Monday, July 11, 2022

بوسنیا نسل کشی کی 27 ویں برسی

 

بوسنیا نسل کشی کی 27 ویں برسی

آج بلقانی ریاستوں اور ترکی میں بوسنیا کے مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کی 27 ویں برسی منائی جارہی ہے۔

سوویت یونین کے خاتمے پر روس نواز مشرقی یورپ کی شکست و ریخت کے ساتھ یوگوسلاویہ میں سربوں اور کروٹس (CROATS)کے درمیان خونریز تصادم شروع ہوا۔ ہنگری ، رومانیہ اور بلغاریہ سے متصل مشرقی حصے میں سربو ں کی اکثریت تھی جبکہ شمال اور Adriatic Seaکے مغربی کنارے یعنی مشرقی یوگوسلاویہ میں کروٹوں کا غلبہ تھا۔ درمیان کے علاقے میں بوسینائی و ترک نسل کے مسلم آباد تھے۔ سرب اور کروشیائی دونوں کی خواہش تھی کہ بوسنیا انکا حصہ بن جائے۔ سربوں کو بوسنیا سے اسلئے بھی زیادہ دلچسپی تھی کہ اس کے جنوبی حصے سے سمندر تک رسائی تھی۔

اہل بوسنیا سربوں اور کروشیائی نسل کی کشمکش میں غیر جانبدار رہے لیکن انتہا پسند سربوں نے اسے صلیبی جنگ بنادیا۔ عثمانی دور کے 'مظالم' کی کہانیاں گھڑی گئیں اور چھاپہ مار گروہوں نے مسلم آبادیوں پر حملے شروع کردئے۔

دلچسپ بات کہ 1992 سے پہلے تک بوسنیا میں اسلام چند ایک مساجد اور تجہیزو تکفین تک محدود تھا یاں یوں کہئے کہ مسلمانوں کی شناخت مسلم قبرستان تھا۔ پاکستان میں بوسنیا کی سابق سفیر ساجدہ سلاجک نے بتایا کہ اسلا م سے ان سے تعارف بس اتنا تھا کہ جب انکے دادا کا انتقال ہوا تو مرحوم کی تدفین مسلم قبرستان میں ہوئی ۔ لیکن نام کی حد تک وابستگی بھی قتل کیلئے معقول جواز قرار پایا۔سارے بوسنیا میں 1992 سے 1995 تک مسلم کش فسادات ہوئے لیکن سرائیوو (بوسنیا کا دارالحکومت) اور سیبرنیکا (Srebrenica) دہشت گردوں کے خاص ہدف تھے۔

جولائی 1995 کے آغاز پر جدید اسلحے سے لیس یوگوسلاویہ کے سرب فوجی سیبرنیکا میں داخل ہوئے اور سارے شہر کی مسلم آبادی کو گھروں سے نکال کر خواتین و بچیوں کو الگ کرکے 8000 مردوں کا ریوڑ شہر کی جانب ہنکادیا گیا۔ ہم نے جان کر ہنکایا کہا ہے کہ ہاتھ پشت پر بندھے ان لوگوں کو جانوروں کی طرح فروخت کیا گیا۔ خریدنے والے وہ ظالم تھے جنھوں نے بدترین تشدد کرکے ان معصوموں کو موت کے کھاٹ اتارا۔ کئی جگہ ان خریدے ہوئے 'جانوروں' کی قربانی ہوئی۔ جی ہاں چوکوں پر گائے بکرے کی طرح یہ لوگ ذبح کئے گئے۔ دس دنوں تک یہ ریوڑ مختلف محلوں میں گھمایا جاتا رہا۔ اس دوران سرکشی کے مرتکب گولیوں سے اڑائے گئے۔ سینکڑوں قصابوں کے ہاتھوں فروخت ہوئے اور 11 جولائی کو باقی رہ جانے والوں سے گڑھے کھدوائے گئے۔ اس مزدوری کے بعد ان سب کو گولیوں کا نشانہ بناکر تڑپتے جسم ان گڑھوں میں زندہ دفن کردئے گئے۔

الگ کی جانیوالی ہماری بیٹوں اور بہنوں کے ساتھ کیا ہوا اسکی تفصیل لکھنے کی ہمارے اندر ہمت نہپں۔

یہ تھا 27 سال پہلے رونما ہونے والا مسلم ہولوکاسٹ Holocaust


Thursday, July 7, 2022

دنیا کے سات بڑوں کا اجلاس ۔۔ صدر بائیڈن کو شرمندگی کا سامنا

 

دنیا کے سات بڑوں کا اجلاس ۔۔ صدر بائیڈن کو شرمندگی کا سامنا

دنیا کے سات بڑے ممالک یعنی گروپ سات یا G-7کا سربراہی اجلاس  جرمن شہر کُرن (Krun)کے تاریخی قلعے شلوس ایلاماو (Schloss Elmau) میں ختم ہوگیا۔ کوہِ ایلپس کے دامن میں یہ چار منزلہ عمارت اس اعتبار سے تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کی شکست کے بعد یہاں ہٹلر کے ہاتھوں بے گھر کئے جانیوالے یہودیوں نے پناہ لی تھی۔ بلند مینار والا یہ قلعہ  1914 میں ایک فلسفی اور پروٹیسٹنٹ عالم جوہانس ملر  اور ماہرِ تعمیرات (Architect) پروفیسر کارل سیٹلر نے تعمیر کیا تھا۔ جون کی 26 سے 28 تاریخ تک جاری رہنے والی یہ بیٹھک گروپ سات کی 48 ویں سربراہ کانفرنس تھی ۔ گزشتہ چوٹی کانفرنس ایک سال پہلے لندن میں منعقد ہوئی تھی۔ سینتا لیسویں سربراہی اجلاس کا سب سے اہم فیصلہ رکن ممالک کی کارپوریشنوں پر  کم سے کم 15 فیصدانکم ٹیکس کا نفاذ تھا۔

