Saturday, August 10, 2019

ادھر کشمیریوں کا لہو اور سرحد کے اسطرف قومی غیرت کا خون


ادھر کشمیریوں کا لہو اور سرحد کے اسطرف قومی غیرت کا خون  
کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام پر دنیا بھر کے مسلمان  اشکبار ہیں ۔فوج کے سپہ سالانے  یہ کہہ کر پاکستانیوں کی درست ترجمانی اور قومی عزم کا اظہار کیا  کہ ' پاک فوج اپنے کشمیری  بھائیوں  کی جان  ومال  اور عزت و آبرو کے تحفظ کیلئے آخری حد تک جائیگئ۔اسکے ساتھ ہی:
·        ہندوستان  کے سفارتی عملے کا واپس بھیج کر  سفارتی تعلقات  کو محدود کردیا گیا
·        تمام پاکستانی چینلز پر بھارتی مواد کی اشاعت روک دی گئی
·        پاک بھارت ریل رابطہ منجمد کردیا گیا
·        تجارتی تعلقات مقطع کردئے گئے
·        واہگہ کے راستے افراد اور اسباب کی آمد و رفت بند کردی گئی
لیکن روزنامہ جنگ کے مطابق   ایک  ارب پتی شخص کی درخواست پر ممتاز ہندوستانی  گلوکار میکا سنگھ کی قیادت  میں ایک پندرہ رکنی طائفے  کو پاکستان آنے کیلئے خصوصی ویزے جاری ہوئے اور میکا سنگھ کو پابندیوں کے باوجود  زمینی راستے سے پاکستان آنے کی خصوصی اجازت دی گئی۔   بھارتی  فنکار  8 اگست کو واہگہ کے راستے پاکستان  پہنچے جہاں انکا گورنر صاحب نے استقبال کیا۔ جبکہ انکے احباب  ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی آئے۔
اخبار کے مطابق  یہ ارب پتی  صاحب  پرویز مشرف کے دوست ہیں جنکی بیٹی کی شادی تھی اور موصوف کے ہونے والے داماد نے  خواہش ظاہر کی تھی کہ شادی  کے استقبالیے میں  میکا سنگھ کو مدعو کیا جائے   چنانچہ 'لڑکے' کی خواہش کی تکمیل کیلئے  'لڑکی' کے والدنے میکا سنگھ کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر دیکر پاکستان   بلایا۔
عجیب بات کہ آلو ٹماٹر کی تجارت بند لیکن بگڑے نوجوان کے شوق کی تکمیل پر ڈیڑھ لاکھ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ پھونک دیا گیا۔ صحافتی ذرایع کے مطابق شادی کی یہ تقریب 8 اگست کو DHAکراچی میں ہوئی جہاں ایک نجی کنسرٹ میں میکا سنگھ نے  اپنی آواز کا جادو جگایا۔


