Thursday, March 14, 2024

امریکہ کے انتخابات ۔۔ تاریخی مقابلہ ، تاریخ سے سبق

 

امریکہ کے انتخابات ۔۔ تاریخی مقابلہ ، تاریخ سے سبق

نومبر 2020 میں  جو بائیڈن نے  صدرڈانلڈ  ٹرمپ کا مقابلہ کیا تھا اور اس سال 5 نومبر کو  صدر جو بائیڈن اور سابق صدر ڈانلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک بار بھر میدان سجے گا۔ ڈانلڈ ٹرمپ نے 2020 کا معرکہ ختم ہوتے ہی 2024 کیلئے کمر کس لی تھی اور وہ گزشتہ چار سال سے انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ اس طویل مہم کے نتیجے میں ریپبلکن پارٹی پر انکی گرفت آہنی سے زیادہ  جابرانہ ہوچکی ہے۔ گزشتہ ہفتے انکی بہو محترمہ لارا ٹرمپ پارٹی کی شریک سربراہ (co chair) منتخب ہوگئیں۔

جیسا کہ ہم پہلے ایک نشست میں عرض کرچکے ہیں کہ اسوقت پارٹی ٹکٹ کا مرحلہ درپیش ہے۔ امریکہ میں پارلیمانی بورڈ اپنے امیدواروں کو ٹکٹ جاری نہیں کرتے، بلکہ نامزدگی کیلئے پارٹیوں کے پرائمری  انتخابات منعقد ہوتے ہیں جنکا اہتمام ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ سیاسی جماعتو ں کی رکنیت کی نہ کوئی فیس نہے اورنہ منظوری کا کھکھیڑ ۔  ووٹ رجسٹر کراتے وقت جماعتی وابستگی ظاہر کرنابہت کافی ہے۔ بعض ریاستوں میں تو یہ تکلف بھی غیر ضروری ہے۔پرائمری کے روز پولنگ اسٹیشن جاکر آپ کسی بھی پارٹی کا بیلٹ حاصل کرسکتے ہیں۔

دونوں جماعتیں  اپنے امیدوار کا انتخاب مرکزی اجتماع میں کرتی ہیں اور ریاستی  یا پرائمری انتخابات میں سالانہ اجتماع کیلئے مندوبین کا چناوہوتا ہے۔ ہر ریاست سے مندوبین کی نشستیں آبادی کے مطابق ہیں ۔ پرائمری انتخابات میں امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے انکے مندوبین کو منتخب قرار دے دیا جاتا ہے۔ اِس بار ریپبلکن پارٹی کا انتخابی اجتماع 15 تا 18 جولائی ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی میں منعقد ہوگا جہاں  مندوبین اپنے صدارتی امیدوار کا چناو کرینگے۔ڈیموکریٹک پارٹی کی بیٹھک اس بار 12 سے 19 اگست تک شکاگومیں سجے گی۔ صدربائیڈن اور ڈانلڈ ٹرمپ کی ٹکٹیں اب تقریباً پکی ہوچکی ہیں لہذا پرایمری انتخابات کے باقی مراحل اور انتخابی اجتماعات کی حثیت اب رسم و روائت سے زہادہ کچھ نہیں۔

اس سال نومبر میں پڑنے والا جوڑ  1956 کے بعد پہلا واقعہ ہوگا کہ دوامیدوار پئے در پئے دوبار ایک دوسرے کے سامنے آئے ہیں، 1952 میں ریپبلکن ڈویٹ آئزن ہاور (Dwight Eisenhower)  نے ایڈلائی اسٹیونسن (Adlai Stevenson)کو شکست دی، چار سال بعد 1956 میں یہ دونوں حضرات ایک بار پھرمد مقابل ہوئے  اور جناب اسٹیونسن  دوسری بار بھی ہار گئے۔

اب تک پہلی مدت کے بعد شکست کھاجانے والے 6 سابق امریکی صدور نے انتخابات میں حصہ لیا ہے جن میں سے صرف صدر گروور کلیولینڈ Grover Clevelandکو کامیابی نصیب ہوئی۔ صدر کلیولینڈ 1884میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ٹکٹ پر صدر منتخب ہوئے اور چار سال بعد 1888میں انھیں صدر بن یامین ہیریسن (Benjamin Harrison)نے ہرادیا۔ 1892 کے انتخابات میں وہ ایک بار پھر سامنے آئے اور صدر بن یامین ہیریسن کو ہراکر انھوں نے اپنی شکست کا بدلہ لے لیا۔ حالیہ امریکی انتخابات اس اعتبار سے بھی تاریخی ہیں کہ صفِ اول کے دونوں امیدوار خاصی بڑی عمر کے ہیں۔ اکیاسی سالہ جو بائیڈن  کو امریکی تاریخ کا معمر ترین صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے تو انکے حریف ڈانلڈ ٹرمپ 76 سال کے ہیں۔

انتخابات میں اصل مقابلہ  صدر بائیڈن اور ڈانلڈ ٹرمپ کے درمیان ہے لیکن سابق سینٹر رابرٹ کینیڈی کے 70 سالہ صاحبزادے رابرٹ کیینڈی جونئیر ایک مضبوط آزاد امیدوار سمجھے جارے ہیں اور رائے عامہ کےجائزوں میں انکی مقبولیت 8 فیصد سے زاید ہے۔ معروف فلسفی اور استاد جناب  کورنیل ویسٹ اور گرین پارٹی کی  ڈاکٹر جِل اسٹائن بھی اپنی کامیابی کے بارے میں پرامید ہیں۔

امریکہ میں صدارتی انتخاب کا طریقہ دنیا میں مروجہ نظام سے ذرا مختلف ہے۔یہ طریقہ کار کیا ہے اس پر چند سطور

ریاست ہائے متحدہ امریکہ  50 آزاد و خود مختار ریاستوں پر مشتمل ایک وفاق کا نام ہے۔ وفاق کی  ہر ریاست کا اپنا دستور، جھنڈا اورمسلح فوج ہے۔ وفاق کی علامت اور نمائندے کی حیثیت سے  مسلح افواج کی کمان صدر کے پاس ہے۔ صدر کے انتخاب میں ہر ریاست انفرادی اکائی کی حیثیت سے ووٹ ڈالتی ہے اور اس مقصد کیلئے ایک کلیہ انتخاب یا Electoral-Collegeتشکیل دیا گیا ہے۔

کلیہ انتخاب میں ہر ریاست کو اسکی آبادی کے مطابق نمائندگی دی گئی ہے اور یہ اس ریاست کیلئے ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی یا لوک سبھا) اور سینیٹ (راجیہ سبھا) کیلئےمختص نشتوں کے برابر ہے۔ امریکہ میں ایوان نمائندگان کی نشتیں آبادی کے مطابق ہیں جبکہ سینیٹ میں تمام ریاستوں کی نمائندگی یکساں ہے یعنی ہر ریاست سے سے دو دو سینیٹرز منتخب کئے جاتے ہیں۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان کی نشستوں کی مجموعی تعداد 435،  جبکہ 50 ریاستوں سے 100 سینیٹرز منتخب ہوتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت  کے انتخابی کالج میں تین ووٹ ہیں۔گویا کلیہ انتخاب 538 ارکان پر مشتمل ہے۔

الیکٹرل کالج کی ہٗیت کو اسطرح سمجھئے کہ نیویارک کیلئے ایوان نمائندگان کی 26 نشستیں مختص ہیں چنانچہ 2 سینیٹروں کو ملاکر  انتخابی کالج میں  نیویارک کے 28 ووٹ ہیں۔ یہاں 'سارے ووٹ جینتے والے کیلئے' کا اصول اختیار کیا جاتا ہے یعنی ریاست میں جس امیدوار کو بھی برتری حاصل ہوئی اس ریاست سے انتخابئ کالج کیلئے مختص سارے ووٹ اُس امیدوار کے کھاتے میں لکھ دئے جاتے ہیں۔ یعنی اگر نیویارک سے کسی امیدوار نے ایک ووٹ کی برتری بھی حاصل کرلی تو تمام کے تمام28 الیکٹرل ووٹ اسے مل جائینگے۔ صرف ریاست مین Maine اور نیبراسکا میں ایک تہائی الیکٹرل ووٹ ایوان نمائندگان کی حلقہ بندیوں کے مطابق الاٹ کئے جاتے ہیں ورنہ باقی سارے امریکہ میں ریاست کے مجموعی ووٹوں کی بنیاد پر فیصلہ ہوتا ہے۔

