیک  ہر ہسپانوی میکسیکن Mexicanہے۔

رابرٹ بیلز کے وراثتی نودارات و اثاثاجات اور انکے بزرگ انتھونی کے نام اور عرفیت کی یہ تشریح کی گئی کہ مرحوم کا تعلق مراکش کے شہر فاس سے تھا۔ مسلمان ہونے بنا کی پر وہ 'ترک اور 'واعظ' انتھونی' کہلائے اور  آبائی شہر کی مناسبت سے کنیت  کے طور انکا نام انتھونی سیلے نقل کیا گیا۔ یہ صاحب ڈچ ویسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ 1630 میں نیویارک کے ساحل پر اترے۔ یہ قافلہ چونکہ ایمسٹرڈم سے آیا تھا اسلئے ابتدا میں اس قصبے کا نام نیوایمسٹرڈم رکھاگیا جو بعد میں نیویارک ہوگیا۔انتھونی صاحب کی چار صاحبزادیوں میں سب سے چھوٹی کا نام حوا تھا اور خیال ہے کہ حوا صاحبہ بینک منیجر رابرٹ بیلز کی جد امجد تھیں۔ مردم شماری کے پرانے رجسٹروں کے جائزے سے انتھونی صاحب کے بھائی ابراہیم کی نشاندہی بھی ہوتی اور ابراہیم کی کنیت بھی van salleیا 'ترک' بیان کی گئی ہے اور خیال ہے کہ وہ انتھونی سے پہلے نیویارک آئے تھے۔اس تحقیق کے ذکر کا مقصد یہ بتانا ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ صرف غلاموں کی شکل میں نہیں ہوا بلکہ تاجروں  اور  یورپی قبضہ گردوں کیساتھ شمالی امریکہ آنے والوں میں بھی  مسلمان شامل تھے تاہم یہ تعداد بے حد کم ہے اور امریکہ کے ابتدائی مسلمانوں کی غالب اکثریت غلاموں پر مشتمل تھی۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ جناب بصیری نے اپنی گرانقدر کتاب میں احمدیہ یا قادیانی تحریک کی تبلیغی مہمات کیساتھ عالیجاہ محمد کو نبی اور (سیاہ فام) مسیح موعود ماننے والے مورش سائنس مندر کا ذکر بھی امریکہ کی اسلامی تحریکوں کے طور پر کیا ہے چنانچہ کتاب سے استفادہ کرتے ہوئے احتیاط لازم ہے۔     

افریقہ کے ساحلوں سے پکڑے ہوئے غلام 'گلوں' کی صورت میں پہلے ہالینڈ کی بندرگاہوں پر پہنچائے جاتے جہاں سے بحر اوقیانوس کے راستے انھیں امریکہ لایا جاتا تھا۔ اسی بنا پریہ گھناونا کاروبار Atlantic Slave Tradeکہلاتا تھا۔ افریقہ سے براہ راست امریکہ آنے والا غلاموں سے لدا پہلا جہاز 1619 میں ورجنیا میں لنگر انداز ہوا۔ اسکے بعد سے 'افریقیوں کا شکار' ایک قومی کھیل بن گیا۔ غلاموں کی تجارت اور ہلاکوو تیمور جیسے غارتگروں کے ہاتھوں مفتوحہ آبادیوں کو غلام بنانے کی مثالیں موجود ہیں مگر یہاں طریقہ وارادت بالکل ہی انوکھی تھی کہ جہاز ساحل پر لنگرانداز ہوتے اور نہتی بستیوں کو منہہ اندھیرے گھیرکر عورتوں بچوں سمیت سارےلوگ ہانک کر جہاز پر لاد دئے جاتے۔ دوران سفر مردوں اور عورتوں کو علیحدہ کرکے یہ  قزاق کمسن بچیاں آپس میں تقسیم کرلیتے اور پھر انکے  درمیان'کثرت اولاد' کا مقابلہ ہوتا تاکہ غلاموں کی نئی کھیپ حاصل کی جائے۔  

