Thursday, May 1, 2025

 

کینیڈا!! امریکہ مخالف رجحان کی کامیابی

کینیڈا میں تادم تحریر ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ وفاقی الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ میں خرابی کی وجہ سے نتائج کا سرکاری اعلان کچھ دیر معطل رہا۔ تین برس پہلے ہونے والے انتخابات میں لبرل پارٹی 338 رکنی دارالعوام (قومی اسمبلی) کی 160 نشستیں جیتنےمیں کامیاب ہوئی جبکہ حکومت سازی کیلئے 170 ووٹ درکار تھے۔وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے جگمیت سنگھ کی نیو ڈیمو کریٹک پارٹی سے مفاہمت کرکے حکومت بنالی۔ نظریاتی اختلاف کی بناپر گزشتہ برس ستمبر میں نیوڈیموکریٹک پارٹی نے لبرل پارٹی سے معاہدہ ختم کردیا۔تاہم جگمیت سنگھ نے وزیر اعظم ٹروڈو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں قدامت پسندوں کا ساتھ نہیں دیا۔ایوان میں اکثریت کھونے کے علاوہ وزیراعظم ٹروڈو کو اپنی جماعت میں بھی رسہ کشی کا سامنا تھا چنانچہ 14 مارچ کو جناب ٹروڈو مستعفی ہوگئے اور 60 سالہ مارک کارنی نے وزارت عظمیٰ سنبھال لی۔ صرف 9 دن بعد جناب کارنی نے گورنر جنرل سے دارالعوام تحلیل کرنے کی درخواست کردی اور 28 اپریل کو انتخابات منعقد ہوئے، 2021 کی مردم شماری کے نتیجے میں اب دارالعوام کی کل نشستیں 343 ہوگئی ہیں۔

جماعتی گروہ بندی اور خراب معیشت کی بنا پر لبرل پارٹی بے حد غیر مقبول اور رائے عامہ کے اکثر جائروں میں  قدامت پسندوں سے 20 فیصد پیچھے تھی، لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے کنیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کے بیانات پر سابق وزیراعظم ٹروڈو، وزیراعظم کارنی اور لبرل پارٹی کے دوٹوک و سخت موقف نے پارٹی کو مقبول بنادیا۔کینیڈا پر بھاری درآمدی محصول کے اعلان سے لبرل اور مضبوط ہوگئے۔ اگرچہ ان معاملات پر قدامت پسندوں کا موقف اور رویہ لبرل سے کچھ مختلف نہیں لیکن ٹرمپ سے قدامت پسندوں کی نظریاتی ہم آہنگی نے کنیڈا کے عوام کو لبرل سے قریب کردیا۔امریکہ مخالف لہر میں کینیڈا کی چھوٹی جماعتوں کو خاصہ نقصان پہنچا۔دوسری جماعتوں کے بہت سے حامیوں نے ٹرمپ کے مقابلے کیلئے مضبوط حکومت ضروری سمجھتے ہوئے لبرل کو ووٹ دئے۔ لبرل کے سابق اتحادی جگمیت سنگھ کی نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی نشستیں 25 سے کم ہوکر7 ہو گئیں۔ فرانسیی قوم پرست کیوبک بلاک کا حجم بھی 33 سے سکڑ کر 22 رہ گیا۔

کینیڈا میں بھی ہندوستان و پاکستان کی طرح آبادی کے اعتبار سے مختلف صوبوں میں گہری تفاوت پائی جاتی ہے۔ دارالعوام کی 59 فیصد نشستیں اسکے دوصوبوں اونٹاریو Ontario اور کیوبیک Quebecمیں ہیں۔ان دونوں صوبوں میں قدامت پسند بہت زیادہ مقبول نہیں۔احباب کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ مشہور شہر ٹورنٹو اور دارالحکومت اٹاوا صوبے اونٹاریو اور مانٹریال صوبہ کوبیک میں ہے جہاں سب سے زیادہ پاکستانی اور سکھ آباد ہیں۔کینیڈا کے مغرب پر قدامت پسند چھاپ بہت واضح ہے۔تیل سے مالامال و خوشحال صوبوں البرٹا اور سیسکیٹچوان Saskatchewanقدامت پسندوں کے گڑھ ہیں۔اسی طرح برٹش کولمبیا اور مونیٹوبا Manitobaمیں بھی قدامت پسندوں کی کارکردگی بہتر رہی لیکن اسکے مشرق میں اونٹاریو سے بحر اوقیانوس کے ساحل تک لبرل کا پلہ بھاری نظر آیا۔ کینیڈا میں ووٹروں کی کل تعداد دو کروڑ 9 لاکھ ہے۔ امریکہ کی طرح یہاں بھی یوم انتخاب سے دو ہفتہ پہلے کچھ مخصوص مقامات پر early votingشروع ہوجاتی ہے، اس بار تقریباً ایک چوتھائی یا 73لاکھ ووٹر قبل از انتخاب یا early voting کے دوران اپنے ووٹ بھگتا چکے تھے۔

ان اتخابات میں چھ بڑی جماعتوں، ایک درجن کے قریب غیر مقبول و معروف جماعتوں اور 175 سے زائد آزاد امیدواروں نے حصہ لیا۔ تقریباً 98 فیصد گنتی مکمل ہونے پر انتخابی نتائج کچھ اسطرح ہیں

وزیراعظم مارک کارنی کی لبرل پارٹی 169 نشستوں کیساتھ پہلے نمبر پر ہے۔اسے 43.7فیصد ووٹ ملے۔ گزشتہ انتخابات میں لبرل نے 160 نشستیں جیتی تھیں۔ قدامت پسند 144 نشستوں پر کامیاب ٹہرے۔ انکے حاصل کردہ مجموعی ووٹوں کا تناسب 41.3فیصد ہے۔ گزشتہ انتخابات میں قدامت پسندوں کو 119 نشستیں ملی تھیں۔ فرانسیسی قوم پرست کیوبیک بلاک 22 نشستوں کیساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ گزشتہ انتخابات میں اس بلاک نے 33 نشستیں جیتی تھیں۔ سب سے مایوس کن نتائج جگمیت سنگھ کے رہے جنکی نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی نشستیں  25 سے سکڑ کر 7رہ گئیں۔ نیو ڈیموکریٹس کو 6.3 فیصد ووٹ ملے، گزشتہ انتخابات میں یہ جماعت 17.82فیصد لوگوں کی پہلی ترجیح تھی۔گرین پارٹی بھی ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہوگئی، گزشتہ انتخابات میں ماحول دوست گرین پارٹی نے دونشستیں حاصل کی تھیں۔

لبرل پارٹی کی کارکردگی گزشتہ انتخابات سے تو بہتر ہے لیکن اس بار بھی وہ واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ تاہم انکے نظریاتی اتحادی جگمیت سنگھ کی جماعت سے اتحاد کرکے وہ حکومت بناسکتے ہیں۔نتائج کے اعلان کے بعد خراب کارکردگی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جناب جگمیت سنگھ نے پارٹی قیادت سے استعفیٰ دیدیا۔