بے اختیار رکنیت


بے اختیار رکنیت
وزیراعظم عمران خان نے  مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور اس پر قانونی، سفارتی و سیاسی  ردِعمل دینے کیلئے جو 7 رکنی کمیٹی بنائی ہے اس میں توسیع کی جارہی ہے اور اخباری اطلاع کے مطابق  امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق صاحب کو بھی اس کمیٹی کا رکن بنائے جانے کی تجویز ہے۔ اسوقت وزیرخارجہ، اٹارنی جنرل، سکریٹری خارجہ، ڈائریکٹر آئی ایس آئی، ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز، ڈائریکٹر آئی ایس پی آر اور وزیراعظم کے مشیر احمر بلال صوفی اس کمیٹی کے رکن ہیں۔  توسیع کے بعد آزاد کشمیر کے صدرو وزیراعظم  اور گلگت و بلتستان کےگورنر  اور وفاقی وزیرقانون بھی اس کمیٹی کے رکن بن جائنگے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ سراج الحق کمیٹی کی دعوت  قبول کرتے ہیں یا نہیں کہ یہ فیصلہ وہ جماعت کی شوریٰ یا کم از کم اپنے قریبی رفقا کے مشورے کے بعد کرینگے۔
گزشتہ کئی دنوں سے جماعت اسلامی نے اس مسئلے پر رائے عامہ کو ہموار کرنے کی جو مہم شروع کررکھی ہے وہ قابل  ستائش ہے۔ پاکستان کے علاوہ جماعت کی برادر تنظیموں کی کوششوں سے یورپ اور امریکہ میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں بلکہ بنگلہ دیش میں بھی بھارت کے اس فیصلے کے خلاف زبردست  مہم چلائی جارہی ہے  جہاں پابندیوں کے باجودعظیم الشان  ریلیاں نکالی جارہی  ہیں۔
کمیٹی کی رکنیت  قبول کرنے یا معذرت  کرتے ہوئے جماعت کو اخلاقی پہلوسامنے رکھنا چاہئے۔  احباب کوشائد ہماری  بات بری لگے  لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ انتخابات میں عوام نے جماعت اسلامی کو بری طرح مسترد کردیا ہے۔ قومی اسمبلی میں جماعت کی صرف ایک  نشست ہے  اور سراج الحق صاحب خود بھی شکست کھاچکے ہیں۔ انکی سینیٹ کی مدت بھی پوری ہونے کو ہے۔
اصولی طور پر اس اہم کام کیلئے ایک پارلیمانی کمیٹی ترتیب دی جانی چایئے تھی جس میں تمام بری جماعتوں کی نمائندگی ہوتی لیکن   وزیرخارجہ کے علاوہ ایک بھی منتخب نمائندہ اس کمیٹی میں شامل نہیں۔
اس مرحلے پر تحریک انصاف کے عمومی ظرف  پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔ سراج الحق صاحب تحریک انصاف سے انتخابی اتحاد کے نتیجے میں سنیٹر بنے تھے  اوران کے حق میں تحریک انصاف کے 3 ترجیحی ووٹوں کے جواب  میں جماعت نے اپنے 8 غیر ترجیحی ووٹ  تحریک انصاف کو دئے تھے لیکن خانصاحب کی جماعت کا  ہر رہنما اور حامی سینیٹ میں سراج صاحب کی رکنیت کو تحریک انصاف کی خیرات قرار دے رہا ہے۔ کمیٹی کی رکنیت کے بعد جماعت کو اسی قسم کے تحقیر آمیز تبصروں کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
سراج صاحب ایک جرت مند انسان اور سادہ لوح پٹھان ہیں جو دل کی زبان پر لاتے کوئی ڈر محسوس نہیں کرتے جبکہ محمود قریشی سمیت کمیٹی کے سارے سویلین ارکان عمران خان کے بارے میں بڑے فدویانہ جذبات رکھتے ہیں لہٰذا نجمنِ ستائشِ باہمی کے ان اجلاسوں میں سراج الحق صاحب قابل گردن زدنی گستاخ قرار پائینگے۔
ایک ضمنی سا پہلو یہ بھی ہے کہ جس کمیٹی میں  3 جرنیل  بیٹھے ہوں وہاں بلڈی سویلینز کیلئے  دل کی بات کہنا ہی بہت مشکل ہے منشا کے خلاف  کسی تجویز پر اصرار توعاقبت کیلئے سخت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
ہم تو یہی مشورہ دینگے کہ جماعت  کامل یکسوئی کے ساتھ عوامی بیداری کی مہم  جاری رکھے۔ جب کبھی عوام نے مینڈیٹ دیا تو ان اعلیٰ اختیاراتی کمیٹیوں کی رکنیت تو کیا سربراہی میں  بھی کوئی حرج نہیں۔لیکن استحقاق کے بغیر محض وزیراعظم کی مہربانی سے کوئی منصب  سنبھال  لینا  جمہوری اصولوں کے خلاف ہے کہ اس اہم کمیٹی کی رکنیت عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے۔  

Wednesday, August 7, 2019

ایک حوصلہ مند خاتون کی موت:


