Monday, June 3, 2019

نیا برما


نیا برما   
 مسیحیوں کی عیدِ ایسٹر پر سری لنکا میں ہونے والی دہشت گردی کی لرزہ خٰیز واردات کو ایشیا کا 9/11 کہا جارہا ہے اور سری لنکن مسلمانوں کیلئے اسکی قیمت بھی ویسی بھیانک ہےجیسے امریکہ اور یورپ کے مسلمان 18 سال گزرجانے کے بعد آج تک ادا کررہے ہیں۔ سری لنکاکی کل دو کروڑ 10 لاکھ آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 10 فیصد ہے۔جنھیں مور (Moor)کہا جاتا ہے۔ مور تامل نژاد ہیں جنکی غالب اکثریت تجارت پیشہ، تعلیمیافتہ اور خوشحال ہے۔
آج بودھ انتہاپسندوں نے سارے ملک میں مسلمانوں کے خلاف مظاہرے کئے۔ دوہفتہ پہلے بودھ بھکشو گلگوڑا تھیرو (Galagoda GnanasaraThero) المعروف نانا نے دھمکی دی تھی کہ اگر یکم جون تک مسلمان وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور گورنروں کو حکومت سے نکال باہر نہ کیاگیا تو پھر یہاں کسی مسلمان کی خیر نہیں ۔
مدت کے 48 گھنٹے بعد 3 جون سے کئی بھکشووں نے تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کردی جنکی حمائت میں مسلم کش مظاہروں نے سارے ملک کو لپیٹ میں لےلیا۔سب سے زیادہ  شدت مغربی صوبے میں دیکھی گئی جہاں کے گورنر ایک مسلمان جناب آزاد صالح ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کے خلاف کاروائی کیلئے گورنر کا حکم ماننے سے انکار کردیا۔درجنوں مساجد اور مسلمانوں کے کاروباری مراکز کو آگ لگادی گئی ۔ وسط شہر میں مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اپارٹمنٹ کمپلیکس بھی جلا کر خاک کردیا گیا۔ الجزیرہ کے مطابق ان فسادات میں 250 مسلمان مارے گئے۔
دوسری طرف وسطی سری لنکا میں کینڈی شہر ان شر پسندوں کا ہدف تھا۔کینڈی مسلمانوں کا تجارتی، اقتصادی اور تعلیمی مرکز ہے۔ یہاں قائم مدینہ سینٹرل کالج سری لنکا کا قدیم ترین تعلیمی ادارہ ہےجسکی بنیاد 1935 میں رکھی گئی۔ یہ دراصل ایک اقامتی اسکول ہے جہاں پہلی سے میٹرک اور اسکے بعد پولی ٹیکنک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ذریعہ تعلیم انگریزی اور تامل ہے۔ابتدائی کلاسوں میں مسلمان بچوں کو ناظرہ قرآن بھی پڑھایا جاتا ہے۔ زراعت کے حوالے سے یہ چائے پر تحقیق کا علاقائی مرکز ہے۔ مدینہ کالج میں طالبات کا تناسب 55 فیصد ہے۔ یہ درسگاہ جدید ترین سہولیات سے مزین ہے جس میں تیز ترین انٹرنیٹ اور کمپیوٹر شامل ہیں۔ مدینہ اسکول ایک چھوٹے سے گاوں مداولا Madawalaمیں واقع ہے اور اس اسکول کی وجہ سے مداوالا سارے سری لنکا کا سب سے ترقی یافتہ گاوں سمجھا جاتا ہے۔ سری لنکا کئی صدیوں سے چائے کی پیداوار کیلئے مشہور ہے جسکی تجارت کا بڑا حصہ مسلمانوں کے پاس ہے۔
کینیڈی کے وسط شہر میں انتہا پسند سنہالی بھکشو اتھرلیا رتانا Athuraliye Rathana Theroمرکزی جامع مسجد کے سامنے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گیا اور کہاکہ  جب تک مسلمانوں کو حکومت سے باہر نہیں کیا جاتا وہ بھوک ہڑتال جاری رکھے گا۔ اس دوران سنہالی مظاہرین نے مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو نشانہ بنایا۔
