Monday, September 9, 2019

نئی پیٹرولیم پالیسی ، مبہم ترجیحات


نئی پیٹرولیم پالیسی ، مبہم ترجیحات    
روائت کے  عین مطابق ملک کیلئے   نئی پیٹرولیم پالیسی ترتیب جارہی ہے۔ چند ہفتہ پہلے وزیراعظم کے مشیر برائے پیٹرولیم  جناب ندیم بابر نے    ٹیلی ویژن پر   کامران خان  کو پالیسی کے بنیادی خدوخال سے آگاہ کیا۔ ندیم بابر صاحب کے مطابق:
·        گزشتہ دس سالوں کے دوران  حکومت کی جانب سے تیل و گیس کی صنعت کو یکسر نظر انداز کیا گیا جسکی وجہ سے  تیل و گیس کی تلاش و ترقی کیلئے  کسی نئے علاقے(بلاک) کی نیلامی نہیں ہوئی۔
·        گزشتہ دس سالوں کے دوران تیل و گیس کی کوئی غیر ملکی کمپنی قسمت آزمائی و سرمایہ کاری کیلئے پاکستان نہیں آئی بلکہ اس عرصے میں کئی غیر ملکی  ادارے ملک چھوڑ گئے۔
فاضل مشیر نے مستقبل کیلئے جس نئی حکمت عملی  کا ذکر فرمایا وہ کچھ اس طرح ہے:
·        موجودہ بندوبست کے مطابق  وزارت پیٹرولیم کا کنسیشن ڈائریکٹوریٹ المعروف DGPCتلاش و ترقی کیلئے معاہدہ  کرتا ہے اور پھر نہ  صرف معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی بھی DGPC  کی ذمہ داری  ہے بلکہ تنازعے کی صورت میں سزا کا تعین بھی DGPCکی صوابدید پر ہے۔  ندیم بابر صاحب کے مطابق DGPC نےمدعی، گواہ، منصف  اور محتسب کی   ٹوپیاں بیک وقت اپنے سر پر سجائی ہوئی ہیں جو کسی طور مناسب نہیں۔ مشیر باتدبیر  کے خیال میں یہ   مفادات کا  صریح ٹکراو یا Conflict of Interestہے جسکی نئی پالیسی میں اصلاح کی جارہی ہے۔
·        تیل وگیس کے شعبے میں نئے سرمایہ کاری لانے کیلئے اگلے دوماہ کے دوران وزارت پیٹرولیم کا ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد یورپ اور شمالی امریکہ (امریکہ اور کینیڈا) جائیگا جہاں تیل و گیس کمپنیوں کی قیادت سے ملاقات کرکے ان اداروں کو پاکستان میں  تیل و گیس کی تلاش کی طرف   راغب کیا جائیگا۔
·         اس  دورے کے بعد اس سال دسمبر یا اگلے سال کے آغاز میں کچھ نئے بلاک  نیلامی کیلئے پیش کئے جائینگے۔
·        گیس کی ضرورت پوراکرنے کیلئے نجی شعبے کو LNGکی درآمد میں سہولت فراہم کاجائیگی۔ ندیم بابر صاحب نے کہا کہ نجی اداروں کو LNGپلانٹ قائم کرنے کیلئے 5 لائیسنس جاری کئے گئے ہیں۔غیر ملکی کمپنیاں اپنے خرچ پر  باہر سے LNGمنگائینگی اور اپنے پلانٹ  پر انھیں قدرتی گیس میں تبدیل کرکے  SNGC, SSGCکو یا خام LNGبجلی کے کارخانوں کو فروخت کرینگی۔ پلانٹ کی تنصیب اورLNGکی خریداری پر  زرمبادلہ سمیت حکومت کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوگا۔