ایک حوصلہ مند خاتون کی موت:
امریکہ میں نسلی و صنفی مساوات کی علمبردار، ادیبہ، ناول نگار، استاد اور محقق محترمہ ٹونی موریسن انتقال کرگئیں۔ ایک فاقہ کش مزدورکے گھر میں جنم لینے والی ٹونی  امریکہ کی   پہلی سیاہ فام خاتون ہیں جنھیں نوبیل انعام دیا گیا۔
ٹونی کے والد جارج ویفورڈ  کا تعلق امریکی ریاست جارجیا کے اس علاقے سے تھا  جہاں آج بھی سیاہ  فام لوگوں کودوسرے بلکہ تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔جب جارج صرف 6 سال تھے ، نسل پرست سفید فاموں نے انکے محلے پر حملہ کیا اور  دو سیاہ فام دکانداروں کو مارتے مارتے  مارڈالا۔ہجوم کے ہاتھوں  اس المناک  انداز قتل کو بلوائی خیرہ کشی یا Lynchingکہتے ہیں۔اس خوفناک منظر کو دیکھ کر  جارج فوری طور جارجیا سے ریاست اوہایو (Ohio)کے شہر لورین آگئے جہاں انھوں نے ویلڈر کی حیثیت سے مزدوری کرکے اپنے اور بیوی بچوں کاپیٹ پالنا شروع کیا۔ لیکن بدقسمتی نے انکا یہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا۔  جب انکی  بیٹی ٹونی صرف صرف 2 سال کی تھی تو انکے گھر کو آگ لگادی گئی۔ جارج بڑی مشکل سے اپنے بیوی بچوں کی جان بچانے میں کامیاب  ہوئے۔
جارج ویفورڈ ایک راسخ العقیدہ  مسیحی تھے  انھوں نے اپنی بیٹی کو  زبور سے حضرت  داود کے حمدیہ ترانے یادکرادئے ۔ انجیل  وزبور کے مطالعے سے  ٹونی کے ادبی ذوق کو جلا ملی اور انھوں نے اسکول میں تعلیم کے دوران ہی بچوں کی کہانیاں لکھنی شروع کردیں جنھیں  پزایرائی نصیب  ہوئی۔
ہائی اسکول کے بعد ٹونی نے جامعہ  ہوارڈ Howardسے ماسٹر اور اسکے بعد نیویارک کی جامعہ کورنیل Cornellسے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کیا۔ احباب کی وضاحت کیلئے عرض ہے کہ Howard اور Harvardدو الگ جامعات ہیں۔جامعہ ہارورڈ ریاست Massachusetts میں ہے جبکہ Howard دارالحکوت واشنگٹن میں جہاں طلبہ کی اکثریت سیاہ فاموں پر مشتمل ہے۔تعلیم کی تکمیل کے بعد ٹونی نے ہیوسٹن کی ٹیکساس سدرن  یونیورسٹی (TSU)میں دوسال درس و تدریس کے فرائض انجام دئے جسکے بعد وہ جامعہ Howardسے وابستہ ہوگئیں۔
اسی دوران ٹونی نے جمیکا کے ایک کاروباری سے شادی کرلی  لیکن  صرف چھ سال بعد طلاق ہوگئی۔ علیحدگی کے وقت  ٹونی حاملہ تھیں۔ گویا ٹونی کی آزمائش کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی دوران  امریکہ کے مشہورطباعتی ادارسے رینڈ م ہاوس Random House  نے انھیں  شعبہِ ناول   کا مدیر مقرر کیا۔یہ ایک انتہائی اہم منصب تھا کہ کسی بھی مسودےکے  قابل اشاعت ہونے کا فیصلہ مدیر کی ذمہ اری ہے اور ٹونی اس  منصب پر فائز ہونے والی پہلی  سیاہ فام خاتون تھیں۔دو ننھے بچوں کے ساتھ انھوں نے نہ صرف ادارت کی ذمہ داری نبھائی بلکہ وہ نوجوان سیاہ فام ادیبوں اور ناول نگاروں کی حوصلہ افزائی  بھی کرتی رہیں۔ ان کی کوششو ں سے اس دوران رینڈم ہاوس نے سیاہ مصنفین کے درجنوں ناول شائع کئے۔انھیں کی کوششوں سے محمد علی (کلے) کی سوانحمعری منظرِ عام پر آئی۔انکا بڑا کارنامہ نادر تصاویر اور مستند دستاویزات سے مزین  Black Bookکی اشاعت ہے جس میں  سیاہ فاموں  کی تاریخ  کا احاطہ کیا گیا ہے۔
انھیں مصروفیتوں کے  دوران انکا پہلا ناول   Bluest Eyeکے نام سے شایع ہوا۔ یہ  ایک سیاہ فام لڑکی کی سرگزشت ہے جو پاک و ہند کی ان بچیوں  سے مماثلت رکھتی ہے جنھین انکے سانولے رنگ کی وجہ سے بدصورت سمجھا جاتا ہے اور'کالی کلوٹی' کا طعنوں سے  طاری  ہونے والا احساس کمتری انکی فطری صلاحیتوں  کو فنا کردیتا ہے۔ نیلی آنکھیں امریکہ میں حسن  کااستعارہ ہے  جو اس ناول کی ہیروئن کیلئے حسرت کی علامت تھا۔
پانچ سال بعد انکا ناول Sulaشایع ہوا جو دو غلام سیاہ فام خواتین کی کہانی ہے جنھوں نے آزادی کیلئے لازوال جدوجہد کی۔
انکا   ناول Beloved بے حد مشہور ہوا۔ یہ دراصل  ایک سیاہ فام کنیر Margret Garnerکی سچی کہانی  ہے جو بھاگنے میں کامیاب  ہوگئی تھی لیکن اسکے مالک نے اسے گھیر لیا۔ مارگریٹ نے اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور خودکشی سے پہلے اپنی شیرخوار بچی کو قتل کردیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ خود کو ہلاک کرتی مالک نے اسے دوبارہ گرفتار کرلیا۔ اس کہانی پر فلم بھی  بنی ہے۔
انکے ناول Songs of Solomonکو بھی بہت  پزایرائی  ملی۔ اس کتاب کا مرکزی مضمون  امریکہ کی متنوع  ثقافت  ہے۔ افریقہ سے پکڑکر لائے  جانیوالے سیاہ فام  غلاموں کی گفتگو کے حوالے سے   مکہ و مدینہ  کا ذکر بھی ہے جس سے  اس تاریخی حقیقت کی تصدیق ہوتی  ہے کہ افریقہ سے امریکہ لائےجانیوالے غلاموں میں مسلمان بھی تھے۔
ٹونی موریسن کو نوبیل انعام کے علاوہ امریکہ کا سب سے بڑا اعزاز تمغہ ازادی بھی عطا ہوا۔ انتقال کے وقت ٹونی کی عمر   88 برس  تھی۔