1898 تک ایک کروڑ افریقی غلام بناکر امر یکہ لائے گئے۔ سفر کے دوران تشدد، بیماری اور دم گھٹنے سے 20لاکھ سے زیادہ غلام ہلاک ہوگئے جبکہ 'گڑبڑ' کرنے والے بہت سے سرکش غلاموں کو انکے پیروں میں وزن باندھ کر سمندر میں پھینک دیا گیا۔ زیادہ تر غلام بحر احمر اور افریقہ کے مغربی اور وسطی ساحلوں سے پکڑے گئے۔ ان غلاموں کی نصف تعداد نائیجیریا کے علاقے بیافرا، گبون اور سیرالیون کے باشندوں پر مشتمل تھی۔اسکے علاوہ سینیگال، لائیبیریا، کانگو اور گھانا کے لوگ بھی پکڑے گئے۔ بحراحمر سے آنے والے قزاقوں نے سوڈانیوں اور حبشیوں کا شکار کیا۔ عمدہ خدوخال کی بنا پر حبشی بچیاں ان اوباشوں کو بہت محبوب تھیں۔ پکڑے جانے والے افریقی غلاموں کی ایک تہائی تعداد مسلمانوں پر مشتمل تھی۔

ان غلاموں کی فروخت کیلئے ورجنیا، شمالی کیرولینا۔ جنوبی کیرولینا اور جارجیا میں غلاموں کی منڈیاں قائم کی گئیں۔ اسوقت امریکہ بحراوقیانوس کے ساحل پر واقع ان 13 کالونیوں پر مشتمل تھا جنھوں نےبرطانیہ سے آزادی کا اعلان کردیا تھا۔ 1776 میں انھیں 13 کالونیوں نے ریاستوں کی شکل اختیار کرکے ریاست ہائے متحدہ امریکہ یا USAکی شکل اختیار کرلی ۔امریکہ کے پرچم پر  13 سرخ و سفید پٹیاں انھیں ابتدائی ریاستوں کو ظاہر کرتی ہیں۔1625 میں ان کالونیوں کی مجموعی آبادی 1980 نفوس پر مشتمل تھی جبکہ 1660 تک غلاموں کی تعداد 2000 سے زیادہ ہوگئی یعنی عددی اعتبار سے غلام مالکوں سے زیادہ تھے جنھیں قابو میں رکھنے کیلئے بدترین ہتھکنڈے اور ظلم کے ضابطے وضع کئے گئے۔ سرکشی کی فوری سزا پھانسی تھی اور یہ سزا اس شدت و کثرت سے دی جاتی تھی کہ پھندے کی تیاری کیلئے رسی کی فروخت ایک نفع بخش کاروبار بن گیا۔ جلادی کا کام 'مجرم' کے خونی رشتے دار سے لیا جاتا تھا یعنی بھائی اپنے بھائی کو یا باپ اپنے بیٹے کو پھندہ لگاتا۔ اس دور میں get the ropeیعنی (پھانسی کیلئے) رسی لاو دھمکی کا استعارہ تھا جو اب بھی یہاں ضرب المثل ہے۔ پھانسی کے علاوہ بورے میں بند کرکے ڈنڈوں کی ضربات سے  مارڈالنا، خنجر بھونک کر ہلاک کرنا،  زندہ جلانا، غلامو ں کوتیزاب کے ڈرم میں ڈال دینا اور پیروں میں وزن باندھ کر دریابرد کردینا بھی اس دور کی عام سزا تھی۔ بس یوں سمجھئے کہ افریقہ سے پکڑکر امریکہ لائے جانیوالے غلاموں پر جو مظالم توڑے گئے اسکا ذکر کرتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

پکڑے جانیوالے مسلمانوں نے امریکہ اترتے ہی دعوت و تبلیغ کا آغازکردیا۔ ان غلاموں کی اکثریت نسبتاً تعلیمیافتہ تھی چنانچہ 1898 میں 'کوکب امریکہ' کے نام سے ایک عربی اخبار کا اجرا ہوا۔ کوکب کو امریکہ کا ایک قدیم اخبار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں کاقدیم ترین اخبار  نیویارک ٹائمز ہے جسکی اشاعت کا آغاز 1851 میں ہوا۔کچھ عرصہ بعد پولینڈ، روس اور مشرقی یورپ سے تاتاروں کی آمد شروع ہوئی جنکے آنے سے سیاہ فام لوگوں کو تقویت ملی اور امریکن محمڈن سوسائیٹی کا قیام عمل میں آیاجو امریکی مسلمانوں کی پہلی انجمن تھی۔ امریکہ کی سیاہ فام آبادی نے بلاامتیاز مذہب نئے آنے والوں کا کھلی بانہوں سے استقبال کیا۔