گروپ سات،  نظریاتی طور پردنیا کے 7 ہم خیال، امیر و ترقی یافتہ صنعتی ملکوں، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ پر مشتمل ہے۔ گروپ کا آغاز 1973 میں اسوقت ہواجب عرب اسرائیل جنگ کے دوران سعودی فرمانروا شاہ فیصل مرحوم نے عربوں کے معاملے میں معقولیت پر مجبور کرنے کیلئے مغربی ممالک کو تیل کی فراہمی بند کردی تھی ۔ اسکے نتیجے میں یورپ  اورامریکہ شدید بحران کا شکار ہوئے اور امریکی وزیرخزانہ نے اپنے جرمن (اسوقت مغربی جرمنی) ہم منصب  ہیلمٹ شمٹ، فرانسیسی وزیرخزانہ گسکارڈدیستان اور برطانیہ کے انتھونی باربرکو مشورے کیلئے امریکہ آنے کی دعوت دی۔ اجلاس کے دوران معیشت کے چاروں ماہرین نے بحران سے نبٹنے کیلئے مشترکہ لائحہِ عمل پر غور کیا۔ گفتگو بے حد مفید رہی اور بات چیت کے اختتام پرجب  یہ چاروں افراد رسمی ملاقات کیلئے  امریکی صدر نکسن کے پاس پہنچے تو وہیں قصر مرمریں (وہائٹ ہاوس) کی لائبریری میں ایک اور اجلاس ہوا جس میں تیل بحران کیساتھ دوسرے معاشی مسائل، امکانات اور مواقع پر تفصیلی بات چیت  کے بعد مل کر کام کرنے کا عہد کیا گیا۔اس غیر رسمی و غیر روائتی مجلس کا نام 'لائبریری گروپ' طئے پایا۔ کچھ دن بعد جاپان بھی اس گروپ میں شال ہوا اور لائبریری گروپ G-5بن گیا۔ دو سال بعد جب گسکارڈ دیستان فرانس کے صدر منتخب ہوئے تو انھوں نے گروپ پانچ کا سربراہی اجلاس طلب کیا۔ پیرس میں 1975 کے اس تین روزہ اجلاس  کو اقتصادی چوٹی کانفرنس یا ورلڈ اکنامک سمٹ کا نام دیا گیا۔ اس اجلاس میں   اٹلی بھی شریک ہوا  چنانچہ اس محفل کو گروپ 6 کہا جانے لگا۔

اسکے اگلے برس امریکی صدر  جیرالڈ فورڈ نے اپنی کالونی پورتوریکو میں سربراہی اجلاس کی میزبانی کی جہاں کینیڈا کے وزیراعظم آنجہانی پیرے  ٹروڈو (موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے والد) خصوصی دعوت پر شریک ہوئے جسکے بعد  یہ ادارہ گروپ سات  بن گیا۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے تاسیس کی یاد تازہ کرنے کیلئے 1997 کا سربراہی اجلاس ڈینور (Denver)شہر کی نوتعمیر شدہ سرکاری لائبریری میں طلب کیا جس میں روسی صدر بورس یلسن بھی مدعو کئے گئے اور یہ فورم گروپ آٹھ بن گیا۔2014کی سربراہ کانفرنس بحر اسود کے ساحلی شہر سوچی (روس) میں ہونی تھی لیکن کریمیا پر  قبضے کے بعد روس کو گروپ آٹھ سے نکال دیاگیا۔اُس سال سربراہ کانفرنس بیلجیم کے شہر برسلز میں ہوئی اور یہ تنظیم  اب  دوبارہ گروپ سات ہے۔

اپنی ولادت سے پہلے پانچ چھ سال تک گروپ سات  اقتصادی اتحاد کے طور پر کام کرتا رہا۔ کچھ علمائے سیاست ، گروپ سات کو  آزاد عالمی مرکز دانش یا Think tankقراردیتے ہیں۔لیکن تمام ممالک ایک خاص سیاسی نظریہ و عقیدہ رکھتے ہیں اور دنیا پر چودھراہٹ قائم رکھنے کیلئے یہ اپنے عزم کے اظہار میں کسی مداہنت سے بھی کام نہیں لیتے۔ گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں امریکی صدر رونالڈ ریگن  اور برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کے زور اور اصرار پر  عالمی سیاست اور دفاعی امور پر بھی بحث مباحثہ شروع ہوا۔

گروپ سات  ممالک کی مجموعی آ بادی دنیا کے 10 فیصد کے برابر ہے لیکن  دنیا کی 31 فیصد دولت ان سات ممالک میں ہے۔ گروپ سات کے دولت و ثروت کا تخمینہ جی ڈی پی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ان  ممالک میں جہاں وسائل اور دولت کا انبار ہے وہیں  گروپ سات دنیا  میں  ماحولیاتی آلودگی کا بھی  ایک بڑا سبب  ہے کہ   21 فیصد کاربن کا اخراج ان ہی سات ملکوں سے  ہوتاہے۔

اس بار  گروپ سات  چوٹی کانفرنس کا  خیالیہ یا theme  'عادل دنیا کی طرف پیشقدمی' تھا۔اور جن موضوعات پر بحث کی گئی وہ کچھ اسطرح ترتیب دئے گئے :

  • سیاسی، عسکری اور ماحولیاتی اعتبار سے پائیدار عالمی نظام
  • اقتصادی استحکام
  • صحت مند  زندگی
  • بہتر مستقبل کیلئے سرمایہ کاری
  • اتحاد میں برکت  UNITED TOGETHER