دلچسپ بات کہ   5 نومبر کو ہونے والی ووٹنگ کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں بلکہ صدر اور نائب صدر کے انتخابات کیلئے 15 دسمبر کو تمام ریاستی دارالحکومتوں میں پولنگ ہوگی جس میں الیکٹرل کالج کے ارکان خفیہ بیلٹ کے ذریعے صدر اور نائب صدر کیلئے ووٹ ڈالینگے۔ ووٹنگ کے بعد نتائج ترتیب دئے جائینگے اور اسے ایک بکس میں بند کرکے وفاقی دارالحکومت بھیج دیا جائیگا۔6 جنوری 2025 کو  چیئرمین سینیٹ کی نگرانی میں تما م ریاستوں سے آنے والے بکسوں کو کھول کر صدارتی انتخاب کے سرکاری نتیجہ کا اعلان ہوگا۔ صدر منتخب ہونے کیلئے کم ازکم 270 الیکٹرل ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ واضح رہےکہ قانونی طور سے الیکٹرل کالج کے ارکان کسی مخصوص امیدوار کو ووٹ دینے کے پابند نہیں اور انتخاب بھی خفیہ بیلٹ پیپر کے ذریعے ہوتا ہے، اسکے باوجود گزشتہ ڈھائی سو سال کے دوران ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا کہ جب الیکٹرل کالج میں عوامی امنگوں کے برخلاف  ووٹ ڈالا گیا ہو۔

آنے والے انتخابات  کے اہم ترین نکات اسقاطِ حمل ور امیگریشن  ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ نے ایک فیصلے کے ذریعے اسقاط کے قانونی یا غیر قانونی ہونے کا معاملہ ریاستوں کے حوالے کردیا ہے اور ریپبلکن پارٹی کی زیرحکو مت  ریاستوں میں چند استثنیٰ کیساتھ اسقاطِ حمل قابل سزا جرم ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی اسے عورت کے جسم پر حکومت کا جابرانہ کنٹرول قراردیتی ہے۔ صدر بائیڈن کہتے ہیں کہ اسقاط یا ولادت کا فیصلہ پُرامید ماوں کا اختیار ہے۔جناب ٹرمپ اس معاملے پر کھل کر نہیں بولتے لیکن ریپبلکن پارٹی کے قدامت پسند اسقاط کو قتل سمجھتے ہیں۔

امیگریشن کے معاملے پر ڈانلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کا موقف بہت سخت ہے۔ وہ میکسکو سے ملنے والی امریکی سرحد پر فوج تعینات کرکے غیر قانونی تارکین وطن کی امریکہ آمد کا راستہ مسدود کردینا چاہتے ہیں۔ ایک موقع پر جناب ٹرمپ یہاں تک کہہ گئے کہ دوبارہ  صدر بن جانے پر  کمانڈر انچیف کی حیثیت سے وہ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والوں کو گولی ماردینے کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔اسی کیساتھ ماحولیاتی  کثافت و موسمی تبدیلی، معیشت، مہنگائی، صحت و اعلی تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور خارجہ پالیسی پر بھی بحث جاری ہے۔

صدر بائیڈن،  ڈانلڈ ٹرمپ کو فاشسٹ خیالات کا انتہا پسند اور جمہوریت کیلئے خطرہ قرار دے رہے ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ  انتخابات میں امریکیوں کو جمہوریت کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ وہ ٹرمپ کی امریکی نشاۃ ثانیہ کی تحریک Make America Great Againیا ماگا کے ایجنڈے کو جمہوری عقائد سے متصادم ثابت کر رہے ہیں۔ انھیں خوف ہے کہ  ماگا  انتہا پسند ایجنڈے کا نفاذ جمہوری اداروں کی بنیادی ہئیت کو مسخ کردیگا۔

غزہ خونریزی پر مسلمانوں کی فکر مندی بہت عیاں ہے۔ نائن الیون کے بعد سے مسلمانوں کی ہمدردیاں ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ہیں اور گزشتہ بار کئی ریاستوں میں مسلمانوں کے ووٹ جو بائیڈن کے حق میں فیصلہ کن ثابت ہوئے تھے۔ غزہ کے معاملے پر جو بائیڈن نے جس بے حسی اور طوطا چشمی کا ثبوت دیا ہے اس پر مسلمان سخت غصے میں ہیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کے بارے میں جناب ٹرمپ کا رویہ  متعصبانہ  اوراسرائیل ان دونوں کا لاڈلا،  یعنی  مسلمانوں کے لئے ایک جانب کنواں تو دوسرے رخ پر کھائی ہے۔

صدر بائیڈن کو پریشانی اس بات کی ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ایریزونا،  مینیسوٹا، مشیگن، پینسلوا نیہ اور جارجیا س انھوں نے معمولی ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی اور یہاں مسلمان ووٹ کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔اِن پانچ ریاستوں میں انتخابی ووٹوں کی مجموعی تعداد 71 ہے  جو اگر ووٹ بائیڈن کو نہ ملے تو انکی شکست یقینی ہے۔ پرائمری انتخابات میں  مینیسوٹا اور مشیگن کے مسلما نوں نے اپنی ناراضگی کا بہت نپے تلے انداز میں کیا یعنی وہ رہے تو ڈیموکریٹک پارٹی کے کیمپ میں ہی لیکن  کنونشن کیلئے انھوں نے بائیڈن کے حمائتیوں کے بجائے آزاد (uncommitted) مندوبین کا انتخاب کیا۔

رائے عامہ کےجائزوں کے مطابق ڈانلڈ ٹرمپ صدر بائیڈن سے آگے ہیں۔ آزاد امیدوار رابرٹ کینڈی کے پیشقدمی اور مسلمانوں کو ناراضگی جناب بائیڈن کیلئے مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ تاہم انتخابات میں آٹھ ماہ  باقی ہیں یعنی پلوں کے نیچے سے کافی پانی ابھی اور بہنا ہے ۔

پانچ نومبر کو صدارتی انتخابات کے ساتھ سینیٹ کی 33 اور ایوان نمائندگان ّکی 435 نشستوں کیلئے بھی ووٹ ڈالے جائینگے۔ اسوقت ایوان نمائند میں 213 ڈیموکریٹ کے مقابلے میں ریپبلکن ارکان کی تعداد 219 ہے جبکہ سینیٹ کی 48 نشستیں ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس ہیں اور  49 پر ریپبلکن ارکان براجمان ہیں۔ دوآزاد سینیٹروں نے خود کو ڈیموکریٹک پارلیمانی پارٹی سے وابستہ کررکھا ہے۔ ایریزونا کی آزاد سینیٹر محترمہ کرسٹن کسی کے ساتھ نہیں۔

سینیٹ کی جن نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں ان میں بیس ڈیموکریٹک ارکان اور 10 ریپبلکن  سینیٹرز کی مدت مکمل ہونے پر خالی ہورہی ہیں۔ گویا ایوان  صدر کے ساتھ ڈیموکریٹک پارٹی کو سینیٹ پرا پنی اکثریت برقرار رکھنے کیلئے بھی سخت محنت کرنی پڑیگی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 15 مارچ 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 15 مارچ 2024

روزنامہ امت کراچی 15 مارچ 2024

ہفت روزہ رہبرسرینگر 17 مارچ 2024

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


Saturday, March 9, 2024

بموں اور میزائیلوں کی بارش میں رمضان کی آمد

 

بموں اور میزائیلوں کی بارش میں رمضان کی آمد

جب یہ سطور آپ تک پہنچیں  گی، مسلماناں عالم رمضان کی برکتوں سے مستفید ہورہے ہونگے۔ اہل غزہ  بیچارے7 اکتوبر سے کھجور اور چند گھونٹ پانی پر 'سحر و افطار 'کررہے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے عالمی ادارہ صحت (WHO)نے یہ روح فرسا خبر سنائی کہ غزہ کے دس بچے بھوک و پیاس سے دم توڑ گئے۔ ادارے نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ خوراک کی قلت سے مرنے والوں کی تعداد میں ہر روز مزید اضافہ ہوگا۔

