Thursday, September 18, 2025

 

او آئی سی  کی بے بسی اور امت کا امتحان

 دوحہ اجلاس کا ادھورا بیانیہ

عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس 15 ستمبر کو دوحہ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد 9 ستمبر کو قطر کے دارالحکومت پر اسرائیلی حملے کے بعد کی صورتحال پر غور اور جارحیت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔

پاکستان، ترکیہ، ملائیشیا اور ایران کی جانب سے تجاویز تو پیش کی گئیں، مگر کوئی ٹھوس عملی منصوبہ سامنے نہ آیا۔

  • وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ سے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے اور عرب-اسلامی ٹاسک فورس کی تشکیل کی تجویز دی، مگراسرائیل کے خلاف سفارتی مہم کی کوئی حکمت عملی بیان ہوئی نہ ٹاسک فورس کے خدوخال واضح کئےگئے۔
  • ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اسرائیل پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی بات کی، لیکن انکی تقریر میں آذربائیجان سے اسرائیل کو تیل کی ترسیل روکنے جیسے کسی عملی اقدام کا ذکر نہ تھا۔ واضح رہے کہ یہ تیل ترک بندرگاہ جیحان (Ceyhan) سے اسرائیلی ٹینکروں پر لادا جاتا ہے۔
  • ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے مسلم ممالک سے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی اپیل کی، مگر مصر، اردن، بحرین، مراکش، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے اس پر کوئی آمادگی ظاہر نہ کی۔

قطری امیر کا خطاب: جوش، حقیقت اور بے بسی

اجلاس سے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا خطاب سخت اور جوشیلا تھا۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کو "اقتدار کی جنونیت، تکبر اور خون کی پیاس میں مبتلا" قرار دیا اور کہا کہ ثالثوں پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کو امن میں کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ وہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔قطری امیر نے غزہ میں جاری جنگ میں 65 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کا ذکر کیا۔ انھوں نے نیتن یاہو کی توسیع پسندانہ سوچ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے شامی زمین پر قبضہ کیا اور اب جنوبی لبنان سے انخلاء پر تیار نہیں۔تاہم، قطری قیادت کی گفتگو عملی بے بسی کا شکار رہی۔ اربوں ڈالر کے امریکی و برطانوی دفاعی نظام کی موجودگی میں اسرائیلی طیارے حملہ کر کے چلے گئے اور قطر کو ان کی آمد کی آہٹ تک محسوس نہ ہوئی۔

سفارتی احتیاط،  سیاسی مصلحت، اندرونی تضاد

ایران پر اسرائیلی حملوں اور یمن میں اسرائیلی مداخلت یا تباہی کا براہِ راست ذکر قطری امیر کی تقریر میں نہیں آیا۔حالانکہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران اور یمن میں وحشیانہ کارروائیاں کی ہیں۔خطے میں ان حملوں پر شدید ردِعمل بھی موجود ہے۔قطر،  ایران اور امریکہ کے درمیاں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کا ذکر نہ کرنا شاید سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہو۔ جبکہ یمن کے معاملے پر خلیج یکسو نہیں اور ان ممالک کی سفارتی کشیدگی سے خود کو باہر رکھنے کیلئے امیر قطر نے گفتگو میں احتیاط برتی۔

خلیج تعاونی کونسل کا اعلان ۔۔  دفاعی اتحاد یا علامتی بیانیہ؟

خلیجی تعاون کونسل (GCC) نے اپنےاجلاس میں مشترکہ دفاعی نظام کو فعال کرنے اور فوجی کمان کا اجلاس دوحہ میں بلانے کا اعلان کیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ GCC کے کسی ایک رکن پر حملہ، تمام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔اجلاس کے بعد GCC کے ترجمان ماجد محمد الانصاری نے بتایا کہ خلیجی ممالک کی فوجی قیادت کے درمیان مشاورت جاری ہے تاکہ علاقائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا سکے۔

 OIC اور عرب لیگ میں بیانات کی حد تک یکجہتی

اوآئی سی  اور عرب لیگ کے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی حملے کی شدید مذمت اور قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔بیان میں اسرائیل کی جانب سے قطر کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار بھی ہوا،لیکن اسکے لئے کسی تزویراتی حکمت عملی کا ذکر سامنے نہ آیا۔ جی سی سی کے معتمد عام جاسم محمد البدیوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا اسرائیل پر اثر ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اسے استعمال کرے۔میر کیا سادہ ہیں۔۔۔

OIC کی تاریخ، زوال اور متبادل کی تلاش

اسلامی تعاون تنظیم (OIC)کا قیام 1969 میں مسجد اقصٰی کی آتشزدگی کا ردعمل تھا۔ تاسیس کے وقت اس کا مقصد مسلم ممالک کا اتحاد، مظلوموں کی آواز بننا اور عالمی سطح پر اسلامی دنیا کے مفادات کا تحفظ طئے پایا لیکن نصف صدی بعد  OIC عملاً مفلوج ہو چکی ہے۔اس کی قراردادیں صرف کاغذی بیانات، اجلاس صرف رسمی تصاویر اور  قیادت خلیجی طاقتوں کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے۔

کوالالمپور کانفرنس OIC کا متبادل؟

تنظیم کو فعال بنانے کیلئے 18 سے 20 دسمبر 2019 ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ایک چوٹی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ترکی، ایران، قطر اور دیگر مسلم ممالک کے رہنماؤں، دانشوروں اور اسکالرز نے شرکت کی ۔اس کانفرنس کا مقصد  مسلم دنیا کو درپیش مسائل، اسلاموفوبیا، معاشی پسماندگی، اور سیاسی انتشار کا حل اور OIC کی غیر مؤثر حیثیت کے متبادل پر غور کرناتھا۔ دلچسپ بات کہ اس بیٹھک کے تجویز کنندگان میں سب سے اہم کردار پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کا تھا لیکن سعودی دباؤ کے باعث عین وقت پر پاکستان نے شرکت سے معذرت کر لی، جس نے مسلم دنیا میں نئی سفارتی صف بندی اور قیادت کے بحران کو مزید واضح کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کو امت کی قیادت کا موقع ملا، مگر خانصاحب  نے ریال کی سفارت کاری کو ترجیح دی

قیادت یا مفاہمت؟

یہ OICکو فعال کرنے کا آخری موقع تھا جو ضائع کردیا گیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ مسجد اقصی کی آتشزدگی پر امت کی قیادت کا عزم لے کر بننے والی  OIC غزہ کی نسل کشی، قطر پر حملے اور فلسطینی قیادت کے قتل پر صرف بیانات جاری کر رہی ہے۔ تنظیم کی قیادت ان ممالک کے زیرِ اثر ہے جنھوں نےاسرائیل سے تعلقات بڑھائے  اور اب OIC کو اپنے مفادات کے مطابق چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔حالیہ عرب-اسلامی سربراہی اجلاس میں اسرائیل کے "بزدلانہ" حملے کی مذمت تو کی گئی، مگر کوئی ٹھوس سیاسی یا اقتصادی منصوبہ سامنے نہ آیا، خلیج تعاونی کونسل نے مشترکہ دفاعی نظام کی بات کی، مگر  عملی مزاحمت کا کوئی نقشہ پیش نہیں کیا گیا۔

کیا امتِ مسلمہ نئی قیادت، نئی صف بندی اور نئی مزاحمت کے لیے تیار ہے؟ یا OIC کو تاریخ کا ایک ناکام تجربہ مان کر اسرائیل اور امریکہ کے سامنے ہتھیار رکھ دینے ہی میں عافیت سمجھی جائے گی؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 19 ستمبر 2025


۔

Friday, September 12, 2025

 

جہنم کے دروازے، نسل کشی اور عالمی ضمیر کا امتحان

باقون کالزعتر والزیتون

پانچ ستمبر کی صبح، امریکی ساختہ لیزر گائیڈڈ میزائلوں سے غزہ شہر کے مغربی حصے میں واقع پندرہ منزلہ برج "مشتھی السکنی" (رہائشی ٹاور) کو سینکڑوں مکینوں سمیت زمین بوس کر دیا گیا۔ وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اس حملے کے بعد اعلان کیا کہ "ہم نے غزہ پر جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں"۔ دوسرے دن نوید سنائی کہ 8 ستمبر کو ایک خونی Hurricaneغزہ سے ٹکرائیگا۔اس روز بنکر بسٹر بموں اور میزائیلوں سے شہرکی کئی کثیرالمنزلہ عمارات و مساجد مسمار کردی گئیں۔ غزہ کی فضاوں پر شیطانی رقص تادم تحریز جاری ہے۔ پٹی پر جہنم کے دروازے کھولدینے کا وعدہ سب سے پہلے صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں کہا تھا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ: 21 ہزار بچے معذور، 29 ہزار مزید خطرے میں

دنیا غزہ میں 19 ہزار سے زائد بچوں کے قتل کا ماتم کر رہی ہے۔ لیکن گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے ادارے UN Committee on the Rights of Persons with Disabilities نے ایک رپورٹ جاری کی ، جس کے مطابق 21ہزار بچے مستقل طور پر معذور ہو چکے ہیں اور مزید 29 ہزار نونہال زخمی ہیں جنکا اگر بروقت علاج نہ ہوا تو انکی بڑی تعداد بھی معذور ہوسکتی ہے۔یہ اعداد و شمار صرف جسمانی نہیں، اخلاقی زلزلے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

کھلے چھت کے قیدخانے سے لے کر تنگ و تاریک کھولیوں تک بھوک کا راج

اسرائیلی عدالتِ عظمیٰ نے 8 ستمبر کوایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قیدیوں کو خوراک سے محروم رکھنا غیر قانونی ہے۔ جج حضرات نے یہ رائے انسانی حقوق کی تنظیموں Association of Civil Rights in Israel (ACRI)، اور Gisha کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں پر دی جن میں کہا گیا تھا کہ حکومت کی خوراک کم کرنے کی پالیسی کی وجہ سے قیدیوں میں غذائی قلت، کمزوری اور بعض میں اموات بھی ہورہی ہیں۔چیف جسٹس اُزِی فوگل مین (Uzi Vogelman)، جسٹس اسحاق عمت (Isaac Amit)اور جسٹس جارج کرا (George Karra)پر مشتمل بینچ نے قرار دیا کہ قیدیوں کو کم از کم روزانہ تین وقت کا کھانا دینا لازمی ہے تاکہ ان کی "بنیادی سطح کی زندگی" برقرار رہے۔ بات آرام دہ زندگی یا آسائش کی نہیں، بلکہ قانون کے مطابق زندہ رہنے کی بنیادی شرائط کی ہے۔یہ دراصل عدالتی اعتراف ہے کہ اسرائیل غزہ و غرب اردن سے اپنے عقوبت تک ہرجگہ بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔

امریکی سینیٹروں کی چشم دید گواہی

ریاست میری لینڈ کے سینیٹر کرس وین ہالن (Chris Van Hollen)اور ریاست اوریگن کے سینیٹر جیف مرکلے (Jeff Merkley) نے فلسطین کا تفصیلی دورہ کیا اور واپسی پر 4 ستمبر کو واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ نیتن یاہو حکومت غزہ میں کھلی اور مغربی کنارے میں سست روی کے ساتھ نسلی تطہیر کر رہی ہے۔ فلسطینیوں کے گھروں، اسکولوں اور اسپتالوں کو تباہ کر کے انہیں زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی کے ان  سینیٹروں کے مطابق، امریکا و اسرائیل کا مبینہ منصوبہ ہے کہ 20 لاکھ فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کرنے کے بعد غزہ کو 10 سال کے لیے امریکی کنٹرول میں دے کر اسے  سیاحتی مرکز میں تبدیل کردیاجائے۔اس منصوبے کو سرمایہ کاری کا لبادہ اوڑھا کر فلسطینیوں کی جبری ہجرت کو "رضاکارانہ" ظاہر کیا جا رہا ہے، جو دراصل ایک سنگین دھوکہ ہے۔ انھوں نےیورپی اور عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ متحد ہوکر نیتن یاہو کو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے روکیں اور دو ریاستی حل کو زندہ رکھیں۔

غرب اردن میں قبضہ گردوں کی دہشت

مشرقی بیت المقدس کے قریب متنازعہ E1 سیٹلمنٹ پروجیکٹ کی منظوری کے بعد، فوجی سرپرستی میں فلسطینی بستیوں پر قبضہ گردوں (Settlers) کے حملے روز کا معمول بن چکے ہیں۔چار ستمبر کی رات کو جنوبی غرب اردن کے شہر الخلیل کے قصبے خلة الضبع پر مسلح قبضہ گردوں نے دھاوا بول دیا۔ ڈنڈوں اور آہنی مکوں سے خواتین، ضعیفوں اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ چھ ماہ کی بچی سمیت 14 افراد زخمی ہوئے۔ ایک ضعیف العمر شخص علی اور ان کی اہلیہ امینہ کی ہڈیاں توڑ دی گئیں۔ غنڈوں کے جانے کے بعد فوج نے گھر گھر تلاشی کے دوران ایک سو کے قریب فلسطینیوں کو گرفتا کرلیا۔شمال میں جنین سے لے کر جنوبی کونے پر حطہ تک ہر شہر پر قصبہ قبضہ گردحملہ آور ہیں۔

جنگ بندی کا سراب

جہاں تک جنگ بندی کا تعلق ہے تو غزہ شہر پر بھرپور حملے کے بعد امن کی امید معدوم ہوچکی ہے۔تین ستمبرکو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جنگ بندی کی ایک دھمکی آمیز پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ “مزاحمتی گروہ کو کہو کہ وہ تمام 20 یرغمالیوں کو فوراً رہا کردے، 2 یا 5 یا 7 نہیں، (ایسا ہوا تو) حالات فوراً بدل جائیں گے اور جنگ ختم ہو جائے گی“۔ ابھی اس بیان کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے متکبرانہ لیجے میں کہدیا کہ مزاحمت کاروں کے اسلحہ ڈالنے سے پہلے جنگ بند نہیں ہوگی۔اسی کیساتھ انھوں نے سینہ پھلاکر بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مزاحمت کاروں کے ترجمان کا خاتمہ کردیا ہے۔عالمی برادری بھی حد درجہ احتیاط اور مصلحت کا شکار ہے۔ گزششتہ ہفتے اعلان ہوا کہ  فرانسیسی صدر اور سعودی ولی عہد 22 ستمبر کو نیویارک میں فلسطین و غزہ کی صورتحال پر بات کرینگے۔ روزانہ دو سو اموات کے بیچ تین ہفتے کی تاخیر ’’خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک‘‘ کے مصداق ہے۔

اسرائیلی فوج میں تھکن اور مراعات کا لالچ

نیتن یاہو کی خون آشامی اور تکبر اپنی جگہ لیکن اسرائیلی فوج میں تھکن خوف اور بیزاری بہت نمایاں ہے۔ غزہ پر یلغار کے لیے 50 ہزار ریزرو سپاہیوں کو طلب کیا گیا، مگر بڑی تعداد میں چھٹی کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ انھیں لبھانے کے لیے "مجاہد (Fighter) کارڈ" متعارف کرایا گیاہے، جس میں ہر سپاہی کو سالانہ پانچ ہزار شیکل (ایک ہزار ڈالر) تک شاپنگ اور تفریح کے کریڈٹ دیے جائیں گے۔ وزیرِ دفاع  کے مطابق یہ ’’اعتراف اور قدردانی‘‘  جبکہ وزیرِ خزانہ کے خیال میں یہ محافظوں کیلئے قوم کا "تحفہ" ہے۔ مراعاتی رشوت ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیلی فوج دفاع کا قومی ادارہ نہیں بلکہ مراعات یافتہ وحشی مافیا بن چکی ہے۔

اسرائیلی سیاست کا داخلی بحران

عسکری پہلو کیساتھ سیاسی محاذ پر بھی بیچینی بہت واضح ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف یائر لاپید (Yair Lapid)  نے تل ابیب میں اپنی جماعت یش عتید  (Yesh Atid) کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "نیتن یاہو کی پالیسیوں نے اسرائیل کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر یہ اتحاد دوبارہ اقتدار میں آ گیا، تو یہ صہیونیت کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔"