جناب کارنی جامعہ اکسفورڈ سے معاشیات میں پی ایچ ڈی ہیں۔ اس اعتبار سے انھیںWilliam Lyon Mackenzie King کے بعد کینیڈا کی تاریخ کے دوسرے پی ایچ ڈی وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔جناب کارنی مشہور سرمایہ کار ادارے Goldman Sachsسے وابستہ رہ چکے ہیں۔ انھوں نے 2008 سے 2013 تک بینک آف کینڈا کی بطور گورنر قیادت کی۔موصوف بینک آف انگلینڈ کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ عملی سیاست میں انکا داخلہ گزشتہ برس ستمبر میں ہوا جب  سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے انھیں لبرل پارٹی کی ٹاسک فورس برائے اقتصادی ترقی کا سربراہ نامزد کیا۔ اس سال جنوری میں وہ لبرل پارٹی کے سربراہ اور 14 مارچ کو ملک کے 24 ویں وزیراعظم مقرر ہوئے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 2 مئی 2025


 

مغرب کی کفن چور قومیں

مہینوں کے اعصاب شکن مذاکرات، صدر ٹرمپ کی دھمکیوں اور توہین آمیز جھڑپ کے بعد یوکرین اور امریکہ نےیوکرین کے معدنیات اور قدرتی وسائل کو ترقی دینے کے ایک معاہدے پر دستخط کردئے۔ بنیادی طور پر یہ نایاب زیرزمین معدنیات یا  Rare Earth Elements(REEs) کی تلاش و ترقی کا معاہدہ ہے جس کو آخری شکل دینے فروری کی 28 تاریخ کو صدر ولادیمیر زیلینسکی امریکی دارالحکومت آئے تھے لیکن قصرِ مرمریں کے بیضوی دفتر میں ہونے والی یہ ملاقات سلام کلام کے فوراً بعد جھڑپ میں تبدیل ہوگئی اور صدر ٹرمپ نے اپنے معزز مہمان کو بصد سامان رسوائی وہاں سے نکال دیا۔

آج واشنگٹن میں اس معاہدے پر یوکرین کی وزیراعظم محترمہ Yulia Svyrydenko اور امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دستخط کئے۔ مسودے کے مطابق ان وسائل کی ملکیت یوکرین کے پاس رہیگی۔ تلاش و ترقی کیلئے امریکہ سرمایہ کار تلاش کریگا اور معدنیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم یوکرین کی تعمیر نو میں استعمال ہوگی۔

یہ معدنیات کیا ہیں، اور امریکہ اسے کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے؟

نایاب زیرزمین معدنیات جنھیں Rare Earth Elementsیا REEs کہا جاتا ہے، 17 ملتی جلتی کیمیائی خصوصیات والی معدنیات ہیں جو سمارٹ فون، کمپیوٹر، طبی سامان اور کئی دیگر اشیا کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ان میں سکینڈیئم، یٹریئم، لانتھانم، سیریئم، پراسیوڈائمیئم، نیوڈیئم، پرومیتھیئم، سماریئم، یوروپیئم، گاڈولینیئم، ٹیربیئم، ڈسپروسیئم، ہولمیئم، اربیئم، تھولیئم، یٹیربیئم اور لٹیٹیئم نامی معدنیات شامل ہیں۔علم کیمیا کے ماہرین نے عناصر کے اس گروپ کو Lanthanides کانام دیا ہے جسکا یونانی زبان میں مطلب ہے 'ڈھکا ہوا' یعنی خالص حالت میں یہ عناصر بہت کم جگہ دستیاب ہیں۔عام طور سے ان قیمتی معدنیات میں تھوریم اور یورینیم جیسے تابکاری عناصر کی آمیزش ہوتی ہے۔ اِن ناپسندیدہ کثافتوں سے جان چھڑاناممکن تو  ہے لیکن اس مشکل عمل پربھاری سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔

تاہم دنیا میں کئی مقامات پر یہ عناصر خالص حالت میں پائے جاتے ہیں۔ان میں چین سرِ فہرست ہے جہاں REEsذخائر کا مجموعی حجم چار کروڑ چالیس لاکھ ٹن ہے جو آکسفورڈ انسٹیٹیوٹ آف انرجی اسٹڈیز کے مطابق دنیا بھر میں پائے جانے والے نایاب معدنیات کا 90 فیصد ہے۔ ہندوستان دوسرے پر نمبر ہے جہاں 69  لاکھ ٹن REEsموجود ہیں، ارٹیس لاکھ (38)ٹن کیساتھ روس کا تیسرا نمبر ہے اور چوتھے نمبر پر ویتنام جہاں نایاب معدنیات کا مجموعی حجم 25 لاکھ ٹن ہے۔ گرین لینڈ پر بھی صدر ٹرمپ کی نظریں ہیں جہاں ان قیمتی عناصر کا تخمینہ 15لاکھ ٹن ہے،امریکہ میں REEs کا مجموعی حجم 19 لاکھ ٹن ہے۔ نایاب معدنیات کے اعتبار سے یوکرین دنیا کے 10 بڑے ممالک میں نہیں آتا، تاہم امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا میں REEsکے پانچ فیصد ذخائر اسی ملک میں ہیں۔دلچسپ بات کہ معدنیات پر نظر رکھنے والے موقر برطانوی ادارے بینچ مارک منرل انٹیلیجنس‘ المعروف Benchmarkکے مطابق،یوکرین میں REEsکے حوالے سے اب تک جو تخمینے لگائے گئے ہیں وہ قیاس آرائی سے زیادہ کچھ نہیں۔یوکرینی ماہرین ارضیات دارالحکومت کیف، شمال وسطی یوکرین میں  Vinnytsiaاور چند دوسرے مقامات پر بھی ان معدنیات کی موجودگی کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن اب تک ان علاقوں میں مساحت ارضی کا کوئی ٹھوس کام نہیں کیا گیا۔یوکرین میں ان معدنیات کے دریافت شدہ ذخائر مشرقی یوکرین میں لوہانسک (Luhansk)اور ڈونیتسک (Donetsk)صوبوں پر مشتمل علاقے دنباس (Donbas)، اسکے مغرب میں زیپوریزا (Zaporizhia)، دریائے دنائپر (Dnieper) کے کنارے، تاتاروں کے جزیرہ نما کریمیا اور اسکے شمال میں بحیرہ آزوو (Azov) کے ساحل پر ہیں۔ یہ تمام کا تمام علاقہ روس کے قبضے میں ہے۔ یوکرین مساحت ارضی کے مطابق ملک میں بیٹری بنانے کے کام آنے والے قیمتی عنصر لیتھیم (Lithium)کے دریافت شدہ ذخائر کاتخمینہ ساڑھے چار لاکھ ٹن ہے لیکن اسکے بڑے حصے پر بھی روسی قابض ہیں۔