دنیا یہ مظالم دیکھ رہی ہے،  اس پر افسوس اور گریہ زاری کا عمل بھی نظر آرہا ہے لیکن دستِ قاتل کو روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش اب تک سامنے نہیں آئی،  حتیٰ کہ ظلم کا بچشمِ خود مشاہدہ کرنے والے بھی جنگ بندی کے مطالبے سے گریزاں ہیں۔اسرائیل سے مرعوب امریکی سیاست کا عبرتناک مشاہدہ  چند روزپہلے ہوا جب .امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے چھ ارکانِ کانگریس  نے اسرائیل سے واپسی پر ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ 'وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو فلسطینی زندگیوں کو نظر انداز کرکے غزہ کی 'مکمل تباہی' کے درپئے نظر آرہے ہیں' ایوان کی مجلس قائمہ برائے تفویض و تخصیص (Appropriation) کی سینئر رکن محترمہ روسا ڈیلیرو کی قیادت میں اس وفد نے غزہ کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ بیان میں بہت وضاحت سے نیتن یاہو کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکامی کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایاگیاہے. لیکن ستم ظریفی کہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد بھی امریکہ کے ان لال بھجکڑوں نے مکمل جنگ بندی کے بجائے لڑائی میں چھ ہفتے کے وقفے کا مطالبہ کیا تاکہ قیدیوں کا تبادلہ ممکن ہوسکے.یعنئ 25 لاکھ فلسطینیوں پر 100 قیدی بھاری ہیں۔

غزہ آنے کے تمام راستوں پر اسرائیلی انتہا پسند دھرنا دئے بیٹھے ہیں۔ رفح مصر سرحد پر تلاشی کا نظام اتنا سست کہ ایک دن  میں زیادہ سے زیادہ پندرہ ٹرکوں کو غزہ آنے کی اجازت مل پاتی ہے۔ جہاں 20 لاکھ افراد بھوک پیاس کا شکار ہوں وہاں پندرہ ٹرکوں سے کتنے لوگوں تک چند گھونٹ پانی پہنچ سکتا ہے۔ اسرائیلیوں کی کٹھور دلی کا یہ عالم کہ انھیں ان پندرہ ٹرکوں کا آنا بھی قبول نہیں۔

جمعرات 29 فروری کو  شمالی غزہ میں امدادی راشن کیلئے جمع ہونے والے بھوکے پیاسے شہریوں کو  اسرائیلی فوج نے  گھیر کر چاروں طرف سے فائرنگ شروع کردی یا یوں کہئے کہ جلیانوالہ باغ  کی تاریخ دہرادی گئی۔ نہتے لوگوں کو ڈرون سے بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس وحشیانہ کاروائی میں خواتین اور شیرخوار بچوں سمیت 130 افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ .اسرائیل فوج کے ترجمان نے پہلے تو  بھگڈر کو ان اموات کا سبب قراد دیا لیکن جب اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے بصری تراشے جاری کئے تو تل ابیب نے موقف تبدیل کرلیا اور کہا کہ  ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 'دہشت گردوں'  نے ٹینکوں کو گھیر لیا اور فوج نے اپنے دفاع میں گولی چلائی۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اکثر لاشوں میں چھ سے زیادہ گولیاں پیوست پائی گئیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجمع پر بہت قریب سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ امریکی صدر نے اس واقعے پر گہرے رنج کا اظہار کیا لیکن اس بھیانک واقعہ پر سلامتی کونسل کی مذمتی قرارداد ویٹو کی دھمکی دیکر رکوادی۔ الجزائر کی پیش کردہ اس تحریک کی امریکہ کے سوا تمام کے تمام ارکان نے حمائت کی تھی۔

اس بھیانک واقعے کے دوسرے روزایک مزاحیہ فنکار کیساتھ آئسکریم چاٹتے ہوئے امریکی صدر نے غزہ امن کی 'نوید' سنادی۔ موصوف بہت اعتماد سے بولے کہ دس مارچ  تک جنگ بندی ہوسکتی ہے۔ْ فرمایا کہ وہ 'احترامِ رمضان' میں چھ ہفتےکیلئے جنگ بندی کے خواہشمند ہیں تاکہ اہل غزہ رمضان کے روزے اطمینان سے رکھیں، عید منائیں اور اس دوران قیدی بھی رہا کردئے جائیں۔زمینی حقائق سے بےخبر بائیڈن نے رمضان امن پیکج' کی رونمائی اس شان سے فرمائی جیسے یہ امریکی خارجہ پالیس کا بڑا کارنامہ ہے. صدر بائیڈن اور گوری دنیا کو غزہ قتل عام پر فکرو پریشانی صرف اسلئے ہے کہ اسکے نتیجے میں زیرحراست اسرائیلی قیدیوں کی زندگی خطرے میں پڑسکتی ہے۔ اسی لئے وہ مسلسل عارضی جنگ بندی کی تجویز دے رہے ہیں تاکہ اس دوران قیدی رہا ہوجائیں جسکے بعد بلا سے اسرائیل ہلاکت خیز بمباری دوبارہ شروع کردے۔

 عین اسوقت جب آئسکریم کے مزے لیتے ہوئے موصوف امن جگالی فرمارہے  تھے، اہل غزہ نے اعلان کیا کہ مکمل جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی انکی بنیادی شرط ہے جسکے بعد ہی قیدیوں کے تبادلے پر بات ہوسکتی ہے۔اسرائیلی خبر رساں اداروں نے بھی ہل غزہ کی جانب سے پیرس امن تجاویز مسترد کردینے کی تصدیق کی ہے۔

جہاں امریکی قیادت  بےحسی کی انتہا پر ہے وہیں امریکی فضائیہ کے ایک باوردی افسر نے ضمیر کی خلش مٹانے کیلئے دارالحکومت واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے خود کو آگ لگالی۔پیٹرول سے شرابور جسم کو دیاسلائی دکھانے سے پہلے اس نے کہا 'میں غزہ نسل کشی میں سہولت کار نہیں رہ سکتا اور اس ظلم پر شدید احتجاج کرتا ہوں”.شعلوں میں گھرا یہ شخص "فلسطین کو آزاد کرو" کا نعرہ لگاتا رہا۔پولیس اور فائربریگیڈ کے عملے نے آگ بجھا کر اسے ہسپتال پہنچا دیا۔ جہاں یہ  25 سالہ اہلکار ہارون بشنیل Aaron Bushnell زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ بشنیل فضائیہ کے محکمہ سراغرسانی میں تھا اور اسے غزہ کے بارے اہم معلومات تک رسائی تھی۔ سوشل میڈیا پر اس نے کہاکہ  امریکہ کی پشت پناہی میں اسرائیلی فوج نہتے اہل غزہ پر جو ظلم ڈھارہی ہے اسے بیان کرنا میرے بس میں نہیں۔ ضمیر کی خلش مجھے سونے نہیں دیتی، میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ انساان ایسا وحشی بھی ہوسکتا ہے۔ اگر میں مزید زندہ رہا تو پاگل ہوجاونگا اسلئے اپنی زندگی ختم کررہا ہوں۔

مظالم کی انتہا اور اسرائیلی جرنیلوں کی جانب سے فتح مبیں کی نوید کے باوجود زمین پر عسکری صورتحال فلسطینیوں کیلئے مایوس کن نہیں۔ امریکی سراغرساں اداروں کی رپورٹ کے بعد سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے سراغرساانی کے سربراہ سینیٹر مارک ورنر نےامریکی ٹیلی ویژن  NBCکو بتایا. کہ غزہ سرنگ نیٹ ورک کے صرف ایک 'چھوٹے سے حصے کو کلیئر کیا گیا ہے۔ جن سرنگوں کو اسرائیلی مکمل طور پر صاف کرنے میں کامیاب رہے ہیں وہ بہت کم اور حیرت انگیز طور پر بہت چھوٹا حصہ ہے'.امریکی مرکزی کمان کے سابق سربراہ جنرل جان ووٹل نے کہا کہ اگر اسرائیل کے اس دعوے کو درست بھی مان لیاجائے کہ وہ 40 فیصد فلسطینی جنگجووں کو ہلاک کرچکے ہیں تب بھی غزہ اسرائیل کیلئے دلدل بنتا نظر آرہا ہے۔

