Wednesday, September 4, 2019

مدارس و اسکول ایک پیج پر لیکن بیکن ہاوس اور سٹی اسکول؟؟؟


مدارس و اسکول   ایک پیج  پر لیکن  بیکن ہاوس اور سٹی اسکول؟؟؟
وفاقی وزیرتعلیم جناب  شفقت محمود نے نوید سنائی ہے کہ اگلے برس  پہلی سے پانچویں جماعت تک اسکول  و مدارس  میں یکساں نصاب پڑھایا جائیگا۔ فاضل وزیر نے اس قدم کو عمران خان کے اس وعدے کی تکمیل قراردیا جس کے مطابق سارے ملک میں ایک ہی نصاب نافذ ہوگا۔
وفاقی وزیر مدارس کو قومی دھارے میں لانے کیلئے جس محنت سے کام کررہے ہیں ویسی کوئی کوشش بیکن ہاوس   اور اس قماش کے فروخت تعلیم کے دوسرے اداروں کے نصا ب میں تبدیلی کیلئے دیکھنے میں نہیں آئی ۔
اگر مدارس کے طلبہ سے ایسی ہی ہمدردی ہے تو انھیں میٹرک  اور انٹرکروانے کے بجائے A-LEVEL اور O-LEVELکیوں نہیں کروایا جاتا تاکہ وہ  بھی  شفقت محمود  اور عمران خان کے بچوں کی طرح امریکہ و یورپ میں  اپنی قابلیت کی دھاک بٹھاسکیں۔

طالبان امریکہ معاہدہ۔ شکوک وشبہات کا شجر ِ زقوم


طالبان امریکہ معاہدہ۔  شکوک وشبہات  کا شجر ِ زقوم
گزشتہ کئی ماہ سے جاری افغان  امن مذاکرات کے نویں اعصاب شکن دور کے بعد امریکہ اور طالبان امن معاہدے کے مسودے پر متفق ہوگئے تھے۔ اجلاس کے بعد امریکی وفد کے سربراہ زلمے خلیل زاد نے نوید سنائی کہ ایک ایسے معاہدے پر اصولی اتفاق ہوگیا ہے جس   سے افغانستان میں پائدار امن کا راستہ  ہموار ہوجائیگا۔ تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ جب تک صدر ٹرمپ  مسودے کو منظور نہ کرلیں کوئی بات حتمی نہیں۔  دوسری طرف طالبان کے ترجمان ملا سہیل شاہین نے بھی امن معاہدے پر اتفاق کی تصدیق کردی۔
کابل کے سیاسی و صحافتی حلقوں کےمطابق جب زلمے خلیل زاد نے متفقہ مسودے کی ایک نقل افغان صدر کو  پیش کی تو ڈاکٹر اشرف غنی نے اس معاہدے میں موجود کئی سنگین  سقم کی طرف نشاندہی فرمائی ۔ افغان کے حکومتی حلقوں کے خیال میں  معاہدہ کی بنیاد توقعات، حسن ظن اور امیدوں پر رکھی گئی ہے جبکہ طالبان  پر اعتماد اور ان سے وفا کی امید رکھنا ہی  فضول ہے۔ افغان حکام کا خیال ہے کہ مذکرات میں طالبان نے امریکہ کو بری طرح بیوقوف بنایا ہے۔  زلمے خلیل زاد نے کابل انتظامیہ کے ان خدشات کو بےبنیاد قراردیتے ہوئے کہا کہ بات چیت کے دوران طالبان کو یہ باور کرادیا گیاہے کہ اگر انھوں نے دھوکہ بازی کی تو انھیں اسکی بہت بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی۔
آج امریکی جریدے ٹائم نے انکشاف کیاکہ خدشات کے پیش نظر امریکی وزیرخارجہ مائک پومپیو نے افغان امن معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ضابطے کے مطابق وزیرخاجہ کی جانب سے مسودے پر نظرثانی اور توثیق کے بعد اسے صدرٹرمپ  کو حتمی منظوری کیلئے پیش کیا جانا تھا۔ ٹائم نے یہ  نہیں بتایا کہ فایل وزیرخارجہ کی میز پر رک گئی ہے یا جناب پومپیو نے اپنے تحفظات کے ساتھ اسے صدرٹرمپ کو بھجوادیا ہے۔ واشنگٹن کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کی مخالفت کے باوجود صدرٹرمپ افغان کمبل سے جان چھڑانا چاہتے ہیں جہاں امریکہ کا سالانہ خرچ 70 ارب ڈالر کے قریب ہے۔