یعنی یوکرین میں نایاب معدنیات کے ذخائر تو ہیں لیکن روسی قبضے کی وجہ سے ان تک پہنچنافی الحال ممکن نہیں، شائد اسی لئے یوکرینی حکومت نے صدر ٹرمپ کے عتاب سے بچنے کیلئے اپنے معدنی وسائل تک امریکی رسائی کی کڑوی گولی یہ سوچ کر نگل لی کہ جب دادا مریں گے تب بیل بٹیں گے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ میں نایاب معدنیات کے دریافت شدہ ذخائرکی مقداریوکرین سے زیادہ ہے لیکن صدر ٹرمپ خود کو دبنگ ثابت کرنے کیلئے یوکرینی معدنی وسائل تک رسائی کا معاہدہ چاہتے ہیں تاکہ وہ سینہ پھلاکر امریکی عوام کو بتاسکیں کہ انکی انتظامیہ یوکرین کو مدد میں دی گئی ایک ایک پائی سود کے ساتھ واپس لے رہی ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، ان معدنیات کے عالمی ذخائر کا 90 فیصد چین کے پاس ہے۔ خام ذخائر کے علاوہ چین نے نایاب معدنیات کی کانکنی اور نتھارنے (Processing)کے باب میں زبردست مہارت حاصل کرلی ہے۔امریکی مساحت ارضی کےمطابق امریکہ درآمد کئے والے REEsمیں چین کا حصہ 72 فیصد ہے۔ امریکہ کیلئے مزید پریشان کن بات کہ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں موجود ان نایاب معدنیات کی بہت سی بڑی کانوں کے مالک چینی ادارے ہیں۔حالیہ تجارتی جنگ میں چین نے جن جوابی اقدمات کا عندیہ دیا ہے ان میں امریکہ کو REEsبرآمد پر پابندی بھی شامل ہے۔

امریکہ بہادربلاشبہ ٹیکنالوجی کے مردِ میدان ہیں لیکن ارضیات، کانکنی اور خاص طور سے نایاب معدنیات کی تلاش و ترقی میں انکا چین سے کوئی مقابلہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس میدان  میں ہم پاکستانی بھی مہارت و تجربے کے اعتبار سے کچھ کم نہیں۔

معدنیات کو سنوارنے اور نتھارنے کی ٹیکنالوجی میں تو مہارت حاصل کی جاسکتی لیکن اسکے ذخائر پر قدرت نے چین کو جو برتری عطا کردی ہے اسکا صدر ٹرمپ کے پاس کوئی توڑ نہیں۔ شائد اسی لئے انکی نظریں یوکرین اور گرین لینڈ پر ہیں۔لیکن اب جبکہ امریکہ یوکرین کو اپنے معدنی وسائل تک رسائی دینے پر جبراً راضی کرچکا ہے توکیا روس،  معدنیات سے مالامال یہ علاقے امریکی کانکنوں کیلئے خالی کردیگا؟؟ْ؟؟؟

اعتراف و تشکر: ان سطور کیلئے مساحت ارضی پاکستان (GSP) کے سابق سربراہ جناب حسن گوہر اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹیڈ کے سابق سربراہ معین رضاخان سے استفادہ کیا گیا ہے۔



 

اہل غزہ کو محمود عباس کی مغلظات سے بھری دھمکیاں

اردن نے اخوان المسلمون پر پابندی لگادی

امریکہ نے غزہ کیلئے اسرائیل کو ریموٹ کنٹرول بلڈوزر فراہم کردئے

خوراک کے گوداموں پر حملے جائز ہیں۔اسرائیلی وزیر کی ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں سے گفتگو

حوثی جدید ترین امریکی ڈرونوں کا شکار کرنے لگے

نظر بند طلبہ سے ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کانگریس کی ملاقات

گرفتار طلبہ سیاسی قیدی ہیں۔ رکن کانگریس جم مگ گورن

اہل غزہ کے بارے میں مقتدرہ فلسطین (PA)کا رویہ پہلے بھی خاصہ مشکوک تھا اور اپنی نجی مجلسوں میں مقتدرہ کے سربراہ محمود عباس سات اکتوبر 2023 کے طوفان الاقصیٰ کی دبے الفاظ میں مذمت کرتے رہے ہیں لیکن 23 اپریل کو قومی ٹیلی ویژن پر مغلظات سے آراستہ انکا خطاب غزہ خالی کرانے کے بارے میں اسرائیلی حکمت عملی میں PAکی شراکت داری کا پتہ دے رہا ہے۔ انھوں نے کہا 'کتے کے بچو! قیدیوں کو رہاکرکے ہتھیاررکھو اور دفع ہوجاو تاکہ اسرائیل کو نسل کشی کا موقع نہ ملے۔ تمہاری وجہ سے اہل غزہ مارے جارہے ہیں'۔ سوئے اتفاق اسی دن اردن میں اخوان المسلمون کو غیر قانونی قرار دیکر اسکے تمام اثاثوں، مدارس، دارالمطالعوں اور دفاتر پر قبضہ کرلیاگیا۔اسکا اعلان کرتے ہوئے شاہی ترجمان محمد المومنانی نے انکشاف کیا کہ اخوان نے راکٹ اور ڈرون بنانے کی خفیہ فیکٹریاں بنالی تھیں جس سے اہم سرکاری تنصیبات کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا تھا۔ اخوان  کی اسلامک ایکشن پارٹی،  138  رکنی پارلیمان میں 31 نشستوں کیساتھ سب سے بڑی جماعت ہے۔اگر محمود عباس کے ہتک آمیز خطاب کو اخوان پر پابندی کے تناظر میں دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ اب غزہ میں مصر اور اردن، اسرائیل کے شانہ بشانہ آنے والے ہیں۔

جمعہ 25 اپریل سے غزہ میں مزاحمت کاروں کی عسکری سرگرمیوں میں شدت آگئی ہے اور تقریباً تمام علاقوں میں اسرائیلی فوج حملوں کی زد میں ہے۔ اس اچانک یلغار سے گھبرا اسرائیلی فوج کےایک کمانڈر نے کہا کہ یہ Gōg ū-Māgōg (یاجوج ماجوج)کہاں سے آنکلے؟ لڑائی میں شدت سے مزاحمت کچل دینے کا دعوی قبل از وقت ثابت ہواجسکی وجہ سے عام اسرائیلیوں میں مایوسی اور جھنجھلاہٹ پیدا ہورہی ہے۔ گزشتہ ہفتے غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

اس ہفتے امریکہ نے اسرائیل کو روباٹک بلڈوزر فراہم کردئے۔روبوڈوزر (Robdozer)کے نام سے بازار میں لائے جانے والے یہ خودکار بلڈوزر امریکی ریاست الابامہ کے عسکری تحقیقی مرکز کی پیشکش ہے۔ کھنڈر بنی عمارات میں مزاحمت کاروں نے اپنے مورچے بنالئے ہیں اور کچھ عمارتوں میں بارود نصب کرکے انھیں اسرائیلی فوج کیلئے موت کے جال میں تبدیل کردیا ہے۔اسرائیلی فوج مخدوش عمارات کو گرانے اور سڑکیں ادھیڑنے کیلئے بلڈوزر استعمال کررہی ہے جبکہ مزاحمت کار بلڈوزروں کو نشانہ بناکراسرائیل کو بھاری جانی نقصان پہنچارہے ہیں۔ اب ڈرائیور کے بغیر ریموٹ کنٹرول بلڈوزروں کے استعمال سے جانی نقصان ختم ہو جائیگا۔اسی کیساتھ امریکہ سے مزید تین F-35طیارے بھی اسرائیل پہنچ گئے۔لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ آواز سے تیر رفتار غیر مرئی (Stealth) ایف 35 طیارے فضائی جنگ کا مہلک ترین ہتھیار سمجھا جاتا ہے جو روائتی بموں اور میزائیلوں کیساتھ جوہری ہتھیار لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تین نئے طیاروں کیساتھ اب اسرائیل کے F-35بیڑے کا حجم 45ہوگیا ہے۔