ہنگامے پیر کو سارا دن جاری رہے اورآخر کار دارالحکومت کولمبو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سری لنکن مسلم کانگریس کے سربراہ روف حکیم نے 9 وفاقی وزرا، نائیبین اور 2 صوبائی گورنروں کے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا، حکیم صاحب کا کہنا تھا کہ ہم مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کیلئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔
تاہم ایوان سیاست و حکومت سے مسلمانوں کی بیدخلی مسلم دشمن عناصر کیلئے کافی نہیں۔ انتہا پسند سنہالی موروں کی ملک بدری کا مطالبہ کررہے ہیں انکاکہنا ہے کہ تامل نژاد مور دراصل ہندوستان کے شہری ہیں جو یہاں آکر اباد ہوگئے۔یعنی یہ برما ڈرامے کی شرطیہ نئی کاپی ہے جب صدیوں سے آباد اراکان مسلمانوں کو بنگالی قراردیکر بنگلہ دیش دھکیل دیا گیا۔ برماکی مسلم کش حکمت عملی کے معمار بودھ رہنما سیتاگو سیاگو Sitagu Sayadaw سری لنکا کے نسل پرستوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ انکے نفرت انگیز اقتباسات سارے سری لنکا میں تقسیم کئے جارہے ہیں جنکا کہنا ہے کہ 'غیر بودھ کا قتل برا کرما(کام)نہیں'
اسی نفرت انگیز مہم کے نتیجے میں گزشتہ سال 4 مارچ کو بھی وسطی سری لنکا میں مسلم کش فساادت ہوئے لیکن اس بار صدر میتھری پالا سری سینا Maithripala Sirisena اور سیننٗر وزیر مسٹر سارتھ امونوگاما Sarath Amunugama سمیت ساری سیاسی قیادت نے مسلمانوں کا ساتھ دیاتھا۔اسی کے ساتھ معتدل  بھکشووں کی وفاقی تنظیم نیشنل بھکو فرنٹ National Bhikko Frontنے مسلمانوں سے یکجہتی کیئے مظاہرہ کیا۔ کرکٹ کے کھلاڑی کمار سنگاکارااور مہیلا جے وردنا بھی مسلمانوں کی حمائت میں سامنے آئے۔ حتیٰ کہ  جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے کمیشن کے سربراہ زید رعد الحسین نے سری لنکا کی حکومت پر زور دیا کہ لوٹ مار کرنے والے بلوائیوں کے ساتھ ان لوگوں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے جو سری لنکن موروں کے خلاف نفرت کی مہم چلارہے ہیں۔
لیکن اس بار ہر طرف خاموشی ہے۔ کسی اور سے کیا شکوہ چند دن پہلے مکہ او آئی سی سربراہی اجلاس میں بھی یہ بات نہیں اٹھی کہ اس بار الزام دہشت گردی ہے۔ 9/11کے بعد ہمارے دشمنوں نے دہشت گردی کے نام سے ایسا مہلک ہتھیار ایجاد کرلیا ہے کہ جسکا توڑ کسی کے پاس نہیں۔

Sunday, June 2, 2019

اب بھی پاکستان پر الزام


اب بھی پاکستان پر الزام  