غیر جانبدار عسکری ماہرین،  میدان جنگ میں فوجی یونٹو ں کے تعیناتی دورانیوں میں تبدیلی کو بھی معنی خیز قراردے رہے ہیں انکا خیال ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینی نشانچیوں کے حملے سے خاصی پریشان ہے۔ سنگلاخ و مشکل علاقوں کیلئے خصوصی تربیت یافتہ اسرائیلی گیواتی بریگیڈ میں درجنوں افسران کو  چند میٹر کے فاصلے سے نشانہ بنایا گیا۔.اسرائیلی فوجی قیادت کو اس بات پر بڑی حیرت ہے کہ تربیت یافتہ کتوں، جسم کی حرارت اور سانس کی حرکت نوٹ کرنے والے حساس آلات کی موجودگی میں شکاری بلا اطلاع انکے سروں پر کیسے پہنچ جاتے ہیں؟؟ جمعرات 29 فروری  کو پیراٹروپر بریگیڈ کی جگہ تازہ دم پیادہ کور کے تربیت یافتہ کمانڈوذ کو جنوبی غزہ تعینات کیا گیا۔ اسی رات ایک دومنزلہ خستہ عمارت میں مستضعفین نے بارود بھرکر یہ تاثر دیا کہ یہاں مزاحمت کار چھپے ہوئے ہیں۔ جب اسرائیلی فوجی تلاشی کو آئے تو پوری عمارت دھماکے سے اڑگئی۔ تین اسرائیلی سپاہی ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے یعنی سرمنڈاتے ہی اولے پڑے کے  مصداق پہلے ہی روز نوواردوں پر یہ آفت ٹوٹ پڑی۔ اسرائیل کے عسکری اسپتالوں، بحالی مراکز (Rehabilitation Center) اور پارکوں میں   جوانانِ رعنا بیساکھیوں پر گھسٹے اور وھیل چیر پر محوِ خرام نظر آتے ہیں۔ گزشتہ  دنوں کسی اسرائیلی صارف نے فیس بک کے ایک عبرانی صفحے پر لکھا کہ غزہ سے آنے والے زخمیوں میں کوئی بھی پورے جسم کیساتھ نہیں آیا۔کسی کی آنکھ غائب ہے تو کسی کا ہاتھ یا پیر۔

 اسرائیلی فوجیوں کے مظالم کے جو روح فرسابصری تراشے leakہورہے ہیں، صحافتی حلقوں کے خیال میں وہ  اسرائیل کی نفسیاتی مہم کا حصہ ہے۔ حال ہی میں ایک تراشہ جاری ہوا ہے جس میں چند مشکیں کسے بچوں کو ٹینکوں سے کچلنے کا مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اس سے پہلے ایک فلسطینی بچے کو برہنہ کرکے تشدد کا منظر عام ہوا۔ ایک ہفتہ قبل جاری ہونےوالی کلپس میں  دکھایا گیا ہے کہ  غزہ کی خواتین سے چھینے گئے زیورات،  اسرائیلی فوجی بہت فخر سے اپنی بیویوں اور گرل فرینٖڈز کو پیش کررہے ہیں۔ یہ مناطر کسی بھی فوج کیلئے شرمناک ہیں لیکن انکے اجرا کامقصد ایک طرف تو فلسطینیوں کو دہشت زدہ کرنا ہے تو دوسری طرف یہ مناظر خو فزدہ سپاہیوں کے حوصلوں کو بلند کرنے اور  انکو مزید مظالم پر  آمادہ کرنے  کی کوشش ہے۔ 

جہاں امریکہ میں ایک فوجی کی خودسوزی سے انسانی ضمیر کی بیداری کا پتہ چل رہا ہے وہیں  انگلستانی شہر روکڈیل (Rockdale) کے ضمنی انتخاب میں فلسطینیوں کے پرجوش حامی جارج گالوے (George Galloway)کی شاندار کامیابی سے سیاست کا نیا رجحان ظاہر ہورہا ہے۔ یہ نشست لیبر پارٹی کے سر ٹونی لائیڈ کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔ آزاد فلسطین نعرے پر جان گالووے ورکرزپارٹی کے نمائندے حیثیت سے کھڑے ہوئے  اور 12335ووٹ لے کر یہ نشست جیت لی۔ انکے قریب ترین حریف، آزاد امیدوار ڈیوڈ ٹلی نے 6638 ووٹ لئے۔  گالووے نے اپنی کامیابی کو غزہ کے شہیدوں کے نام کیا اور ایک بڑے ہجوم سے خظاب کرتے ہوئے انھوں نے قائد حزب اختلاف Keir Starmer کو مخاطب کرکے کہا کہ جناب، عالی  یہ غزہ کی کامیابی ہے۔ جناب گالووے نے کہا کہ وزیراعظم اور قاید حزب اختلاف ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جو ذاتی سیاسی مفاد کیلئے غزہ قتل عام کو سہولت کاری فراہم کررہے ہیں..

غزہ کیساتھ غربِ اردن پر مظالم میں مزید شدت آگئی ہے۔ منگل 27 فروری کی شام الخلیل (Hebron)شہر کی رائل پلاسٹک فیکٹری میں پراسرار طور پر آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے آدھے شہر کو لپیٹ میں لے لیا.یروشلم سے 30 کلومیٹر جنوب میں تلال الخلیل پہاڑ پر واقعہ یہ شہر سطح سمندر سے 930 میٹر بلند ہے۔غزہ حملے کے بعد سے غرب اردن کے دوسرے صنعتی یونٹوں کی طرح یہ فیکٹری بھی تالہ بندی کا شکار تھی۔الخلیل کے رئیس شہر تيسير أبو سنينہ کے مطابق آگ اچانک بھڑکی اور انتہائی پراسرار انداز میں پھیل گئی۔ فائر بریکٖیڈ کا مرکزی دفتر بھی آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ مئیر (Mayor)صاحب اسرائیل خفیہ پولیس کی فہرست میں ایک دہشت گرد اور بستہ ب کے بدمعاش ہیں اسلئے فائر بریگیڈ اور شہری خدمات کے اسرائیلی اداروں نے انکے فوں کا جواب تک نہیں دیا اور دولاکھ نفوس پر مشتمل اس  شہرکا بڑا حصہ راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ فلسطینیوں کے خیال میں آتشزدگی اسرائیلی بستی کی تعمیر کیلئے مقامی شہریوں کو  بیدخل کرنے کی حکمت عملی ہے۔

غزہ قتل عام پر دنیا کی بے حسی کا کیا گلاکہ پاکستان کرکٹ سپر لیگ (PSL)کی انتظامیہ نے اسٹیڈیم میں فلسطینی پرچم لہرائے پر پابندی لگادی۔ جواب میں کراچی کے شہریوں نے پی ایس ایل سے کنارہ کشئ اختیار کرلی اور الو بولتا اسٹیڈیم نشان عبرت بن گیا، کسی منچلے نے سوشل میٖڈیا پر ہانک لگائی کہ  'تم نے فلسطینی پرچموں پر پابندی لگائی، کراچی کے شہریوں نے تمہارے منہہ پر ویرانیت کے لعنت ثبت کردی ۔.نہر تا بحر ۔۔ فلسطین'

.پریشانیوں اور آزمائش کے باوجود فلسطینی، القدس شریف کے معاملے پر کسی مداہنت پر تیار نہیں۔ رمضان میں مسجد اقصیٰ تک رسائی محدود کرنے کے خلاف مطالبہ یا درخواست کے بجائے استقبالِ رمضان کیلئے القدس مارچ کا اعلان کیا گیاہے۔ نمازی پہلی تراویح کیلئے مقبوضہ بستیوں سے جلوس کی شکل میں مسجد اقصیٰ پہنچیں گے۔ ایسے ہی ایک حوصلہ مند نوٹ پر آج کی نشست کا اختتام

اسرائیلی فوج  شہریوں پر رفح خالی کرنے کیلئے دباو ڈال رہی ہے۔  ایک  80 سالہ نہتی دادی اماں  نے مسلح سپاییوں سے دوٹوک کہا 'میں کم عمری میں اپنے والدین کے ساتھ اپنے گھر سے نکالی گئی اور غزہ آگئی.یہیں میری شادی ہوئی اور میرے بچوں اور انکے بچوں نے جنم لیا.اسرئیلی بمباری نے مجھے اور میری بیٹیوں کو بیوہ کردیا .اوراب یہیں میری قبر بنے گی۔ میں کہیں نہیں جانیوالی.بم گراو، توپ چلاو، گولیاں مارو، ٹینکوں سے روند ڈالو