تارکین وطن کی اکثریت انجنیروں اور کاریگروں پر مشتمل تھی چنانچہ مقامی مسلمانوں کے مشورے پر ان لوگوں کی بڑی تعداد نے مشیگن کے شہر ڈیٹرائٹ کا رخ کیا جہاں اسوقت کار کی صنعت اپنے عروج پر تھی۔ ڈیٹرائٹ کی آبادکاری میں مسلم تارکین وطن کا بہت بڑا حصہ ہے۔1934 میں ایک عرب نژاد سیاہ فام مسلمان والس فرد محمد نے Lost-Found  Nation of Islamکی بنیاد رکھی جو بعد میں نیشن آف اسلام بن گئی۔ جنگ عظیم دوم کے آغاز پر لازمی لام بندی کا حکم جاری ہوا جسکی نیشن آف اسلام نے مخالفت کی۔ انکا موقف تھا کہ اسلام نسل، قومیت اور رنگ کی بنیاد پر جنگ کو فساد قراردیتا ہے لہٰذا مسلمان اس جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اس فیصلے سے کشیدگی کا آغاز ہوا اور نیشن آف اسلام کے سربراہ عالیجاہ محمد ساتھیوں سمیت گرفتار کرلئے گئے۔جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا عالیجاہ محمد اپنے پیرووں اور نیشن آف اسلام کے خیال میں سیاہ فام مسیح موعود  تھے۔تاہم عالیجاہ محمد کے صاحبزادے امام وارث دین محمد (رح) نے توحید اور ختم نبوت کے بارے میں خیالات کو درست کرلیا۔

اسلامی تحریک کے عظیم رہنما مالکم ایکس  (الحاج ملک الشہباز) کی قیادت میں 1950کی شہری آزادیوں کی ملک گیر تحریک امریکی تاریخ کا ایک انقلابی موڑ ثابت ہوئی۔ مالکم ایکس نے ظلم و زیادتی کے خاتمے اور انصاف و برابری کی جدوجہد کو فریضہ اقامت دین کاجزو قراردیتے ہوئے مسیحیوں کی طرف دستِ تعاون بڑھایا۔ساوتھ کرسچین لیڈر شپ کانفرنس SCLCنے مسلمانوں کی دعوت پر لبیک کہا اور امریکہ کے جمہویت پسندوں کو ایک دبنگ پلیٹ فارم میسر آگیا۔

مالکم ایکس اور ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ شہری آزادیوں، برابری کے حقوق، انصاف اور آزادی کی علامت  بن گئے اور جلد ہی سیاہ فام، خواتین اور دوسری لسانی و ثقافتی اقلیتوں کو ووٹ کا حق مل گیا۔ اسکولوں، کالجوں، پارکوں اور تفریح گاہوں کی سیاہ و سفید بنیادوں پر تقسیم ختم ہوگئی اور امریکہ حقیقی معنوں میں ONE NATION UNDER GODقرار پایا۔ سیاہ فام امریکیوں کی جدوجہد سے 1965 میں امیگریشن اور قومیت ایکٹ یا Immigration and Nationality Actمنظور ہوا جس کے تحت یوروپی ممالک کے ساتھ ساری دنیا کے لوگوں کیلئے امریکہ کے دروازے کھولدئے گئے۔اس سے پہلے امیگریشن (گرین کارڈ) کیلئے یورپی باشندوں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ 

سیاہ فام تاریخ امریکہ کا فخروافتخار ہے یہ دراصل امریکہ کی اسلامی تاریخ ہے کہ جسکا ہر پہلو باوقار اور بے مثال جدوجہد کا مظہر ہے۔جہموریت، غلامی کے خاتمے، آزادی، یکساں حقوق، اور سماجی انصاف کیلئے افریقی نژاد امریکیوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔مالکم ایکس، ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ، محمد علی کلے وغیرہ اس قافلہ سخت جان کے وہ پھول ہیں جنکی یاد سےشاہراہ آزادی  اب تک معطر  ہے۔امریکہ کے انصاف پسند سفید فام بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ کی ثروت و طاقت، جاہ و جلال اور ترقی و خوشحالی سب کی سب غلاموں، افریقی نژاد امریکیوں اور تارکینِ وطن کی محنت کا نتیجہ ہے۔

امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کے ساتھ جو سلوک ہوا اسکا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ان مظالم کو تاریخ کے صفحات پر جگہ نہیں دی گئی اور امریکی بچوں کے نصاب میں اسکا کوئی ذکر نہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن کانگریس (پارلیمان) جان کانیرز John Conyersنے 1989 میں افریقی امریکیوں کیلئے تلافی کمیشن ایکٹ یا Commission to Study Reparation Proposals for African-Americans Actکے عنوان سے ایک مسودہ قانون ایوان زیریں سے پیش کیا تھا۔ بل کے ابتدائئے میں اسکا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ 1619 سے 1865 کے دوران 13 امریکی ریاستوں (ابتدائی اکائیاں جنھوں نے USAی بنیاد رکھی) میں سیاہ فام لوگوں کو غلام بناکر رکھا گیا، ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور یہ پوری نسل بدترین ناانصافی کاشکار ہوئی۔ ان جرائم کی تحقیق کیلئے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو غلام بناکر امریکہ لائے جانیوالے افریقیوں کے نقصانات کا اندازہ لگائے۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آزاد انسانوں کی نفسیات پر غلامی کی ذلت نے کیا منفی اثر ڈالا ہے؟ غلامی ختم ہونے کے بعد بھی سیاہ فام بدترین نسلی تعصب اور حقارت کا نشانہ بنائے گئے جسکے اثرات اج تک نمایاں ہیں۔ یہ کمیشن ناانصافیوں اور سیاہ فام لوگوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے اور اسکی تلاقی کیئے اقدامات تجویز کرے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ افریقیوں کا غلام بنانے کے ذمہ دار صرف وہ قزاق نہیں جنھوں نے افریقیوں کو انکے گھروں سے پکڑا بلکہ ملک میں قائم غلام منڈیوں کو امریکی حکومت کا تحٖفظ حاصل تھا اور غلاموں کی خرید و فروخت کے بعد انکا انتقالِ ملکیت سرکاری دستاویز پر ہوتا تھا چنانچہ اس بدترین ظلم کی ذمہ داری براہ راست امریکی کانگریس اور حکومت پر  عائد ہوتی ہے۔

مسٹر کونئرز کی قرارداد کو سپیکر جم رائٹ نے منظور کرکے بل کی شکل میں HR-40کی حیثیت سے درج کرلیا۔ اسوقت سے یہ بل مجلس قائمہ برائے انصاف کی سماجی انصاف ذیلی کمیٹی کے پاس ہے لیکن  اسے سماعت کیلئے پیش نہیں کیا گیا بحث اور رائے شماری تو دور کی بات ہے۔ہر دوسال بعدبار یہ قراداد کانگریس کی مدت ختم ہوجانے پر غیر موثر ہوجاتی ہےْ تاہم جناب کانئیرز بھی بہت مستقل مزاجی کے ساتھ اسے ہر نئی کانگریس میں اسے پیش کرتے رہے۔ جنسی اسکینڈل میں ملوث ہوجانے کی بناپر موصوف دسمبر 2017میں ایوان سے مستعفی ہوگئے۔ کانگریس سے سبکدوشی کے بعد بھی وہ اس بل کیلئے تحریک چلاتے رہے حتیٰ کہ 27 دسمبر 2019 کو جناب کونئیر 90 برس کی عمر میں انتقال کرگئے، یعنی بِل کا مجوز اسے ایوان میں پیش کرنے کی فریاد کرتےکرتے مستعفی ہوا اور دنیا سے چلا گیا لیکن  30 سال گزرنے کے بعد بھی HR-40کوایوان میں پیش کرنے کی نوبت نہ آئی۔

میں نے یہ کب کہا ہے مرے حق میں ہو جواب ۔ لیکن خموش کیوں ہے کوئی فیصلہ تو دے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 4 فروری 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 4 فروری 2022

روزنامہ امت کراچی 4 فروری 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 فروری


2022