مغرب کے دوغلے رویوں کے برخلاف عوامی سطح پر اسرائیلی نسل کشی کیخلاف بیچینی ہر جگہ نمایاں ہے۔ استونیا (Estonia)میں 26 اپریل کو شمشیرزنی (Fencing)کی یورپین چمپین شپ کا فائنل اسرائیل نے سوئٹزر لینڈ کو ہراکر جیت لیا۔ میڈل کی تقسیم سے پہلے جب اسرائیل کا قومی ترانہ شروع ہوا تو فلسطینیوں پر مظالم کی مذمت کرتے ہوئے سوئزکھلاڑیوں نے اپنارخ اسرائیلی پرچم کی طرف کرنے سے انکار کردیا، ترانے کے احترام میں یہ لڑکے خاموش بھی نہیں ہوئے اور آپس میں گپیں لڑاتے رہے۔

امن معاہدے کے حوالے سے بات چیت بدستور تعطل کا شکار ہے۔ اسرائیل، مزاحمت کاروں کے ہتھیار ڈالنے سے کم پر راضی نہیں تو اہل غزہ ہتھیار رکھنے کو اپنے لئے ذلت سمجھتے ہیں۔ نیتن یاہو کے انتہا پسند اتحادیوں کا لہجہ بھی مزید سخت ہوگیا ہے۔ وزیرخزانہ بیزلیل اسموترچ نے ایک ریڈیو نٹرویو میں صاف صاف کہا کہ 'ہمیں سچ بولنا چاہئے۔ قیدیوں کی واپسی اہم تو ہے لیکن بنیادی ہدف نہیں۔ ہمارا اصل ہدف غز ہ سے مزاحمت کا خاتمہ اور ایک ایک مزاحمت کار کو فنا کرنا ہے'اس پر لواحقین کی جانب سے شدید احتجاج ہوا لیکن وزیرخزانہ اپنی بات پر قائم رہے۔

اس ہفتے وزیراندرونی سلامتی اور عظمت یہود جماعت کے سربراہ اتامر بن گوئر امریکہ آئے اور صدر ٹرمپ کے عشرت کدے Mar-a-Lagoمیں برسراقتدر ریپبلکن پارٹی کے سینئر عہدیداروں سے ملاقات کے بعد تویٹر پر اسکی روداد  کچھ اسطرح بیان کی' مجھے ٹرمپ کی مار لاگو اسٹیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے سینئر عہدیداروں سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہوں نے غزہ کے بارے میں میرے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ مزاحمت کاروں پر دباؤ کے لئے خوراک اور امداد کے ڈپو پر بمباری کی جانی چاہئے' اس نشست میں صدر ٹرمپ موجود نہیں تھے۔ مجلس میں موجود کسی  ریپبلکن رہنما نے بن گوئر کے ٹویٹ پرتبصرہ نہیں کیا تاہم  جب امریکی وزرات خارجہ کی ترجمان محترمہ ٹیمی بروس سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا "یہ بیان ہمارے عزم کی نوعیت کے بالکل برعکس ہے"۔

اسرائیلی وزیر کو اس دوران طلبہ کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔امریکہ آمد پر نیویارک میں انکا استقبال سیاہ جھنڈیوں اور انکی خون آلود تصویروں سے ہوا۔ اس موقع پر سلیم الفطرت یہودی طلبہ بھی موجود تھے جنھوں نے غزہ میں نظر بند اسرائیلی قیدیوں کی تصویریں اٹھائی ہوئی تھیں۔ ان طلبہ نے کرائم منسٹر کے قاتل ساتھی واپس جاو کے نعرے لگائے۔چھاپوں اور گرفتاریوں کے باوجود جامعہ ییل (Yale)کی اسٹاف کالونی میں وزیرموصوف کی تقریر کے دوران  طلبہ نے زبردست مظاہرہ کیا۔ اس گستاخی پر جامعہ نے طلبہ تنظیم Yalies4Palestineکوکالعدم قراردیکراسکے ذمہ داروں کو تادیبی کاروائی کے نوٹس جاری کردئے اور ایمیگریشن حکام نے Yalies4Palestine سے وابستہ غیر ملکی طلبہ کے ویزوں کی جانچ پڑتال شروع کردی ہے۔امریکی ریاست کنیٹیکٹ (Connecticut)کی جامعہ ییل 1701 میں قائم ہوئی تھی۔جسکے وقف (Endowment) فنڈکا حجم 41 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ جامعہ ییل کو امریکہ کی تیسری قدیم ترین دانشگاہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

انتقامی کاروائیوں کے باوجود طلبہ نے احتجاج جاری رکھا جسکے نتیجے میں لانگ آئی لینڈ (نیویارک) کے ماڈرن قدامت پسند یہودی معبد (Modern Orthodox Synagogue) نے سبت کے اجتماع میں اسرائیلی وزیر کی تقریر منسوح کردی۔ انھیں 26 اپریل کو غروب آفتاب پر سبت کا اختتامی وعظ دینا تھا۔لیکن احتجاج کے پیشِ نظر معبد کی منتظمین Young Isreal of Woodmereنے بن گوئر کا خطبہ منسوخ کردیا، YIWکے اعلامئے میں وجہ نہیں بتائی گئی لیکن مشتعل بن کوئر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ منتظمین موت کی دھمکی کے پیش نظر یہ خطاب منسوخ کرنے پر مجبور ہوئے۔

وفاقی گرانٹ کی معطلی، گرفتاری، مقدمات، ویزوں کی منسوخٰی اور دوسری انتقامی کاروائیوں کے باوجود جامعہ ہارورڈ کے طلبہ بھی غزہ نسل کشی کے خلاف خاموشی اختیار کرنے کو تیار نہیں، 26 اپریل کو Global Day of Action for Gazaکے موقع پر جامعہ ہارورڈ میں بھرپور احتجاج ہوا۔ اس موقع پر امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی درخواست پر اہل پاکستان نے بھی اہل غزہ سے یکجہتی کا دن پورے شان وشوکت سے منایا۔

غزہ نسل کشی کیخلاف آواز اٹھانے والے نظر بند طلبہ سے 23 اپریل کو ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کانگریس نے لوزیانہ جیل میں ملاقات کی۔ اس ایمیگریشن حراستی مرکز  میں محمود خلیل اور ترک نژاد رمیسہ اوزترک 8 مارچ سے نظر بند ہیں۔وفد میں لوزیانہ کے ٹرائے کارٹر، لوزیانہ ہی کے لیو فیلڈز، مسسپّی (Mississippi)کے برنی تھامپسن، میسییچیوسٹ کی ایانا پریسلے، اسی ریاست کے جم مک گورن اور میسیچیوسٹس کے سیینیٹر ایڈورڈ مرکے شامل تھے۔ ملاقات کے بعدجیل کے باہر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے جم مگ گورن نے کہا کہ یہ لوگ سیاسی قیدی ہیں جنکی نظر بندی قابل مذمت ہے۔ٹرائے کارٹر کا کہنا تھاکہ کسی شخص کو قانون کا تقاصہ پورا کئے بغیر راتوں رات گھر سے اٹھالینا لاقانونیت کی انتہا ہے۔ امریکہ میں قانوں کی بالادستی کا یہ عالم کہ وفاقی ادارہ تحقیقات (FBI)نے کمرہ عدالت سے ایک جج کو گرفتار کرلیا۔تفصیلات کچھ اسطرح ہیں کہ ایک مبینہ غیرقانونی تارک وطن ایدووردو فلورز ریز Eduardo Flores Ruiz ایمیگریشن حکام کے چھاپے سے بچنے کیلئے ملواکی (Milwaukee) کاونٹی کی کچہری میں داخل ہوگیا جہاں کاونٹی سرکٹ جج محترمہ حنا دوگن موجود تھیں۔ ایمگریشن پولیس کو دیکھ کر ایداردو وہاں سے بھاگ گیااور جب ایجنٹوں نے جج صاحبہ سے پوچھاکہ ملزم کہاں ہے تو انھوں نے کہا مجھے کیا خبر؟ ملزم کو کمرہ عدالت کے باہرسے گرفتار کرنے کے ساتھ ہی جج صاحبہ کی بھی کار سرکار میں مداخلت و حرج کے الزام میں مشکیں کس دی گئیں۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جنرل کاش پٹیل نے بہت فخر سے کہا کہ ICE(ایمیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کے کام میں مداخلت ایک جرم ہے جسکی کی ہر مرتکب کو قیمت ادا کرنی ہوگی۔