یہ گروپ  چونکہ بنیادی طور پر اقتصادیات کا فورم ہے اسلئے اس میں آئی ایم ایف،  ورلڈ بینک ، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن  اور اس نوعیت کے دوسرے ادارے بھی شریک ہوتے ہیں۔ اس بار ہندوستان، ارجنٹینا، انڈونیشیا، سینکال اور جنوبی افریقہ کے سربراہان  بھی خصوصی دعوت پر بطور مبصر شرکت ہوئے۔ یوکرین روس تنازعے میں  کریملن کے خلاف سخت موقف اختیار نہ کرنے پر تین ماہ پہلے جرمنی کے چانسلر اولاف شلز نے ہندوستان کا دعوت نامہ منسوخ کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن صدر بائیڈن کے اصرار پر جرمنی نے یہ اعتراض واپس لے لیا۔

ایجنڈا اپنی جگہ لیکن یوکرین بات چیت پر چھایا رہا تاہم مشترکہ اعلامئے میں اسکا براہ راست کوئی ذکر نہ تھا۔اختتام پر مندرجہ ذیل چار نکاتی 'عہدنامہ' جاری ہو

  • گروپ سات رہنماوں نےانسانی حقوق کے تحفظ کا عزم  کرتے ہوئے چین میں ویغور مسلمانوں کیساتھ مبینہ بدسلوکی کی  شدید مذمت کی۔
  • کاربن سے پاک ماحول کے حصول کیلئے 2030 تک Decarbonized Road کے ہدف کا اعادہ کیا گیا۔
  • اسی کیساتھ 2035 تک  توانائی کے باقی  شعبوں کو کاربن سے پاک یا ڈی کاربونائزڈ کرنے کا ہدف طئے ہوا
  • گروپ نے  شاہراہیں،  مواصلاتی ڈھانچے  اور ماحولیاتی کثافت کے خاتمے کیلئے اگلے پانچ  سال کے دوران دنیا بھر میں 600 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا وعدہ کیا جس میں سے نصف یورپی  ممالک فراہم کرینگے۔

قارئین کی دلچسپی کیلئے 'کاربن سے پاک ماحول' کی مختصر سے تشریح پر چند سطور

پیٹرولیم مصنوعات اور کوئلہ دورِ حاضر کا روائتی ایندھن ہے ۔ خام تیل اور گیس کا کیماوی نام ہائیڈروکاربن ہے۔ کوئلہ سے حاصل ہونے والی گیس میتھین methane  بھی ہائیڈروکاربن ہے جس کے جلنے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونوآکسائیڈ اور دوسرے مرکبات خارج ہوتے ہیں جو نہ صرف انسانی صحت کیلئے مضر ہیں بلکہ یہ  کرہ ارض کی طرف آنے والی  اوزون سے بچاو کیلئے  قدرت کی تعمیر کردہ مدافعتی تہہ یا Ozone Layerمیں شگاف کا سبب بھی بن  رہی  ہے۔ کاربن سے پاک سڑک و شاہراہ کا مطلب ہے کہ 2030 کے بعد  پٰیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں ترک کردی جائینگی جبکہ 2035  کے بعد بجلی گھروں کیلئے بھی تیل کے استعمال پر پابندی ہوگی۔

بادی النطر میں مشتر اعلامئے سے انصاف پر مبنی مستحکم و پائیدار دنیا کی تعمیر کا عزم ظاہر ہوتا ہے لیکن بات چیت کی جو تفصیل امریکی ذرایع ابلاغ پر تفصیلات شایع ہوئی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ممالک دنیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔

ترقی و خوشحالی کیلئے  جس  خطیر سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا ہے وہ دراصل چین کے  Belt and Road  Initiativesیا BRIکے توڑ کیلئے ہے۔ چین نے One Belt one Roadکے نام سے برّی اور آبی شاہرایوں کا یہ عالمی منصوبہ 2013 میں شروع کیا تھا جسے اب BRIکہا جاتا ہے۔امریکہ نے اس مقصد کیلئے 200 اور یورپی یونین نے 300 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ جاپان اور کینیڈا 100 ارب ڈالر فراہم کرینگے۔ ان منصوبوں کیلئے امریکہ کی ترجیحات صحت عامہ، صنفی مساوات اور Digital Infrastructure ہیں۔کانفرنس میں بحث و مباحثے کے دوران یورپی رہنماوں نے دنیا میں چین کے بڑھتے ہوے اثر و رسوخ کو عالمی جمہوریت، عقیدے کی آزادی اورآزاد پریس کیلئے خطرہ  قراردیا۔ چینی وزارت خارجہ نے بعض رہنماوں کی تقریروں پر سامراجی تکبر  کی پھبتی کستے  ہوئے یورپی رہبنماوں کو سردجنگ کی گھسی پٹی حکمت عملی ترک کرنے کا مشورہ دیاہے۔

اسی تناظر میں شمالی کوریا  نے  ایشیائی نیٹو کے قیام کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔گروپ سات اور اسکے فوراً بعد نیٹو سربراہ کانفرنس  کا ذکر کرتے ہوئے سرکاری خبر رساں ایجنسی KCNA کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان ایشیائی نیٹو بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس کا ہدف شمالی کوریا ہوگا۔  بیان میں شمالی کوریا نے نیٹو کی میڈرڈ(ہسپانیہ) چوٹی کانفرنس میں جاپان اور جنوبی کوریا کے سربراہان کی  بطور مبصر شرکت اور اس دوران  امریکہ ، جاپان اور جنوبی کوریا کے خصوصی سربراہی اجلاس  پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ “تین کا یہ ٹولہ “ شمالی کوریا کے خلاف معامداانہ عزائم رکھتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ  نے کچھ ایسے ہی تحفظات کا اظہار معاہدہ اربع یا QUADکے خلاف کیا ہے۔ کواٖڈ،  ہندوستان، جاپان، آسٹریلیا اور امریکی بحریہ کے درمیان ایک غیر تحریری فوجی معاہدہ ہے جسکا مقصد بحرالکاہل میں آزادانہ جہاززانی کو یقینی بناناہے۔بیجنگ کا خیال ہے کہ کواڈ اب جنوب ایشیائی نیٹو کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔

اسی کیساتھ امریکی سپریم کورٹ نے حال ہی میں جو دوفیصلے جاری کئے ہیں، گروپ سات کے قائدین، اسے سربراہ کانفرنس میں کئے جانیوالے فیصلوں کے منافی قراردے رہے۔

افتتاحی اجلاس سے دودن پہلے امریکی عدالت عظمی نے اسقاطِ حمل کے معاملے کو ریاستوں کے حوالے کردیا۔ 1973میں سپریم کورٹ نے میرا جسم میری مرضی کا اصول تسلیم کرتے ہوئے اسقاط کو پُر امید ماووں کا حق قرار دیا تھا۔ لیکن اب تین کے مقابلے میں  6 ججوں نے فیصلہ دیا کہ اسقاط کے جائز یا ناجائز ہونے کا فیصلہ ریاستوں کو کرنا چاہے۔ تیرہ سے زیادہ ریاستوں کی مقننہ اسقاط کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں ۔ گروپ سات کا کہنا ہے کہ صنفی مسساوات اور خواتین کا اقتصادی استقلال اس سال کے فیصلوں کی روح ہے اور امریکی سپریم کورٹ  نے اسقاط حمل کا حق خواتین سے چھین کر حوا کی بیٹی کو دوسرے درجے کی مخلوق بنادیا ہے جسے اپنے جسم پر بھی اختیار حاصل نہیں۔فیصلے سے امریکی سپریم کورٹ کی نظریاتی تقسیم ایک بار پھر سامنے آگئی۔ تینوں لبرل ججوں نے فیصلے کی مخالفت کی۔دلچسپ بات کہ اس فیصلے کا مسودہ کچھ عرصہ پہلے Leakہو چکا تھا۔

امریکی عدلیہ میں قدامت پسندوں نے پیشقدمی جاری رکھتے ہوئے ایک اور فیصلہ یہ سنایا کہ مقتدرہ برائے تحفظِ ماحول (EPA)کو کلیدی ضابطے بنانے کا اختیار نہیں ۔اس سلسلے میں قانون سازی وفاقی اور ریاستی مقننہ کو کرنا چاہئے۔ یہ فیصلہ بھی نظریاتی بنیادوں پر ہوا اور تینوں لبرل ججوں نے اکثریتی فیصلے کی خلاف نوٹ لکھے۔ اس فیصلے سے جہاں EPAکی قدغنوں سے پریشان امریکی سرمایہ کارو صنعتکار, خاص طور تیل اور تعمیرات کی صنعت سے وابستہ طبقے نے اطمینان کا سانس لیا ہے وہیں گروپ سات کی قیادت کو ڈر ہے کہ EPAمفلوج ہوجانے کی صورت میں 2030 تک کاربن سے پاک شاہراہوں کا ہدف حاصل کرنا  مشکل ہوجائیگا۔  

صدر بائیڈن نے اپنے حلیفو ں کو یقین دلایا ہے کہ ان دونوں معاملات پر قانون سازی کے ذریعے  وہ عدالتی فیصلوں کے منفی اثرات کے سد باب میں کامیاب ہوجائینگے لیکن زمینی حقائق اور نومبر کے انتخابات کیلئے کے عوامی جائزے برسراقتدار ڈیمو کریٹک پارٹی کیلئے انتہائی مایوس کن ہیں۔ سیاسیات کے پنڈتوں کا خیال ہے کہ  آئندہ انتخابات میں  ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) اور سینیٹ دونوں  حکمراں جماعت کے ہاتھ سے نکلتے نظر آرہے ہیں ۔گروپ سات کا بھی یہی خیال ہے کہ دعوے اور وعدے اپنی جگہ لیکن نومبر کے انتخابات کے بعد قانون سازی کے اختیار سے محروم بائیڈن انتظامیہ عملاً  اپاہج بطخ یا Lame duckبن کر رہ جائیگی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 8 جولائی 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 8 جولائی 2022

روزنامہ امت کراچی 8 جولائی 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 10 جولائی 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


Sunday, July 3, 2022

پاکستان میں سیاسی تحویلِ قبلہ کی بازگشت

 

پاکستان میں سیاسی تحویلِ قبلہ  کی  بازگشت

دودن پہلے ہم نے خبر دی تھی کہ امریکہ کیخلاف تندوتیز بیانات کے پسِ پردہ عمران خان نے واشنگٹن سے اپنے تعلقات میں آپڑنے والی سِلوٹوں کو ہموار کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔امریکہ میں انکے قریبی رشتے دار اور پارٹی عمائدین جناب ڈانلڈ لو Donald Luسے رابطہ بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ٹیکسس کے گورنر کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ پاکستان کی وزارتِ پیٹرولیم نے ملک کی ریفائنریوں کو ہدائت کی ہے کہ روسی تیل کی ' تکنیکی موزونیت'اور کاروباری اعتبار سےمتوقع سودے کی افادیت اور مضمرات کا جائزہ لیا جائے۔ وزارت توانائی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آئل کے ایک مراسلے میں تیل کے چار کارخانوں یعنی پارکو، پاکستان ریفائنری ، نیشنل ریفائنری اور بائیکو Bycoکو ہدائت کی گئی تھی کہ وہ 28 جون تک اس سلسلے میں اپنی رپورٹ جمع کرادیں۔اٹک ریفائنری کو یہ مراسلہ نہیں بھیجا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ ان کارخانوں نے   خیال ظاہر کیا ہے کہ روسی تیل کے تین گریڈ :

·      ایسٹرں سائیبیرین پیسیفک اوشین (ESPO)