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی، ہفت روزہ دعوت دہلی ، روزنامہ امت کراچی  8 مارچ 2024

ہفت روزہ رببر سرینگر 10 مارچ 2024، روزنامہ قومی صحافت لکھنو


 



 

 

Thursday, February 29, 2024

وحشت کے ڈیڑھ سو دن ۔ بیت المقدس نیا نشانہ؟؟؟؟؟

 

وحشت کے ڈیڑھ سو دن ۔ بیت المقدس نیا نشانہ؟؟؟؟؟

ہفتہ وار کالم نگا رہر سات دن بعد  اس آزمائش سے گزرتے ہیں کہ اس بار کس موضوع پر طبع آزمائی کی جائے لیکن  غزہ حملے کے بعد سے ہمیں وہاں سسکتے اور تڑپتے بچوں کے علاوہ کوئی اور مسئلہ اہم لگتا ہی نہیں اور بقولِ حضرتِ  فیض    ' خاک میں لِتھڑے ہوئے، خون میں نہلائے ہوئے' ننھے لاشے  ہر وقت آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں۔ اس موضوع پر یہ ہمارا پندرہواں مضمون ہے  اور یہ تحریریں کسی بھی اعتبارو معیار سے کالم  نہیں بلکہ زندہ درگور ہوجانے والے بچوں کا نوحہ ہے۔غزہ قتل عام پر سب سے حقیقت پسندانہ اور انتہائی دردناک  تبصرہ ایک ننھی فلسطینی بچی کا ہے۔ کسی صحافی نے پوچھا غزہ کہاں واقع ہے؟ تو غربِ اردن کی ایک نو سالہ فلسطینی لڑکی نے  جواب دیا کہ آدھا غزہ جنت میں اور باقی  زخموں سے چور صحرائے سینائی کے جنوب میں بحیرہ روم کے کنارے ایڑیاں رگڑ رہاہے۔

برازیل کے صدر لوئز لولا ڈی سلوا نے کیا خوب کہا کہ  ' غزہ خونریزی کو جنگ کہنا غلط ہے، یہ درحقیقت جدید ترین ہتھیار وں سے لیس، منظم فوج  کا  عورتوں اور بچوں  پر حملہ ہے'۔ ادیس ابابا میں افریقی یونین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب لولا بولے کہ غزہ  میں جو  ہو رہا ہے وہ جنگ نہیں نسل کشی ہے۔ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا سوائے ایک مرتبہ  کے کہ جب ہٹلر نے یہودیوں کو مارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عالمی عدالتِ (ICJ) کے روبرو جنوبی افریقہ کے سفیر  Vusimuzi Madonsela نے کہا کہ 'اسرائیل فلسطینیوں سے جوامتیازی و توہین آمیز سلوک کررہا ہے وہ ہمارے ملک میں 1994تک جاری رہنے والے Apartheid سے بدتر ہے۔

غزہ پر آتش و آہن کی موسلا دھار بارش کا یہ 142 وا ں دن ہے اور کالم کی  اشاعت تک ڈیڑھ سو دن ہونے کو ہونگے۔ اس خونریزی کے بند ہونے بلکہ دھیما ہونے کا کوئی امکان  نہیں کہ یہ بی بی کی انا، اسرائیل کے قاہرانہ جبر اور فلسطینیوں کے پرعزم صبر کی جنگ ہے۔ گورے مغرب کی غیر مشروط و لامحدود پشتیبانی اور دنیا کی خاموشی اس آگ کو ہوادے رہی ہے۔

جنگ کے خلاف آوازیں اسرائیل سے بھی اٹھ رہی ہیں لیکن وہاں تشویش کا محور غزہ میں زیر حراست قیدی ہیں، گزشتہ ہفتے اسرائیل کے سابق وزیراعظم  یہود براک نے فوجی ریڈیو پر  ایک انٹرویو میں  کہا کہ  نیتھن یاہو کے لئے دبنگ نظر آنا قیدیوں کی رہائی سے زیادہ اہم ہے۔ وہ اپنی انا کیلئے یرغمالیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کو تیار ہیں۔ بی بی کے مزاج ٹھکانے لگانے کیلئے کنیسہ (پارلیمان) کے باہر 30,000 شہریوں کے تین ہفتے طویل دھرنے کی ضرورت ہے۔جب ملک بند ہو جائے گا تو نیتن یاہو کو احساس ہو گا کہ ان کا وقت ختم ہو چکا۔

امریکہ بہادر کی دلچسپی بھی صرف قیدیوں سے ہے چانچہ پیرس، قطر، قاہرہ ہر جگہ مذاکرات کی میزیں سجی ہیں۔ ابھی (25 فروری) تھوڑی دیر پہلے امریکی صدر کے مشیر قومی سلامتی جیک سولیون نے پیرس سے ندا دی کہ 'مذاکرات کاروں کے مابین غزہ میں عارضی جنگ بندی کے بدلے قیدیوں  کی رہائی کے ممکنہ معاہدے کے بنیادی خدوخال پر "اتفاق" ہوگیا ہے۔ (حوالہ CNN)۔ یعنی قیدیوں کا تبادلہ مکمل ہوتے ہی بمباری دوبارہ شروع کردی جائیگی۔ اہل غزہ عارضی جنگ بندی کی تجاویز کو کئی بار مسترد کرچکے ہیں۔ انکا کہنا ہے ہے غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی کے بعد ہی قیدیوں کے تبادلے پر بات ہوگی۔  

عارضی فائر بندی کیلئے بیقرار  امریکہ  چند دن قبل  غزہ جنگ بندی کیلئے سلامتی کونسل میں الجزائر کی قرارداد کو ویٹو کرچکا ہے۔ مسودہ پیش ہوتے ہی واشنگٹن  نے اسے  ناقابل قبول قراردیا تھا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب محترمہ لنڈا ٹامس گرین فیلڈ  کا کہناتھا کہ قرارداد کی جلد بازی میں منظوری سے پائیدار امن کیلئے جاری حساس مذاکرات کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ستم ظریفی کہ فاضل مندوب قاہرہ کے جس حساس مذاکرات کی طرف اشارہ فرمارہی تھیں وہاں سے اسرائیل کا وفد یہ کہہ کر پہلے ہی واپس  جا چکا تھا کہ اہلِ غزہ کی شرائط ہمیں منظور نہیں۔

عالمی عدالت نے اپنے  گول مول فیصلے میں اسرائیل سے جو وضاحت طلب کی تھی اسکا بھی تل ابیب نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ 26 جنوری کو سنائے جانے والے فیصلے کاجواب دینے کیلئے اسرائیل کو 30 دن کی مہلت دی گئی تھی۔ اس دوران جنوبی افریقہ نے فوری جنگ بندی کی ایک اور درخواست عدالت کے روبرو پیش کردی جس پر تادم تحریر بحث جاری ہے۔

گزشتہ ہفتے 27 رکنی یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں  اسرائیل سے 'درخواست' کی  تھی کہ وہ رفح میں ایسی فوجی کارروائی نہ کرے جس کے نتیجے میں پہلے سے تباہ کن انسانی صورتحال مزید خراب ہو۔ اس قدم سے بنیادی خدمات اور انسانی امداد کی فوری اور ضروری فراہمی معطل ہوجائیگی۔ ہنگری نے اس بیان پر دستخط نہیں کئے

غزہ کے ساتھ اب  بیت المقدس سے لہو کی مہک محسوس ہورہی ہے اور ڈر ہے کہ رمضان میں مسجد اقصیٰ میدانِ کربلا کا منظر پیش کریگی۔ اسرائیلی اخبارات کے مطابق رمضان المبارک کے دوران فلسطینیوں کے القدس شریف میں داخلے کو محدود کرنے کے اقدامات کی وزیراعظم نیتھں یاہو نے منظوری دیدی ہے۔یہ تجویز انتہا پسند وزیر اندرونی سلامتی المعروف پولیس منسٹر، اتامر بن گوئرنے پیش کی تھی۔ موصوف  کا کہنا ہے کہ قبلہ اول کے تصور نے فلسطینیوں اور اسرائیل کے عرب شہریوں میں مسجد اقصیٰ سے جذباتی وابستگی پیدا کردی یے۔ 'قبلہ اول' کی زیارت کیلئے رمضان اور دوسرے اسلامی تہواروں پر مسجد اقصیٰ میں غیر معمولی ہجوم ہوتا ہے اور نمازیوں کی صفیں مسجد کے دالان یعنی سارے القدس شریف (Temple Mount)تک آجاتی ہیں۔ اس دوران مسجد میں جذباتی خطاب اور القدس لنا (القدس ہمارا ہے) کے نعروں سے نمازی ذہنی طور پر مشتعل رہتے ہیں۔