بریگزٹ ۔۔ نگلنا مشکل، اگلنا ناممکن


بریگزٹ ۔۔ نگلنا مشکل، اگلنا ناممکن
برطانیہ بہادر گزشتہ دوسال سے ایک عذاب کا شکار ہیں۔ فارسی کہاوت ہے کہ خودکردہ را علاج نیست، یہاں یہ مصیبت انکی اپنی لائی ہوئی ہے۔ غریب و نادار مشرقی یورپین اور غیر ملکی تارکین وطن سے پیچھا چھڑانے کیلئے برطانیہ کے انگریزوں نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا۔ علیحدگی کے حامیوں نے ریفرنڈم کی مہم تحریک آزادی کے طور پر چلائی اور ایسا تاثر دیا گیاکہ یورپ نے 'گریٹ برطانیہ' کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے۔  انگریز عظمت رفتہ اور تجدید نشاۃ ثانیہ کی تلاش میں  ' انگریزوں' نے یونین سے علیحدگی یعنی British Exit from EUیا BREXITکے حق میں  فیصلہ دیدیا۔ 23 جون 2016 کو ہونے والے ریفرنڈم میں انگلینڈ، مڈلینڈ اور ویلز نے علیحدگی کے حق میں رائے دی جبکہ اسکاٹ لینڈ کے 62 فیصد اور شمالی آئرلینڈ کے 56 فیصد لوگوں نے یونین میں رہنے پر اصرار  کیا۔ اور تو اور لندن شہر میں بھی 60 فیصد لوگ علیحدگی کے خلاف تھے۔ مجموعی طور پر صرف 52 فیصد لوگوں نے علیحدگی کی حمائت کی۔  
اس ریفربڈم کا پہلا شکار وزیراعظم ڈیوڈ کمیرون بنے جو یونین میں رہنے کے حامی تھے۔ ریفرنڈم کے نتائج کو انھوں نے اپنے خلاف عدم اعتماد سمجھتے ہوئے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دیدیا۔ تھریسا مے نے اقتدار سنبھالتے ہی نئے انتخابات کروائے جس میں کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہ کرسکی۔ اور قدامت پسند ٹوری پارٹی نے ادھر ادھر سے اینٹ اور روڑا اکھٹا کرکے کنبہ جوڑ لیا۔
انگریزوں نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ تو بڑے طمطراق سے کیا تھا لیکن جب علیحدگی کے مضمرات سامنے آئے تو قوم پرستی کا بھوت کافور ہوگیا۔ برآمدات پر قدغن، یورپ کے دوسرے ملکوں میں قائم برطانوی اداروں کیلئے اضافی ٹیکس، سفر کیلئے ویزا فیس اور دوسرے اخراجات کا سن کر چودہ طبق روشن ہوگئے۔ انھیں جلد اندازہ ہوگیاکہ طلاق  بڑی مہنگی پڑیگی۔
چنانچہ مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا۔ پرانے تعلقات کی دہائی اور 'کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہوگی' گنگناتی تھریسا مے نے  علیحدگی کیلئے مذااکرات کے دوران  برطانوی برآمدات کیلئے خصوصی مراعات کی درخواست کی جسے مسترد کردیاگیا یورپی ئونین کا کہنا تھا کہ برطانوی تجارت ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن یا WTOکی شرائط پر ہوگی جسکے تحت جیسے کو تیسا کا اصول نافذ ہے یعنی تجارت کرنے والے دونوں ملک ایکدوسرے پر یکساں شرح  محصول عائد کرینگے۔   
برطانیہ چاروں طرف سے پانی میں گھرا ہواہے۔ یورپ سے اسکا زمینی تعلق صرف ریپبلک آف آئرلینڈ کے ذریعے ہے اور برطانیہ کے صوبہ شمالی آئرلینڈ کی سرحدیں ریپبلک آف آئرلینڈ سے ملتی ہیں۔ یورپی ممالک کے درمیان واقع سرحد پر افراد و اسباب کی آمدوروفت پر کوئی روک ٹوک نہیں اسی بنا پر اسے نرم سرحد یا Soft Borderکہتے ہیں۔ برطانیہ کی خواہش ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد بھی آئرلینڈ سے متصل سرحد کو نرم ہی رہنے دیا جائے لیکن یورپی یونین برطانیہ کے  دونوں ہاتھوں میں لڈو دینےکو تیار نہیں۔
ریفرنڈم کے بعد یورپی یونین نے علیحدگی کی تکمیل کیلئے  29 مارچ 2019 کا ہدف طئے کیا تھا لیکن جب وزیراعظم نے  'طلاق کی دستاویز'پارلیمنٹ میں پیش کی تو اسے بھاری اکثریت سے مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم کو ہدائت کی گئی کہ وہ یورپی یونین سے کچھ مراعات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ دوسری طرف یورپی یونین 'تم روٹھے ہم چھوٹے' کے موقف پر قائم رہی تاہم ازراہ عنائت  علیحدگی کی تاریخ میں 31 اکتوبر کی کی توسیع کردی گئی۔
پرکشش معاہدے کے حصول میں ناکامی پر تھریسا مے مستعفی ہوگئیں اور جولائی کے آخر میں وزارت عظمیٰ سنبھالتے ہی وزیراعظم بورس جانسن نے اعلان کیا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو برطانیہ 31 اکتوبر کو یوپی یونین سے علیحدہ ہوجائیگا۔ اسکے لئے انھوں  نےغیر مشروط علیحدگی یا No deal, Hard exitکی اصطلاح استعمال کی۔ جناب بورس جانسن علیحدگی کی تحریک کے قائدین میں سے تھے اور ریفرنڈٓم کے دوران انھوں نے قدامت پسند و قوم پرست رہنما نائیجل فراج کے ساتھ مل کر علیحدگی کی زبردست مہم چلائی تھی۔
دارالعوام یا پارلیمنٹ کےموذیوں کا منہہ بند کرنے کیلئے بورس جانسن سے 10 ستمبر سے 14 اکتوبر تک پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کردیا جسے پارلیمانی اصطلاح میں  التوا یا prorogationکہتے ہیں۔  بریگزٹ کیلئے یورپی یونین کا سربراہی اجلاس 17 سے 18 اکتوبر تک برسلز میں ہوگا جس میں برطانیہ کی علیحدگی کا فیصلہ کیا جائیگا۔  14 اکتوبر کو نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ملکہ معظمہ مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگی جسکے بعد تقرئباً دوہفتے تک تمام کاروائی معطل کرکے شاہی خطاب پر بحث و مباحثہ ہوگا۔
وزیراعظم کو معلوم ہے کہ یورپی یونین برطانیہ کی شرائط کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں چنانچہ وہ چاہتے تھے کہ معاملے کو پارلیمنٹ میں لانے بغیر علیحدگی کی کڑوی گولی برطانوی عوام کے حلق سے گزاردیں۔
تاہم3 ستمبر کو  پارلیمنٹ میں دھواں دھار بحث کے دوران غیر مشروط علیحدگی کی تجویز  مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم کو ہدائت کی گئی کہ یونین کے سربراہی اجلاس کے دوران  وہ علیحدگی کیلئے  تین ماہ توسیع کی درخواست کریں۔ بورس جانسن کیلئے پریشانی کی بات یہ ہے کہ اس بار خود انکی پارٹی کے بہت سے ارکان نے غیر مشروط علیحدگی کے حق میں رائے دی ہے۔
پارلمینٹ میں بدترین شکست پر انھوں نے مستعفی ہوکر نئے انتخابات کا عندیہ دیا لیکن ارکان نے نئے انتخابات کو بریگزٹ کی تاریخ میں توسیع سے مشروط کردیا یعنی بے چارے بورس جانسن کی گلو خلاصی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔
پارلیمینٹ کی قرارداد کے مطابق وہ 17 اکتوبر کو ہونے والے  یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں بریگزٹ کی تاریخ میں توسیع کی درخواست کے پابند ہیں۔ ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ یونین انکی استدعا قبول لرلیتی ہے یا 31 اکتوبر کو برطانیہ کیلئے ہری جھنڈی لہرادی جائیگی۔
اگر یونین نے تاریخ میں توسیع کردی اور انتخابات میں برطانوی عوام نے اقتدار کا تاج لیبر پارٹی پارٹی کے سرسجادیا تو برطانیہ میں علیحدگی کے سوال پر ایک اور ریفرنڈم ہوگا۔ اس رائے شماری میں اگر برطانوی عوام نے علیحدگی کے فیصلے سے رجوع کرلیا تو پھر یونین سے علیحدگی کی درخواست واپس لینے کی گزارش کی جائیگی۔
یہاں اتنے سارے اگر ، مگر یا ifاور butحائل ہیں کہ مستقبل کے برطانیہ کی صورت گری بہت مشکل معلوم ہوتی ہے، بقول غالب ہوتاہے شب وروز تماشہ مرے آگے۔