ہمارے خیال میں LNGکی درآمد کے پانچ لائیسنس کے اجرا سے ملک کے اندر گیس کی تلاش و ترقی کےکام کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اسوقت ملک میں گیس کی  کم سے کم طلب (off peak)6ارب  مکعب فٹ اور  زیادہ سے زیادہ (peak) 7 ارب مکعب فٹ  روزانہ ہے۔ قطر سے درآمد ہونے والی LNGکا حجم 1یک سے ڈیڑھ ارب مکعب فٹ یومیہ ہے۔ پاکستان LNGلمیٹڈ ٹینڈر کے بعد 20 کروڑ مکعب فٹ LNGکیلئے  معاہدے کو آخری شکل دے رہی ہے اور امید ہے کہ سردی کے آغاز سے پہلے اضافی LNGکی فراہمی شروع ہوجائیگی۔
گزشتہ دنوں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی جناب  فواد چودھری نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہوگئی ہے اور ٹی وی پروگرام میں ندیم بابر صاحب نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے  ملکی کمپنیوں سے گیس کی خریداری میں کچھ  کمی کردی ہے۔ ایک جائزے کے مطابق  اگلے سال ملک کو  زیادہ سے زیادہ ساڑھے چھ ارب مکعب فٹ  گیس یومیہ کی ضرورت ہوگی۔
ایشیا میں LNGکی قیمتیں دباو میں ہیں اور خبررساں ادارے بلومبرگ کا خیال ہے کہ آجکل LNGگزشتہ سترہ ماہ کی کم ترین سطح پر فروخت ہورہی ہے۔ چند ماہ پہلے9 ڈالر فی Million British Thermal Unitیا Mbtuبکنے والی LNGاب 5.80ڈالر فی Mbtuدستیاب ہے۔
جن نئے  LNGپلانٹ کے لائیسنس جاری کئے جارہے ہیں انکی مجموعی گنجائش  ڈھائی ارب مکعب فٹ روزانہ کے قریب ہے۔  پلانٹ لگانے والے بیرونی سرمایہ کار spot marketسے انتہائی سستی LNGخرید سکتے ہیں جہاں سودا کسی معاہدے کے بغیر نقد ادائیگی پر دست بدست ہوتا ہے۔ اس صورت میں  ممکن ہے کہ درآمدی گیس یہاں نکا لے جانیوالی گیس سے سستی ہوجائے۔ اگر ایسا ہوا تو ملک کے اندر گیس کی تلاش پر منفی اثر پڑیگا۔ کمی کو پورا کرنے کیلئے عارضی طور پر گیس کی درآمد تو درست ہے لیکن ندیم بابر صاحب کی باتوں،   حکومت کی تیاریوں  اور LNGدرآمد کی حوصلہ افزائی سے ایسا لگ رہا ہے کہ مستقبل میں ایندھن  کیلئے درآمدی  LNGپرانحصار کیا جائیگا جو کسی طور مناسب نہیں۔ 
فاضل مشیر کو شائد یہ نہیں  معلوم کہ تیل و گیس کی پاکستانی صنعت  تجربے  اور استعداد کے اعتبار سے  دنیا میں   اگر پہلے نہیں تو دوسرے نمبر پر ہے۔ گزشتہ صدی  کی پانچویں دہائی میں جب  یورپ گھروں کو گرم رکھنے کیلئے کوئلے جلاتا تھا ہماری خواب گاہیں قدرتی گیس سے حدت حاصل کرتی تھیں۔ دنیا کو تیل وگیس کی تلاش  وترقی کے طریقے سجھانے والے  اگر درآمدی گیس کو اپنی پیٹرولیم پالیسی کی بنیاد بنائیں تو  اسے ایک المئے کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔

Friday, September 6, 2019

دوچار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا






دوچار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا
روس، امریکہ اور روس کے بعد ہندوستان کا  چوتھی خلائی قوت بننے کے خواب پوری طرح  شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اور چاند گاڑی وکرم قمری سطح سے صرف  ڈھائی کلومیٹر دوری کے بعد نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ تاہم اس   مہم میں بہت سے اہداف حاصل کرلئے گئے  گویا مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا۔
ہندوستان نے  چندریاں  (چاندگاڑی) کے نام سے   چاند پر جانے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔ پہلامشن چندریاں اول  اکتوبر 2008 میں روانہ ہوا اور 14 نومبر کو خلائی جہاز  سے نکلنے والا کھوجی راکٹ Moon Impact Probe (MIP)پروگرام کے مطابق  چاند کے قطب جنوبی کے قریب قمری سطح سے ٹکراگیا۔ 8 سال بعد  2 جولائی  2016کو امریکی خلائی ادارے NASA کے ریڈار نے چاند کے مدارمیں چندریاں  اول  کی موجودگی  کی تصدیق کردی۔
دوسرے  مشن کو  چندریاں دوم کا نام دیا گیا۔ اس مشن کا ہدف    چاند گاڑی وکرم کو سطح پر اتارنا تھا۔ وکرم پر   سوار مشینی  انسانوں  (Robots)  کو   قمری سطح  کی  ماہیت، وہاں پانی کی موجودگی اور دوسری  آزمائش و پیمائش کا ہدف دیا گیا تھا۔
چندریاں دوم ہندوستان کیلئے بے حد اہم تھا جسکی بھرپور تیاری کی گئی اور روحانی مدد کیلئے خلائی ادارے  انڈیا اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن  یا  ISROکے سربراہ شری  کیلا سیوادی وو سیوان) (Kailasavadivoo Sivan المعروف کے سیوان نے  کرناٹکا میں اڑوپی کے مقام پر 1000 سال پرانے مندر کرشنا ماتھا میں چندا دیوی جی کے چرنوں پر ماتھا ٹیک کر انکی آشیرواد طلب کی۔ وہ  چتور، آندھراپردیش میں  ونکٹسوار مندر بھی گئے
مذہبی رسومات کے بعد چندریاں 2 آندھراپردیش  میں واقع  ستیش  دھاون خلائی مرکز سے 22 جولائی کو روانہ ہوئی۔ ہندوستانیوں کا دعوٰٰی  ہے کہ خلائی جہاز، راکٹ ، MIPاور تما م دوسرے لوازمات مقامی سطح پر تیار کئے گئے جس پر 14 کروڑ 10 لاکھ ڈالر خرچ آیا۔ 
پروگرام کے عین مطابق  چندریاں دوم  22 اگست کو چاند کے مدار میں پہنچ گئی اور اس  نے چاند کے قطب  جنوب میں چاند گاڑی  وکرم کواتارنے کی تیاری شروع کردی۔ تمام  مراحل  منصوبے اور توقع کے مطابق طئے ہورہے تھے۔  وکرم  نے  خلائی  جہاز سے علیحدہ ہوکر آہستگی  کے ساتھ  چاند کی سطح  کی طرف  اترنا شروع کیا جسے Landingکہتے ہیں۔ اسے  7 ستمبر  کو بھارت کے وقت کے مطابق  ایک بج کر 50 منٹ پر چاند کی سطح کوچھونا (touch down)تھا۔
 عین اس  وقت  ہزاروں افراد نے تامل ناڈو کے چندرانار (چاند دیوی ) مندر میں دیوی جی کے قدم چوم کر کامیابی کیلئے دعائیں  شروع کردیں ۔
ادھر بنگلور کے  مشن کنٹرول  سینٹر میں ISROکے سربراہ  کے  سیوان کی قیادت میں سینکڑوں سائینسدان اسکرینوں پر نظر جمائے وکرم  کے چاند پر اترنے کا نظارہ کررہے تھے۔تاریخی  لمحے   کے مشاہدے کیلئے اسکولوں کے طلبہ کو بھی مدعوکیا گیا تھا
   وکرم  کی متوقع لینڈنگ  سے 25 منٹ پہلے وزیراعظم مودی کنٹرول سینٹر میں داخل ہوئے۔ انکا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ شری کے سیوان نے وزیراعظم سے معانقہ کیا اسوقت وکرم چاند کی سطح سے صرف 5 میل  کی بلندی  پر تھا اور کامیابی سے نیچے جارہا تھا۔ سینٹر میں موجود  لوگ سانسیں روکے وکرم کو چاند پر اترتا دیکھ رہے تھے۔ وکرم کی رفتار توقع سے  کچھ کم ہوئی اور 1 بجکر 54 منٹ پر وہ  قمری سطح سے 2.1 کلو میٹر بلند تھا۔ سائنسدان فکر مند تو تھے لیکن انکا خیال تھا کہ ابتدائی پیمائش میں کچھ غلطی ہے اسلئے وکرم کے اترنے میں توقع سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔لیکن اچانک  وکرم اسکرین سے غائب ہوگیا۔
کافی دیر تک کمپیوٹر کی چھان  پھٹک اور انٹرنیٹ کھنگلالنے کے بعد شری کے سیون نے مشن  کے نامکمل  (Inconclusive)ہونے کا اعلان  کردیا اورمودی جی  اچھے کی امیدرکھو (Let’s hope for the best)کا مشورہ دیکر وہاں سے چلے گئے۔