جہاں غزہ اور غرب اردن اسرائیلی مظالم کا شکار ہیں وہیں امریکہ نے یمن کو مشق ستم بنالیا ہے۔گزشتہ چھ ہفتوں سے مسلسل بمباری ہورہی ہے۔ سارے ملک اور جزیرہ سقطرہ پر کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں  آگ نہ برسائی گئی ہو۔ بندرگاہوں پر غلے کے گودام جل کر خاک ہوئے، آبنوشی کے ذخائر اور توانائی کے وسائل اس مہم کا خاص ہدف ہیں۔ اس مہم کی نگرانی صدر ٹرمپ بنفس نفیس خود کررہے ہیں، ستم ظریفی کہ ٹرمپ صاحب جنگیں بند کرانے کا عزم لے کر اقتدار میں آئے تھے لیکن انھوں نے خود ایک ہولناک خونریزی کا آغاز کردیا۔امریکی مرکزی کمان (CENTCOM)نے 27 اپریل کو بتایا کہ 15مارچ سے شروع ہونے والے آپریشن Rough Rider کے دوران یمن میں 800مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ یعنی دنیا کا طاقتور اور امیر ترین ملک قحط زدہ غریب ملک کو پتھروں کے دور میں پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔تاہم مستکبرین کی بدقسمتی کہ بنکر بسٹر بموں کے وحشیانہ استعمال کے باوجود اب تک عسکری ہدف حاصل نہ ہوسکا۔اسرائیل پر یمنی حوثیوں کے میزائیل اور راکٹ حملے جاری ہیں، بحیرہ احمر اور خلیج عدن اب بھی اسرائیل کی طرف محو سفر جہازوں کیلئے no go area areaہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کیلئے نئی پریشانی حوثیوں کی جانب سے انکے قیمتی پرندے MQ-9 Reaperڈرون کا شکار ہے۔ امریکیوں نے گزشتہ ماہ کے آخر سے اب تک اپنے 7 ڈرونوں کی تباہی کا اعتراف کیا ہے۔غیر جانبدرا ذرائع یہ تعداد 30 بتارہے ہیں۔ سارے یمن کو چھلنی کرکے اب حوثی قیادت کو نشانہ بنانے کا مرحلہ درپیش ہے، جنکا 'شکار' ڈرون سے ہی ممکن لیکن تادم تحریر امریکہ بہادر اپنے ڈرون سے ایک بھی ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ نہ بناسکے۔ جبکہ حوثیوں کے نشانے وقت گزرنے کیساتھ بہتر اور مہلک ہوتے جارے ہیں۔اس صوتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سی این این کے سینئر دفاعی تجزیہ نگار زیکری کوہن نے کہا کہ یمن پرحملوں میں 30000 پونڈ کے بنکر بسٹر بم استعمال کئے گئے لیکن حوثیوں کی جارحانہ سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں آیا اور اب ڈرونوں کے تقصانات سے امریکی فوج میں مایوسی اور جھنجھلاہٹ کے آثار نمایاں ہورہے ہیں

گفتگو کے اختتام میں اہل غزہ کی رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کا ذکر۔بربادی و تباہی کے باوجود غزہ میں پوپ فرانسس کے انتقال پر تعزیتی جلسہ پورے مذہبی تقدس و احترام سے ہوا۔اہل غزہ اور فلسطین کی پرجوش حمائت کی بناپر آنجہانی اہل غزہ میں بہت مقبول تھے اسلئے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر کھنڈر بنے گرجا کی مرمت کرکے اسےپوپ کی تصاویر سے سجایا گیا تھا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 2 مئی 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 2 مئی 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 4 مئی 2025


 

Wednesday, April 30, 2025

 

یوم مئی ۔۔۔ تاریخی پس منظر

امریکہ کی آزادی کے ساتھ ہی آزادانہ معیشت کا قیام عمل میں آیا۔ اس نظام کے تحت مزدوروں کو یونین سازی کا حق نہ تھا۔ ہفتہ وار کام کا دوارانیہ 60 گھنٹہ تھا۔ چھٹی کے وقت ڈیڑھ ڈالر فی گھنٹے کے حساب سے یومیہ اجرت مزدوروں کو تھمادی جاتی۔ تعطیلات، علاج معالجے اور پنشن کی سہولت کا تصور بھی نہ تھا۔

 اکتوبر 1884 میں مزدوروں کی وفاقی انجمن کا قیام عمل میں آیا جسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قائدین کی پکڑ دھکڑ کا آغاز ہوا لیکن قیادت ثابت قدم رہی اور یکم مئی 1886 کو یوم مزدور منانے کا اعلان کیا گیا۔ دھمکیوں، برطرفیوں اور گرفتاریوں کے باوجود ایک لاکھ مزدور "Eight-hour day with no cut in pay" کے نعرے لگاتے ہوئے  شکاگو کے Haymarketچوک میں جمع ہوگئے۔ امن کی علامت کے طور پر ان مظاہرین نے سفید پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ ایسے ہی مظاہرے ڈیٹرائٹ (مشیگن)، ملواکی (وسکونسن)اور مین ہٹن (نیویارک) میں بھی ہوئے۔ شکاگو کے مزدور اپنے مطالبات کے حق میں پیر 3 مئی 1886 سے ہڑتال پر چلے گئے۔

 ہڑتال کامیاب رہی اور فیکٹریاں بند ہوگئیں۔مالکان نے ہڑتال کو غیر قانونی اور یونین رہنماوں کو انتشار پسند قراردیدیا۔ دوسری طرف لالچ دیکر کچھ مزدوروں کوکام پر بلالیا تاہم ان لوگوں کی تعداد تین فیصد سے زیادہ نہ تھی۔ شام کو جب یہ مزدور فیکٹری سے نکلے تو باہر کھڑے ہڑتالی کارکنوں نے غدار غدار کے نعرے لگائے۔ نعرے بازی کے دوران پولیس نے ہڑتالی کارکنوں پر گولی چلادی۔ جس سے چھ مزدور ہلاک ہوگئے۔ گولی کھاکر سب سے پہلے ایک پرچم بردار مزدور زمین پر گرا اور گرم گرم جوان لہو سے سفید پرچم سرخ ہوگیا۔ جب ساتھی اسے اٹھانے پہنچے تو وہ زخمی کارکن دم توڑ رہا تھا۔ اس نے خون آلود پرچم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لہو ہماری جدوجہد کی علامت ہےاسے مزدور تحریک کا علم بنالو یعنی