اپنےایک حالیہ خطاب میں انھوں نے کہا ٓ کہ 7 اکتوبر کو حملے کو 'طوفان الاقصیٰ' پکارنے کے پیچھے بھی یہی حکمت عملی کار فرما تھی کہ 'قبلہ اول' کے نام پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات بر انگیختہ کئے جائیں۔ وزیرموصوٖف چاہتے ہیں کہ معراج النبی (ص) کے حوالے سے القدس شریف کی تاریخی حیثیت تو بر قرار رہے لیکن قبلہ اول کے تصور کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

منصوبے کے تحت پہلی تراویح سے اتنے ہی لوگوں کو کمپاونڈ میں آنے کی اجازت دی جائیگی جتنے مسجد اقصیٰ کے اندرسماسکیں۔ دالان میں صٖفیں بنانے کی ممانعت ہوگی۔ القدس شریف کے مختلف دروازوں خاص طور سے بابِ دمشق پر سحر و اٖفطار کیئے اشیائے خوردونوش کے جو اسٹال لگائے جاتے ہیں انکی اجازت منسوخ کی جارہی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی، شاباک (Shin Bet) نے بن گوئر کی تجویز کو داخلی سلامتی کیلئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسجد اقصیٰ کے معاملے میں فلسطینی حد درجہ حساس ہیں اور پابندیوں سے غربِ اردن کے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے عرب شہریوں میں بھی اشتعال پھیلے گا۔  تاہم پولیس منسٹر نے شاباک کی سفارش مسترد کردی اور ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق کابینہ کے حالیہ اجلاس میں وزیراعظم نے جناب گوئر کے مشورے کوصاد کردیا۔

مشرقی بیت المقدس المعروف مسلم کوارٹر کا اسلامی تشخص ختم کرنے کیلئے یہاں سے فلسطینیوں کو بیدخل کرنے کے ایک جامع منصوبے کی بھی وزیراعظم نے اصولی منظوری دیدی ہے۔  یروشلم کے مضافاتی علاقے معالی ادومیم Ma'ale Adumim میں فلسطینیوں کے مکانات منہدم کرکے  3000 نئے گھر تعمیر کئے جائینگے۔ 1967 میں قبضے کے فوراً بعد 49 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبہ خالی کراکر یہاں 37ہزار اسرائیلیوں کو آباد اور بیدخل کئے جانے والے ہزاروں فلسطینیوں کو خیمہ بستییوں میں ٹھونس دیا گیا تھا۔

واشنگٹن  کو اسرائیل کے اس اعلان پر سخت 'تشویش'ہے۔ ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ ٹونی بلیکنکن نے اس خبر کو مایوس کن قراردیا۔ انکا کہنا تھا کہ امریکہ نئی آبادیوں کی تعمیر کو امن کیلئے منفی اقدام سمجھتا ہے اور اس معاملے پر ڈیموکریٹس اور ریپبلکن میں کوئی اختلاف نہیں۔ اسرائیل کو منانے کیلئے بلینکن صاحب تل ابیب روانہ ہورہے ہیں۔

اہل غزہ کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کے ہونکے میں روس سے برسرِپیکار یوکرین،  چچاسام کی نظروں سے اوجھل ہوچکا ہے۔ ایک نجی محفل میں یوکرینی صدر ولادیمر زیلینسکی یہ کہتے سنے گئے کہ یوکرینی فوج کا توپوں اور ٹینک کے گولوں کا ذخیرہ تقریباً ختم ہوچکا ہے جبکہ چچا سام کی ساری توجہ اپنے لاڈلے کو نوازنے پر ہے۔صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روسیوں نے مشرقی یوکرین میں دونیتسک صوبے کے اہم شہر Avdiivka  پر قبضہ کرلیا۔

اسرائیل کو اہل غزہ کیساتھ بحیرہ احمر میں یمن کے حوثیوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے جو امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے مسلسل حملوں کے باوجود پرعزم ہیں کہ   بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن اسرائیل کیلئے NO GOعلاقہ بنارہیگا۔  اسرائیل آنے اور جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کیئے میزائیل اور ڈرونوں کے ساتھ اب زیرآب اسلحہ بھی استعمال ہورہا ہے۔ حال ہی میں حوثیوں نے امریکہ کا جدید ترین MQ-9 Reaper ڈرون مارگرایا۔حوثیوں کا کہنا ہے تین کروڑ ڈالر لاگت کے اس ڈرون کو مغربی یمن میں دارالحکومت صنعا کے قریب زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائیل سے نشانہ بنایا گیا۔

اسی دوران پانامہ پرچم برادر جہاز بھی  زد میں آگیا جو بحیرہ اسود کی بندرگاہ Novorossiysk سے تین لاکھ بیرل تیل لے کر بحرہند کی بندرگاہ اڑیسہ جارہا تھا۔ اس ٹینکر کو  یمنی بندرگاہ المخاہ کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ 24 فروری کو  اسرائیل کیلئے محو سفر 41 ہزار ٹن کھاد سے لدے بلیز (Belize)  کے پرچم بردار برطانوی جہاز روبیمر Rubymar کو میزائیل حملے میں  شدید نقصان پہنچا۔  امریکی مرکزی کمان کے مطابق پیندے میں پڑجانے والے شگافوں کی وجہ سے اسکی غرقابی کا خطرہ ہے ۔

غزہ خونریزی  اسرائیل کو بھی مہنگی پڑرہی ہے۔ اسرائیل کے مرکزی ادارہ شماریات یا Central Bureau of Statistics کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران قومی معیشت 20 فیصد سکڑ گئی۔تین سال پہلے  کرونا وائرس کے دوران  معیشت کا حجم 30 فیصد کم ہواتھا۔کسادبازاری، مہنگائی اور بیروزگاری کیوجہ سے آٹھ فیصد سے زیادہ اسرائیلی بے گھر ہوچکے ہیں۔

زوال پزیر معیشت پر مزدور مشتعل ہیں۔ اسرائیلی مزدور تنظیم کے سربراہ ہارون بار ڈیوڈ نے صنعتی شہر  بئر شیبہ میں مزدروں کے قومی کنونشن سے خطاب  کرتے ہوئے کہا کہ  وزیراعظم نیتھن یاہو، اسرائیل کیلئے تباہی کا استعارہ بن گئے ہیں۔بی بی سانحہِ 7 اکتوبر کی ذمہ داری قبول کرکے فوری طور پر نئے انتخابات کا اعلان کریں ورنہ مزدور سڑکوں پر ہونگے۔ مزدوروں کی نمائندہ یونین 1920 میں قائم ہوئی تھی اورا س سے وابستہ کارکنوں کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہے۔

بڑھتے ہوئے جانی نقصان، سپاہیوں کی معذوری، کساد بازاری، مزدروں کی طرف سے  ہڑتال کی دھمکی اور 25 فروری کو تل ابیب میں اشتعال انگیز مظاہروں سے بی بی دباو میں تو  ہیں لیکن انکی چوٹ کھائی انا اتنی آسانی سے ہتھیار ڈالتی نظر نہیں آتی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی یکم مارچ 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی، یکم مارچ 2024

روزنامہ امت کراچی یکم مارچ 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 3 ماتچ 2024

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


Thursday, February 22, 2024

رفحہ ۔۔۔ انسانوں کا جنگل و مقتل

 