ایرنی جہاز کے کپتان کو رشوت کی پیشکش


ایرنی جہاز کے  کپتان کو رشوت کی پیشکش
دوماہ قبل 4 جولائی کو برطانوی  بحریہ نے  جبل الطارق  (جبرالٹر)  سے گزرتے ہوئے ایک تیل بردار ایرانی جہاز 'گریس ون (Grace One)کو قبضے میں لے لیا تھا۔ اس ٹینکر پر لدا 21 لاکھ  بیرل خام تیل  مبینہ طور پر شامی بندرگاہ بنی یاس  لے جایا جارہا تھا۔ بنی یاس میں شام کی سب سے بڑی تیل ریفائنری ہے۔یورپی یونین نے شام پر تجارتی پابندیاں عائد کررکھی ہیں جسے  بنیاد بناکر اس جہاز پر قبضہ کیا گیا۔
 جواب میں صرف   دوہفتے بعد 19 جولائی کو ایرنیوں نےآبنائے  ہرمز سے گزرتا ہوا ایک  برطانوی جہاز پکڑ لیا ۔ جہاز کے 23 رکنی عملے کو تو چند دن بعد ہی رہا کردیا گیا لیکن یہ جہاز اب تک ایران کے قبضے میں ہے۔
گزشتہ ماہ    برطانیہ نے ایرانی ہاز کو چھوڑدیا۔ تجارتی جہازوں کی حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے  کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وقت کے مطابق  جمعرات  کو سوا بارہ  بجے  گریس ون  کوجسے اب 'آدرین دریا' کہا جاتا ہے بنی یاس کی شامی بندرگاہ پر دیکھا گیا  جبکہ پیر کی شام یہ جہاز بحر روم میں شام اور قبرص کے درمیان تھا اور جہاز کی سبک رفتاری سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس پر لدا تیل اتارا جاچکا ہے۔
فنانشل ٹائمز (FT)نے انکشاف کیا ہے کہ جبرالٹر سے روانگی  پرامریکی حکومت نے ایرانی ٹینکر کےبھارتی کپتان پر دباو ڈالا کہ وہ اپنا جہاز کسی ایسی بندرگاہ پر لے جائے جہاں امریکی بحریہ اس پر قبضہ کرسکے۔FTکے مطابق یہ پیشکش کسی اور نے نہیں بلکہ خود امریکی وزارت  خارجہ میں ایرانی امور کے سربرا ہ برائن ہک (Brian Hook)نے کی۔  برائن  ہک کا منصب  نائب وزیرخارجہ  کے مساوی ہے۔ جہاز کے کپتان اخلیش کمار کے نام اپنے برقی خط میں جناب ہک نے ان سے لاکھوں ڈالر انعام کاوعدہ بھی کیا۔ اس پیشکش کے ساتھ یہ دھمکی بھی تحریر تھی کہ اگر بات نہ مانی تو کپتان کی زندگی بہت تلخ ہوسکتی ہے۔اخبار کے مطابق جناب   ہک ایرانی جہاز کے ملاحوں کو خط لکھ کر  بھاری  معاوضے  کے عوض ان جہازوں کو امریکی بحریہ کے زیراثر بندرگاہوں کی طرف  ہانکنے کی درخواست کررہے ہیں۔
ایرانی وزیرخارجہ جاوید ظریف نے ملاحوں کے نام برائن ہک کے خطوط  کوبحری قزاقی قراردیا ہے۔ انھوں نےاپنے ایک ٹویٹ میں طنز کیا کہ صدرٹرمپ کے بیضوی  دفتر (Oval Office) نے کچھ ہفتہ پہلے مجھے امریکہ کے دورے کی جو دعوت دی تھی وہ بھی کچھ ایسا ہی حربہ تھا۔
کیا جناب برائن ہک کی  مبینہ  پیش کش امریکی قانون  FCPAکی صریح خلاف ورزی نہیں؟؟؟