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم

اور نکلیں گے عشاق کے قافلے

یہ عام غلط فہمی ہے کہ مزدور تحریک کا سرخ پرچم کمیونزم کی علامت ہے حالانکہ یہ دراصل شکاگو تحریک کا خون ہے جو کمیونزم کی ولادت سے بہت پہلےکا واقعہ ہے۔ فائرنگ کے خلاف دوسرے روز یوم سیاہ منایا گیا۔ شام کو شہر کے مرکزی مقام ہے مارکیٹ سکوائر Haymarket Squireپر جلسہ ہوا۔ شدید بارش کے باوجود ہزاروں مزدور جمع ہوگئے۔ جلسہ بالکل پرامن تھا لیکن سورج غروب ہوتے ہی پولیس کی بھاری نفری نے مجمع کو گھیر لیا اور مظاہرین کو فوری طور پر منتشر ہونے کا حکم دیا۔ ابھی اس مسئلے پر پولیس حکام اور جلسے کے منتظمین میں بحث و مباحثہ شروع ہی ہوا تھا کہ اچانک کسی جانب سے پولیس کی طرف ایک دستی بم اچھال دیا گیاجس سے ایک پولیس افسر ہلاک ہوگیا۔دھماکے کے ساتھ ہی اندھا دھند فائرنگ شروع ہوگئی۔ فائرنگ کی زد میں آگر اور قدموں تلے کچل کر سات پولیس افسران سمیت 11 افرادہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ مزدور رہنماوں کیخلاف قتل و غارتگری، دہشت گردی، نقص امن عامہ کے مقدمات قائم ہوئے۔ عدلیہ کا رویہ انتہائی معتعصبانہ اور جانبدارانہ تھا۔ آٹھ میں سے 7 رہنماو ں کو سزائے موت اور ایک کو 15 سال قید بامشقت کی سزاسنادی گئی۔ گورنر نے دو مجرموں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔ ایک مجرم نے اپنے سیل میں خودکشی کرلی جبکہ چار رہنماوں جارج اینجل، ایڈولف فشر، البرٹ پارسنز اوراگسٹ اسپائیز کو پھانسی دیدی گئی۔ تختہ دار پر یہ چاروں "Eight-hour day with no cut in pay" کے نعرے لگاتے رہے۔ گلے میں پھندا کسے جانے کے بعد اگسٹ اسپائیز نے با آواز بلند کہا
The time will come when our silence will be more powerful than the voices you strangle today
جس بات سے تم نے روکا تھا اور دار پہ ہم کو کھینچا تھا

مرنے پہ ہمارے عام ہوئی گو جیتے جی ہم کہہ نہ سکے

اسپائیز کا جملہ مکمل ہوتے ہی مجسٹریٹ نے جلاد کو اشارہ کیا، دار کا تختہ سرک گیا اور مزدور تحریک کے قائدین موت کی وادی میں اتر  گئے۔



Friday, April 25, 2025

 

پانچ سال کی جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا۔ مصر و قطر کا نیاامن فارمولا

نیتن یاہو کو ملک کے اندر شدید مزاحمت کا سامنا

حکومتی "عزائم" کی تکمیل کے لئے مطلوبہ تعداد میں سپاہی میسر نہیں۔ اسرائیلی جرنیل

خفیہ ایجنسیاں Deep Stateکی نجی ملیشیا میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ نیتن یاہو کا شکوہ

 اپنا شہری رہا کرانے کیلئے امریکہ کے مزاحمت کاروں سے براہ راست مذاکرات؟؟؟

فرانسیسی و برطانوی ارکان پارلیمان کے اسرائیلی ویزے منسوخ

 امریکہ یمن میں  30ہزار پونڈ کے Massive Ordnance Penetrator بم استعمال کررہا ہے

غزہ میں ایک اور خاتون صحافی اسرائیل کے ہاتھوں قتل

غزہ اور غرب اردن میں ڈیڑھ سال سے جاری وحشت کے جلد ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اسکی بنیادی وجہ اسرائیلی وزیراعظم کی سیاسی مشکلات ہیں۔ اسرائیل میں یہ تاثر عام ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے ساتھ ہی نیتن یاہو کو ایوان وزیراعظم خالی کرنا ہوگا۔ انکے خلاف بے ایمانی، مالی بدعنوانی اور اختیارکے غیر قانونی استعمال کے اتنے پرچے کٹ چکے ہیں کہ کوئے یار سے انھیں سیدھا سو ئے دار (جیل) جانا ہوگا۔ متکبر نیتن یاہو، غزہ، غربِ اردن، جنوبی لبنان، شام اور یمن کو برباد کرنے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن پورس کے اس بدمست ہاتھی سے اب اسرائیل بھی محفوظ نہیں۔اسرائیل کی قوت کا راز اسکا سراغرسانی کا کامیاب نظام ہے اور اس شعبے کے تینوں اداروں یعنی موساد، شاباک (Shin Bet)اور یونٹ 8200سے وزیراعظم کی ٹھنی ہوئی ہے۔

اکتوبر 2023 میں غزہ پر حملے کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج کو غزہ میں جس شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا وہ حکومت کے ساتھ فوج اور خفیہ اداروں کیلئے غیر متوقع اور حیران کن تھا۔ جانی و مالی نقصان میں اضافے کیساتھ انگشت نمائی و الزام تراشی کا آغاز ہوا اور ایوان وزیراعظم محلاتی سازشوں کا گڑھ بن گیا۔ عالمی فوجداری عدالت سے وزیراعظم، وزیردفاع اور عسکری سربراہ کے پروانہ گرفتاری کے بعد 'یہ سب تمہاری غلطی ہے' قائدین کا تکیہ کلام بن گیا۔ اسکے ننیجے میں وزیردفاع گیلینٹ اور فوج کے سربراہ سمیت صف اول کے جرنیلوں کا مستعفی ہونا پڑا۔ وزیراعظم نیتن یاہو کی بے ایمانی و بددیانتی کی کہانیاں پہلے ہی زباں رد عام تھیں، قطر گیٹ اسیکنڈل کی شکل میں رشوت ستانی کے نئے قصے مشہور ہوئے اور پتہ چلا کہ ٹبر کیساتھ مشیروں کا سارا طائفہ لوٹ مار میں شریک ہے۔

نیتن یاہو سمجھتے ہیں شاباک کی شکل میں گھر بلکہ جڑ میں بیٹھا بھیدی لنکا ڈھارہا ہے، چنانچہ انھوں نے خفیہ ادارے کے سربراہ رونن بار کو پروانہ برطرفی تھمادیا لیکن اٹارنی جنرل کی سفارش پر عدالت نے برطرفی کے خلاف حکم امتناعی جاری کرکے معاملے کو معلق کردیا۔ اٹارنی جنرل غالی بہاروو میعارا صاحبہ کی جانب سے شاباک کی پشت پناہی حکمرانوں کیلئے نیا دردسر ہے۔ دوسری طرف فوج کیلئے غزہ کی دلدل گہری ہوتی چلی گئی۔جرنیلوں نے نجی مجالس میں وزیراعظم سے اپنی تشویش کاذکر کیا لیکن 'فتح مبیں' کے گنبد میں بند نیتن کچھ سننے کو تیار نہ ہوئے جس پر فوجی افسران اور سراغرساں اداروں نے کھلے خط کی شکل میں اپنے خدشات اور تحفظات عوام کے سامنے رکھ دئے۔ اب وزیراعظم کے ساتھ انکے حکمراں لیکڈ اتحاد نے بھی خفیہ اداروں کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔پندرہ اپریل کو لیکڈ  نے سوشل میڈیا پر صاف صاف کہدیا کہ

