Sunday, September 17, 2023

کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب ۔ آج تم یاد بے حساب آئے

 

کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب ۔ آج تم یاد بے حساب آئے

آج جبکہ ترک ملت سلطانی جمہور پر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہے ان شہدا کی جدائی کے زخم تازہ ہوگئے ہیں جنکے گرم لہو نے سیکیولر ازم کے اندھیروں میں ایمان و یقین کے دیپ روشن کئے۔ بے خدا سیکیولر سے نجات میں نجم الدین اربکان مرحوم کی بصیرت اور طیب ایردوان کی ہمت و انتھک محنت کا بڑا ہاتھ ہے لیکن قصرجمہوریت کی بنیاد کو وزیراعظم عدنان میندریس، وزیر خارجہ فطین رستم اور وزیرخزانہ حسن ارسلان کا پاک و مبارک لہونے معطر کررکھا ہے۔

 جب 1950میں پہلی بار آزادانہ انتخابات ہوئے تو عدنان میندریس کی ڈیموکریٹک پارٹی نے 487 کے ایوان میں 408 نشستیں جیت کر سیکیولر قوتوں کو حیران کردیا۔ چار سال بعد 1954کے انتخابات نے اتاترک کی ریپبلکن پارٹی کا بالکل ہی صفایا ہوگیا اور عدنان میندریس نے 541 میں سے 503 نشستیں جیت لیں۔ 1957 میں ڈیمو کریٹک پارٹی نے ایک بار پھر دو تہائی نشستیں جیت کامیابی کی ہیٹ ٹرک مکمل کرلی۔ اپنے عہد اقتدار میں میندریس سرکار  نے سارے ترکی میں صنعتوں کا جال بچھا دیا، ترکی نے مغرب سے قریبی تعلقات قائم کئے اور نیٹو کی رکنیت حاصل کی۔ایک آئینی ترمیم کے ذریعے حکومت کو پارلیمینٹ کے سامنے جوابدہ کیا گیا۔ شہری آزادیوں کو بحال کیا گیا۔ مدارس میں عربی تعلیم کی اجازت دی گئی، مساجد سے عربی میں اذان بحال کی گئی جبکہ اسکارف لینے والی خواتین کے پبلک پارکوں میں داخلے پر پابندی ختم کردی گئی۔

جناب میندریس کے ان اقدامات کی حزب اختلاف نے سخت مخالفت کی۔ پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف عصمت انونو نے جب ان سے طنزیہ پوچھا کہ وہ شریعت نافذ کرکے خلافت کب بحال کر رہے ہیں تو جناب میندریس نے بے دھڑک جواب دیا کہ اگر پارلیمنٹ چاہے تو مکمل شریعت بھی نافذ ہوسکتی ہے۔ اس پر انکے وزیرخارجہ فطین رستم نے پر امید انداز میں کہا کہ انشاء اللہ وہ دن ضرور آئے گا اور وزیر خزانہ حسن ارسلان بےاختیار اللہ اکبر کہہ اٹھے۔

پارلیمان کی یہ گفتگو ان تینوں کیلئے موت کا پیغام لائی۔ 27 مئی 1960 کو حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ سرسری سماعت کے دوران استغاثہ نے جو فرد جرم عائد کی اسکے مطابق بعد عربی مدارس کی بحالی،  بند مساجد کا اجرا ، عربی میں اذان اور خاتون پولیس افسران کے سر ڈھانکنے کی اجازت ریاست کے خلاف گھناونا جرم اور سیکیولر ازم سے صریح انحراف تھا۔ ان 'سنگین' الزامات کے ساتھ پارلیمینٹ کے اجلاس میں خلافت بحال کرنے کا عزم ناقابل معافی ٹہرا۔ عدنان میندریس اور انکے دونوں ساتھیوں کو سزائے موت سنادی گئی اور اپیل و نظر ثانی کے تکلف میں پڑے بغیر 17ستمبرکو یہ تینوں تختہ دار پر لٹکا دئے گئے۔