·      سخالن کے SOKOL

·      سخالن لائٹ

پاکستان کیلئے مناسب ہیں ۔ بائیکو سب سے زیادہ پرامید اور بااعتماد نظر آرہی ہے۔تاہم ان تمام اداروں کا خیال ہے کہ فاصلے کی بناپر خلیجی تیل کے مقابلے میں روسی مال کی باربرداری کا خرچ زیادہ ہوگا۔ روسی تیل کے حوالے سے ملاحظہ ہو جسارت نیوز یوٹیوب پر ہماری گزراشات

یہ تو تھا اس معاملے کا تیکنیکی پہلو، جو ہمارے خیال میں مثبت اور خوش آئند ہے۔ پی ٹی آئی نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مراسلے کی کاپی امریکی حکام کو ارسال کرتے ہوئے عمران خان کے امریکی رفقا نے جو موقف اختیار کیا ہے اسے ایک مصرعے میں کچھ اسطرح سمویا جاسکتا ہے:

ہم مریں آپ پہ اور آپ مریں غیروں پر

پی ٹی آئی بائیڈن انتظامیہ کو سمجھانے کی کوشش کررہی ہے کہ عوام میں غیر مقبول پی ڈی ایم پاکستانیوں کے امریکہ مخالف جذبات سے فائدہ اٹھانے کیلئے روس تیل خریدنا چاہتی ہے تاکہ آنے والے ضمنی انتخابات میں وہ ایک 'دبنگ قیادت' کی حیثیت سے سامنے آئے۔ اپنے Let’s move on نعرے کو آگے بڑھاتے ہوئے پی ٹی ائی امریکہ کے رہنما واشنگٹن کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ امریکہ مخالف بیانئے کی مقبولیت عمران خان کی سحر انگیر شخصیت کی مرہونِ منت ہے اور ہم سے دوستی دونوں کیلئے نفع بخش ہوگی ۔

شنید ہے کہ امریکہ پنجاب کے ضمنی انتخابات تک 'انتظار کرو اور دیکھو' کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ اگر ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف اپنی تمام نشستیں برقرار رکھنے اور 22 جولائی کو حمزہ شریف کا دھڑن تختہ کرنے میں کامیاب ہوگئی تو روس سے راہ و رسم بڑھانے پر پی ڈی ایم سے خفا چچا سام پی ٹی آئی پر مہربان ہوسکتے ہیں۔

گویا آنے والے دنوں میں بلاول بھٹو اپنے نانا کی طرح 'کینہ پرور' ہاتھی کا ذکر کرتے نظر آئینگے اور عمران خان ساری دنیا سے اچھے تعلقات کا کورس گنگناتے

معجزہ کیا خوب ساقی تیرے پیمانے میں ہے

بادہ کش مسجد میں بیٹھا شیخ میخانے میں ہے


Thursday, June 30, 2022

دنیا کا مخدوش مستقبل

 

دنیا کا مخدوش مستقبل

چوبیس فروری کو جب روسی فوج نے یوکرین پر دھاوا بولا، اسوقت کریملن کو یقین تھا کہ عسکری کاروائی کا دورانیہ چار دن سے زیادہ نہیں  ہوگا اور یکم مارچ کو دارالحکومت کیف میں ماسکو نواز حکومت کے قیام کے بعد روسی افواج کی فاتحانہ واپسی شروع ہوجائیگی۔ لیکن چار ماہ گزرجانے کے باوجود یہ خونریز جنگ جلد ختم ہوتی نظر نہیں آرہی ۔گزشتہ دوہفتوں کے دورا ن روسی افواج نے جارحانہ پیشقدمی کرکے جنوب مشرقی یوکرین  کے بڑے حصے پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔ دنباس (Donbas)کے نام سے مشہور اس علاقے کے دوصوبوں یعنی دینیاتسک  (Donetsk)اور لوہانسک (Luhansk) میں روس نواز حکومتیں اب مو ثر و مستحکم لگ رہی ہیں۔

 روسی افواج کی حالیہ کامرانیوں کو پسپائی میں تبدیل کرنے کیلئے امریکہ نے یوکوین کو جدید ترین ہِمارس (HIMARS) راکٹ فراہم کردئے ہیں۔ہمارس راکٹ اپنے دشمن کو  پچاس میل دور سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔امریکی اسلحہ ساز ادارے لاک ہیڈ نے یہ راکٹ 1990 میں تیار کئے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ اسے مزید مہلک اور تیر بہدف بنادیا گیا ہے۔ اس ہتھیار کی عملی آزمائش نہتے افغانوں پر کی گئی۔ جب 2003 میں  جنرل لائیڈ آسٹن کو  افغانستان میں امریکی فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا اسوقت حملہ آور فوج کا سب سے مسئلہ افغانستان کا طبعی جغرافیہ تھا۔ملک کا بڑا علاقہ کوہستان پر مشتمل ہے ، کھائیوں، غاروں اور چٹان کی اوٹ کو افغان جنگجو حفاظتی مورچوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ جنرل صاحب نے ان راکٹوں پر خصوصی بارودی مواد نصب کروایا جنکی ہلاکت خیزی کا یہ عالم تھا کہ کے انکی ضرب سے بلند و بالا پہاڑوں کی مضبوط چٹانیں سُرمہ بن کر بکھر جاتی تھیں۔ موصوف کی افغانستان میں دوسالہ تعیناتی کے دوران ہمارس  راکٹوں نے کئی افغان شہروں اور سینکڑوں بستیوں کو ریزہ ریزہ کردیا لیکن چٹانوں کو رائی بنادینے والے  والا بارود حریت پسندوں کے عزم  کو پست نہ کرسکا اور موصوف بصد سامانِ رسوائی افغانستان سے رخصت ہوگئے۔ چند سال بعد تباہی کا نیا منصوبہ اور ہمارس راکٹ لے کر جنرل صاحب عراق گئے اور  ایک سال تک وہاں  اپنے شوقِ خون  آشامی کی تسکین فرماتے رہے۔صدر بائیڈن نے اقتدار سنبھالتے ہی جنرل آسٹن کو وزیر دفاع کا قلمدان سونپ دیا۔  یوکرین کو ہِمارس راکٹ جنرل آسٹن کی ہدائت پر فراہم کئے جارہے ہیں جو جنرل صاحب کا محبوب ہتھیار ہے۔