شاباک کے سربراہ رونن بار اور اٹارنی جنرل بہارو میعارا نے سکیورٹی سروس کو'گہری ریاست (Deep State)کی نجی ملیشیا' میں تبدیل کر دیا ہے جو قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی بنیادوں کو کمزورکررہی ہے۔ شین بیت تحفظِ اسرائیل کے بنیادی کام کے بجائے اب صحافیوں کو پکڑ دھکڑ اور اور ان سے پوچھ تاچھ میں مصروف ہے۔ پولیس افسران اور حکومتی اہلکاروں کی بلیک میلنگ کیساتھ وزرا اور ارکان پارلیمان کے خلاف تحقیقات کے کھاتے کھول دئے گئے ہیں۔ لیکوڈ اتحاد کا کہنا ہے کہ شین بیت کے ریاست کے اندر ریاست بن جانے کی وجہ سے غزہ کی جیتی ہوئی جنگ شرمناک شکست کی طرف بڑھ رہی ہے۔

اندرونی چپقلش اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ گزشتہ ہفتے اسرائیلی پارلیمان کی دفاعی کمیٹی کو فوج کے سربراہ جنرل ایال ضمیر نے بریفنگ دی۔حساسیت کی بناپر اس اجتماع کا TOP SECRETقرار دیا گیا یعنی وہاں موجود شرکا کو نوٹس لینے کی بھی اجازت نہ تھی۔ لیکن نشست ختم ہوتے ہی عبرانی خبر رساں ایجنسی Ynet Newsپر اجلاس کی خبر کچھ اسطرح شایع ہوئی 'سیاسی قائدین کے ایک خصوصی اجتماع کو فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے بتایا کہ ان کے پاس غزہ کی پٹی میں حکومت کے "عزائم" کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مطلوبہ تعداد میں سپاہی میسر نہیں۔اسرائیلی فوج نے اس خبر نما انکشاف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 'چیف آف اسٹاف نے سیاسی حلقوں کے سامنے 'بند آپریشنل بحث' میں جو کچھ عرض کیا، اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور یہ حقائق کی عکاسی نہیں کرتا'۔ اس پر معروف دفاعی تجزیہ نگار یوف زیٹن (Yaov Ziton) نے خبر اور وضاحت کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک درمیانی رائے کا اظہار کچھ اسطرح کیا کہ '(جنرل) ضمیر سیاسی قیادت سے کہنا چاہ رہے ہیں کہ وہ زمینی حقائق کے تناظر میں اپنے کچھ خواب و تصورات ترک کرلیں۔

غزہ نسل کشی کے طول پکڑ جانے سے فوج میں جو بیچینی ہے اسکا ذکر ہم گزشتہ نشست میں کرچکے ہیں۔اس ہفتے شہری ہوابازی کے 300پائیلٹوں نے وزیراعظم کے نام اپنے کھلے خط میں کہا کہ خونریزی جاری رہنے سے قیدیوں کی زندگی کو سخت خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔مکتوب پر سرکاری اسرائیل ایئرلائن El Al کے علاوہ نجی جہاز راں کمپنیوں سے وابستہ پائلٹوں کے دستخط ہیں جنکی مجموعی تعداد اسرائیل کے دوتہائی ہوابازوں سے زیادہ ہے۔

اب جبکہ 'جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینےلگے' والی صورتحال پیدا ہوچکی ہے تو موصوف خود کو دبنگ ثابت کرنے کیلئے بہت ہی  مکروہ انداز میں غرارہے ہیں۔ ہفتہ 19 اپریل کو قوم کے نام اپنے جذباتی خطاب میں انھوں نے کہا مزاحمت کاروں کے مکمل خاتمے سے پہلے غزہ جنگ ختم نہیں ہوگی۔ غزہ میں مزاحمت کاروں کا اقتدار بحال رہنا اسرائیل کی شکست ہے۔

واشنگٹن میں یہ خبر گردش کررہی ہے کہ امریکی خفیہ ادارے  نےغزہ کے بارے میں اپنی تشویش سے صدر ٹرمپ کو مطلع کردیا ہے۔سی آئی اے کے خیال میں غزہ اسرائیلی فوج کا دلدل بن چکا ہے۔ وحشیانہ بمباری سے عسکری اہداف کا حصول ممکن نہیں جبکہ زمینی دستوں کو ہر جگہ شدید مزاحمت کا سامناہے۔صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اہل غزہ سے براہ راست بات چیت کرکے امریکی قیدی عیدن الیکزنڈر اور چار امریکی لاشیں بازیاب کرالیں۔ عیدن کی زندگی کے بارے میں بھی خدشات پائے جاتے ہیں۔ پندرہ اپریل کو شدید بمباری کے بعد سوشل میڈیا چبوترے Telegramپر مزاحمت کاروں کے ترجمان نے کہا  'بمباری کے بعد ہمارا اُس مرکز سے رابطہ ختم ہوگیا ہے جہاں کچھ  دوسرے قیدیوں کیساتھ عیدن الیگزنڈر کو رکھا گیا تھا، قیدیوں کی نگرانی پر مامور محافظین سے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔متحدہ عرب امارات کی خبر رساں ایجنسی Erem  کے مطابق صدر ٹرمپ نے مزاحمت کاروں سے براہ راست مذاکرات کیلئے اپنے خصوصی ایلچی آدم بوہلر کو قطر جانے کی ہدائت کی ہے۔

اسی کیساتھ 21 اپریل کو قطر اور مصر نے پانچ سے سات سال کی جنگ بندی کانیا امن فارمولا تجویز کردیا۔بی بی سی پر جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق اس دوران اسرائیل غزہ سے اپنی فوج واپس بلا لے گا اور غزہ میں نظر بند تمام قیدی رہا کردئے جائینگے، جسکے عوض اسرائیل کو اپنے عقوبت کدوں سے سارے فلسطینیوں کو رہائی دینی ہوگی، جن میں غزہ سے گرفتار کئے جانیوالے بچے بھی شامل ہیں۔

ملک کے اندر بیچینی کیساتھ اپنے مغربی اتحادیوں کے سنگین تحفظات سے نیتن یاہو بوکھلائے سے لگ رہے ہیں۔ اتوار 20 اپریل کو اسرائیلی حکومت نے فرانسیسی پارلیمان کے 27ارکان کو ملک آنے سے روک دیا۔ ان قانون سازوں کا تعلق ماحول دوست (Ecologist) اور کمیونسٹ پارٹیوں سے ہے۔ چند روز پہلے برطانیہ کی برسراقتدار لیبر پارٹی کے دوارکان کے اسرائیلی ویزے منسوخ کئے جاچکے ہیں۔وضاحت کرتے ہوئے وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا 'ان افراد کی سرگرمیاں اسرائیل کے قومی مفادات اور سلامتی کیلئے نقصان دہ ہیں' حوالہ: ٹائمز آف اسرائیلی