Monday, September 2, 2019

طالبان امریکہ کے امن معاہدہ



طالبان امریکہ کے  امن معاہدہ
 امن مذاکرات کیلئے امریکی وفد کے قائد زلمے خلیل زاد نے انکشاف کیا ہے کہ امن معاہدے پر اصولی اتفاق ہوگیا ہے اور مسودہ حتمی منظوری کیلئے صدر ٹرمپ کو پیش کیا جارہاہے۔ زلمے خلیل زاد نے طلوع نیوز کابل کو  تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ:
معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی 135دن کے اندر افغانستان کے 5 امریکی اڈوں سے 5000 فوجی واپس بلالئے جائینگے۔
ابتدا میں کابل اور بگرام کے اڈے سے انخلا شروع ہوگا۔ بگرام امریکی فضائیہ کا ایک بہت بڑا اڈہ ہے اور یہاں سے انخلا کا مطلب ہے کہ امریکہ پہلے مرحلے میں اپنے فضائی اثاثے افغانستان سے ہٹانا چاہتا ہے۔
ڈاکٹر اشرف غنی کے ترجمان صادق صدیقی نے اس بات کی تصدیق کی ہے جناب زلمے خلیل زاد نے  معاہدے کا مسودہ افغان صدر کو پیش کردیا ہے۔