 اس جنگ نے توانائی اور خوراک کے حوالے سے ساری دنیا کو اندیشہ ہائے دوردراز میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان اور دنیا کے وہ  ممالک جہاں امریکہ نواز حکومتیں برسرِ اقتدار ہیں وہاں روسی تیل حزب اختلاف کے لئے ایک سیاسی ہتھیار بھی ہے۔پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کا دعویٰ ہے کہ اپنے دورہِ ماسکو میں وہ روسی خام تیل رعائتی دام خریدنے کا معاہدے کرچکے تھے لیکن  'امپورٹیڈ ' حکومت نے امریکی دبا وپر یہ سودا منسوخ کردیا۔ یہ بحث اسقدر شدت اختیار کرگئی  کہ دوہفتہ قبل روس کے  قونصل جنرل آندرے فیڈروف کو اسکی وضاحت کرنی پڑی۔کراچی میں اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے فاضل قونصل جنرل نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس میں تیل کی خریداری پر گفتگو تو ہوئی لیکن پاکستان کی جانب سے اس سلسلے میں سرکاری خط و کتابت نہیں ہوئی۔انھوں نے کہا کہ روس پاکستان کو رعائتی قیمت پر تیل فروخت کرنے کو تیار ہے۔

تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے تیسری دنیا اور غریب ممالک کیساتھ امریکہ بہادر بھی پریشان ہیں اور وہاں بھی الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔ صدر بائیڈن دنیا کو لاحق تمام پریشانیوں کا موردِ الزام اپنے روسی ہم منصب ولادیمر پیوٹن کو قرار دے رہے ہیں جنھوں نے جنگ چھیڑ کر عالم تمام کو مشکل میں مبتلا کردیا۔ اب امریکی صدر نے امریکی تیل کمپنیوں کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔ گزشتہ ہفتے جناب  جو بائیڈن نے تیل کمپنیوں کو حالیہ بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہاکہ  یہ ادارے منافع کمانے کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے سے گریز کررہے ہیں ۔ امریکی صدر نے نام لے کر کہا کہ Exxonتو لگتا ہے کہ خدا سے بھی زیادہ دولت مند ہونا چاہتی ہے۔ اپنی تقریر میں صدر بائیڈن نے پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان امریکیوں کی راحت کیلئے پیزول پر سے وفاقی ٹیکس ختم کرنے کا عندیہ بھی دیا ۔اسوقت امریکی صارفین پیٹرو ل اور ڈیزل کے ہر گیلن پر 18.4سینٹ گیسولین  ٹیکس ادا کرتے ہیں۔صدر بائیڈن چاہتے ہیں کہ وفاقی ٹیکس کی طرح ریاستیں بھی پیٹرولیم مصنوعات پر محصولات ختم کردیں۔ بعض ریاستیں  35 سینٹ فی گیلن وصول کررہی ہیں۔ تمام کی تمام پچاس ریاستوں کو گیسولین ٹیکس ختم کرنے پر آمادہ کرنا اتنا آسان نہیں۔

اس ضمن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے اقتصادیات کے سربراہ سینیٹر ران وائیڈن Ron Wydenنے امریکی تیل کمپنیوں پر اضافی 21 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے تجویز دی ہے۔ امریکہ میں اضافی ٹیکس کو Surtaxکہا جاتا ہے جو پہلے سے نافذ العمل شرح کے اوپر لاگو ہوتا ہے۔امریکی کارپوریشن پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 21 فیصد ہے۔ یعنی اگر سینیٹر صاحب کی تجویز منظور ہوگئی تو تیل کمپنیوں کو اپنے منافع پر 42فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔سینیٹر وائیڈن نے کہا کہ Surtaxان کمپنیوں پر عائد ہوگا جنکی سالانہ بِکری (Revenue) ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور یہ اضافی ٹیکس 2025 کے بعد ختم کردیا جائیگا۔سینیٹر صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اس سلسلے میں مسودہ قانون (بل) کب پیش کررہے ہیں۔

تیل کمپنیوں پر اضافی ٹیکس کے بل کی منظوری اتنی آسان نہیں۔امریکی سیاست ترغیب کاروں (Lobbyists )کے زیراثر ہے اور تیل کمپنیوں کے ترغیب کار، قانون سازوں سے رابطے میں ہیں۔ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کیلئے امیدواروں کو کروڑوں ڈالر کی ضرورت ہے جسکا بڑا حصہ امریکی کارپوریشنیں فراہم کرینگی اور یہ جہاندیدہ سیاست دان ہڈی ڈالنے والوں پر عوام کے سنانے کو بھونکتے تو ہیں لیکن انھیں کاٹ کر اپنا مستقبل تاریک نہیں کرینگے۔یہ بل ایوان نمائندگان سے شائد منظور ہوجائے لیکن سینیٹ کا پل صراط پار کرنا بہت مشکل ہے۔سینیٹ میں حکمران ڈیموکریٹ اور حزب اختلاف (قومی اسمبلی) کی ریپبلکن 50:50سے برابر ہیں اور کم ازکم دو ڈیموکریٹ سینیٹر انتہائی قدامت پسند ہیں جو اس بل کے حق میں ہرگز ووٹ نہیں دینگے۔ مزے کی بات  کہ انتخابات کے پریشان کن عوامی جائزوں کی بناپر صدر بائیڈن اور انکے رفقا معاشی بدحالی کا الزام تیل کمپنیوں کے سر دھر رہے ہیں۔ دوسری طرف انتخابی مہم کیلئے پیسوں کی ضرورت  امریکہ کے منتخب نمائندوں کو تیل کمپنیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے میں مانع ہے۔ سیانے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ سیاست کا سینے میں دل نہیں ہوتا۔