Thursday, September 5, 2019

غیر حقیقت پسندانہ تشخیص


غیر حقیقت پسندانہ تشخیص
آئی ایس  پی آر کے سربراہ جنرل آصف غفور نے  تفصیلی  تحقیق و جستجو اور عرق ریزی کے بعد گزشتہ دنوں پاکستان کی معاشی صورتحال کاتجزیہ پیش کیا ہے۔ جنرل صاحب نے  اپنے تجزئے کو تین  نکات میں سمویا ہے جو کچھ اسطر ح ہے:
·        ہر حکومت نے معیشت کو پیراسیٹامول سے درست کرنے کی کوشش کی
·        معیشت کا بلڈ ٹیسٹ کیا تو کینسر نکلا جسکا علاج کیمو تھراپی ہے
·        معیشت ٹھیک ہونے میں ابھی 5 سے 10 سال لگیں گے
 جان کی امان پاوں تو یہ کہنے کی جسارت کروں کہ جنرل صاحب کی تشخیص درست نہیں۔ پاکستان معاشی و اقتصادی نہیں بلکہ اخلاقی سرطان میں مبتلاہے اور اس کینسر نے ملک کی اقتصادیات کو بھی مفلوج کردیا ہے۔ اخلاقی کینسر کی چند علامات:
·        ذوالفقار علی بھٹو  کے دور میں 23 مارچ 1973 کو متحدہ جمہوری محاذ (UDF)کے جلسے پر ایف ایس ایف نے خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کرکے  نیپ  (آجکل  اے این پی) کے درجنوں کارکنان کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ آج تک ان قاتلوں کو سزا تو کجا مقدمہ بھی پیش نہیں ہوا۔
·        پرویز مشرف نے فاسفورس بموں سے جامعہ حفصہ  کو دہکتے ہوئے تندور میں تبدیل کردیا جہاں سینکڑوں حفاظ بچیاں  جل کر کوئلہ بلکہ سرما بن گئیں۔
·        نوز شریف کے دور کا   ماڈل ٹاون سانحہ  کسے یاد نہیں  جب  درجنوں افراد موت کے گھاٹ اتار دئے گئے جن میں حاملہ عورت، معصوم بچہ اور بزرگ سبھی شامل تھے۔ اقتدار تبدیل  ہوگیا لیکن مظلوموں  کو اب تک انصاف  نہیں مل سکا۔
·        کپتان کے دور میں ایسا ہی لرزہ خیزواقعہ ساہیوال میں پیش آیا جب  انسداد ِدہشت گردی کے نام پر معصوم بچی  اور خاتون خانہ سمیت سارا خاندان سر راہ گولیوں سے  بھون ڈالا گیا۔
اب   ذہنی طور پر اپاہج  ایک شخص کو جس بہیمانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بناکر موت کے گھاٹ اتارا گیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اخلاق کا سرطان  انتظامیہ ، عدلیہ ، مقننہ اور سیکیورٹی سمیت  مملکت کے تمام  اداروں تک سرائت کرچکاہے۔حکومت، قیادت، چہرے اور نعرے  سب ہی تبدیل ہوئے لیکن  ظلم کا نظام  ویسے کا ویسا ہی ہے۔ صلاح الدین  پر جو قیامت ٹوٹی   وہ تھانوں کے علاوہ ملک  بھر  میں پھیلے  خفیہ عقوبت خانوں المعروف     Safe Housesمیں روزمرہ کا معمول ہے۔ جو معاشرہ اس حد تک بے حس ہوچکا ہوکہ انسانی جان کا احترام  ختم ہوجائے وہاں نہ معیشت کی اصلاح ممکن ہے  نہ معاشرت کی۔
جنرل صاحب !  معیشت کی کیموتھراپی  ایسی ہی  ہےجیسے    کنویں سے 40 ڈول پانی نکال کر لوگ  یہ سمجھے بیٹھے  ہیں کہ اب  اس کنویں کاپانی  پاک  ومصفا ہوگیا حالانکہ  تہہ میں کتے کی لاش جوں کی توں موجودہے۔ اس ملک   سے بددیانتی اور بے ایمانی  کے شجر زقوم کو اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف ایک  راست باز، محب وطن اور دیانت دار قیادت ہی کرسکتی جو بدقسمتی سے آپ لوگوں کیلئے قابل قبول  نہیں۔