رفحہ ۔۔۔ انسانوں کا جنگل  و مقتل

غزہ میں جاری وحشت 29 ہزار معصوموں کا خون چاٹ چکی ہے جس میں 70 فیصد خواتین اور چھوٹے بچے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 69 ہزار کے قریب ہےجنھیں علاج کی سہولت تو درکنار اسپتال کے بستر بھی میسر نہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی پوری پٹی رہنے کے قابل نہیں رہی۔ سرنگوں کی تلاش میں اسرائیلی فوج زمین میں سوراخ کرکے شدید دباو کے ساتھ سمندر کا پانی نیچے پمپ  کررہی ہے  جس کے نتیجے میں  جگہ جگہ کھاری دلدل بن گئے ہیں اور سیوریج کا نطام تباہ ہوچکا ہے۔ دنیا کے گنجان ترین آبادی میں سیوریج کا نطام ختم ہونے سے  جو صورتحال جنم  لے رہی ہے اسے سوچ کر ہی طبیعت متلانے لگتی ہے۔

اس خونریزی کی ناقابل برداشت قیمت معصوم بچے اداکررہے ہیں۔ جن نونہالوں کو انکے رب نے اپنے پاس بلالیا ، اُن مرجھاجانے والے غنچوں پر افسوس تو ہے لیکن جنت کو مہکا دینے والے یہ پھول نسبتاً خوش نصیب ہیں کہ عذاب و آزمائش سے نجات پاگئے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 17 ہزار  بچے اپنے والدین اور سرپرستوں سے بچھڑے گئے ہیں۔ بہت سوں کے ماں  باپ  اسرائیلی بمباری میں مارے گئے جبکہ ہزاروں زخمی اپنے جگر گوشوں سے بے خبر مختلف مقامات پر زیرعلاج یا پناہ گزیں ہیں۔

امریکی ساختہ طیاروں اور ٹینکو ں سے  بلا تعطل بمباری و گولہ باری نے غزہ کو کھنڈر بنادیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق  70 فیصد عمارات تباہ ہوچکی ہیں۔ پناہ کی تلاش میں غزہ کی آدھی آبادی مصری سرحد کے قریب  رفحہ  سمٹ ائی ہے اور  15 مربع کلومیٹر کے  رقبے پر بارہ لاکھ کے قریب انسان ٹھنسے ہوئے ہیں۔ سڑکو ں اور میدانوں میں چادریں تان کر لوگوں نے آشیانے بنالئے  اور بے چھت کی یہ پناہ گاہیں اسرائیلی ڈرون کے نشانے پر ہیں۔ یہ ڈر اونے پرندےدو سو معصوم شہریوں کا روزانہ شکار کر رہے ہیں۔

آتش و آہن کی موسلا دھار بارش کیساتھ اسرائیل اب رفحہ پر خوفناک بری حملے کے لئے پرتول رہا ہے اور اس مقصد کیلئے ٹینک اور بکتر بند گاڑیوں  کے قافلے رفحہ کی طرف رواں دواں ہیں۔ اس حملے سے سڑکوں پر کھلےآسمان تلے پناہ لئے ہوئے  شہریوں کی ہلاکت لازمی ہے۔ عسکری مبصرین اور ماہرین  کا خیال ہے کہ رفحہ پر حملے سے غزہ کے جنگجووں کا تو شاید کچھ نہ بگڑے لیکن رفحہ بارہ لاکھ انسانوں کا شمشان گھاٹ بن جائیگا۔ امریکہ سمیت اسرائیل کے تمام اتحادی و پشتیبان حملہ روکنے کیلئے پتھر دل محبوب کی منت سماجت کررہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے  کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے وزرائے اعظم نے  بھی اپنے ایک  مشترکہ بیان میں اسرائیل سے 'انسانیت کی خاطر' فوری جنگ بندی کی درخواست کی۔

رفحہ پر فوج کشی کا جو بھیانک نتیجہ نکلے گا اس پر سلیم الفطرت یہودیوں کو بھی پریشانی ہے۔ پندرہ فروری کو برطانیہ کے قدامت پسند یہودی امام (ربّائی) جاناتھن وائٹن برگJonathan Wittenberg نے رفحہ پر متوقع اسرائیلی حملے کی مخالفت کرتے ہوئے غزہ معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اپنے ایک تحریری بیان میں ربائی محترم نے کہا ' یہ الفاظ رفحہ میں اسرائیل کے ممکنہ عسکری اقدامات کے بارے میں گہری تشویش کی وجہ سے لکھے جارہے ہیں۔اس معاملے پر خاموش رہنا دیندار لوگوں کیلئےناممکن ہے'۔ ربائی وائٹن برگ نے کہا ' ان اقدامات سے اہل غزہ کو جوناقابل تصورمصائب جھیلنے پڑیں گے اسکے تصور سے  ہی مجھے خوف آتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی نفرت سے ہمیں، اسرائیل اور یہودیوں کی نیک نامی کو جو زخم لگے گا اسکی ٹیس ہماری کئی نسلیں محسوس کرینگی'

یہودیوں کی قدامت پسند فکرونظر یورپ میں مسورتی یہودیت یا Masorti Judaism کہلاتی ہے۔ مسورتیوں کا خیال ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل موسوی شریعت میں ہے جسے حا لاخا (Halakhe)کہتے ہیں۔ یہودیو ں کا سواد اعظم تلمود کو ماخذ شریعت مانتا ہے۔ غزہ پر حملے کے آغاز میں 17 اکتوبر کو ربائی وائٹن برگ ، برطانوی مسیحیوں کے اسقفِ آعظم جسٹن ویلبی اور مسلم امام ابراہیم موگر ا نے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں اسرائیلی حملے کی مذمت کی تھی۔

 لیکن بی بی نے ان تمام 'درخواستوں اور گزارشات' کو حقارت سے مسترد کرتے ہوئے  اپنی فوج کو حکم دیا ہے کہ رفحہ سے 15لاکھ فلسطینیوں کی منتقلی کا کام 10 مارچ یعنی آغاز رمضان سے پہلے مکمل کرلیا جائے۔

اس حکم میں  رمضان کا ذکر بہت معنی خیز ہے۔ اس سے ایک طرف تو بی بی یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ اسرائیل مذہبی رواداری اور پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھنے والا ملک ہے جو تمام مذاہب اور مذہبی روایات و شعائر کا احترام کرتا ہے۔ دوسری طرف وہ چاہتے ہیں کہ مصر کے جنرل السیسی  اپنی سرحدیں کھول کر  رفحہ میں پناہ لئے اہل غزہ  کو  احترام رمضان کے نام پر صحرائے سینائی لے آئیں ۔ اس قدم سے جنرل صاحب کو  اسلامی دنیا میں پزیرائی نصیب ہوگی کہ وہ  ان لاکھوں بے کسوں کی میزبانی کا خرچ صرف اسلئے برداشت کررہے کہ یہ  ستم رسیدہ رمضان اطمینان سے گزارسکیں۔ لیکن اس کا اصل مقصد غزہ  سے فلسطیینوں کے انخلا کے بعد  اسرائیلی قبضے کی تکمیل ہے ۔

ایک طرف چچاسام اسرائیل  سے رفحہ پر حملہ نہ کرنے  کی درخواستیں کررہے ہیں تو دوسری جانب سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی ہر تجویز کو ویٹو کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ اسی ہفتے الجزائر نے  جنگ بندی قرارداد کا ایک  مسودہ سلامتی کونسل میں پیش کیا ہے  جسے بحث و رائے شماری سے پہلے ہی  واشنگٹن نے مسترد کردیا، اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل نمائندہ محترمہ لنڈا ٹامس گرین فیلڈ نے موقف اختیار کیا کہ قرارداد کی جلد بازی میں منظوری سے پائیدار امن کیلئے جاری حساس مذاکرات کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ستم ظریفی کہ فاضل مندوب قاہرہ کے جس حساس مذاکرات کی طرف اشارہ فرمارہی ہیں وہاں سے اسرائیل نے اپنا وفد یہ کہہ کر واپس بلالیا ہے کہ اہل غزہ کی شرایط ہمیں منظور نہیں۔ مستضعفین کا اصرار ہے کہ اسرائیل اپنی فوجیں 7 اکتوبر کی پوزیشن پر واپس لے جائے پھر قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت ہوگی۔