تیل کمپنیوں پر امریکی صدر کی تنقید کو سیاست کاری کہہ کر مسترد کیا جاسکتا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود نئے کنوؤں کی کھدائی میں غیر معمولی تیزی نہیں نظر آرہی۔ اس وقت سارے امریکہ میں صرف 733رگ (rigs)کام کررہی ہیں اور ہر ہفتے رگوں میں اضافہ چھ۔ سات سے زیادہ نہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ امریکہ میں مصروف عمل رگوں کا حجم 4500 ہوا کرتا تھا۔ بلاشبہہ جدید ترین ٹیکنالوجی کی وجہ اب اتنی رگوں کی ضرورت نہیں لیکن مصروف ِ کار رگوں کی حالیہ تعداد بہت کم ہے۔ تیل کمپنیوں کاکہنا ہے کہ تلاش و ترقی کے کاموں میں بڑی رکاوٹ ماحول کے نام پر نافذ کئے جانیوالے ضابطے ہیں جنکی وجہ سے ملک کے اکثر علاقوں میں  کھدائی  ممنوع ہے ۔

امریکی منچلے مہنگائی کا غم غلط کرنے کیلئے  لطائف و چٹکلوں کا سہا را  بھی لے رہے ہیں ۔ کئی  میکدوں کے اشتہاراتی کتبوں پر درج ہے کہ' شراب پیٹرول سے سستی ہے۔ روڈ ماسٹری چھوڑو، خمار گندم اور انگور کی بیٹی سے دل بہلاو ۔گاڑی چلانے میں چالان بھی ہوسکتا ہے، حادثے کا بھی امکان ہے جبکہ شغلِ مئے نوشی  کا سرور ہر خطرے سے پاک ہے'

ملکی تیل کمپنیوں کو ڈانٹنے ڈپٹنے کے ساتھ اب امریکی صدر  اب تیل پیداکرنے والے ممالک خاص طور سے سعودی عرب کی منت سماجت پر اُتر آئے ہیں۔سعودی عرب سے جاری ہونے والے شاہی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صدر جو بائیڈن 15جولائی سے سعودی عرب کا دوروزہ سرکاری دورہ کرینگے۔ امریکی صدر کا اسرائیلی دورہ جون میں طئے تھااور وہ سعودی یاترا کے بھی خواہشمند تھے لیکن ولی عہد محمد بن سلمان سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر جناب بائیڈن کی “غیر ضروری” تشویش سے خفا تھے  اور شہزادے نے صدر بائیڈن کا فون سننے سے بھی انکار کردیا تھا۔کہا جارہا ہے کہ صدر بائیڈن کی معذرت کے بعد انکی شہزادہِ گلفام کی صلح ہوگئی ہے چنانچہ ولی عہد نے امریکی صدر کو مملکت آنے کی دعوت دیدی۔خیال ہے کہ ولی عہد, جمال خاشقجی کے معاملے پر صدر بائیڈن کو زبان بند رکھنے کا مشورہ دینگے۔امریکی صدر کی جانب سے مثبت جواب کی صورت میں اظہار خیرسگالی کے طور پر تیل کی پیداوار میں پانچ لاکھ بیرل روزانہ کا اضافہ متوقع ہے ۔ایک اور خوش آئند بات یہ کہ امریکی وزارت خارجہ نے اسرائیل کے دورے کی جو تفصیلات جاری کی ہیں اسکے مطابق امریکی صدر اسرائیل اور مغربی کنارے کا دورہ کرینگے۔ مغربی کنارے کے علیحدہ ذکر سے لگتا ہے کہ امریکہ مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ نہیں سمجھتا۔

تاہم یہ کافی نہیں کہ اسرائیل توانائی کے بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے  غزہ  اور لبنان کے علاقوں سے حاصل ہونے والی قدرتی گیس یورپ کو بیچنے کی تیاری کررہا ہے۔ پندرہ جون کو  قاہرہ میں مصر، اسرائیل اور یورپی یونین نے مفاہمت کی ایک یادداشت (MOU)پر دستخط کئے جسکے تحت اسرائیل بحرروم سے حاصل ہونے والی قدرتی گیس یورپ کو برآمد کریگا۔ اس معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تینوں میدان جن سے اسرائیل گیس نکال رہا ہے متنازعہ علاقوں میں ہیں۔بحرِ روم میں کارش (Karish) ، لیویاتھن(Leviathan) اور ثمر گیس فیلڈ کے تصدیق شدہ ذخائر کا مجموعی حجم 690 ارب مکعب میٹر (690BCM) ہے۔ کارش کے معاملے پر لبنان نے امریکہ کو اپنا ثالث مقرر کیا ہے۔لیویاتھن ، غزہ کے ساحل کے قریب ہے اور فلسطینی اسکے دعویدار ہیں۔ اس سے متصل ثمر کو بھی لبنان اپنی ملکیت قراردیتا ہے اور اقوام متحدہ نے اسرائیل اور لبنان کو یہ معاملہ بات چیت کے ذریعےحل کرنے کی ہدائت کی ہے۔