قیدیوں کے حراست کدوں پر بمباری کی خبر سے اسرائیل بھر میں مظاہروں نے شدت اختیار کرلی ہے۔ یروشلم میں مظاہرے کے دوران حال ہی میں رہا ہونے والے عفر کلدڑن نے کہا کہ نیتن یاہو نے ہماری روح کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔اس ہفتے عوامی سطح پر 'جنگ ختم کرو، ہمارے پیاروں کو واپس لاو' کے عنوان سے  اسرائیل میں دسخطی مہم کا آغاز ہوا اور پہلے ہی دن سابق وزیر اعظم یہودبراک، فوج کے سابق سربراہ جنرل ڈین ہالُٹز، موساد کے سابق سربراہوں، اور غزہ قتل عام میں مصروف فوجیوں سمیت ڈیڑھ لاکھ افراد نے اس پر دستخط کردئے۔اسرائیلی ٹیلی ویژن 12 کے ایک جائزے میں 70 فیصد اسرائیلیوں نے جنگ ختم کرکے قیدی آزاد کرانے کی حمائت کی ہے۔

دوسری طرف امن مذاکرات کے ثالث،  قطر نے لگی لپٹی بغیرجنگ بندی کے حوالے سے اسرائیل کی بدنیتی کا بھانڈہ پھوڑدیا۔ماسکو میں روسی صدر ولادیمر پیوتن سے ملاقات کے بعد میزبان کے ہمراہ مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ قطر شیخ ثمیم بن حمد الثانی نے کہا کہ 'ہم کئی ماہ پہلے ایک امن معاہدے پر متفق ہوچکے تھے لیکن بد قسمتی سے اسرائیل نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی'۔

غزہ اور غرب اردن پر اسرائیل کی وحشت کیساتھ امریکہ بہادر یمن پر قیامت ڈھائے ہوئے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) کے مطابق یمن کے خلاف اب انسانی تاریخ کا خوفناک ترین GBU-57A/B MOP (Massive Ordnance Penetrator)المعروف بنکر بسڑ بم استعمال کیا جارہا ہے۔ بوئنگ کا تیارکردہ 30 ہزار پونڈ کا یہ بم اپنے ہدف کو چیرتا ہوا زمین کے اندر 200 فٹ گھس کر پھٹتا ہے اور چٹانیں اور فولادی چادریں دھواں بن کر فضا میں اڑ جاتی ہیں۔ بیس فٹ لمبا اور 30 انچ قطر کا یہ بم اتنا بھاری ہے کہ روائتی بمباروں کیلئے انھیں اٹھانا ممکن نہیں چنانچہ قیامت گرانے کیلیے دیوپیکر B-2 Spiritبمبار استعمال کئے جارہے ہیں۔ امریکہ نے پانچ غیر مرئی (Stealth)بی 2 بمبار بحر یند کے ڈیکو کارشیا (Diego Garcia)اڈے پر پہنچادئے ہیں۔گزشتہ ہفتے بحیرہ احمر کی یمنی بندرگاہ راٗس عیسیٰ کو ان بموں سے اسوقت نشانہ بنایا جب وہاں جہازوں سے غلہ اتارا جارہا تھا۔ بمباری سے 75 کارکن جان بحق ہوئے اور قحط زدہ یمنیوں کا ٹنوں غلہ راکھ بن گیا۔اسی روز الحدیدہ بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایاگیا۔ تاہم یمنی میزائیلوں کا اسرائیل کی طرف سفر بھی جاری ہے۔اٹھارہ اپریل کو یمن سے منجنیقی (Ballistic)میزائیل داغے گئے، جسے اسرائیلی دفاعی نظام نے غیر مؤثر کردیا لیکن اسکا ملبہ گرنے سے کوہ یروشلم پر تاریخی ساریک غار کے قریب آگ بھڑک اٹھی۔ حفاظتی الارم کے سائرن بجنے کی وجہ سے سینکڑوں افراد اس غار میں پناہ لئے ہوئے تھے۔ میزائیل کے کچھ ٹکڑے بیت اللحم کے قریب گرے

ایک اور آئینہ چکناچور:

اس ہفتے 25 سالہ فری لانس فوٹو جرنلسٹ فاطمہ حسسونہ بمباری سے اپنے ماں باپ کیساتھ شہید ہوگئی۔فاطمہ کو کعبہ و مدینہ کی زیارت کا بہت شوق تھا اور اس مبارک سفر کیلئے اس نے زاد راہ بھی جمع کرلیا لیکن فاطمہ کا خیال تھا کہ اسوقت عمرے سے زیادہ اہم دنیا کو اسرائیلی مظالم کی تفصیل بتانا ہے، لہٰذا اس نے نیت کرلی کہ جنگ ختم ہونے پر وہ اپنے والدین کیساتھ عمرہ کریگی لیکن 16 اپریل کی صبح اسرائیلی طیاروں نے اسکے گھر کو نشانہ بنایا جس سے وہاں موجود تمام لوگ جاں بحق ہوگئے اور فاطمہ،  کعبہ کے بجائے رب کعبہ کے حضور پیش ہوگئی۔ یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔

فوٹو جرنلزم کے حوالے سے غزہ کے نوسالہ بچے محمود عجور کی تصویرکشی پر نیویارک ٹائمز کے فوٹو گرافر کو  WORLD PRESS PHOTOکا ایوارڈ دیا گیا ہے۔اسرائیلی بمباری سے اس بچے کے دونوں بازو اڑ گئے ہیں۔ درندگی و وحشت کے اس استعارے پر انعام دینے والوں کو اس ظلمِ عظیم کی مذمت کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔سچ ہے کہ غزہ کے لہو نے مغربی تہذیب کا میک اپ دھوکر اسکا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ٹرمپ انتظامیہ سفاکی کا نیا سنگ میل عبور کرلیا۔غزہ نسل کشی کے خلاف قیادت کرنے والے زیرحراست طالب علم رہنما محمود خلیل کی پرامید بیوی نور عبداللہ گھر پر بالکل اکیلی ہے۔ محمود کے وکلا نے ایمیگریشن حکام سے درخواست کی تھی کہ محمود خلیل کو Furlough (عارضی) پر چند روز کیلئے رہا کردیا جائے تاکہ ان مشکل لمحات میں اپنی بیوی کے ساتھ رہے۔لیکن ایمیگریشن حکام نے یہ درخواست مسترد کردی۔، 21 اپریل کو کی  بیوی نور عبداللہ نے چاند سے ایک بیٹے کو جنم دیا جو نور اور محمود کی پہلی اولاد ہے۔ولادت کیلئے ہسپتال جاتے ہوئے جب نور کو بتایا گیا کہ اسکے شوہر کی furloughدرخواست مسترد ہوگئی ہے تو اس حوصلہ مند لڑکی نے کہا 'کیا ہوا جو میرامحمود میرے ساتھ نہیں، ربِ محمود میرے ساتھ ہے'

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 25 اپریل 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 25 اپریل 2025

روزنامہ امت کراچی 25 اپریل 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 27 اپریل 2025