ہندوستان ہمیشہ سے الزام لگاتا چلا آرہا ہے کہ  کشمیرمیں بدامنی کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔ پاکستان کی بدنصیبی کہ اس ملک  کے دانشور،  میڈیا، سول سوسائیٹی،  مقبول سیاستدان، دفاعی تجزیہ نگار سب ہی  ہندوستان کی بین پر سر ہلارہے ہیں۔ دہشت گردی  کا پروپیگنڈا ایسا سر چڑ ھ بول رہا ہے کہ   اب  ملک کا  محب  وطن  طبقہ بھی لشکرِطیبہ  اور جیشِ محمد جیسی تنظیموں کودہشت گرد سمجھنے لگا ہے۔ حالانکہ یہ تنظیمیں  کئی سالوں سے زیرعتاب ہیں،  انکی مرکزی قیادت  جیلوں میں ہے لیکن کسی کے خلاف دہشت گردی کا ایک معمولی سا الزام بھی ثابت نہیں ہوا۔
آج  مقبوضہ کشمیر کے گورنر  ستیا  پال ملک نے جو اعدادوشمار جاری کئے ہیں اسکے مطابق اس سال کے دوران   جتنے کشمیری  بچوں کو دہشت گرد کہہ کر
بھارتی فوج نے قتل کیا ان میں  75 فیصد مقامی ہیں۔ گورنر صاحب کے مطابق گزشتہ سال یہ تناسب 60 فیصد تھا۔ ہم نے  یہ شعر بہت سنا ہے کہ
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے۔ اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبادینگے
اس حقیقت کا گورنر صاحب  رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے۔ شری ملک کا کہنا ہے کہ جون 2016 میں حزب المجاہدین کے کمانڈربرہان وانی کی شہادت  کے بعد سے نوخیزکشمیری  تیزی  ے  عسکریت پسندی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔
دوسری طرف گورنر صاحب کی اس رپورٹ  پر تبصرہ کرتے ہوئے پولیس کے ترجمان نے کہا کہ اس سال کے دوران کشمیر ی  نوجوانوں میں عسکریت پسندی کا رجحان زوال پزیر ہے اور جماعت اسلامی پر پابندی کے بعد سے دہشت گرد سرگرمیوں میں کمی آئی ہے۔
قارئین  کی وضاحت کیلئے عرض ہے کہ ہم نے بہت کراہیت کے ساتھ کشمیریوں کی پروقار جدوجہد کیلئے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے الفاظ استعمال کئے ہیں جسکا مقصد صرف اس رپورٹ کے مندرجات کی درست ترجمانی ہے۔
گورنر صاحب کی رپورٹ کے بعد پولیس کا یہ کہنا کہ اس سال کے آغاز سے کشمیر ی  تحریک زوال کا شکار ہے طفل تسلی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اعدادوشمار کو بہتر کرنے کیلئے بھارتی فوج نے کشمیریوں سے تصادم کی خبریں شایع کرنے پر پابندی لگائی ہوئی ہے تاکہ سب اچھا نظر آئے
غیر جابندار تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہندوستانی فوج پر حملوں کی تعداد میں کمی ضرور آئی ہے لیکن اسکی وجہ تحریک آزادی کی کمزوری نہیں بلکہ کشمیری حریت پسندوں کی استعداد  بہت بہتر ہوگئی ہے۔ یعنی  انکے حملے زیادہ مہلک ہوگئے ہیں اوراب کم حملوں میں  زیادہ بھارتی فوجی  ہلاک ہورہے  ہیں۔ کشمیریوں نے سراغرسانی کے میدان میں بھی اپنی مہارت کو بہتر کرلیا ہے۔ وہ بھارتی فوج کی نقل وحرکت پرموثر نظر رکھتے ہیں اور کمزور مقام یا عسکری اصطلاح میں Soft Spotپر ٹھیک ٹھیک  اور کاری شانہ  لگاتے ہیں۔ پلوامہ حملہ ایسی ہی ایک مثال ہے۔
کشمیریوں کو تنہائی کا احساس صرف  سیاسی محاذ پر ہے جہاں پاکستانی وزارت خارجہ نےFATFاور امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کے ہونکے میں کشمیریوں کی سیاسی و سفارتی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔اس رپورٹ کی بنیاد پر پاکستانی دفتر خارجہ کو ہندوستان  سے یہ ضرور پوچھنا چاہئے کہ جب    گورنر صاحب  خود ہی اعتراف فرمارہے ہیں کہ فوج سے مقابلے میں مارے جانیوالے 75 فیصدافراد کشمیری ہیں اور 25 فیصد کےبارے میں غیر ملکی ہونے کا شک صرف  اسلئے ظاہر کیا جارہا ہے کہ انکی شناخت نہیں ہوسکی  تو پھر دہشت گردی  میں پاکستان کو کس بنیاد پر موردِ الزام ٹہرایا جارہا ہے جبکہ  شہید یا گرفتار ہونے والے ایک بھی شخص کے بارے میں یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ اسکا تعلق پاکستا ن سے تھا۔

صدر ٹرمپ کا دورہ برطانیہ اور روائتی ناشائستگی


صدر ٹرمپ کا دورہ برطانیہ اور روائتی ناشائستگی
صدر ٹرمپ  3 جون سے برطانیہ کا دورہ کررہے ہیں۔ امریکی صدر کی قابلیت و صلاحیت پررائے مختلف  ہوسکتی ہے  لیکن فتنہ زبان میں  انکا کوئی ثانی نہیں۔ دھڑلے سے سفید  جھوٹ کے علاوہ یہ بولنے سے پہلے تولنے کے بالکل ہی قائل نہیں اور دل و زبان کی رفاقت  کے باب میں یہ علامہ  اقبال کے حقیقی مرد قلندر ہیں۔
برطانیہ کی نئی نویلی شہزادی میگھن مرکل (Meghan Markle)سے انکا جھگڑا بڑا پراناہے۔ امریکہ کی 37 سالہ سابق اداکارہ  کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ بیچاری نجیب  الطرفین گوری نہیں۔ اسکا باپ سفید فام اور والدہ افریقی نژاد امریکی ہے۔میگھن  کو گزشتہ برس مارچ میں برطانوی شہزادے ہیری نےاپنی دلہن بنالیا اوراب  یہ خاتون Duchess of Sussex کہلاتی ہیں۔
شہزادی صاحبہ پہلے سوشل میڈیا کی صحافی بھی تھیں اور خواتین کے حقوق پر انکے چبھتے ہوئے سیاسی بلاگ بہت پسند کئے جاتے تھے۔ 2016 کی انتخابی مہم کے دوران میگھن  ڈونالڈ ٹرمپ کے سخت خلاف تھیں ۔ عورتوں اور رنگدارامریکیوں کے خلاف ٹرمپ کے منفی روئے پر تبصرہ کرتے ہوئے میگھن نے انھیں خاتون دشمن  یا misogynistic قراد دیا اور ساتھ ہی کہا کہ وہ امریکیوں کو نسل ، رنگ ا ورمذہب کی بنیاد پر تقسیم کررہے ہیں۔ میگھن نے اعلان کیا  کہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے تو وہ ملک چھوڑدینگی۔  انھوں نے  کیا بھی ایسا ہی اور صدر ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی وہ برطانیہ منتقل ہوگئیں۔ دوسری طرف ٹرمپ بھی نقادوں کا ادھار رکھنے کے قائل نہیں  چنانچہ برطانوی اخبار The Sunکو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ میگھن ایک غلیظ (Nasty)عورت ہے۔
چند روز پہلے سلطنت برطانیہ کے شاہی ترجمان نے کہا کہ Duchess of Sussexیعنی میگھن ملکہ برطانیہ کی جانب  سے صدر ٹرمپ کے اعزاز میں دئے جانیوالے استقبالیہ میں شریک نہیں ہونگی۔ اس سے پہلے لندن کے رئیسِ شہر صادق خان بھی کہہ چکے ہیں کہ ڈانلڈ ٹرمپ کی لندن آمد پر انکے استقبال  کیلئے سرخ قالین آراستہ کرنا برطانوی اقدار کے خلاف ہےلہٰذا وہ انھیں خوش آمدید کہنے ائر پورٹ    نہیں جائینگے۔
صدرٹرمپ نے صادق خان کے بیان کو تو نظرانداز کردیا لیکن استقبالیہ میں میگھن  کی عدم شرکت کا جواز پیش کرتے ہوئے اپنے ایک  ایک ٹویٹ میں کہا
'ہم لوگ میگھن کوجو  اب  Duchess of Sussexہے مختلف نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ  زچگی تعطیلات کی وجہ سے  شاہی   استقبالیہ میں شرکت نہیں کریگی'
جوب میں Sunنے اس انٹرویو کی سمعی دستاویز جاری کردی جس میں  ٹرمپ نے میگھن کو Nastyکہا تھا۔
اپنی عادت کے مطابق صدر ٹرمپ  صاف مکر گئےاور   Fake Mediaکو رگیدتے ہوئے فرمایا  کہ CNNاور نیویارک ٹائمزسراسر جھوٹ بول  رہے ہیں۔میں نے میگھن کو کبھی بھی Nastyنہیں کہا۔ ان بھولے بادشاہ کو کون سمجھائے کہ یہ آڈیو  Sunنے جاری کی ہے جسے موصوف نے انٹرویو دیا تھا۔ امریکی ذرایع بلاغ نے تو بس Sunکا اعلان نقل کیا ہے۔ایک اور دلچسپ بات کہ Sun صدر ٹرمپ کے قریبی دوست Rupert Murdochکی ملکیت ہے۔ ٓ روپرٹ صاحب Foxٹیلی ویژن کے مالک بھی ہیں جو ابلاغ عامہ کے میدان میں صدر ٹرمپ کی شمشیر برہنہ ہے
 شاہی خاندان اور لندن کے مئر کے ساتھ برطانیہ کی حزب اختلاف بھی صدر ٹرمپ کے دورے پر سرمہری کا اظہار کررہی ہے۔  لیبر پارٹی  برطانیہ کے داخلی معاملات میں صدر ٹرمپ کی مداخلت پر برہم ہے۔
یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ برطانیہ کی وزیراعظم تھریسا مے نے سبکدوشی کی خواہش ظاہر کی   ہے اور مسلم مخالف   متعصب و قدامت پسند بورس جانسن  وزیراعظم بننے کی کوشش میں ہیں۔ بورس جانسن صدر ٹرمپ کو بہت پسند ہیں اور امریکی صدر  نےسیاسی رکھ رکھاو بالائے طاق  رکھتے ہوئے کل  کہدیا  کہ 'میرا دوست بورس جانسن  اس منصب کیلئے بہت  ہی مناسب ہے'
امریکی صدر کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے برطانیہ کے قائد حزب اختلاف جیریمی کاربن Jeremy Corbyn نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ' ٹرمپ کا یہ کہنا کہ  برطانیہ کا وزیراعظم کس کو ہونا چاہئے ہمارے  اندرونی معاملات میں مداخلت اور جمہوریت کی توہین ہے'
ساری دنیا  تکبر سے چور  صدر ٹرمپ کے ناز   اٹھاتی ہے لہٰذا معذرت کریگی انکی جوتی۔ حیوانیات کے ماہرین اپنا علم اپنے پاس رکھیں شیر جنگل کا بادشاہ ہے انڈے دے  یابچے۔


Saturday, June 1, 2019

قوم کی باوقار ترجمانی


قوم کی باوقار ترجمانی
مکہ میں  او آئی سی کے سربراہی اجلاس  سے وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے اہم نکات:
·        مغربی دنیا میں توہین و تضحیک رسالت  کے واقعات باربار ہورہے ہیں جنھیں  رکوانے میں او آئی سی ناکام ہوچکی ہے۔
·        مسلمانوں کے حقوق اور مذہبی جذبات کے تحفظ کیلئے اس فورم کی طرف سے  موثراقدامات کی ضرورت ہے
·        مغربی دنیا کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ نبی مہربان ہر مسلمان کے دل میں رہتے ہیں  اور شانِ رسالت میں ادنیٰ ترین  سی گستاخی سے مسلمانوں کے دل چھلنی ہوجاتے ہیں۔