اس معاہدے پر یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وانڈرلین کی نگرانی میں اسرائیل کی وزیرتوانائی محترمہ کرین الحرار، انکے مصری ہم منصب طارق الُملّا اور یورپی یونین کی کمشنر برائے توانائی محترمہ کدری سسمسن نے دستخط کئے۔معاہدے کے تحت ان میدانوں سے گیس مصر پہنچائی جائیگی جہاں اسےLNGمیں تبدیل کرکے ٹینکروں پر یورپ بھیجا جائیگا۔ خیال ہے کہ اس سودے سے اسرائیل کو 30 کروڑ ڈالر سالانہ کی آمدنی ہوگی۔حیرت کی بات کہ جس علاقے کو خود اقوام متحدہ نے متنازعہ قراردیا ہے وہاں کا مال یورپی یونین خریدنے کو تیار ہے۔ایل این جی اور جہازرانی کی مد میں مصر کو بھی معقول آمدنی ہوگی چنانچہ قاہرہ اپنے فلسطینی اورلبنانی بھائیوں کی حق تلفی پر ذرا سا پریشان نہیں۔

 اسی کیساتھ یوکرین نے روس کے عسکری مفادات کیساتھ تیل کی تنصیبات کو ہدف بنانے کا عندیہ دیا ہے۔  بیس جون کو بحر اسود میں مقبوضہ کریمیا ئی کمپنی Chernomorneftegazکی رگ پر یوکرین نے میزائیلوں سے حملہ کیا جس میں پلیٹ فام بالکل تباہ ہوگیا۔ اسکے دودن بعد  روس کے جنوبی صوبے روستووRostovمیں تیل صاف کرنے کا ایک کارخانہ نشانہ بنا۔ یہ علاقہ یوکرینی سرحد سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔روسی خبر رساں ایجنسی تاس TASSکے مطابق دو ڈرونوں نے Novoshakhtinsk Oil Refineryپر میزائیل برسائے جس سے ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی ۔یہ جدید ترین ریفائنری 2009 میں قائم ہوئی جسکی سالانہ گنجائش 75 لاکھ میٹرک ٹن یا 53 کروڑ 61 لاکھ بیرل ہے۔ جنگ کا یہ نیا رخ انتہائی خطرناک ہے۔ بحر اسود اور بحر ازاق (Azov)میں کئی روسی رگیں اور پیدواری تنصیبات ہیں جنھیں مستقبل میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ روسی حکام نے دھمکی دی ہے کہ اگر تیل اور گیس کو ہدف بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو ماسکو کا ردعمل امریکیوں کی توقع کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا۔

جہاں امریکی صدر اپنے اتحادیوں پر روسی تیل اور گیس نہ خریدنے کیلئے دباو ڈال رہے ہیں وہیں روس یورپ کی گیس پائپ لائن کو خود ہی بند کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔ یہ بات کسی اور نےنہیں  بلکہ اس خطرے کا اظہار عالمی توانائی ایجنسی IEA کے سربراہ ڈاکٹرفاتح بائرول Fatih Birolنے 22جون کو  اپنے ایک بیان میں کیا۔ چونسٹھ سالہ ترک ماہرِ توانائی نے کہا کہ' یہ بات بعید از قیاس نہں کہ روس یورپ کو تیل اور گیس کی فراہمی کسی بھی وقت یکسر بند کردے'۔یورپ میں توانائی کی 40 فیصد ضرورت روسی تیل اور گیس سے پوری ہوتی ہے۔ یورپ کو روسی تیل اور گیس کی فراہمی کا تخمینہ 47 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔بلقانی اور یوکرین کے پڑوسی ملکوں کا روسی تیل اور گیس پر انحصار 80 فیصد ہے۔

گفتگو ختم کرتے ہوئے چندسطور ہندوستان روس،  تیل کی تجارت پر۔بھارت کی قومی تیل کمپنی ONGC کے ذیلی ادارے او این جی سی ودیش کے سربراہ الوک گپتا کا کہنا کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے روسی جزیرے سخالین میں تیل کی پیداوار متاثر ہورہی ہے۔ودیش دنیا کے ساٹھ سے زیادہ ملکوں میں سرگرم ہے۔بحرالکاہل میں روسی جزیرے سخالین کو اللہ نے تیل اور گیس کی دولت سے مالامال کیاہے۔ یہاں 'سخالن ایک 'کے نام سے جاری منصوبے پر او این جی سی ودیش کی ملکیت 20 فیصدہے۔تیس فیصد حصص کے ساتھ اس مشارکے کی قیادت امریکی تیل کمپنی EXXON کے پاس ہے۔ باقی پچاس فیصد ملکیت روس کی مقامی کمپنیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ 'سخالین ایک' سے فروری تک تیل کی پیداوار 2 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ تھی۔ یوکرین جنگ کے بعد سے اواین جی سی ودیش اپنے حصے کا تیل ہندوستان بھیج رہی ہے۔ یہ مال چونکہ ہندوستان کی ملکیت ہے اسلئے اس پر روسی تیل کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ اب EXXON نے امریکی پابندیوں کی بنا پر یہاں کام بند کردیا ہے اور قانونی اصطلاح میں ماورائے تدبیر یا Force Majeure صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ایکسون کے ماہرین کی جگہ روسی کمپنیاں اور اوین جی سی اپنے کارکن ان کنووں پر بھیج رہی ہیں لیکن اکثر کنووں پر کام بند ہے اور جون میں اس پروجیکٹ کی مجموعی پیداوار 60 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی۔ او این جی ودیش خام تیل کی باربرداری کیلئے روسی ٹینکر استعمال کررہی تھی جس پر چچا سام کو اعتراض ہے۔ اب ودیش ہندوستانی تیل بردار جہاز استعمال کرنا چاہتی لیکن یہ بات روسیوں کیلئے قابل قبول نہیں۔اواین جی سی ذرایع کا کہنا ہے کہ اگر ایکسون کی  علیحدگی سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جلد کوئی حل نہ نکالا گیا تو 'سخالین ایک' کو  تالہ لگ سکتا ہے۔اس صورت میں ہندوستان کو تیل کی فراہمی میں خلل خارج ازامکان نہیں

ہفت روزہ فرائیڈے اسییشل کراچی یکم جولائی 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی یکم جولائی 2022

روزنامہ امت کراچی یکم جولائی 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 3 جولائی 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو