Thursday, September 1, 2022

چین کے ویغور مسلمان ۔۔ انسانیت سوز برتاوکا شکار

 

چین کے ویغور  مسلمان ۔۔ انسانیت سوز برتاوکا شکار

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی ہائی کمشنر کی  رپورٹ

آج اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر محترمہ  مِشل بیچلیٹ نے  سنکیانک کے بارے میں پورٹ جاری کر دی،  جس  کے  مطابق چینی صوبے سنکیانگ (مقامی تلفظ شنجاک)  میں  ویغور مسلمانوں سے جو سلوک ہورہا ہے اسےانسانیت کے خلاف جرائم سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

مِشل بیچلیٹ  کہتی ہیں

  • سنکیانگ میں ویغور اقلیت کے خلاف  2017 سے 2019 کے درمیان چینی حکومت نے پکڑ دھکڑ شروع کی تھی جس کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مہم کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے ہمیں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ بین الاقوامی قانون کے تحت خدشات کو جنم دیتی ہیں۔
  • سنکیانگ میں انفرادی اور اجتماعی حقوق سلب کرلئے گئے ہیں
  • سنکیانگ کے 10 لاکھ ویغور افراد کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا ہے
  • ویغوروں اور قازق مسلمانوں سے ہونے والی بدسلوکی میں  تشدد، جبری نس بندی، جنسی استحصال اور ماں باپ سے بچوں کی علیحدگی شامل ہے
  • ویغوروں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کی جاتی ہے جسکا مقصد ویغور شناخت کو تباہ کرنا ہے۔

رپورٹ پر تبصرہ کرتےہوئے  ’ہیومن رائٹس واچ چائنا‘ کی ڈائریکٹر سوفی رچرڈسن نے کہاکہ اس رپورٹ سے چین کی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کا پتہ چلتا ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کو اس رپورٹ کو ایغور اقلیت سمیت دیگر افراد کو نشانہ بنا نے والی چین کی حکومت کے انسانیت کے خلاف جرائم کی جامع تحقیقات  کرکے  ذمہ دار افراد کو جواب دہ ٹھہرانا چاہیے۔

 دوسری طرف چین نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں چین کے مندوب ژانگ   جن   (Zhang Jun)نے کہا  کہ سنکیانگ کے من گھڑت مسئلے کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں، جن کا مقصد چین کے استحکام کو نقصان پہنچانا اور اس کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ چینی مندوب نے اپنی حکومت کا یہ موقف دہرایا کہ امریکہ جنھیں حراستی کمپاؤنڈ قرار دے رہا ہے وہ دراصل پیشہ ورانہ تعلیم کے مراکز ہیں، جنکا مقصد وہاں زیر تربیت لوگوں کے انتہا پسندانہ نظریات کی درستگی اور دہشت گردی کا انسداد کرنا ہے۔

چین سے اچھے تعلقات کی توقع پر مسلمان ممالک ویغوروں کی حالتِ زار پر گفتگو نہیں کرتے۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی 57 اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں نہ صرف اس مسئلے   نظر انداز  کیا گیا بلکہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اس اعلیٰ سطحی کانفرنس میں بطور خاص شرکت کی، مارچ میں ہونے والی اس کانفرنس کا افتتاح سابق وزیراعظم عمران خان نے کیا تھا اور کپتان نے اس موضوع پر گفتگو سے گریز کیا۔

ویغوروں کی کسی حد تک حمائت ترکی کررہاہے۔ اسلام آباد وزرائے خارجہ کانفرنس میں بھی صرف ترک وزیر خارجہ میلوت چاوش اوغلو نے اس مسئلے کو اٹھایا۔

 گزشتہ ماہ چین ترک (سمعی و بصری) پارلیمانی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کے اسپیکر مصطفےٰ شینتوپ نے کہا چین سے دوستی اور تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں لیکن ویغوروں کے معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ ترک رہنما کا کہنا تھاکہ  ویغوروں سے ہمارا گہرا سماجی، اخلاقی اور دینی تعلق ہے جسے کسی بھی صورت پسِ پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ ترکیہ چین سے سیاسی و تجارتی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے لیکن ویغوروں کے معاملے میں ہمارا موقف بہت دوٹوک واضح اور مبنی بر انصاف ہے

مصطفےٰ صاحب کی تقریر کے بعد چینی وفد کے قائد نیشنل پیپز کانگریس (قومی اسمبلی) کے سربراہ لی زانشو (Li Zhanshu) نے کہا کہ ترک چین تعلقات کی بنیاد صاف گوئی، بے تکلفی شفافیت اور باہمی احترام پر ہے ۔ہم ہر معاملے پر اپنے ترک دوستوں سے رابطے میں ہیں۔ چین انسانی حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اس حوالے سے ہمارے پاس چھپانے کیلئے کچھ بھی نہیں۔


آ۔

ڈانلڈٹرمپ کے گھر پر امریکہ کی خفیہ دستاویزت کا انبار

 

ڈانلڈٹرمپ  کے گھر پر امریکہ کی خفیہ دستاویزت کا انبار

جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی، انصاف کی راہ میں رکاوٹ اور اہم دستاویزات کو سنبھالنے میں مجرمانہ غفلت

سابق امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ ایک غیر روائتی سیاستدان اور ہر اعتبار سے مختلف امریکی صدر تھے۔ حساس قومی معلومات اور دستاویزات کے معاملے میں ٹرمپ صاحب کا رویہ بہت ہی عجیب سا تھا۔ انکے سابق  مشیرِ قومی سلامتی جان بولٹن کا کہنا ہے کہ 'ڈانلڈ ٹرمپ حساس معلومات کو محفوظ رکھنے میں بہت سست اور غیر ذمہ دار تھے اور ہم اس حوالے سے مسلسل پریشان رہتے تھے'۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ صدر ٹرمپ نے تقرر کے صرف ایک سال بعد جناب بولٹن  پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے  انھیں سبکدوش کردیاتھا اور انکی برطرفی کا اعلان صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ سے کیا جو دراصل بصد سامانِ رسوائی کامظہر تھا ۔اس اعتبار سے جناب بولٹن کے بیان کو ذاتی مخاصمت کا شاخسانہ قراردیا جاسکتا ہے۔

اپنی مدتِ اقتدار کی تکمیل کے بعد سے جناب ڈانلڈ ٹرمپ بہت سی تحقیقات بھگت رہے ہیں۔ ان پر  امریکی صدارتی انتخاب کے  لئے کلیہ انتخاب (Electoral College)کے ووٹوں کی گنتی کے دوران امریکی مقننہہ پر حملے کی منصوبہ بندی، سرپرستی اور 'بغاوت' کی حوصلہ افزائی کا الزام ہے۔

صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ریاست جارجیا کے سکریٹری آف اسٹیٹ (ریاستی وزیر اعلیٰ) پر دباو ڈالا کہ جارجیا کے  نتائج کوتبدیل کرکے سابق صدر کی برتری ظاہر کی جائے۔ اس ضمن میں انکی فون گفتگو کا پورا ریکارڈ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے پاس موجود ہے۔ امریکی قانون کے تحت انتخابی نتائج سے 'چھیڑ چھاڑ' ایک سنگین جرم ہے جسکی تحقیقات جاری ہیں۔