امن کے معاملے میں دورنگی کا شکار صرف بائیڈن انتظامیہ نہیں بلکہ ساری کی ساری امریکی قیادت اسرائیل کی پشت پناہی کیلئے پرعزم ہے۔ امریکی سینیٹروں نے رات بھر بحث مباحثے کے بعد منگل (13 فروری) کی صبح پانچ بجے اسرائیل کو 14 ارب 10 کروڑ ڈالر دینے کی قرارداد 29 کے مقابلے میں 79 ووٹوں سے منظور کرلی۔ فلسطینیوں پر آٹش و آہن برسانے کیلئے اسرائیل کو خوفناک میزائیل و بمبار دینے کیساتھ اہل غزہ اور ساکنانِ غرب اردن کی مرہم پٹی کیلئے بھی  9 ارب 15 کروڑ ڈالر تجویز کئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے ایک امید افزا خبر یہ کہ ہالینڈ کی عدالت نے F-35بمباروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے پرزوں کی برآمد پر پابندی لگادی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے درخواست کی تھی کہ غزہ قتل عام میں عدم تعاون کے عملی اظہار کیلئے جنگی سازوسامان کی اسرائیل برآمدگی روکی جائے۔ امریکی ساختہ ایف 35 بمبار طیاوں کے کچھ اہم پرزے ہالینڈ میں بنتے ہیں

گوری دنیا کی مکمل پشت پناہی اور بھرپور امداد کے بل پر اسرائیل غزہ کو کھنڈر اور آگ کے گڑھے اور تندور بنادینے میں تو کامیاب ہوگیا جہاں معصوم بچے اصحاب الاخدود کی سنت دہرارہے ہیں۔ تاہم  قیادت کی سنگدلی و خوں آشامی اسرائیلیوں کو بھی مہنگی پڑ رہی ہے۔ غزہ میں فوجیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکت و معذوری سے اسرائیلی فوج شدید دباو میں ہے اور وزارت دفاع نے فوجی بھرتی کا نیا پروگرام وضع کیا ہے جس کے لئے کئی ارب ڈالر درکار ہیں۔ خرچ کی تو خیر ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے خزانے کے منہہ کھول رکھے ہیں لیکن یہاں ایک بہت بڑا مذہبی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے ۔

اسرائیل میں لازمی فوجی خدمت کا قانون نافذ ہے یعنی ہر اسرائیلی لڑکے کو 2 سال آٹھ ماہ اور لڑکی کو دو سال فوجی خدمات سرانجام دینی ہوتی ہیں۔ یہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی لام بندی قانوں کے تحت ریاست جب چاہے کسی بھی شہری کو فوجی خدمت کیلئے واپس بلاسکتی ہے۔ آجکل تقریباً سارے ہی reserve محاذ جنگ پر ہیں ۔ گھمسان کی جنگ کی وجہ سے محفوظ دستوں کی ڈیوٹی کادورانیہ بڑھادیا گیا ہے۔ غزہ تعینات اسرائیلی فوج میں وبائی امراض بھی پھیل رہے ہیں جس نے صورتحال مزید دشوار کردی ہے۔

اسوقت اسرائیلی فوج کی ملازمت سب سے خطرناک سمجھی جارہی ہے چنانچہ نوجوان فوجی بھرتی کی طرف مائل نہیں ۔ ملازمت کو پرکشش بنانے کیلئے تنخواہوں اور مراعات میں بھاری اضافے کا ایک منصوبہ وزارت دفاع نے پیش کیا ہے جس میں فوج کیساتھ reserveجوانوں کی تنخواہ تقریباً دگنی کردینے کی تجویز ہے۔ حالیہ جنگی جنون کی بناپراس تجویز کی مخالفت کسی کے لئے ممکن نہیں لیکن قائد حزب اختلاف یار لیپیڈ نے ایک نئے پہلو کی طرف نشاندہی کی ہے جس پر قدامت پسند سخت مشتعل ہیں۔

لازمی فوجی خدمت کے قانون سے حریدی، عبرانی تلفظ شریدی (Heridi) فرقے کے یہودی مستثنیٰ ہیں۔ یہ دراصل Ultra-Orthodox Jewsہیں۔ سرائیل کی یہودی آبادی میں حریدیوں کا تناسب 10 فیصد کے قریب ہے۔حریدی خود کو توریت اور احکامات ربُانی یا تلمود (Talmud)کا وارث سمجھتے ہیں اور انکے یہاں ہر مرد کیلئے توریت و تلمود کی تعلیم فرض سمجھی جاتی ہے۔ درس و تدریس کیلئے مخصوص مدارس ہیں جہاں طلبہ ٹاٹ پر بیٹھ کر توریت حفظ کرتے ہیں۔ ان مدارس کو Yeshivaکہا جاتا ہے۔ Yeshiva کے معنی ہی ہیں زمین پر بیٹھنا۔ ماضی میں کئی بارحریدیوں کا استثنٰی ختم کرنے کی تجویزآئی لیکن مولویوں نے لبرل عناصر کی ایک نہ چلنے دی۔ حریدیوں کی نمائندہ پاسداران توریت یاShas Partyہر قدامت پسند حکومت کا حصہ رہی ہے چنانچہ یہ استثنیٰ آج تک قائم ہے۔ شاس کا کہنا ہے کہ لازمی فوجی تربیت کیلئےYeshivaسے 32 مہینے کی غیرحاضری تعلیم میں حرج کا سبب بنے گی اور 'حفظ ' متاثر ہوگا ۔

گزشتہ ہفتے قائد حزب اختلاف یار لیپڈ نے حکومت کے فوجی بل کی حمائت کو حریدی استثنیٰ کی منسوخی سے مشروط کرنے کا اعلان کردیا۔ انکا کہنا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے اسرائیل ایک چھوٹا ملک ہے جبکہ اپنی بقا کیلئے ہمیں ایک بڑی فوج کی ضرورت ہے۔ حریدیوں کے استثنیٰ سے دوسری آبادیوں پر غیرمنصفانہ دباو پڑرہاہے جو غزہ کی سنگین صورتحال کے تناظر میں کسی طور مناسب نہیں۔دوسری طرف شاس اور یہودی توریت جماعت (UTJ) فوجی تربیت سے استثنیٰ کو 'سرخ لکیر' قرار دے رہی ہیں۔ وزیراعظم نتھین یاہو کے اتحاد کو 120 رکنی کنیسہ (پارلیمان ) میں 64 ارکان کی حمائت حاصل ہے جس میں شاس اور UTJ کا مجموعی حجم 18 ہے۔ یعنی ان میں سےاگر ایک جماعت بھی الگ ہوئی تو حکومت تحلیل ہوجائیگی۔

اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والے تجاری ادارے بھی دباو محسوس کررہے ہیں۔ مک ڈانلڈ (McDonald)کی انتظامیہ نے اپنے حصص یافتگان کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ جنگ کے بعد بائیکاٹ سے کارپوریش کا کاروبار متاثر ہورہا ہے۔ مصر، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بائیکاٹ بہت موثر ہے۔ امریکہ میں ذبیحہ گوشت نہ ہونےکی وجہ سے مسلمانوں میں میکڈانلڈ پہلے بھی بہت زیادہ مقبول نہ تھا۔ تاہم اسکی کیلی فورنیا میں ایک شاخ بند ہوچکی ہے۔ بیرونِ امریکہ کمپنی کو بکری میں 10 فیصد اضافے کی توقع تھی لیکن دسمبر میں ختم ہونے والی سہہ ماہی کے دوران یہ اضافہ ایک فیصد سے بھی کم تھا۔ خلیجی ممالک خاص طور سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بائیکاٹ زیادہ موثر نہیں۔

گفتگو کا اختتام ایک حوصلہ افزا نوٹ پر

اہل غزہ کے پاس کھانے کو نہیں لیکن قرآن کی تعلیم میں ایک دن ناغہ نہیں ہوا۔ ناظرہ کیساتھ حفظ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے حفظ اور  جزوی حفظ کرنے والی بچیوں کا جلسہ تقسیم اسناد منعقد ہوا۔ قرآن یاد کرلینے کی خوشی ان کے معصوم چہروں سے  پھوٹی پڑرہی تھی حالانکہ ان میں بہت سی یتیم و بے سہارا ہوچکی ہیں۔  اعصاب و حوصلہ شکن مصائب و آلام کے باوجود حفظ قران کی خوشی میں ان غمزدوں نے شیرینی بھی تقسیم کی کہ جب اللہ کا کلام سینوں میں محفوظ اور زبانوں پر جاری ہوجائے تو مافی مشکل؟؟؟؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 23 فروری 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 23 فروری 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 25 فروری 2024