Wednesday, January 30, 2019

سعودی عرب میں انسدادِ رشوت ستانی کا شعبہ ختم


سعودی عرب میں انسدادِ رشوت ستانی  کا شعبہ ختم   
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (MBS)کی سفارش پر انسدادِ رشوت ستانی کمیٹی  (Anti-Corruption Committee)تحلیل کردی گئی۔ اس سلسلے میں آج شاہی عدالت نے حکم جاری کردیا۔
2017میں قائم ہونے والی اس کمیٹی نے شہزادوں اور شاہی خاندان کے افراد سمیت  381 لوگوں پر مقدمات قائم کئے۔ تفتیش کے دوران  تشدد کی شکایات بھی موصول ہوئیں اور دورانِ حراست کم ازکم ایک فرد کی ہلاکت  کی خبر آئی ۔  اس عرصے میں  107 ارب ڈالر کی لوٹی ہوئی دولت  قومی خزانے میں واپس جمع کرائی گئی۔
کمیٹی کیوں تحلیل کی گئی؟ اعلامئے میں  اسکے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کام کی تکمیل کے بعد اب کمیٹی کی ضرورت نہیں لیکن کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ شاہی خاندان میں اسکی وجہ سے  شدید بیچینی تھی جسکی بنا پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان  بن  عبدالعزیز  کے حکم پریہ کمیٹی ختم کردی گئی۔

STUPID BILL


انسدادِ حماقت  بل
احمق یقیناً غیر پارلیمانی لفظ ہے لیکن  ڈیموکریٹک  پارٹی کے سینیٹر مارک  وارنر نے امریکی سینیٹ میں Stop STUPIDITY Act پیش  کیا ہے۔ جسکا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے مستقبل میں امریکی حکومت کبھی ٹھپ یا   Shutdownنہ ہوسکے۔امریکی صدر کو ماوارائے  بجٹ رقم خرچ کرنے کا صوابدیدی اختیار نہیں اسلئے اگر رواں بجٹ کے اختتام سے پہلے نئی مدت کیلئے بجٹ منظور نہ ہوتو حکومت ٹھپ ہوجاتی ہے۔ گزشتہ بجٹ 21 دسمبر کو ختم  ہوا اور حکومت 35 د سے زیادہ بند رہی۔ اس دوران وفاقی حکومت کے 8 لاکھ ملازمین تنخواہوں سے محروم رہے، حکومت کے ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہیں ہوئی اور ایک اندازےکے مطابق امریکی معیشت کو 11 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔
چند دن پہلے صدر اور کانگریس کے درمیان 15 فروری تک کیلئے ایک عبوری مطالبہ زر یا Spending Billپر اتفاق ہوگیا اور حکومت دوبارہ رواں  ہوگئی۔ لیکن اب ایک بار پھر Shutdown کا خطرہ منڈلا رہا ہے اسلئے کہ ڈیموکریٹک پارٹی میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کیلئے  5 ارب 70 کروڑ ڈالر بجٹ میں مختض کرنے کو تیار نہیں اور صدر ٹرمپ کہتے ہیں اگر دیوار نہیں  سرکاری کاروبار جائے جہنم میں ، میں حکومت کو تالہ لگادونگا، روک سکو تو روک لو۔
چنانچہ نئے بجٹ  پر کام کرنے کے ساتھ امریکی قانون ساز  اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ صدر اور کانگریس کی لڑائی میں  بے چارے سرکاری ملازم فاقہ کشی کا شکار نہ ہوں اور حکومت چلتی رہے۔ اسی مقصد کیلئے سینیٹر وارنر نے  Shutdowns Transferring Unnecessary Pain and Inflicting Damage In The Coming Yearمتعارف کرایا ہے جسکا محفف Stupidityہے۔ مجوزہ قانون میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر نئی مدت کا بجت بروقت منظور نہ ہوسکے تو پرانے بجٹ کے مطابق کام جاری رہیگا تاوقتیکہ کانگریس  نیا Spending Bullکرلے جسے ہمارے یہاں فنانس بل کہا جاتا ہے۔


Tuesday, January 29, 2019

مشتری ہشیارباش


مشتری ہشیار باش
احباب سے گزارش ہے کہ ٖافغانستان میں امن کے حوالے سے بہت زیادہ توقعات نہ باندھیں۔ یہ تو ایک حقیقت ہے کہ طالبان کو جنگ کے میدان اور مذاکرات کی میز دونوں جگہ برتری حاصل ہے لیکن ایک دیرپا امن معاہدے کی منزل ابھی بہت دور ہے۔ امن معاہدے کے حوالے سے امریکیوں کی صفوں میں یکسوئی نہیں اور انتظامیہ کے مختلف شعبہ جات میں شدید ابہام پایا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی حالیہ مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کی باوقار تقریب  قراردے رہی ہے۔ پارٹی کے سینر رہنما لنڈسے گراہم کا خیال ہے کہ طالبان  پسپا ہوتی نیٹو فوج کیلئے محفوط راستے کے سوا اور کچھ دینے کو تیار نہیں۔ یہ ملا نہ تو فوجی اڈوں پر راضی ہورہے ہیں اور نہ ہی امریکہ نواز کابل انتظامیہ سے شرکتِ اقتدار پر۔ ملاحضرات افغان سرزمین  کو امریکہ یا کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی ضمانت دینے کو تیار ہیں لیکن اس عہد کی پاسداری کو جانچنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔ ریپبلکن قیادت کو ڈر ہے کہ اگر امریکی فوج غیر مشروط طور پر افغانستان سے لوٹ آئی تو کل کویہ مولوی تاوان جنگ کا دعویٰ بھی کرسکتے ہیں۔
 اسی بنا پر لنڈسے گراہم چاہتے ہیں کہ طالبان کو دباو ڈال کر کابل انتظامیہ سے مذاکرات پر مجبور کیا جائے تاکہ ہتھیار ڈالنے کا تاثر نہ پیدا ہو۔ اس سلسلے میں وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان موثر کردار اداکرسکتا ہے اور موجودہ معاشی پریشانیوں کے تناظر میں پاکستان سے یہ 'خدمت' لی جاسکتی ہے۔ انھیں یہ بھی پتہ ہے پاکستانی قیادت تعریف کی خوگر ہے اور قربت کا لارا دے کر بہت سارے کام نکالے جاسکتے ہیں۔ احباب کو یاد ہوگا کہ پرویز مشرف بڑے فخر سے کہتے تھے کہ صدر بش کا پرائیویٹ نمبر انکے پاس پے اور وہ جب چاہیں امریکی صدر سے براہ راست بات کرسکتے ہیں۔ جب میاں نواز شریف نے انتخابات میں کامیابی پر صدر ٹرمپ کو مبارکباد کیلئے فون کیا تو شکرئے کے ساتھ صدر ٹرمپ نے نوازشریف کی تعریف میں چند رسمی جملے کہہ دئے۔ ان روائتی اور رسمی جملوں کو سرکاری اعلامئے میں اسطرح بیان کیا گیا جیسے صدر ٹرمپ  نوازشریف کواس صدی کا عظیم ترین رہنما سمجھتے ہیں۔
اب سینیٹر گراہم  نے شیشے میں اتارنے کیلئے جناب عمران خان کے کانوں میں شہد گھولنا شروع کردیاہے۔ کیا عجب کی امن کے نوبل انعام کے وعدے پر ان سے کوئی اہم کام کروالیا جائے۔حال ہی میں  فاضل سینیٹر نے فرمایا کہ افغانستان میں امن کا قیام عمران خان کا دور حکومت میں ہی ممکن ہے۔ اس تعریف پر محمود قریشی اور فواد چودھری خوشی سے نہال ہیں۔ حال ہی میں  قریشی صاحب نے تکبر سے چور لہجے میں فرمایا کہ 'طالبان کو کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا'۔طالبان کے سینئر رہنما حافظ محب اللہ محب کی پشاور میں گرفتاری مولویوں پر دباو ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔
اس سے پہلے ترک ٹیلی ویژن TRTکو اپنے ایک انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان  طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرچکے ہیں۔ یہ اور بات کہ  طالبان نے پاکستانی وزیرخارجہ اور وزیراعظم کے بیانات کو مجبوری کے تحت سیاسی و سفارتی جگالی سمجھ کر نظر انداز کردیا۔
امریکہ کی جانب سے زلمے خلیل زاد کی نامزدگی سے بھی واشنگٹن کی غیر سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ زلمے خلیل زاد روائتی سیکیولر عناصر کی طرح مولویوں کے بارے میں نفرت کی حد تک منفی جذبات رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ملا بھی زلمے کو ناقابلِ اعتماد اور جھوٹا سمجھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر زلمے بے اختیار  ہیں۔ مذاکرات میں بار بار کے تعطل کی وجہ یہ بھی ہے کہا انھیں کسی بھی معاملے پر اپنی رائےدینے سے پہلے واشنگٹن سے منظوری لینی ہوتی ہے۔
نیک نیتی پر شک کی ایک اور وجہ مذاکرات کی غیر ضروری طوالت ہے۔ گزشتہ ہفتے چھ روزہ مذاکرات کے بعد امید تھی کہ 28جنوری کو بات چیت دوبارہ شروع ہوگی لیکن اب کہا جارہا ہے کہ بات چیت کے نئے سلسلے کا آغاز فروری کے اختتام پر  ہوگا۔
کابل کے عسکری حلقوں کا خیال ہے کہ مذاکرات کو موخر کر کے میدان میں برسرپیکار طالبان کی توجہ بٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چھاپہ ماروں کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ لڑائی تقریباً ختم ہوچکی لہذا اب ہتھیار رکھ کر نئے بندوبست میں اپنا مقام بنانے کی فکر کرو۔گوریلا سپاہی جب ایک بار اپنے ہتھیار سے غافل ہوجائے تو اسے دوبارہ سربکف کرنا اتنا آسان نہیں۔ طالبان کو دشمن کی اس حکمت عملی کا اندازہ ہوچکا ہے۔تحریک طالبان کے  سربراہ ملا ہبت اللہ نے اپنے ساتھیوں کو چوکنا رہنے کی ہدائت کی ہے۔ انکے ترجمان کے مطابق ملا صاحب نے فوجی کمانڈروں کو اپنی پوزیشنیں مضبوط کرنے اور موسم بہار کی تیاری جلد از جلد مکمل کرلینے کا حکم دیاہے۔ طالبان ہر سال برف پگھلنے کے بعد فروری کے اختتام سے افغان اور نیٹو چوکیوں پر تابڑ توڑ حملے کرکے موسم بہار جنگی مہم کا آغاز کرتے ہیں۔


کافی ولا


چائے والے کے بعد اب  کافی والا  
ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی  بہت فخر سے کہتے ہیں  کہ وہ  اپنا پیٹ  پالنے کیلئے  چائے بناکر بیچتے تھے۔ اب انھیں کے نقشِ قدم پر  ایک  کافی فروش   نے 2020 میں امریکی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اشارہ کیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مودی جی ایک بوسیدہ ٹھیلے یا  کھوکھے پر چائے بیچتے تھے جبکہ  65 سالہ ہاورڈ شلٹز (Howard Schultz) مشہور زمانہ اسٹاربکس (Starbucks)کافی کے سربراہ تھے۔ ہارورڈ شلٹز امریکہ کے ان ماہرینِ تجارت میں ہیں جو ادارے سے اپنی وفاداری کے اظہار کیلئے بلا معاوضہ کام کرتے ہیں لیکن چونکہ بلاتنخواہ  ملازمت امریکی قانون کے تحت بیگاری شمار ہوتی ہے اسلئے شلٹز صاحب  کی تنخواہ  ایک ڈالر ماہانہ تھی۔
نیو یارک کے ایک یہودی گھرانے میں جنم لینے والے ہاورڈ شلٹز  نے پیشہ وارانہ زندگی کاآغاز ہی  کافی سے کیا۔ وہ پہلےایک  سوئستانی کمنپی Hammrplastکے سیلز مین تھے۔یہ کمپنی کافی مشین بناتی ہے۔ Starbucksبھی کافی بنانے کیلئےاسی کمپنی کی مشینیں استعمال کرتی تھی چنانچہ شلٹز صاحب کا اسٹار بکس سے رابطہ ہوا۔  وہ دامنِ اسٹار بکس سے  وابستہ ہوگئے بلکہ اسی کے ہورہے اور گزشتہ  سال جون میں ریٹائرمنٹ تک اسٹاربکس کی نوکری کرتے رہے۔
مسٹر شلٹز ایک مزدور دوست  آجر ہیں ۔ انھوں نے اسٹرابکس کے تمام ملازمین کو صحت  و تعلیم کی سہولت مفت فراہم کی اور ان مراعات کا دائرہ  دہاڑی داروں تک پھیلا ہوا تھا۔ اسٹاربکس اپنے ملازمین کو اپنے مسابقت کاروں سے زیادہ تنخواہ دیتا ہے اور ادارہ  عمر رسیدہ لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
ہارورڈ شلٹز کا کہنا ہے کہا گر انھوں نے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو وہ  ڈیموکریٹ یا ریپبلکن کے بجائے آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتریں  گے۔ انکے اس اعلان سے ڈیموکریٹک پارٹی ناخوش  ہے اسلئے کہ اپنے لبرل سیاسی منشور اور مزدور نواز روئے کی بنا پر وہ ڈیموکریٹس کے ووٹ  کاٹیں  گے۔


Sunday, January 27, 2019

منڈاناو ریفرنڈم

فلپائن کے مسلم اکثریت علاقے منڈاناو میں 20 جنوری کو ہونے والے استصواب (ریفرنڈم) کے نتائج کا اعلان کردیاگیا۔ ریفرنڈم میں خودمختاری کے پیکج Bangsamoro Organic Lawپر ہاں یا نہ کا سوال کیا گیا تھا۔نتائج کے مطابق 17 لاکھ افرا دنے خود مختاری کے حق میں ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں 2 لاکھ 54 ہزارووٹ ڈالے گئے، یعنی 87 فیصد لوگوں نے مسلم اکثریتی علاقے کو Bangsamoro Autonomous Region in Muslim Mindanao (BARMM)بنانے کی حمائت کی۔۔بنگسومورو (Bongsomoro)کا ترجمہ موروں کی سرزمین کیا جاسکتا ہے۔ نئے قانون کے تحت پرچم، کرنسی اور خارجہ امور کے علاوہ بنگسمورو ریاست مکمل طور پر خودمختار ہوگی۔ اسکی منتخب پارلیمان قانون سازی کیلئے آزاد ہوگی اور مقامی محصولات کا 80 فیصد ریاستی حکومت کی ملکیت ہوگا جبکہ وفاق کی آمدنی میں بنگسمورو کو دوسری ریاستوں کے برابر حصہ ملے گا۔قانون کی منظوری کیساتھ ہی MNLFکے سپاہیوں کو غیر مسلح کرکے انھیں ریاستی نیشنل گارڈ یا قومی فوج میں شمولیت کی دعوت دیجائیگی۔
یہاں فلپائنی مسلمانوں کی تاریخ پر چند سطور احباب کی دلچسپی کیلئے:
فلپائن کے جنوب میں واقع منڈاناو سر سبزو شاداب اور زرخیز جزیرہ ہے۔فلپائن کی قومی زرعی پیداوار کا بڑا حصہ منڈاناو سے ہی حاصل ہوتا ہے۔یہاں پیدا ہونے والا عمدہ معیار کاچاول برآمد بھی کیا جاتاہے۔ لیکن سارے ملک کو غلہ فراہم کرنے کے باوجود یہ علاقہ بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔کے الیکٹرک کے مظالم سہنے والے قارئین کو نوید ہو کہ وہ اکیلے نہیں۔ منڈاناو میں بھی روزانہ 8 سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور اس اعتبار سے کراچی اور منڈاناو جڑواں شہر ہیں۔فلپائن کی سرکاری تاریخ کے مطابق چودھویں صدی میں غلے کے عرب تاجروں نے سیمیونل Siminulجزیرے کی مسیحی آبادی کو اسلام سے متعارف کروایا۔بہت جلد پورا جزیرہ مسلمان ہوگیا اور جامع شیخ کریم المخدوم کے نام سے پہلی مسجد تعمیر ہوئی۔ جلد ہی اسلام سارے منڈاناو میں پھیل گیا بلکہ منیلا اور لوزان کے جزیروں میں بھی اسلام کو پزیرائی نصیب ہوئی۔ حتیٰ کہ منیلا نے برونائی مسلم سلطنت سے الحاق کرلیا۔سترہویں صدی میں فلپائن ہسپانیویوں کے زیر تسلط آگیا۔مسلمانوں اور ہسپانیویوں کی چپقلش صدیوں پرانی تھی لہٰذا فاتحین مسلمانوں کودیکھ کر سخت مشتعل ہوئے اور منڈاناو مسلمانوں کے خون سے رنگین ہوگیا۔ہسپانیہ میں مسلمانوں کو مورMoor کہا جاتا تھا۔ اس خطاب کا بھی ایک تاریخی پس منظر ہے اور وہ کچھ اسطرح کہ جب 711 میں مسلمان جبل الطارق کے راستے جزیرہ نمائے آئیبیریا Iberia میں داخل ہوئے تو لڑائی کے بعد نماذ کیلئے صف بندی ہوئی۔ شکست خوردہ کیتھولک سپاہی بہت اشتیاق سے مسلمانوں کو باجماعت نماذ پڑھتے دیکھ رہے تھے۔ نماذ کے بعد کچھ سپاہیوں نے اپنے پادری سے اس 'انوکھے' انداز عبادت کا ذکر کیا پادری صاحب اپنی شکست پر پہلے ہی صدمے میں تھے اس سوال پر جھلاگئے اور بولے یہ موروں (کافروں) کی عبادت ہے۔ قدیم سریانی اور لاطینی میں زندیق یا کافر کو مور کہتے تھے۔اسکے بعد سے ہسپانیہ میں مسلمانوں کا نام ہی مور پڑگیا۔ اسوقت کے مسلمان تھے بھی اہل ذوق چنانچہ انھوں نے 'کافر' خطاب کو اپنی تعریف جانا اور لفظ مور انکی شناخت بن گئا۔ فلپائن کے نئے ہسپانوی حکمرانوں نے بھی منٖڈاناو کے مسلمانوں کو مور پکارنا شروع کردیا اور کچھ ہی عرصے بعد فلپائنی مسلمان مورو کہلانے لگے۔
1898
میں ہسپانیویوں نے 2 کروڑ ڈالر کے عوض یہ علاقہ امریکہ کے حوالے کردیا اور امریکیوں نے منڈاناوکو اپنی نوآبادی بنالیا۔ آقا کی تبدیلی سے بھی مورو آبادی کے حالات بہتر نہ ہوسکے۔بلکہ اس دور کے ایک واقعے کا ذکر ڈانلڈ ٹرمپ نے 28اپریل 2016 کو کیلی فونیا کے شہر کوسٹا میسا میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔جناب ٹرمپ نے کہا کہ فلپائن میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان پرشنگ نے 50 مورو قیدیوں کو ایک قطار میں کھڑا کیا۔ دوسری طرف اسکے سپاہی جنگلی سوروں کا ایک ریوڑ ہانک کر وہاں لائے۔ سپاہیوں نے ان سورروں کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور پھر تڑپتے سوروں کے خون میں بھیگی گولیوں سے 49 مورو قیدیوں کو اڑادیا گیا اورایک قیدی کو سور کے خون میں لت پت گولی دیکر آزاد کردیا گیا تاکہ وہ اپنے ساتھیوں کوبتاسکے کہ قیدیوں کے ساتھ جنرل پرشنگ نے کیا سلوک گیا۔جناب ٹرمپ کے مطابق اس واقعے کے بعد سے اگلی نصف صدی تک فلپائن میں دہشتگردی یا امریکی فوج پر حملے کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔ 'مفتی اعظم' ڈانلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مسلمان دہشت گردوں کا خیال ہے کہ وہ اگر لڑتے ہوئے مارے گئے تو سیدھا جنت میں جائینگے لیکن انکے یہاں سور انتہائی نجس سمجھا جاتا ہے لہٰذا اگر انکی لاشیں نجس جانور کے خون سے آلودہ ہوجائیں تو انکا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اسی خوف سے فلپائن کے مورو دہشت گردوں نے لڑائی سے ہاتھ ہٹالیا۔تاہم حقیقت اسکے برعکس ہے۔ بدترین تشدد کے باوجود پر عزم مورو مبلغین دل ودماغ فتح کرتے رہے اور منظم نسل کشی کے باوجود مسلمانوں کی آبادی بڑھتی چلی گئی۔1945 میں فلپائن کی آزادی سےبھی مورو مسلمانوں کی محرومی کا مداوا نہ ہوا اور مسلمانوں نے 1969 سے مورو نیشنل لبریشن فرنٹ (MNLF)کے نام سے سیاسی و عسکری تنظیم بناکر مزاحمت شروع کردی اور سوا لاکھ مورو آزادی و خودمختاری پر قربان ہوگئے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتر محمد نے فلپائن کی قیادت سے مل کر معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اکتوبر 2012 میں سابق صدر بینینو اکینو(Benigno Aquino) نےعلاقے کو محدود خودمختاری عطاکی اور 6 لاکھ نفوس پر مشتمل سوا 12 ہزار مربع کلومیٹر کے اس علاقے کو Autonomous Region of Muslim Mindanao یا ARMMکا نام دیدیا گیا لیکن نام کی تبدیلی وفاق کے روئے میں کسی تبدیلی کا سبب نہ بن سکی۔
صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے پر فلپائنی صدر روڈریگو دوتیرتے Rodrigo Duterte نے ترپ کا پتہ پھینک دیا یعنی داعش کے ملوث ہونے کا شبہہ ظاہر کرکے مارشل لا کے ساتھ ساری دنیا کی زبانوں کو تالہ بھی لگادیا ۔ داعش کے نام پر فلپائنی فوج مورو مسلمانوں پر ٹوٹ پڑی۔ قتل عام کی اس مجرمانہ واردات میں انھیں امریکہ کی چھاپہ مار یاUS Special Operations Forces بھی انکے شانہ بشانہ تھی۔
لیکن مسلمانوں نے پر امن عوامی جدوجہد جاری رکھی اور صدر دوتیرتے نے مذاکرات کا آغاز کیا۔ فروری 2016 میں فلپائن کی سنیٹ نے منڈا ناو کی خودمختاری کیلئے ایک قرارداد منظور کرلی۔جسکے بعد حکومت اور مورو نیشنل لبریشن فرنٹ (MNLF) ایک مسودہ قانون پر متفق ہوگئے۔ علاقے میں عیسائی اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آباد ہیں۔ مسلمان اپنی ریاست میں شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں جس پر مسیحیوں کو فطری تحفظات تھے۔گزشتہ ماہ مسلم علما نے یقین دہانی کروائی کہ شرعی قوانین کا نفاذ صرف مسلمانوں پر ہوگا اور دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے عقائد اور ثقافت کیلئے آزاد ہونگے حتیٰ کہ غیر مسلموں کیلئے ہم جنسی پر بھی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔غیر مسلموں کے بارے میں کشادہ دلی اور اعلیٰ ظرفی کا نتیجہ ہے کہ منڈاناو کے ساتھ شمالی ریاست کوٹاباٹو (Cotabato)اور لناو دیل نارتے (Lanao del Norte)نے بھی بنگسمورو سے الحاق کی خواہش ظاہر کی ہے حالانکہ اس ریاستوں میں مسیحیوں کیا اکثریت ہے۔ اب 6 فروری کو ان علاقوں میں بنگسمورو سے الحاق کیلئے ریفرنڈم ہوگا۔ مورو آبادی کیلئے اب سب سے بڑی آزمائش فلپائنی حکومت پر اعتماد کرکے MNLکو غیر مسلح کرکے انھیں میدان سیاست میں لانا ہے۔

۔