قیدیوں کی مائیں، زنجیروں میں احتجاج

جیسے جیسے غزہ شہر پر اسرائیلی حملے میں شدت آرہی ہے،  قیدیوں کے لواحقین کا اضطراب بھی بڑھتا جارہا ہے۔یروشلم میں وزیرِاعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاجی مظاہرے میں اسیر نوجوانوں کی مائیں انات انگرسٹ (Anat Angrest)اور وکی کوہن(Vicky Cohen) غم و غصے سے بے قابو ہوگئیں۔وکی کوہن نے بھرائی ہوئی آواز میں کہاکہ 'وزیراعظم صاحب! آپ کی تاخیر سےمیرا بچہ سسک سسک کر مر رہا ہے۔ یرغمالی آپ کی تقریروں، وضاحتوں اور بہانوں کے انتظار میں نہیں رہ سکتے۔ اگر آپ کو واقعی پرواہ ہوتی تو میرا بچہ آج میرے ساتھ گھر پر ہوتا' ۔مظاہرین نے قیدیوں کی اذیت کے علامتی اظہار کیلئےزنجیریں پہن رکھی تھیں۔

دانشوروں کی بغاوت

ممتاز اسرائیلی دانشور و مورخ ڈاکٹر Fania Oz Slazbeergerنے ٹویٹر (X)پر اسرائیلی فوجیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ غزہ جانے سے انکار کردیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا ہے کہ مسیحائی (Messianic)دائیں بازو کی جنونیت نے اسرائیل کو تنہا کردیا ہے لہذا اب لڑائی سے انکار کے علاوہ اس بحران سے نکلنے کا اور کوئی راستہ نہیں۔

قافلۂ صمود پر حملہ؟؟؟

غزہ کی طرف محو سفر صمود کا ہراول دستہ تیونس کے قریب ہے۔منگل 9 ستمبر کی رات کارواں کے ایک جہاز پر آگ بھڑک اٹھی، تاہم فوری کارروائی سے شعلے بجھا دیے گئے اورکوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔منتظمین کے خیال میں یہ ایک ڈرون حملہ تھا لیکن تیونس کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ علاقے میں کسی ڈرون کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے اور آگ لگنے کی ممکنہ وجہ شارٹ سرکٹ تھی۔

عالمی عوامی ردعمل

حکومتوں کی بے حسی کے باجود عوامی سطح پر یورپ میں ردعمل شدید ہوتاجارہاہے۔ صنعتِ سنگھار (Cosmetics) سے وابستہ برطانوی کمپنی Lush نے فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر 3 ستمبر کو ایک دن کے لیے اپنی تمام دکانیں، ویب سائٹ اور فیکٹریاں بند رکھیں۔ ادارے نے اپنے اعلامئے میں کہا "اگرچہ Lush ایک دن کی آمدنی کھو رہی ہے، مگر اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ برطانوی حکومت اور عوامی خزانے کو بھی اس دن ٹیکس کی آمدنی نہیں ملے گی"۔ لش کا یہ قدم یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب حکومتیں خاموش ہوں، تو ضمیر رکھنے والے ادارے بولتے ہیں۔

ہارورڈ بمقابلہ ٹرمپ: عدالت نے "یہود دشمنی" کو پردہ قرار دیا

نسل کشی کے خلاف مظاہروں کو سام دشمنی یا Antisemitismقراردینے کی ٹرمپ منطق کو امریکی عدالت نے مسترد کردیا۔امریکی صدرنے یہ الزام لگاکر جامعہ ہاروڈ کی دو ارب ڈالر سے زائد کی وفاقی گرانٹ روک دی تھی۔جامعہ نے اس فیصلے ے خلاف اپیل دائر کردی اور 3 ستمبر کو وفاقی جج ایلیسن بوروگز (Allison Burroughs)نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ٹرمپ انتظامیہ نے "یہود دشمنی" کو محض ایک بہانے اور پردے کے طور پر استعمال کیا یہ دراصل  ملک کی نمایاں جامعات پر ایک نظریاتی اور سیاسی حملہ تھا"۔ فیصلے کے بعد ہارورڈ کی منجمد شدہ گرانٹ بحال کر دی گئی۔ یہ معاملہ آزادیِ اظہارِ رائے اور سیاسی انتقام کے درمیان کشمکش کی تازہ مثال ہے۔

ڈاکٹر عمر حرب کی بھوک سے موت: علم کی شمع بجھ گئی

غزہ میں سینکڑوں بچے بھوک سے جاں بحق ہو چکے ہیں اور 4 ستمبر کو بھوک نے ایک استاد کو بھی چاٹ لیا۔ممتاز دانشور و معلم ڈاکٹر عمر حرب بھوک سے دم توڑ گئے۔ ان کے بیوی بچے دسمبر میں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن چکے تھے۔

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم۔۔ تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے

نوشتۂ دیوار: زعتر اور زیتون کی گواہی

ملبے کی ایک سل پر کسی حوصلہ مند نے لکھ دیا:"باقون کالزعتر والزیتون"یعنی ہم باقی رہیں گے، جیسے زعتر اور زیتون۔زعتر مزاحمت کی خوشبو ہے اور زیتون فلسطین کی پہچان۔ یہ اس عزم کا اعلان ہے کہ گھر تباہ ہوں یا شہر اجڑ جائیں، ہم اپنی زمین اور شناخت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 12 ستمبر 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 12 ستمبر 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 14 ستمبر 2025


 

Thursday, September 11, 2025

 

ثالثی کی سز ا۔۔۔ قطر پر میزائیلوں کی بارش

خلیج کی ریت پر قطر ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے لیکن اسکے قائدین کی بردباری اور معاملہ فہمی نے اسےخطے کی سب سے مؤثر ثالثی قوت بنا دیا۔واشنگٹن سے قطر کی قربت کا یہ عالم کہ یہاں قائم Al Udeid Air Base مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ اور امریکی مرکزی کمان کا ہیڈکوارٹر ہے۔اس اڈے کو برطانوی شاہی فضائیہ بھی استعمال کرتی ہے۔

تاہم غزہ کے حوالے سے  صدر ٹرمپ کی  قطر پر خصوصی 'شفقت' رہی ہے۔ایران اور فلسطینی مزاحمت کاروں سے روابط اور الجزیرہ ٹیلی ویژن کی سرپرستی کا الزام لگاکر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارت اور بحرین نے 2017 میں قطر کا بائیکاٹ کیا تو امریکہ نے مذمت سے گریزکرکے سعودی بیانیے کو تقویت دی۔ اس وقت بھی جناب ڈانلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر تھے اور 9 ستمبر کو جب اسرائیل نے قطر کی سرزمین پر حملہ کیا تب بھی صدر ٹرمپ ہی اقتدار میں ہیں۔ اور ایک بار پھر، ان کا ردِعمل افسوس، وضاحت، اور پھر حملے کی جزوی حمایت پر مشتمل ہے۔

خلیجی ممالک کے بائیکاٹ کے دوران امریکہ کی بیوفائی کے باوجود قطر نے طالبان اور امریکہ کے درمیاں امن مذاکرات کی میزبانی کیساتھ اعتماد سازی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دوحہ کی کوششوں سے ہی 2020 میں  امن معاہدہ طئے پایا جس کے نتیجے میں جہاں چچا سام افغانستان کی دلدل سے نکلنے میں کامیاب ہوئے وہیں قطر عالمی سفارت کاری کا محور بن کر ابھرا۔

تین سال بعد قطر نے ایک اور حساس اہم سفارتی کارنامہ انجام دیا جب اسکی کوششوں سے امریکہ اور ایران قیدیوں کے تبادلے پر رضامند ہوگئے۔ یہ اعصاب شکن مذاکرات دوحہ میں ہوئے ،  قطر نے  مالی لین دین کی نگرانی کی اور قانونی ضمانتیں فراہم کیں۔ پئے در پئے دو کامیابیوں  نے قطر کی غیرجانبدار، قابلِ اعتماد اور مؤثر ثالثی حیثیت کو مستحکم کردیا۔

اسی بناپر غزہ خونریزی بند کرانے کیلئے قطر کی سفارتی خدمات حاصل کی گئیں۔ اس دوران قطر نے قیدیوں کے تبادلے، جنگ بندی، اور انسانی امداد میں اہم کردار اداکیا۔ قطری حکام نے حماس اور اسرائیل کے درمیان غیر رسمی مذاکرات کی میزبانی کی، امریکہ کے ساتھ مل کر امن فارمولے پر کام کیا اور دوحہ ایک بار پھر امن کی امید بن کر ابھرا۔

اکتوبر 2023 کو غزہ پر حملے کے آغاز ہی سے یہ بات واضح ہوچکی تھی  کہ اس بار اسرائیل کا ہدف غزہ سے فلسطینیوں کی بیدخلی ہے اور اس مشن میں امریکہ، اسرائیل کا صرف اتحادی اور پشتیبان ہی نہیں بلکہ سہولت کار بھی ہے چنانچہ مختلف حلیوں بہانوں سے جنگ بندی کی تجاویز مسترد کی جاتی رہیں۔ اس سال کے آغاز پر اقتدار سبنبھالتے ہی صدر ٹرمپ نے غزہ کو خالی کراکے وہاں ایک پرتعیش ساحلی تفریح گاہ (Riviera) قائم کرنے کی خواہش کا برملا اظہار کیا اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری ہونے والے بصری تراشے میں انھوں نے اسے 'ٹرمپ غزہ' کا نام دیا۔  یہی وجہ ہے کہ اسرائیل غزہ میں عام شہریوں کے قتل عام کیساتھ مزاحمت کاروں کی سیاسی قیادت کو نشانہ بناتا رہا تاکہ مذاکرات اور فیصلے کرنے والے  افراد ہی میسر نہ ہوں۔ اس سال جولائی میں حماس پولٹ بیورو کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کو ایراان میں نشانہ بنایا گیا جسکے بعدانکے جانشیں یحیئٰ سنوار قتل کردئے گئے۔  

نوستمبر کی کاروائی کے بارے میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اسکے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے 15 جنگی طیارے استعمال کیے، جنہوں نے دوحہ کے قریب کتارہ ثفافتی مرکز (Katara Cultural Village)کی ایک رہائشی عمارت پر  10 سے زائد بم گرائے۔ دوہزار کلومیٹر طویل سفر کے دوران  امریکی و برطانوی ٹینکربردار طیاروں سے  اسرائیلی بمباروں میں کئی بار ایندھن بھرا گیا۔ عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ صحرائے نقب (Negev)کے اڈے سے اڑان بھرنےوالے اسرائیلی طیارے خلیج کے اوپر پرواز کرتے ہوئے بحرین یا متحدہ عرب امارات کے قریب سے قطر کی حدود میں داخل ہوئے۔ قطر جانے کیلئے اردن، عراق اور سعودی فضائی حدود کا استعمال بھی بعید از قیاس نہیں لیکن اردن نے اپنی ٖفضائی حدود استعمال ہونے کی دوٹوک تردید کی ہے۔ قطر نے اربوں ڈالر خرچ کرکے امریکہ سے پیٹریاٹ ، ناروے کا NASAMS-2اور برطانوی ساختہ  Rapier دفاعی نظام خریدے ہیں لیکن وقت پڑنے پر جدید ترین طیارہ و میزائیل شکن ٹیکنالوجی مہمل ثابت ہوئی

اسرائیلی حملے کا ہدف مذاکراتی وفد کے سربراہ خلیل الحیة، پولٹ بیورو کے شریک سربراہ زاہر جباری، شوریٰ کونسل کے سربراہ  محمد درویش، سینئررہنما  نزار عوض اللہ اور بین لاقوامی امور کے ذمہ دار خالد مشعل تھے۔ حملہ عصر کے وقت ہوا اور موبائل فون کے سگنلز کو نشانہ بناکر میزائیل داغے گئے۔ اللہ کا کرنا کہ یہ لوگ اپنے موبائل فون دفتر میں چھوڑ کر نماز پڑھنے مسجد گئے ہوئے تھے چنانچہ محفوظ رہے لیکن دفتر میں موجود دس کارکنان منزل مراد پاگئے جن میں خلیل الحیہ کا جوانسال بیٹا بھی شامل ہے۔حملے میں قطر کی داخلی سلامتی فورس "لخویا" کاایک  اہلکار بھی جاں بحق ہوا۔

اس معاملے میں امریکہ کا معاملہ 'صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والاہے۔ اپنی غیر جانبداری اور قطر سے دوستی جتاتے ہوئے امریکی صدر نے فرمایا کہ العدید اڈے پر نصب دفاعی نظام نے اسرائیلی طیاروں کی آمد بھانپ کر قطر کو پیشگی مطلع کردیا تھا لیکن قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ہہ کہہ کر بھانڈا پھوڑ دیا کہ امریکہ کی جانب سے ہمیں 'پیشکی اطلاح' دھماکوں کے بعد ملی۔سی این این کے مطابق اسرائیلی حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے سے پہلے امریکہ کو مطلع کردیا گیا تھا، کچھ ایسی ہی بات امریکی حکام نے کی.

غیر جانبدار ذرایع کہہ رہے ہیں کہ یہ کاروائی امریکہ کو اعتماد میں لے کر کی گئی ہے۔ امریکہ کے ملوث ہونے کا عندیہ اس بات سے بھی ملتا ہے کہ حملے کے وقت مزاحمت کار قیادت غزہ امن کے امریکی منصوبے پر غور کررہی تھی اور اس اجتماع کا امریکہ کو پتہ تھا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے امریکہ کے سرکاری موقف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ نہ اسرائیل کے مفاد میں ہے، نہ امریکہ کے۔ قطر ایک خودمختار ریاست اور امریکہ کا قریبی اتحادی ہے۔صدر ٹرمپ نے حملے کی جگہ پر افسوس کا اظہار کیا، مگر ساتھ ہی کہا حماس کا خاتمہ ایک قابلِ قدر مقصد ہے، اور یہ واقعہ امن کا موقع بن سکتا ہے۔یہ تضادات اتفاقی یا پہلا واقعہ نہیں بلکہ یہ امریکی خارجہ پالیسی کی مستقل دو رخیت کا آئینہ ہے۔

اسرائیل نے مزاحمت کار قیادت کا ہرجگہ تعاقب کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ چنانچہ قطر پر دوبارہ حملہ بعید از قیاس نہیں بلکہ اسرائیلی عسکری ذرایع کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی کاروائی کادوسری ہدف ترکیہ ہوسکتا ہے جہاں مبینہ طور پر چند مزاحمت کار موجود ہیں۔ صحافتی ذرایع خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ اسرائیل اب قطر میں الجزیرہ ٹیلی ویژن کو نشانہ بنانے کی کوشش کریگا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپشل کراچی، 12 ستمبر 2015

انڈیا ٹومارو https://indiatomorrow.net/


Thursday, September 4, 2025

 

غزہ: 700 دنوں کی وحشت، مزاحمت، اور عالمی ضمیر کا امتحان

یا صاحب الارض اعتصم ۔۔ فالارض، عرض المتقین

غزہ پر مسلط جنگ کو سات سو دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ان 23 مہینوں میں آسمان سے آتش و آہن کی موسلا دھار بارش ایک دن کے لیے بھی نہیں تھمی۔ وزارتِ صحت غزہ کے مطابق، اب تک 62,000 سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ عسکری انٹیلیجنس کے مطابق، ان ہلاکتوں میں نہتے شہریوں کا تناسب 83 فیصد اور بھوک سے مرنے والے بچوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے۔

جنگ بندی یا نسل کشی؟

غزہ شہر پر قبضے کے لیے فوجی آپریشن کا اعلان ہو چکا ہے، مگر مطلوبہ نفری کی کمی کے باعث زمینی کارروائی مؤخر ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 27 اگست کو وائٹ ہاؤس میں ایک "بڑے اجلاس" کی صدارت کی، جس میں برطانیہ کے سابق وزیرِاعظم ٹونی بلئیر سمیت کئی عالمی شخصیات شریک ہوئیں۔ صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff) نے اعلان کیا کہ جنگ سال کے آخر تک جاری رہ سکتی ہے۔ یعنی جاں بلب اہل غزہ کو فاقوں اور قتل عام کا عذاب مزید 120 دن سہنا ہے ۔اسی دوران ٹائمز آف اسرائیل نے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی قیادت کو "کارروائی تیز کرنے" کی ہدایت کی ہے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  Truth Social پر صدر نے لکھا:"یرغمالی صرف اس وقت آزاد ہوں گے جب مزاحمتی تنظیم مکمل طور پر ختم ہو جائے۔"یہ موقف اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے عزائم سے ہم آہنگ ہے، جو غزہ کو فلسطینیوں سے "پاک" کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔غزہ پر کنٹرول اور فلسطینیوں کی "مستقل نقل مکانی" کے حوالے سے صدر ٹرمپ اپنا موقف ویڈیو کلپ "Trump Gaza" کی شکل میں کافی پہلے ظاہر کرچکے ہیں۔

بین الاقوامی ماہرینِ نسل کشی کا فتویٰ: اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے

دنیا کے ممتاز ماہرینِ نسل کشی کی عالمی تنظیم International Association of Genocide Scholars (IAGS) کی منظور کردہ ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں جاری پالیسیاں اور اقدامات نسل کشی کی قانونی تعریف پر پورا اترنے کیساتھ انسانیت کُش جنگی جرائم شمار ہوتے ہیں۔تنظیم کی صدر محترمہ Melani O’Brien نے یکم ستمبر کو اس کا اعلان  کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد 1948 کے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ نسل کشی کی دفعات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے جسکی تنظیم  کے 500 ارکان میں سے 86 فیصد نے حمایت کی۔

آئی اے جی ایس ایک غیر جانب دار، عالمی اور بین الشعبہ تنظیم ہے جو نسل کشی کے اسباب، اثرات اور روک تھام پر تحقیق، تعلیم اور پالیسی سازی کو فروغ دیتی ہے۔ اس تنظیم کی بنیاد 1994 میں رکھی گئی تھی اور اس کے 500 اراکین میں محققین، صحافی، قانون دان، فنکار اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔ تنظیم کا تحقیقی جریدہ Genocide Studies and Prevention عالمی سطح پر شائع ہوتا ہے

فلسطینیوں کی قبروں پر ایک نیا دبئی؟؟

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ “GREAT Trust” کے نام سے ایک منصوبے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت غزہ کو دس سال کے لیے امریکی کنٹرول میں دے کر سرمایہ کاروں کے ذریعے تعمیر نو کی جائے گی۔لاکھوں فلسطینیوں کو نقد رقوم اور دوسری مراعات دے کر غزہ سے باہر جانے پر آمادہ یا مجبور کیا جائیگا۔غزہ کے مستقبل کی یہ صورت گری، 38 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز میں بیان کی گئی ہے جو Boston Consulting Group نے تیار کی۔ اس منصوبے پر مشاورت میں صدرٹرمپ، دامادِاول جیرڈ کشنر، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو جیسے اہم لوگ شریک رہے۔ منصوبے کے تحت غزہ کو پرتعیش “Riviera of the Middle East” بنایا جائیگا جسکے لئے ٹونی بلئیر نے 'نیو دبئی' کا نام تجویز کیا ہے۔سرمایہ کاروں کو بتایا گیا کہ وہ 100 ارب ڈالر لگا کر دس سال میں چار گنا منافع کما سکتے ہیں۔یہ سب کچھ "فلسطینی قیادت کی اصلاح" اور "انتہا پسندی سے پاک معاشرہ" بنانے کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایک ایسا ڈھانچہ کھڑا ہو جو اسرائیل کے ساتھ ابراہام معاہدوں میں شامل ہو سکے۔سوال یہ ہے کہ کیا غزہ کے عوام اپنی سرزمین بیچ کر کسی اور کے "نئے دبئی" کے خواب کو حقیقت بننے دیں گے؟؟

غربِ اردن کے اسرائیل سے الحاق کا آغاز

غزہ ہڑپنے کے ساتھ غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کی تیاری بھی شروع کردی گئی ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ نے خاموشی سے ایک نئی پالیسی نافذ کر دی ہے جس کے تحت مقتدرہ فلسطین (PA) کے پاسپورٹ ہولڈرز کی ویزا درخواستیں روک دی گئی ہیں۔تاہم وہ فلسطینی جن کے پاس دوسرے پاسپورٹ (اسرائیل، شام، اردن وغیرہ) ہیں، وہ  ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے 18 اگست کو اپنے تمام سفارتی مشنز کو ہدایت بھیج دی تھی کہ سیکشن 221(g) کے تحت فلسطینی پاسپورٹ پر ویزا درخواستیں مسترد کر دی جائیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پالیسی غربِ اردن کے باضابطہ اسرائیلی الحاق (Annexation) کی راہ ہموار کرنے کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کے بعد مقتدرہ فلسطین محض ایک کاغذی ڈھانچہ رہ جائے گی جبکہ عملی و سیاسی کنٹرول مکمل طور پر اسرائیل کے پاس ہوگا۔

اسرائیل کی فوجی قیادت بمقابلہ صدر ٹرمپ کا خواب

اسرائیل کے دفاعی سربراہان ، یعنی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر، موساد کےڈائریکٹر ڈیوڈ برنیع (David Bernea)اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہانگبی (Tzachi Hanegbi) زور دے رہے ہیں کہ غزہ پر یلغار کے بجائے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو قبول کیا جائے۔عسکری قائدین کو ڈر ہے کہ غزہ شہر پر حملہ اسرائیلی قیدیوں کو موت کے منہ میں دھکیل دے گا۔ اس معاملے پر 31 اگست کو جاری رہنے والا ہنگامی کابینہ کا ہیجان خیز اجلاس ساری رات جاری رہا۔ فوج کے قریبی حلقوں کے مطابق بحث و مباحثے کے دوران جرنیلوں نے صاف صاف کہدیاکہ غزہ شہر میں داخلہ شیروں کی کچھار میں قدم رکھنا ہے اور اس مہم جوئی کی فوج کو بھاری قیمت اداکرنی پڑسکتی۔مگر وزیرِاعظم نیتن یاہو نے اس مجوزہ امن معاہدے پر رائے شماری سے انکار کر دیا۔ وجہ؟ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "جزوی امن" کو مسترد کرنے کا مشورہ دیاہے (حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل)

عالمی دباؤ اور یورپ کا دوہرا معیار

اسرائیل میں تو نیتن یاہو ملکی سلامتی کی چلمن کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں لیکن دنیا بھر میں انکا تعاقب جاری ہے۔ ارجنٹینا (Argentina) میں انسانی حقوق کے وکلا نے وفاقی عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ نیتن یاہو کو انکی آمد پر گرفتار کرلیا جائے۔ اسرائیلی وزیراعظم کی وہاں ستمبر میں آمد متوقع ہے۔ عدالت کے نام استدعا کی گئی ہے کہ نیتن یاہو ، نہتے شہریوں کے قتل عام اور معصوم بچوں کو بھوکا مارنے کے مجرم ہیں۔درخواست میں 23 مارچ کے واقعے کی مثال دی گئی ہے جب اسرائیل نے ہدف بناکر 15 امدادی کارکنوں کو ہلاک کردیا تھا۔مقامی اخبار Clarinکے مطابق نیتن یاہو اب ارجنٹینا آنے کے بجائے نیویارک میں صدر ہاوئر ملی (Javier Millie) سے ملاقات کرینگے۔

برطانیہ نےمشہور زمانہ Defense and Security Equipment International یا DSEIمیں اسرائیلی حکومت کو مدعو نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ نمائش اگلے ماہ لندن میں شروع ہوگی۔ اسرائیلی دفاعی کمپنیاں شریک ہوسکتی ہیں لیکن میلے میں اسرائیل کا کوئی سرکاری پویلین نہیں ہوگا۔ فرانس، جرمنی، اور یورپی یونین کی جانب سے اسلحہ، تجارت، اور سفارتی تعلقات پر دباؤ بڑھ رہا ہے، مگر یہ اقدامات نیم دل، تاخیر زدہ، اور محدود ہیں۔سویڈن اور نیدرلینڈز نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس کو خط لکھا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ:

  • اسرائیل اور غزہ کی سیاسی قیادت پر تادیبی پابندیاں عائد کی جائیں
  • مغربی کنارے کے پرتشدد آبادکاروں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے وزراء کو نشانہ بنایا جائے
  • یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تجارتی معاہدے معطل کیے جائیں

ستم ظریفی کہ جارح اور مدافع قوتوں کو ایک ہی سطح پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔

اسرائیل کو خوب اندازہ ہے کہ یورپی حکومتیں ضمیر کی خلش مٹانے کیلئے کاروائیاں ڈال رہی ہیں اور کسی ٹھوس پابندی کا کوئی خطرہ نہیں اسلئے وہ بھی عالمی سطح پر سفارتی جارحیت سے باز نہیں آرہا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے ادارے Integrated Food Security Phase Classification (IPC) کی غزہ میں قحط سے متعلق تازہ ترین بین الاقوامی رپورٹ کو فوری طور پر واپس لینے اور اس کا ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئےدھمکی دی ہے کہ اگر رپورٹ واپس نہ لی گئی تو اسرائیل  معاون ممالک پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ IPC کی فنڈنگ بند کر دیں۔ یورپی یونین، امریکہ ، برطانیہ اور کینیڈا کا IPCکے بڑے معاونین میں شمار ہوتا ہے

امریکہ میں اسرائیلی لابی کمزور ہورہی ہے؟؟؟

صدر ٹرمپ نے ایک تازہ انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی لابی، جو کبھی امریکی کانگریس پر مکمل قابض سمجھی جاتی تھی، اب اپنی طاقت کھو رہی ہے۔قدامت پسند ڈیلی کالر (Caller)سے باتیں کرتے ہوئے جناب ٹرمپ نے کہا "پندرہ بیس سال پہلے امریکی کانگریس اسرائیل کے کنٹرول میں تھی، اور سیاستدان اسرائیل کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں رہااور اسرائیلی لابی کمزور پڑ گئی ہے۔"

ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا!!

ہسپانوی بندرگاہ بارسیلونا سے  درجنوں کشتیوں پر مشتمل ایک اور قافلہ (Flotilla)غزہ روانہ ہوگیا۔ صمود یا قافلہ استقامت پر 44 ممالک کے افراد سوار ہیں جنکی قیادت سویڈن کی گریٹا تھورنبرگ اور پرتگال کی سیاستدان Mariana Mortagua کررہی ہیں.۔ جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان تیونس سے اس قافلے کا حصہ بنیں گے۔ اس سے پہلے 2010 میں ترکیہ سے روانہ ہونے والے قافلے کیساتھ ممتاز صحافی سید طعت حسین غزہ جاچکے ہیں جس پر اسرائیلی فوج کے حملے میں 10 ترک کارکن جاں بحق ہوگئے تھے

صحافت کی قربانی: ویلری زنک کا استعفیٰ

رائٹرز کی فوٹو جرنلسٹ ویلری زنک (Valerie Zink) نے غزہ میں صحافیوں کے قتل پر استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنا پریس بیج دو ٹکڑے کر کے کہا:"رائٹرز کی خاموشی سے لگتا ہے جیسے یہ ادارہ 245 صحافیوں کے قتل میں شریکِ جرم ہے۔"

نوشتہ دیوار: زمین سے وابستگی کا جرات مندانہ عزم

اور آخر میں سوشل میڈیا پر وائرل ایک نوشتہ دیوار۔ کسی جرات مند فلسطینی نے دیوار پر لکھدیا کہ

"یا صاحب الارض اعتصم ۔۔ فالارض، عرض المتقین "(اے زمین کے مالک! ڈٹے رہو، بے شک زمین مومنوں کی عزت و غیرت ہے) یہ صدا ان لوگوں کی ہے جو ملبے، بربادی اور قتل عام کے دوران بھی اپنی زمین سے وابستہ ہیں۔ اہلِ غزہ  نے اپنی غیرت کو خیموں میں نہیں، دلوں میں بسایا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 5 ستمبر 2025

ہفت روزی دعوت دہلی 5 ستمبر 2025

روزنامہ امت کراچی 5 ستمبر 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 7 ستمبر 2025