·        مغربی دنیا  اپنے عقیدے  و مذہب سے ویسی جذباتی وابستگی نہیں رکھتی جیسی وارفتگی مسلمانوں میں ہے
·        میں اس فورم کے ذریعےاقوام متحدہ اور یورپی یونین کو  بتادینا چاہتا ہوں کہ آزادیِ اظہار کی آڑ میں   انھیں سواارب مسلمانوں کے جذبات  سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
·        مغربی دنیا نے  ہولوکاسٹ (Holocaust)کے حساس مسئلے کا یہودی کمیونٹی کی امنگوں کے مطابق حل تلاش کیا ہے۔ اسی انداز میں عالمی سطح پر حرمت قرآ ن اور ناموس رسالت  کے تحفظ کو یقینی بنانابھی  ضروری ہے۔
·        مغربی دنیا نے دہشت  گردی کو اسلام سے  وابستہ کردیا ہے  جو مسلم امت کےساتھ شدید زیادتی ہے
·        دہشت گردی کا (کسی بھی ) مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، مغرب  معتدل اسلام اور انتہاپسند اسلام کے درمیان  فرق  محسوس کرنے میں ناکام رہا ہے (  معذرت خواہانہ انداز )
·        نیوزی لینڈ میں 50 مسلمان اسی لئے شہید کردئے گئے کہ حملہ آور کو یہ پتہ بھی نہ تھا کہ  دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
·        سانحہ 9/11 سے پہلے 80 فیصد خود کش حملوں میں تامل ٹائیگرزملوث تھے لیکن کسی نے اس پر ہندوستان کو الزا م نہیں دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی  پائلٹوں نے اپنے طیارے امریکی بحری جہازوں سے ٹکرائے لیکن کسی نے انکے مذہب کا ذکر نہیں کیا۔
·        اسلام فوبیا  کے ساتھ ساتھ  یہ  او آئی سی کے غیرموثر کردار کا شاخسانہ ہے   کہ   حقوقِ آزادی کیلئے  پرامن جدوجہد کو بھی اسلامی  عسکریت پسندی کا نام دے دیا گیا ہے۔
·        کشمیر کے لوگ   اپنے حق آزادی کیلئے سیاسی جدوجہد کررہے ہیں لیکن 9/11کے بعدسے اسے  اسلامی عسکریت پسندی اور دہشت گردی کہہ کر بدنام کیا جارہا ہے۔اسی طرح اسرائیل  جدو جہد آزادی  کو دہشت  گردی  قراردیکر فلسطینیوں پر مظالم توڑرہا ہے
·        اس بات کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے اسلام کے بارے میں جو غلط فہمی پھیلائی گئی ہے اسکا سدباب کیا جائے
·        او آئی سی اپنی 50ویں سالگرہ اسوقت منارہی ہے جب  فلسطینی مسلمانو ں کو انکے سیاسی حقوق اورآزادی سے محروم کردیا گیا ہے
·        مسئلہ فلسطین کا واحدحل  اسرائیل و فلسطین پر مشتمل  آزاد و خودمختار ریاستیں  ہیں جہاں مشرقی بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہو۔
·        گولان کی بین الاقوامی  سطح پر تسلیم شدہ 1967 والی حیثیت  بحال ہونی چاہئے
·        کشمیری اپنے اس  حق خوداختیاری  سے محروم ہیں جسکی ضمانت سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں میں دی گئی ہے۔
·        کشمیری مسلمان ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔  مسلم دنیا کو انکی پشت پناہی کرنی چاہئے