 سابق صدر پر انکی نیویارک میں واقع جائیداد کی قیمت کم ظاہر کرنے اور  ریاستی ٹیکس  بچانے کیلئے غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام بھی ہے۔ جناب  ٹرمپ کو نیویارک کی اٹارنی جنرل محترمہ لٹیٹاجیمز نے  اصالتاً طلب کیا۔ دس اگست کو پیشی کے دوران سابق صدر نے امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کا سہارا لیکر مکمل خاموشی اختیار کی۔ اس ترمیم کے تحت تحقیقات کے دوران ملزم کو سوال و جواب کے دوران خاموش رہنے کی اجازت ہے اسلئے کہ ادا کیا ہوا ہر جملہ ملزم کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے چنانچہ ملزمان تحقیقاتی افسر سے انفرادی ملاقات کے دوران خاموش رہ سکتے ہیں۔ ڈیڑھ گھنٹہ طویل اس ملاقات میں سابق صدر نے صرف ایک سوال کا جواب دیا اور وہ یہ تھا کہ آپ کا نام کیا ہے ، باقی ہر سوال کے جواب میں وہ فرماتے   Madam, I take 5 یعنی 'محترمہ پانچویں ترمیم کے تحت ملنے والے تحفظ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں خاموشی اختیار کررہا ہوں' اب ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی جائیگی جسکی سنگینی کے پیش نظر پروانہ گرفتاری کا اجرا بھی خارج از امکان نہیں۔

ان تمام الزامات کیساتھ سب سے سنگین معاملہ  حساس سرکاری دستاویزات کے ساتھ انکا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ امریکہ کے جاسوسی ایکٹ مجریہ 1917 کے تحت حساس مواد کی تصویر لینے، اہم معلومات کی نقل بنانے اور امریکی دفاع سے متعلق معلومات کوکسی دوسرے ملک کے فائدے کے لیے استعمال کرنا سنگین جرم ہے جسکی کم ازکم سزا دس سال قید ہے۔ امریکی صحافیوں کی تنظیمیں اور آزادیِ اظہار رائے کی انجمنیں اس قانوں کو پسند نہیں کرتیں، انکا خیال ہے کہ اس دفعہ کا سہارا لے کر کئی صحافیوں کے خلاف کاروائی کی گئی ہے۔ گزشتہ 105 سال کے دوران جاسوسی ایکٹ کے تحت 1000 افراد کو سزا ہوچکی ہے۔ اسی بناپر 1920 میں ایک ترمیم کے ذریعے ایک خاص مدت کے بعد خفیہ معلومات کو مشتہر کرنے کی ہدائت کی گئی لیکن یہ صدر کے صوابدیدی اختیار سے مشروط ہے۔صدر اوباما کے دور میں اس قانون کے تحت 8 اور ڈانلڈ ٹرمپ نے 6 صحافیوں پر فرد جرم عائد کی۔

قصرِ مرمریں کے ذرایع کہتے ہیں کہ اپنے دورِ اقتدار میں صدر ٹرمپ بہت سی سرکاری فائلیں اور دستاویز اپنے ساتھ گھر لے جاتے  تھے اور ان کاغذات میں خفیہ یا کلاسیفائیڈ مواد بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ  کا موقف تھا کہ وہ نو سے پانچ کام کرنے والے کلرک نہیں بلکہ امریکہ کے  ہمہ وقتی صدر ہیں لہٰذا وہ بہت سی فائلیں رات کا کھانا کھاکر فرصت کے اوقات میں گھر پر دیکھتے ہیں۔ بادی النظر میں صدر کا موقف بہت معقول ہے کہ بحیثیت صدر انتہائی خفیہ یا عام ہر قسم کی دستاویزات تک انھیں رسائی حاصل تھی اور اگر وہ مطالعے کیلئے کچھ دستاویزات گھر لے گئے تو کیا برائی ہے۔ تاہم اس میں ایک آئینی سقم ہے۔ امریکی قانون کے تحت  خفیہ دستاویزات کو ٓمحفوظات یا Archive سے باہر لے جانے سے پہلے انکا مکمل اندراج ضروری ہے جسکا صدرٹرمپ نے کوئی اہتمام نہیں کیا۔ اس بارے میں سابق صدر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے گھر لے جانیوالے مواد کو محدود مدت کیلئے غیر مخفی یا declassify کردیا کرتے تھے لیکن اسکے لئے باقاعدہ یادداشت یا memorandum جاری کرنے کے تکلف میں پڑے بغیر وہ ان فائلوں کے کلاسیفائیڈ لیبل پر خط تنسیخ پھیر کر  پینسل سے 'عارضی طور پر غیر مخفی' لکھ دیتے تھے۔

معاملہ یہاں تک بھی رہتا تو ٹھیک تھا۔ بائیڈن انتظامیہ کے محکمہ انصاف کا خیال ہے کہ سابق صدر جو فائلیں اور دستاویزات مطالعے کیلئے اپنے گھر  لےگئے ان میں سے بہت سی انھوں نے اپنی مدت صدارت مکمل ہونے پر واپس نہیں کیں  جو ایک سنگیں جرم ہے۔

چنانچہ چند ماہ پہلے جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی، انصاف کی راہ میں حائل ہونے اور اہم دستاویزات کو سنبھالنے میں مجرمانہ غفلت کے شبہے میں انکے خلاف کھاتہ کھول دیا گیا اور دورانِ تحقیق  وزارت انصاف کے اہلکاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سابق صدر جنوری 2021 میں اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کی معلومات کے علاوہ کچھ حساس نوعیت کا ریکارڈ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ یہ  دستاویزات ان  فائلوں کے علاوہ ہیں جو جناب ٹرمپ دوران صدارت اپنے گھر لے جایا کرتے تھے۔

ابتدائی معلومات کی تصدیق کے بعد اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ (Merrick Garland)کی درخواست پر وفاقی عدالت کی فلورڈا رجسٹری سے  ڈانلڈ ٹرمپ کے پر تعیش گالف کورس اور سیاحتی مرکز مارا لاگو کی تلاشی کا پروانہ یا سرچ وارنٹ حاصل کیا گیا۔  ٹرمپ دور صدارت میں مارا لاگو جنوب کا وہائٹ ہاؤس کہلاتا تھا۔ پروانہ حاصل کرنے کے بعد  11 اگست کو مارے جانے والے چھاپے میں ایف بی آئی اہلکاروں نے  تلاشی کے دوران  20 بکسوں پر مشتمل خفیہ دستاویزات کے 11 سیٹ برآمد کرلئے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ چھاپے میں  300سے زیادہ خفیہ یا کلاسیفائیڈ دستاویزات برآمد کی  گئی ہیں جن میں سی آئی اے ، نیشنل سیکیورٹی اور ایف بی آئی کا ریکارڈ شامل ہے۔ بعض ذرایع کےمطابق کچھ فائلیں جوہری ہتھیاروں سے متعلق ہیں۔ ان میں سے کچھ ڈبوں پر 'ٹاپ سیکریٹ'، 'سیکریٹ' اور 'کانفیڈینشل' لکھا ہوا ہے۔ کچھ مواد پر 'پوٹینشل پریذیڈینشل سیکریٹ'، 'متفرق خفیہ دستاویزات،' لکھا ہوا ہے۔ کچھ فائلوں میں ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس اور تصاویر بھی ہیں۔ ایف بی آئی کے چھاپے کے دوران ٹرمپ کی رہائش گاہ میں اُن کے دفتر، خوابگاہ، کمرہِ مطالعہ، اسٹور رومز اور  اُن کے اسٹاف کے زیرِ استعمال کمروں کی تلاشی لی گئی۔

چھاپے کے وقت صدر ٹرمپ نیویارک میں تھے اور اطلاعات کےمطابق سابق خاتون اول اور ٹرمپ کے چھوٹے صاحبزادے گھر پر موجود تھے جنھوں نے ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے مکمل تعاون کیا۔ ملانیہ ٹرمپ صاحبہ نے بھی تلاشی کے دوران کسی تلخ کلامی بحث مباحثہ یا ناخوشگوار واقعہ کا ذکر نہیں کیا۔

چھاپے کے دوسرے روز  ریاست اوہایو کے شہر سنسناٹی Cincinnati میں ایک مسلح  شخص نے ایف بی آئی کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے ہلاک کردیا گیا۔ تحقیقات کے بعد  اس شخص کی شناخت رکی شفر Ricky Shiffer کے طور پر کئی گئی۔ مبینہ ملزم کا  تعلق ٹرمپ نواز انتہا پسندوں سے تھا۔ بیالیس سالہ رکی 6 جنوری کو دارالحکومت پر حملے کا نامزد ملزم اور ایف بی آئی کو مطلوب تھا۔

اپنے گھر پر چھاپے  کو صدرٹرمپ نے سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر بائیڈن کے ایما پر پر اٹھاے گئے ان اقدامات کامقصد انھیں 2022 کے وسط مدتی انتخابات کیلئے رپیبلکن پارٹی کی ا نتخابی مہم سے روکنا اور 2024 کے صدارتی انٹخابات میں جناب ٹرمپ کو نااہل کرانا ہے۔ سابق صدر نے 2024 کے انتخابات میں صدر بائیڈن کا مقابلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ڈانلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انکے پیشرو  صدر براک حسین اوباما آفس چھوڑتے ہوئے 3 کروڑ 30 لاکھ صفحات پر مشتمل کلاسفائیڈ دستاویزات اپنے ساتھ لے گئے تھے جن میں بہت سی جوہری ہتھیاروں سے متعلق تھیں۔ تاہم امریکہ کے قومی محفوظات (National Archive) کیجانب سے ترنت جاری ہونے والے بیان میں ٖڈانلڈ ٹرمپ کے دعوے کی تردید کردی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما کی مدت صدارت مکمل ہوتے  ہی  حساس نوعیت کی تمام دستاویزات  قومی محفوظات نے اپنے قبضے میں کرلی تھیں۔

دوسرے دن صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے وضاحت کی یہ کاروائی انکے حکم پر عدالت سے اجازت لے کر کی گئی ہےاور اس بارے میں صدر بائیڈن سے مشورہ تو کجا امریکی صدرکو پیشگی اطلاع بھی نہیں دی گئی۔ اسی کیساتھ امریکہ محکمہ انصاف نے پروانہِ تلاشی جاری کرنے والے  منصف (جج) سے وارنٹ اور تلاشی کے دوران ملنے والی معلومات کو مشتہر کر نے کی درخواست کی۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ انکا ادارہ انتقام نہیں فروغ انصاف کیلئے قائم کیا گیا ہے اور قانون کی حکمرانی کیئے امریکی محکمہ انصاف پرعزم ہے۔

اپنی جوابی درخواست میں جناب ٹرمپ کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ انکے موکل نے حساس معلومات رکھنے سے متعلق صدارتی استحقاق کی وضاحت کیلئے درخواست دائرکررکھی ہے اور اسکا فیصلہ ہونے تک ایف بی آئی کو ان دستاویزات کے جائزے سے روکا جائے۔ٹرمپ نے حساس معلومات رکھنے سے متعلق صدارتی استحقاق کے تعین کے لیے 'خصوصی ماسٹر' مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے خصوصی ماسٹر ایسی ضبط شدہ دستاویزات کے جائزے کے لئے نامزد کیا جاتا ہےجنہیں کوئی اہم شخصیت اپنے پاس رکھنے کا استحقاق رکھتی ہو۔ یعنی عام ایف بی آئی اہلکار ان دستاویزات کی چھان پھٹک نہیں کرسکتے۔

جناب ٹرمپ کی درخواست پر جج نے کہا کہ منفی پروپیگنڈے کے حوالے سے درخواست گزار کی تشویش جائز ہے لیکن  عوامی دلچسپی کی بنا پر دستاویز کا مکمل طور پر سربمہررہنا بھی مناسب نہیں۔جج نے محکمۂ انصاف کو ہدایت کی کہ وہ اس حلف نامے میں جن معلومات کو خفیہ رکھنا چاہتا ہے ان کے بارے میں ترمیم کی تجویز پیش کرے۔ دوسرے دن وفاقی عدالت نے ٹرمپ کے اعتراض کے باوجود سربمہر وارنٹ کو کھول دیا۔

پروانہ تلاشی کی درخواست میں  سابق صدر  کی جانب سے جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی، انصاف کی راہ میں حائل ہونے اور اہم دستاویزات کو سنبھالنے میں مجرمانہ غفلت کے شبہے کا اجمالی ذکر تو ہے لیکن ان مبینہ جرم کے تحت کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔ قانونی ماہرین  کا کہنا ہے کہ  ایک وفاقی جج  کی جانب سے ارتکاب جرم کے ممکنہ ارتکاب کے  شبہے  پر پروانہِ تلاش کا اجرا صدر ٹرمپ کیلئے نیک شکون نہیں۔

انکے گھر سے برآمد ہونے والی دستاویزات کی تفصیل بھی سنسنی خیز ہے۔ اب اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہے کہ  مدت صدارت کے اختتام کے بعد ان دستاویزات کی  ڈانلڈ ٹرمپ کے پاس موجودگی قانون کی خلاف ورزی ہے یا نہیں؟ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی نجی رہائش گاہ سے جو مواد قبضے میں لیا گیا ہے ان میں  سے کچھ پر قومی سلامتی کے حوالے سے اہم اور خفیہ ترین کے نشان لگے ہوئے ہیں جنہیں صرف نامزد سرکاری تنصیبات میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

اپنے دفاع میں سابق صدر نے کہا کہ وہ اپنی مدت صدارت کے دوران گھر لے جانیوالی تمام دستاویزات کو اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرت ہوئے انکی خصوصی حیثیت کو ختم کرچکے تھے، جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا امریکی آئین کے رو سے انھیں یہ اختیار حاصل تھا لیکن وہ اسکا کوئی دستاویزی ثبوت اب تک پیش نہیں کرسکے اور برآمد ہونے والی دستاویزات میں اصل لیبل اب تک چسپاں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جن ایجنٹوں نے انکے گھر کی تلاشی لی ہے وہ جو کچھ بھی چاہتے وہاں رکھ سکتے تھے ۔یہ الزام اس اعتبار سے  مہمل ہے کہ تلاشی، عدالتی حکم پر لی گئی اور ایف بی آئی ایجنٹوں  نے  تلاشی کے دوران فارنزک ثبوت کا اہمتام کررکھا ہے۔سابق امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے قومی محفوظات  سے یہ دستاویزات اٹھوانے کی درخواست کی تھی اور اس سال کے شروع میں ان کی رہائش گاہ سے کچھ بکس واپس محفوظات میں جمع کرادئے گئے لیکن باقی دستاویزات اٹھوانے کا انتظام نہیں کیا گیا چنانچہ محفوظات کی کوتاہی کا انھیں ذمہ دار ٹہرانا درست نہیں۔

جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی، انصاف کی راہ میں حائل ہونے اور اہم دستاویزات کو سنبھالنے میں مجرمانہ غفلت ایک سنگین جرم ہے اور لگتا ہے کہ محکمہ انصاف جلد ہی اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کردیگا اور بظاہر سابق صدر کے خلاف الزامات سنگین نظر آرہے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 2  ستمبر 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 2 ستمبر 2022

روزنامہ امت کراچی 2 ستمبر 2022

ہفت روزہ رہبر  سرینگر  4 ستمبر 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


Thursday, August 25, 2022

یوکرین جنگ ۔۔۔ خوفناک جوہری حادثے کا خطرہ

 

یوکرین جنگ ۔۔۔ خوفناک جوہری حادثے کا خطرہ

اناج سفارتکاری کے بعد صدر ایردوان کی جوہری سفارتکاری

  روس یوکرین خونریزی سے ساری دنیا متاثر ہے۔ توانائی کی قیمتیں آسمان پر ہیں اور سب سے بڑھ کر عالم تمام،  خاص طور سے بحر روم کے ساحلوں پر آباد دنیااناج کے معاملے میں اندیشہ ہائے دوردراز میں مبتلا ہے۔ مشرقی یوکرین کو 'روٹی کی چنگیری' کہا جاتا ہے۔ ویسے تو ساری دنیا یوکرینی مکئی، گندم، بارلی اور خوردنی تیل سے مستفید ہوتی ہے لیکن لبنان ، شام، ترکی اور مصر اپنی ضرورت کا چالیس سے 55 فیصد گندم اور مکئی یوکرین سے خریدتے ہیں۔ یمن کا 60 فیصد دارومدار یوکرینی گندم پر ہے۔ترک صدر ایردوان کی کوششوں سے دنیا کو یوکرینی غلے کی فراہمی بحال ہوگئی ہے۔ گزشتہ دوہفتوں کے دوران اناج سے لدے 16 جہاز ترک بحریہ کی حفاظت میں  یوکرینی بندرگاہ اوڈیسا سے روانہ ہوئے اور ایک اندازے کے مطابق  ڈیڑھ لاکھ ٹن سے  زیادہ غلہ دنیا کے مختلف ممالک کو پہنچ چکا ہے۔ خیال ہے کہ اگلے ماہ  بحر اسود کے راستے روسی غلے کی فراہمی بھی شروع ہوجائیگی۔

جنگ ایک نامراد مشق ہے جس کا ہر پہلو نقصا ن دہ لیکن یوکرینی جنگ  نے ایک خوفناک  جوہری حادثے کا خطرہ پیدا کردیا ہے۔ آج ہم اسی موضوع پر بات کرینگے۔

جنگ کے آغاز پر ہی روس نے اپنی سرحد سے متصل مشرقی یوکرین میں  زاپوریژیا (Zaporizhzhia)کے جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا تھاجو زاپوریژیا صوبے کے شہر اینرہودار (Enerhodar)میں دریائے دنیپر (Dniper)کے کنارے واقع ہے۔ سوویت دور کا یہ پلانٹ 1986 میں مکمل ہوا تھا جس میں 6 جوہری ری ایکٹر نصب ہیں اور پلانٹ میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی گنجائش 5700 میکاواٹس (MW)ہے۔ یہ یورپ کی سب سے بڑی جوہری   تنصیب ہے جبکہ گنجائش کے اعتبار سے اسکا شمار دنیا کی دس بڑی جوہری تنصیبات میں ہوتا ہے۔ جوہری پلانٹ کے قریب واقع تھرمل (پن بجلی گھر)  پلانٹ بھی روس کے  قبضے میں ہے ۔

جوہری تنصیبات کے قریب یوکرینی اور روسی افواج کے درمیاں خوفناک لڑائی ہوئی اور  میزائیل لگنے سےپلانٹ کی ایک عمارت میں آگ لگ گئی۔ وہ تو خیریت رہی کہ نشانہ بننے والے عمارت پلانٹ سے باہر نئے انجنئروں کی تربیت گاہ تھی اور اس سے ری ایکٹر یا دوسری حساس تنصیبات متاثر نہیں ہوئیں۔ لیکن  روس کے ایک اور حملے میں پلانٹ کا ویلڈنگ سیکشن نشانہ بنا  اور ساتھ ہی باہر گھاس کو آگ لگ گئی۔ حملے میں آگ بجھانے کے آلات تباہ ہوگئے اسلئے گھاس پر لگی آگ بحھانے میں کئی دن لگے۔ اس دوران اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ کہیں اس آگ کے شعلے پلانٹ کی عمارت تک نہ پہنچ جائیں لیکن  ایسا نہیں ہوا اور  آگ بجھادی گئی۔  یوکرینی عملے کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ  پلانٹ پر براہ راست گولہ باری کے نتیجے میں ایک ری ایکٹر کو نقصان پہنچا لیکن تابکاری مواد کے اخراج کی کوئی رپورٹ نہیں۔

اس انکشاف پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA)نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی اے ای اے سربراہ ڈاکٹڑ رفائیل گروسی نے کہا کہ صورتحال نہائت  خطرناک اور نازک ہے۔ انھوں نے روس اور یوکرین سے مطالبہ کیا کہ ایجنسی کے ماہرین کو پلانٹ کے معائنہ  کی اجازت دی جائے۔  اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو کچیرس نے  خبردار کیا کہ معاملہ صرف دوملکوں کے درمیان نہیں بلکہ  علاقے کی حفاظت کو یقینی بنانے کیئے تکنیکی سطح کے فوری معاہدے کی ضرورت ہے۔ پلانٹ پر قبضے کے فوراً بعد صدر پیوٹن نے کہا تھا روس اقوامِ متحدہ کے حکام کو زاپوریژیا جوہری پلانٹ تک رسائی کے حوالے سے ضروری معلومات و معاونت فراہم کرنے  کو تیار ہے لیکن  اس میں ماہرین کے دورے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

زاپوریژیا  پر قبضے کے بعد اس کی ملکیت روسی جوہری ادارے روس ایٹم ROSATOMکے حوالے کردی گئی تاہم انتظامی تبدیلی سے گریز کیا گیا یعنی اسکا تیکنیکی انتظام و انصرام اب بھی یوکرینی مہندسین و ماہرین کے ہاتھ میں ہے اور یہاں سے پیدا ہونے والی بجلی بدستور  یوکرینی صارفین کو فراہم کی جارہی ہے۔

پلانٹ کے قریب جھڑپیں اب بھی جاری ہیں اور کل ہی  روسی گولہ باری سے پلانٹ کے قریب چار شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جوہری تنصیبات کی تعمیر کے وقت حفاظتی اقدامات کئے جاتے ہیں اور انکی بیرونی دیواریں اور چھت ایک خاص حد تک بیرونی دباو جھیل سکیں لیکن بم  اور میزائیل کے اثرات کو برداشت کرنا ممکن نہیں۔ کسی بھی ری ایکٹر پر براہ راست گولہ لگنے کی صورت میں نہ صرف  تابکاری مواد کا خارج یا لیک ہونا یقینی ہے بلکہ ضرب سے ہائیڈروجن یا جوہری دھماکہ بھی خارج از امکان نہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ  اگر کوئی راکٹ یا گولا براہ راست کسی ری ایکٹر پر گرا  تو اسکے نتیجے میں جنم لینے والی تابکاری سے یوکرین،  روس اور بیلارُس سمیت سارا یورپ متاثر ہوگا۔ روسی ماہر طبیعیات، آندرے اوزہارووسکی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ   ری ایکٹر کی تباہی  تابکار  سیزیم  137(Caesium-137)  کے اخراج کا سبب بنے گی۔ سیزیم 137 انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہے جسکی معمولی سی مقدار بھی موت کا سب بن سکتی ہے۔تابکاری زراعت کیلئے بھی مضر ہے اور اسکے اثر سے زرعی زمین طویل مدت کیلئے بنجر ہوسکتی ہے، لطیف ہونے کی بناپر سیزیم 137ہوا کے دوش پر طویل فاصلے تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ہوا کی سمت اور رفتار اسے بہت  دور تک پھیلاسکتی ہے۔ معاملہ صرف ری ایکٹر کا نہیں۔ یہاں بڑی مقدار میں جوہری کچرے (Nuclear Waste)کے ذخائر بھی ہیں۔ اگر یہ ذخائر بم یا میزائیل کا نشانہ بنے تو یہاں محفوظ کیا گیا ٹنوں تابکاری مواد بڑی مصیبت کا سبب بن سکتا ہے۔

روس اور یوکرین دونوں کو معاملے کی نزاکت کا احساس ہے۔ صدر پیوٹن کہہ چکے ہیں کہ جوہری پلانٹ پر حملہ خودکشی ہوگا جسکا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ عظیم الشان  تنصیبات میدان جنگ کے بیچوں بیچ  واقع ہیں لہٰذا کسی بھی وقت کوئی حادثہ ہوسکتا ہے۔ اس علاقے پر روس یا یوکرین کسی کی گرفت مضبوط نہیں۔ یہاں قابض روسیوں  کو کچھ فاصلے پر مورچہ زن یوکرینی فوج کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے  جو پلانٹ کا قبضہ چھرانے کیلئے پرعزم ہیں۔عمارت کے اند ر یوکرینی ماہرین تعینات ہیں اسلئے یوکرین کی جانب سے پلانٹ پر براہ راست گولہ باری کا امکان نہیں لیکن جنگ کے دوران دوستانہ گولیاں (Friendly fire)بھی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔ گزشتہ دوہفتوں سے اس علاقے میں شدید گولہ باری ہورہی ہے۔

جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا، اب تک  روس نے پلانٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کی تقسیم میں کوئی خلل نہیں ڈالا اور یوکرینی صارفین کو بجلی کی فراہمی جاری ہے۔ بجلی کی تقسیم کا سارا نظام Energy Company of Ukraine(ECU)کے ہاتھ میں ہے لیکن  اب روس اپنے جوہری ماہرین کو یوکرینی کارکنوں کی نگرانی کے لیے بھیج رہا ہے۔روس کے نائب وزیر اعظم مراد خسروی نے کہا ہے کہ  زاپوریژیا پلانٹ روس کی ملکیت ہے چنانچہ یہاں سے فروخت ہونے والی بجلی کی قیمت روس ایٹم کو ملنی چاہے۔ قارئین کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ 56 سالہ مراد خسروی تاتار مسلمان ہیں۔ بدھ 17 اگست کو یوکرین کے قبضہ کئے ہوئے علاقے کے دورے پر  صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے جناب مراد خسروی نے کہا کہ اگر ای سی یو نے بجلی کی قیمت روس ایٹم کو نہ اداکی تو زاپوریزہیا پلانٹ کو روسی برقی توانائی کے نظام (GRID)سے جوڑ دیا جاییگا۔ماہرین کا خیال ہے کہ پلانٹ کو روسی گرڈ سے منسلک کرنا اتنا آسان نہیں اور اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔یوکرین کو مطلوب بجلی کا 20 فیصد زاپوریژیا پلانٹ فراہم کرتا ہے، چناچہ مراد صاحب کی اس دھمکی سے یوکرینئی وزارت توانائی فکر مندہوگئی ہے۔

پلانٹ کی حفاظت اور تابکار موادکے  معاملے پر دونوں ملکوں کی سنجیدگی اور اخلاص اپنی جگہ لیکن اصل مسئلہ اعتماد کا فقدان ہے۔ صدر زیلینسکی کا خیال ہے کہ  روس پلانٹ پر قبضے کو یوکرین کے خلاف دباو کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ یوکرینیوں کے اس خدشے کو جناب مراد صاحب کے بیان سے تقویت ملی ہے۔ دوسری طرف کریملن کو ڈر ہے کہ پلانٹ کے معائنے کیلئے ہونیوالی فائر بندی کے دوران یوکرین اپنے صفیں منظم کرکے علاقے پر روسی قبضہ ختم کرنے کی کوشش کریگا۔ ماسکو کو اندازہ ہے کہ آئی اے ای اے کے زیادہ تر ماہرین امریکی اور یورپین ہیں اور وہ حفاظتی اقدامات کی سفارش کرتے وقت انصاف سےکام نہیں لینگے۔

جمعرات 18 اگست کو مغربی یوکرین کے شہر لویف (Lviv) میں ترک صدر ایردوان، صدر ولادیمر زیلنسکی اور اقوام متحدہ کے معتمدِ عام گچیرس کے درمیاں سہہ فریقی بات چیت میں یوکرینی صدر نے کہا کہ انکا ملک خوفناک جوہری حادثے کے امکان کو صفر کرنے کیلئے مخلص و پرعزم ہے لیکن انھیں روسیوں کی نیت پر بھروسہ نہیں۔ انھوں ے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری پلانٹ کا محاصرہ ختم کرانے  کیلئے کریملن پر دباو ڈالے۔ انکا کہنا تھا کہ پلانٹ کے گردوونواح کو روس نے فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا ہے اور وہاں گولہ بارود کا انبار نظر آرہا ہے۔صدر زیلسنکی کا کہنا تھا کہ وہ آئی اے ای اے کے دورے کا خیر مقدم کرینگے لیکن  حتمی فیصلہ عالمی ایجنسی کی جانب سے 'تفصیلات' ملنے کے بعد کیا جائیگا۔ یوکرینی صدر نے حالات کی ذمہ  داری ماسکو  کے سر دھرتے ہوئے  خبردار کیا کہ روس دنیا کے بدترین جوہری حادثے کا سبب بن سکتا ہے جو چرنوبل سے  بڑا ہوگا ۔آپکو یاد ہوگا   یوکرینی دارالحکومت کیف (Kyiv) کے شمال میں چرنوبل جوہری پلانٹ بدترین حادثے کا شکار ہوا تھا جس میں  سو افراد موقع پر ہی ہلاک ہوئے اور تابکاری اثرات کا مکمل خاتمہ اب تک نہیں ہوپایا،۔ یہ  واقعہ 1986 کا ہے جب یوکرین سوویت یونین کا حصہ تھا۔

آئی اے اے ای کے ڈائریکٹر جنرل نے  ہیشکش کی ہے وہ فریقین کے اعتماد کیلئے معائینہ کاروں کی ٹیم کی قیادت خودکرنے کو تیار ہیں لیکن روس اب تک  اس معاملے پر مطمئن نہیں۔ فرانس کے صدر ایمیونل میکراں سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے عالمی معائنہ کاروں کے دورے پر اصولی رضامندی ظاہر کی لیکن  وہ اسکے 'عسکری بندوبست' پر ضمانتیں چاہتے ہیں۔

یوکرین اور روس دونوں غلہ کارواں  کیلئے کئے جانیوالی غیرجانبدارانہ جانچ پڑتال اور  حفاظتی اقدامات  کی طرح زاپوریژیا پلانٹ کے حفاظتی بندوبست کیلئے  بھی صدر ایردوان کی ثالثی کے خواہشمند ہیں۔صدر پیوٹن کہہ چکے ہیں کہ ترکی کو اس معاملے میں قیادت کرنی چاہئے۔ ترک صدر پر جناب زیلینسکی کو بھی اعتماد ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق صدر ایردوان،  جوہری توانائی کے ترک ماہرین سے مشورہ کررہے ہیں جسکے بعد وہ  ائی اے ای اے  کی قیادت سے بات کرینگے۔ اس گفتگو کے نتیجے میں اگر کوئی قابل عمل تجویز سامنے آئی تو وہ روسی صدر کو اعتماد میں لیں گے۔ امریکہ نے پلانٹ کے اردگرد  ایک غیر عسکری زون قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس پرروس وزارت خارجہ نے  تبصرہ کرنے بھی انکار کردیا لیکن اب کہا جارہا ہے کہ صدر پیوٹن جوہری معائنہ کاروں کے حفاظت کیلئے پلانٹ  کے قریب ترک امن دستے تعینات کرنے پر رضامند دکھائی دے رہے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 26 اگست 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 26 اگست 2022

روزنامہ امت کراچی 26 اگسر 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 28 اگست 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


Friday, August 19, 2022

افغانوں کا یوم استقلال

 

افغانوں کا یوم استقلال

آج یعنی 19 اگست کو افغان ملت اپنا یوم استقلال منارہی ہے۔ جدید افغان سلطنت کی بنیاد اکتوبر 1747 میں رکھی گئی جب لویہ جرگے نے تین دن کی مشاورت کے بعد احمد شاہ ابدالی کو اپنا بادشاہ منتخب کیا اور اس اعتبار سے افغانستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جبر یا طاقت کے بجائے انکے بادشاہ کا انتخاب ایک نمائندہ جرگے کے ذریعے ہوا۔ پہلے دن جرگے کا عام اجلاس ہوا جس میں کئی نام تجویزکئے گئے جسکے بعد مشران کی خصوصی بیٹھک ہوئی جو دودن جاری رہی۔ مشران کے جرگے میں احمد شاہ کی تاجپوشی کا فیصلہ کیا گیا اور جرگے نے بادشاہ معظم کو 'در دراں' (موتیوں کا موتی)کا خطاب عطا کیا۔ اسی بنا پر احمد شاہ ابدالی احمد شاہ درانی کے نام سے مشہور ہوئے۔

ابدالیوں کی سرزمین پر بیرونی حملے کا آغاز 1839 میں ہوا جب برطانیہ نے ہیرات کے گورنر شاہ شجاع ابدالی کو بادشاہت کی لالچ دیکر اپنے ساتھ ملالیا۔ ضمیر فروش شاہ شجاع نے مرکز سے علیحدہ ہوکر قندھار پر قبضہ کرلیا اور 'دہشت گردوں' کے خلاف برطانیہ سے مدد کی درخواست کی۔ شاہ شجاع تھاتو احمد شاہ ابدالی کا پوتا لیکن تاریخ نے اسے غدار اور ننگ افغان کا خطاب عطا کیا۔ طالبان نے اپنے اقتدار کے دوران بامیان میں اسکی قبر اکھاڑ پھینکی تھی۔ اس کاروائی کے دوران بدھ تہذیب کے آثار بھی متاثر ہوئے۔ اسوقت ہندوستان میں برطانوی راج اپنے جوبن پر تھا چنانچہ 21 ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک عظیم الشان لشکر درہ بولان سے گزر کر کوئٹہ اور سبی کے راستے قندھار میں داخل ہوگیا۔ اپنی آزمودہ فوجی حکمت عملی کے تحت افغانیوں نے برطانوی فوج کی مزاحمت نہیں کی اور انھیں اطمینان سے کابل تک آنے دیا۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ افغان قوم مزاحمت کا حوسلہ نہیں رکھتی چنانچہ بہت ہی شان و شوکت سے شاہ شجاع کی تاجپوشی کردی گئی۔ اب افغانوں نے فوجی کاروائیوں کا آغاز کیا، تابڑ توڑ حملوں سے برطانوی فوج کے حوصلے جواب دے گئے اور صرف دوسال کے اندر برطانوی فوج کو پسپائی کا حکم مل گیا لیکن افغان انکی واپسی کے راستے مسدود کرچکے تھے۔ پہلے درہ خیبر کے راستے واپسی کا منصوبہ بنا تاہم شدید حملوں کی بنا پر راستہ تبدیل کرکے قندھار اور چمن کے راستے پسپائی کا آغاز ہوا۔ یہاں کانسی اور غلزئی پشتونوں اور مری و مینگل بلوچوں نے انھیں اپنے نشانے پر رکھ لیا۔ زہر میں بجھے خنجروں سے مسلح زہری قبیلے کی برقع پوش لڑکیاں بھی کسی سے پیچھے نہ تھیں۔ برطانوی فوج کا پورا قافلہ بلوچوں اور پشتونوں کے ہاتھوں ذبح ہوگیا اور صرف فوج کا ایک ڈاکٹر جسکا نام ولیم برائیڈن تھا تباہی کی داستان سنانے واپس دلی پہنچا۔

اس واقعے کے بعد 36 سال تک انگریزوں کو افغانوں سے پنگا لینے کی جرات نہ ہوسکی لیکن انتقام کی آگ میں جلتے تاج برطانیہ نے 1878 میں ایک بار پھر حملہ کیا اس بار انگریزوں کے بجائے مرہٹوں اور سکھوں پر مشتمل 50ہزار فوج تین سمتوں سے افغانستان میں داخل کی گئی۔ اس بار بھی افغانواں نے حملہ اوروں کو کھلا راستہ دیدیا اور افغان مجاہدین پسپا ہوتے ہوتے مزار شریف کے قریب مورچہ زن ہوگئے۔ چند ماہ بعد چھاپہ مار کاروائی کا آغاز ہوا۔ دوسری طرف انکے بلوچ حلیفوں نے کوئٹہ چمن قندھار کے راستہ مسدود کرکے انگریزوں کی کمک بند کردی اور صرف 20 ماہ میں شکست خوردہ فوج کی واپسی شروع ہوئی۔ اس بار پسپائی کیلئےانھوں نے درہ خیبر کا انتخاب کیا اور بھاری جانی نقصان اٹھاکر چند بچے کھچے فوجی وطن واپس آنے میں کامیاب ہوگئے۔

اسکے 39 سال بعد 1919 میں انگریزوں نے تیسری مرتبہ قسمت آزمائی کی اور درہ خیبر کے راستے افغانستان میں داخل ہوئے۔ برطانوی فضائیہ بری فوج کی نصرت کیلئے موجود تھی شدید بمباری سے حملے کا آغاز ہوا لیکن اس بار اٖفغانوں نے برطانویوٓں کو ملک میں داخل ہی نہ ہونے دیا۔ مجاہدین انھیں دھکیلتےہوئے لنڈی کوتل لے آئے جہاں قبائلی تیراندازوں نے حملہ اوروں کی پشت چھلنی کردی اور صرف تین ماہ بعد گوروں نے سفید پرچم لہرادیا۔ 8 اگست 1919 کو راولپنڈی میں اینگلو افغان معاہدے المعروف PINDI PACTپر دستخط ہوگئے جس میں برطانیہ نے کشور کشائی کی مزید کوشش نہ کرنے کا وعدہ کیا جسکے جواب میں افغانوں نے پسپا ہونے والی برطانوی سپاہ کیلئے محفوظ راستے کی یقین دہائی کروائی۔ معاہدے کے تحت غیر ملکی فوج کے انخلا کی حتمی تاریخ 19 اگست مقرر کی گئی۔ اسی مناسبت سے یہ دن افغان قوم کا یوم استقلال اور یوم فتح مبیں قرارپایا


سلمان رشدی پر نیویارک میں حملہ ۔۔۔ نبیا کی توہین روکنے کیلئے موثر قانون سازی کی ضرورت

 

سلمان رشدی پر نیویارک میں حملہ

انبیا کی توہین روکنے کیلئے موثر قانون سازی کی ضرورت

جمعہ 12 اگست کو 'شیطانی  ہفوات' کے عنوان سے انتہائی توہین آمیز کتاب کے مصنف سلمان رشدی قاتلانہ حملے میں  شدید زخمی ہوگئے۔ اس کتاب کا عنوان Satanic Versesہے۔ انگریزی زبان کے علما شائد اس ترجمے سے اتفاق نہ کریں لیکن   ہمارے لئے   Versesکا ترجمہ آیات کرنا ممکن نہیں اسلئے ہم نے اس کتاب کو شیطانی ہفوات  قراردیا ہے۔ ایک مضمون لکھنے کیلئے  1988میں   ہم نے  یہ کتاب پڑھنے کی کوشش کی لیکن چند صفحات دیکھ کر آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک شخص نے اس وقت شاتاقوا انسٹیٹیوٹ(Chautauqaua Institute)  میں اسٹیج پر چڑھ کر سلمان رشدی پر  چھری سے حملہ کیا جب ' قلم و فن کی آزادی' کے موضوع پر  تقریر  سے قبل ان کا تعارف کرایا جا رہا تھا، 1874 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ نیویارک کی نہر شاتاقو کے کنارے واقع ہے۔

ضربات کے نتیجے میں سلمان رشدی فرش پر گر گئے اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ عینی شاہدین  کے مطابق رشدی پر 10 سے 15 وار کئے گئے۔صدائے امریکہ (VOA)کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سلمان رشدی جیسے ہی تقریر کرنے کھڑے ہوئے چہرے پر سیاہ نقاب چڑھائے ایک شخص دوڑتا ہوا اسٹیج پر آیا اور اس نے سلمان رشدی کی گردن میں چھری گھونپ دی۔ انکے جسم کے دوسرے حصوں پر بھی چھری کے زخم آئے اور حملہ اور نے 75 سالہ رشدی کو گھونسے اور لاتیں بھی رسید کیں۔واقعے کے بعد  نیویارک کی گورنر محترمہ کیتھی ہوکل نے عجلت میں بلائی پریس کانفرنس میں بتایا کہ سلمان رشدی زخمی لیکن زندہ ہیں اور انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریاست پنسلوانیہ کے ایری Erieہسپتال منتقول کردیا گیا جہاں انکا علاج ہورہاہے۔

سلمان رشدی ہندوستان کی  آزادی سے دو ماہ  پہلے  بمبئی  میں پیدا ہوئے  اور 14 سال کی عمر میں انھیں  تعلیم کیلئےانگلستان کے رگبی سکول بھیج دیا گیا ۔  ہائی اسکول کے بعد انھوں نے جامعہ کیمبرج  سے تاریخ  میں بی اے آنرز کیا اور اسی دوران وہ برطانوی شہری بن گئے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ برطانوی شہریت کا حلف اٹھاتے ہی   انھوں نے اپنا مسلم عقیدہ تبدیل کر لیا اور وہ خود کو  دہریہ  یا Atheistکہنے لگے ۔کچھ عرصہ انھوں نے اداکاری کی مشق کی لیکن جلد ہی  روشنی اور کیمرے سے انکا دل  بھرگیا اور  رشدی نے  قلم و قرطاس سنبھال کر   ناول نگاری شروع کردی، ساتھ ہی  وہ  اشتہارات کے متن بھی لکھنےلگے۔ انکی دوسری تصنیف مڈ نائٹ چلڈرن کو زبردست پزیرائی نصیب ہوئی،   1981میں شایع ہونے والی یہ کتاب برطانوی  راج کے دوران ہندوستان کے ثقافتی تنوع کے نئی نسل پر پڑنے والے اثرات کے بارے  میں ہے۔ کتاب  کے بازار میں آتے ہی اسکی پانچ لاکھ کاپیاں فروخت ہوگئیں اور  ناول کو موقر  بکر    Bookerانعام سے نوازاگیا۔

 انکی پانچویں کتاب شیطانی ہفوات  تھی جس نے سواارب مسلمانوں کے  دل و جگر چھلنی کردئے۔ اس کتاب میں نبی  آخرالزماں (ص)، انکے پاکباز صحابہ اور امہات المومنین کے ساتھ حضرت ابراہیم (ع)  کو فحش گالی دی گئی ہے۔ حضرت سلمان فارسی (ر)، حضرت بلال (ر) کے علاوہ  حضرت عائشہ(ر)، حضرت سودہ( ر)، حضرت حفصہ (ر) ن، حضرت ام سلمہ (ر)، حجرت زینب(ر)، حضرت ریحانہ(ر)، حضرت  میمونہ (ر) ، حضرت صفیہ (ر) اور حضرت  ماریہ قبطیہ (ر) کے  پاکیزہ نام لکھ کر جو جملے درج کئے گئے ہیں اسے یہاں نقل کرنے کی ہمت نہیں ۔ کتاب میں حضرت جبرائیل (ع)   کا تذکرہ بھی بہت گستاخانہ انداز میں کیا گیا جبکہ  طہارت، وضو، سفرِ معراج، وحی اور قانون  وراثت کا  تمسخراڑایا گیا ہے۔

کتاب کی اشاعت پر سلمان رشدی نے کہا کہ یہ ایک ناول ہے اور ناول کے کردار فرضی ہیں۔ اگر کچھ لوگوں کو  بعض واقعات میں مماثلت نظر آرہی ہے تو یہ  اتفاق ہے۔انکا کہنا ہے کہ وہ پیدایشی مسلمان ہیں اور ایک مسلمان  اسلام کے خلاف کیسے کام کرسکتا ہے؟۔ شیطانی ہفوات کی اشاعت کے فوراً بعد مخالفانہ  مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'مودودی جماعت کے  ملا انکے ترقی پسندانہ نظریات کو پسند نہیں کرتے اور کتاب کیخلاف ساری تحریک انھیں انتہا پسندوں کی چلائی ہوئی ہے۔'

انکی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ کتاب میں  کہیں بھی حضرت محمد (ص) کا نام درج نہیں لیکن سرکار (ص) کے نامِ نامی  کو جس طرح لکھا گیا ہے اس نے اورینٹل  مصنفین کی  یاد تازہ کردی ہے۔  جیسے یورپ میں جوزف کو جو اور میتھیو کو  میٹ  کہا جاتا ہےاسی اندازمیں یورپ کے متعصب دانشور حضرت محمد (ص)کو مو کہہ کر تمسخر اڑاتے تھے۔  سلمان رشدی نے ہر جگہ  محمد کی جگہ  مو ہاونڈ  لکھا ہے۔  ہاونڈشکاری کتے کی ایک نسل ہے، نعوذباللہ ۔

حضرت سلمان  فارسی (ر) کیلئے ایرانی کنگلا اور حضرت بلا ل   (ر) کو کالا دیو لکھ کر کردار کی وضاحت کردی گئی ہے۔

ایک جگہ درج ہے 'تین حواری  زم ز م کے کنویں پر نہادھو رہے تھے، وضو، ہر وقت وضو، پاوں گٹھنے سے اوپر، ہاتھ کہنیوں سے نیچے، سر گردن تک، گردن  کا مسح، انگلیوں کا خلال۔ گیلا سر، چھینٹے اڑاتے، پانی بہاتے، نہاتے دھوتے اور نماز پڑھتے یہ کیسے مضحکہ خیز لگتے ہیں'

'سیدالملائک جبرائیل نے بتایا کہ مردےکو دفن کیسے کرتے  ہیں اور میراث کیسے تقسیم ہو ، ایرانی سلمان فکر میں پڑگئے کہ اللہ کی جانب سے (تقسیم کا)  یہ انداز تو تاجروں جیسا ہے'

امہات المومنین کے بارے میں جو فحش جملے درج ہیں  انکے تصور سے جی متلانے لگتا ہے۔ ان کے ناموں کے ساتھ جس  انداز میں  انکا  تعارف  بیان ہوا ہے اس سے کہیں نہیں لگتا کہ کردار فرضی ہیں۔

حضرت عائشہ کو سب سے کم عمر بیان کرنے کیساتھ یہ بھی درج ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت سودہ سے ایک ہی زمانے میں نکاح ہوا اور 'اسوقت عائشہ (ر) چھوٹی بچی تھیں'

'حضرت ام سلمہ   مخذولی  قبیلے سے تھیں'

حضرت ریحانہ (ر)  کو یہودن لکھا ہے

حضرت ماریہ قبطیہ کو سب سے حسین  بیان کیا گیا ہے

رشدی نے موقف اختیار کیا  کہ  ناول کا پلاٹ عرب معاشرے سے متعلق ہے اور یہ کہ بلال، سلمان ،خالد، عائشہ، سلمیٰ، زینب، جویریہ، حفصہ  وغیرہ بہت عام  عرب نام ہیں  لہٰذا  اسے کسی خاص فرد کی طرف اشارہ سمجھنا قاری کی تنگ نظری کے سوا اور کچھ نہیں۔ حالانکہ اوپر دی گئی ان افراد کی امتیازی تفصیلات دیکھ کر کون  مصنف کی اس بودی دلیل کو پرِ کاہ سے زیادہ اہمیت دیگا؟

کتاب کی رونمائی کے وقت سے امریکہ کے مسلمانوں نے اسکی اشاعت رکوانے کیلئے تمام قانونی راستے اختیار کئے۔ کتاب کے طابع اور ناشر وائکنگ Vikingکی انتظامیہ سے گفتگوکی گئی،۔ اس زمانے میں ای میل ، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ اتنا عام  نہ  تھا اور  خط و ٹیلیفون رابطے کا ذریعہ تھا چنانچہ ڈھائی لاکھ سے زیادہ احتجاجی خطوط لکھے گئے۔اس قدر فون ہوئے کہ وائکنگ کا ایکسچینج مفلوج ہوگیا۔

غیر مسلم  اکثریتی ممالک میں سنگاپور ، جنوبی افریقہ اور ہندوستان نے کتاب کی اپنے  یہاں اشاعت و تقسیم پر پابندی لگادی۔ جواب میں ترقی پسندوں نے زبردست مہم چلائی۔ ہندوستان  کی انجمن ترقی پسند مصنفین نے  پابندی لگانے پر وزیراعظم راجیو گاندھی کی شدید مذمت کی  ۔ خفیہ ذرایع سے کتابوں کے ہزاروں نسخے منگا کر تقسیم کئے گئے۔ لندن میں  مقیم ترقی پسند رہنما طارق علی نے سلمان رشدی کے خلاف 'کردار کشی' مہم کی شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔  

اس گستاخی کیخلاف پر ساری دنیا میں مذمتی مہم چلی۔ اس نوعیت کے عالمگیر احتجاج کی اور کوئی مثا ل نہیں   ملتی۔ تتیجے کے طور پر رشدی روپوش ہونے پر مجبور ہو گئے ۔ ایک سال بعد یعنی 1990 میں ایران کے رہبر اعلیٰ   حضرت آیت اللہ روح اللہ خمینی نے  قتل کا فتویٰ جاری کردیا اور ایرانی حکومت نے انھیں قتل کرنے والے کیلئے 35 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا، ایرانی علما کی کونسل نے سرکاری انعام کیساتھ رشدی کا خاتمہ کرنے والے کیلئے پانچ لاکھ ڈالر مزید دینے کا وعدہ کیا۔ برطانیہ، امریکہ، فرانس اور بہت سے مغربی ممالک نے سلمان رشدی کو سنائی جانے والی سزائے موت پر شدید ردعمل کا اظہار کیا لیکن آئت اللہ خمینی کی رحلت کے بعد بھی یہ فتویٰ واپس نہیں لیا گیا۔

روپوش ہونے کی بناپر سلمان رشدی تو محفوظ رہے لیکن اس  کتاب کے جاپانی مترجم ڈاکٹر ہیٹوشی ایگاراشی  Hitoshi Igarashi  کو جولائی 1991 میں  چاقو مار کر قتل کردیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب  جامعہ سوکوبا  (Tsukuba University)  میں تقابلی اسلامی  ثقافت کے اسسٹنٹ پروفیسرتھے۔  اس واقعے سے 9 دن  پہلے  اٹلی کے  شہر میلان میں کتاب کے  اطالوی مترجم ایٹور کیپری اولو (Ettore Capriolo)  پر انکے  گھر میں   چاقو سے حملہ کیا گیا لیکن  زخمی ایٹور زندہ  بچ گئے۔ اکتوبر 1993 میں اس کتاب کا نارویجین (Norwegian)  ترجمہ شایع کرنے والے پبلشر ولیم  نائیگارڈ Willian Nygaard)  ( پر اوسلو میں انکے گھر کے پر حملہ ہوا اور انھیں تین گولیا ں لگیں۔شدیدزخمی ہونے کے باوجود نائیگارڈ بھی سلامت رہے۔حملہ آور  کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔

سلمان رشدی کو ملکہ برطانیہ نے 2007 میں سر یا Knightکے خطاب سے نوازا۔ اس دوران پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز برطانیہ کے دورے پرگئے ۔ وزیر مذہبی امور عامر لیاقت مرحوم بھی انکے ساتھ تھے۔ عامر لیاقت نے لندن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ملکہ کے فیصلے کی شدید مذمت کی۔ برطانوی حکام کو یہ بات  پسند نہ آئی اور وزیراعظم شوکت عزیز سے شکائت کی گئی جنھوں نے عامر لیاقت سے معذرت اور الفاظ واپس لینے کی درخواست کی۔ عامر لیاقت  نے معذرت سے صاف انکار کردیا۔ انکی جماعت ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی عامر لیاقت سے بات کی لیکن وزیر مذہبی امور معذرت   پر راضٰی نہ ہوئے اور وزارت سے استعفیٰ دیکر پاکستان واپس چلے آئے جہاں انھوں نے قومی اسمبلی کی نشست اور ایم کیو ایم کی رکنیت سے بھی استفیٰ دیدیا۔  

سلمان رشدی اب امریکہ میں ریتے ہیں اور کچھ عرصہ پہلے انھوں نے اپنی روپوشی بتدریج ختم کرنے کا اعلان کیاتھا۔ شاتاقوا انسٹیٹیوٹ کی تقریب اس سلسلے کا پہلا پروگرام تھا جہاں ان پر حملہ ہوا۔ جمعہ کی شام ان کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے ایک بیان میں کہا کہ  سلمان رشدی مصنوعی تنفس یا Ventilatorپر ہیں اور بول نہیں پارہے۔ جناب وائلی نے خدشہ ظاہر کیا کہ  رشدی ممکنہ طور پر ایک آنکھ سے محروم ہو جائیں گے، ان کے بازو کے اعصاب کٹے ہوئے ہیں اور ان کے جگر کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ لیکن ہفتے کو ایری ہسپتال کے ترجمان نے کہا کہ سلمان رشدی اب خود سانس لے رہے ہیں اور انھوں نے بات بھی کی ہے۔

سلمان رشدی پر حملے کے الزام میں نیو جرسی کے رہایشی 24 سالہ ہادی ماتر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے مزید تفصیلات اور حملے کے محرکات پر  کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ ہفتے کی صبح ہادی کو شاتاقاوا کاونٹی کی عدالت میں ہیش کیا گیا جہاں ملزم نے فردِ جرم کی صحت سے انکار کرتے ہوئے اپنے ایک سطری بیان میں کہا کہ 'میں نے کوئی جرم نہیں کیا' ۔ ہادی کو آئندہ سماعت تک کیلئے جیل بھیجدیا گیا۔

اس واقعہ پر مغربی رہنماوں نے شدید رد عمل کااظہار کیا ہے۔برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے ایک  ٹویٹ  میں  کہا کہ  سر سلمان رشدی کو اس حق کا استعمال کرنے کی پاداش  چھرا گھونپ دیا گیا ہے جس کے دفاع سے ہمیں کبھی باز نہیں آنا چاہیے۔

فرانس کے صدر ایمونل میکواں نے کہا کہ  کہ مسٹر رشدی 'آزادی اور جہل پسندی کے خلاف جنگ کی مجسم علامت ہیں اور وہ  نفرت اور بربریت کی علمبردار قوتوں کے بزدلانہ حملے کا شکار' ہوئے۔

امریکی صدر جو بائیڈ ن نےئ اپنے ایک بیان میں کہا کہ 'جِل (خاتونِ اول) اور مجھے نیویارک میں سلمان رشدی پر گھناونے حملے کی خبر سن کر سخت صدمہ پہنچا۔آج ہم ان تمام لوگوں کیساتھ یکجہتی کا اعادہ کررہے ہیں جو آزادی اظہار رائے کیلئے سرگرم ہیں۔

کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ تمام انبیا اکرام کی توہین کو بین الاقوامی جرم قرار دیا جائے۔جو تحریر و تقریر اربوں انسانوں کے سینے چھلنی کرتی ہو اسکی اشاعت آزادی اظہار رائے نہیں، بدترین دہشت گردی ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 19 اگست 2022

روزنامہ امت کراچی 19 اگست 2022

ہفت روزہ  دعوت دہلی 19 اگست 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 21 اگست 2002

روزنامہ قومی صحافت لکھنو