Tuesday, August 6, 2019

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے


پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
ہم نے 3 اگست کو ایک پوسٹ نصب کی تھی جسکے مطابق  قطر کے دوحہ ائر پورٹ پر ایک ایغور (چینی ترک) مسلمان کو چین کے حوالے کرنے کی تیاری مکمل  ہوچکی تھیں جہاں خوفناک تشدد اور پھر فائنگ اسکواڈ اسکا انجام ہوتا۔ائرپورٹ سے  ہتھکڑی میں جکڑے یوسف نے ٹویٹر پر ایک سطری پیغام بھیج دیا کہ I need world’s help۔ اور چند ہی لمحوں میں یہ ٹویٹ پیغام ساری دنیا میں پھیل گیا۔ ہیومن رائٹ واچ (HRW)نے فوری طور پر یوسف کی حوالگی رکوانے کا مطالبہ کیا۔ HRWکے ڈائریکٹر کینیتھ روتھ نے قطر کے حکام سے بات کی اور حوالگی ملتوی کردی گئی۔
واشنگٹن میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور ایغورتارکینِ وطن نے قطری سفارتخانے اور امریکی وزارت خارجہ کے سامنے مظاہرے کئے اورآج امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مڈل ایسٹ ائی (MEE)کو  اطلاع دی کہ' یوسف  بحفاظت امریکہ کی طرف محوپرواز ہے' اپنے برقی خط (email)میں ترجمان نے کہا کہ امریکہ کو یغور، قازق، کرغز اور سنکیانگ صوبے میں آباد مسلمانوں سے چینی حکومت کے ظالمانہ سلوک پر سخت تشویش ہے۔ہمارے محتاط اندازے کے مطابق  چینی حکومت  اپریل 2017 سے 10 لاکھ مسلمانوں کو جیل میں ٹھونس رکھا ہے۔
دوسری طرف ذرا دل تھام کر سنئے کہ یوسف کے اس دردناک سفر کا آغاز پاکستان سے ہواجب وزارت داخلہ نے چینی حکومت کے  اصرار پر اسے ملک بدر کردیا ۔ اسکی سفری دستاویز اسلام آباد کے چینی سفارت خانے نے جاری کیں۔ پاکستان سے  یہ پناہ کی تلاش میں بوسنیا گیا، وہاں سے اسے ملک بدر کرکے قطر بھیجدیاگیا ۔ دو ہفتہ پہلے  قطر ائر ویز کی جس  پرواز سے ہمارے وزیراعظم واشنگٹن پہنچے تھے  آج  اسی پرواز سے پاکستانی حکومت کی کٹھور دلی کا شکار یغور مسلمان  پناہ لینے امریکی  دارالحکومت  پہنچ رہا ہے۔
شکریہ صدر ٹرمپ۔ آپکی اس مہربانی پر دلی شکرئے کے ساتھ ہم اپنے رب  سے آپکے لئے   رحمت  اور ہدائت  کی التجا کرتےییں۔ God Bless You
POTUS