یہ مقدمہ کتنا شفاف تھا اسکا اندازہ چیف پراسیکیوٹر محمد فیاض کے بیان سے ہوتا ہے جو انھوں نے پریس کو جاری کیا۔ محمد فیاض کے مطابق ترکی کے صدر جمال گرسل نے جناب میندریس اور انکے ساتھیوں کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ھوئے۔ صدر نے موت کے حکم نامے کو مسترد کرتے ہوئے تحریر کیا کہ آئین کے مطابق غداری کا مقدمہ صرف کھلی عدالت میں چلایا جاسکتا ہے جبکہ اس انتہائی اھم مقدمے کی سماعت چند نوجوان فوجی افسروں نے بحر مرمارا کے ایک تنگ و تاریک جزیرے پر کی اورصدر و  وزیراعظم کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انکو دوساتھیوں سمیت تختہ دار پر کھینچ دیا گیا۔

 جناب میندریس کے آھنی اعصاب کا مظاھرہ اسوقت ہوا جب پھانسی کی صبح رات کے تیسرے پہر جلاد، جیل کے سپر انٹنڈنٹ کے ھمراہ انکے سیل میں داخل ہوا۔ ٘موصوف کے خراٹوں سے سارا سیل گونج رھا تھا اور وہ اتنی گہری نیند میں تھے کہ بیدار کرنے کیلئے انکے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارنے پڑے۔ جلاد کا کہنا ہے کہ اس نے  پوری زندگی میں سزائے موت پانے والے فرد کو ایسا پرسکون نہیں دیکھا۔ انکی موت کے بیس سال بعد ایک آئینی عدالت نے جناب میندریس کی پھانسی کو وحشیانہ قتل قرار دیا اور انھیں جدید ترکی کا معمار قرار دیتے ہوئے انکے لئے عظیم الشان مقبرہ تعمیر کیا گیا انکے دونوں سزا یافتہ ساتھی بھی اسی مقبرے میں انکے ساتھ آسودہِ خاک ہیں۔  انکی آبائی شہر  ازمیر کے ھوائی اڈے اور مرکزی جامعہ کو بھی جناب میندریس کے نام سے موسوم کیا گیا۔ ؏ کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ۔


Thursday, September 14, 2023

ایران سعودی، سعودی شام اور ترک ایران قربت ایک نئے اتحادِ ثلاثہ کی بازگشت

 

ایران سعودی، سعودی شام اور ترک ایران قربت

ایک نئے اتحادِ ثلاثہ کی بازگشت

مشرق وسطیٰ میں نئی صف بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار3 ستمبر کو تہران میں اپنے ترک ہم منصب سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ جناب حسین امیرعبداللہیان نے اعلان کیا کہ ایران، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ سہ فریقی اقتصادی اجلاس کے انعقاد پر کام کر رہا ہے۔ مجوزہ اتحاد ثلاثہ کے پس منظر پر چند سطور۔

مارچ میں ایران اور سعودی عرب نے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا جسکے لئے چین کی ثالثی میں کافی عرصے سے مذاکرات جاری تھے۔ مشرق وسطٰی کی سیاست پر نظر رکھے والے ماہرین ابتدا ہی سے تہران ریاض مفاہمت کو رفاقتِ عرب و عجم  قراردے رہے تھے۔ سفارتی حلقوں کا خیال تھا کہ اگر سعودی و ایرانی قیادت نے شاہراہ دوستی کی راہ میں بچھی فرقہ پرستی کی بارودی سرنگوں سے دامن بچالیا تو یہ مفاہمت اہل و شام و یمن کیلئے  بھی امن و استحکام کا سبب بنے گی۔ حسب توقع کچھ ہی دن  بعد شام و سعودی عرب نے سفارتی تعلقات دوبارہ قائم کرلئے اور عرب لیگ میں شام کی رکنیت بحال کردی گئی۔ اسی کیساتھ بمباری کے عذاب میں مبتلا مظلوم یمنیوں کو بھی راحت محسوس ہوئی اور برسوں بعد وہاں عید الفطر و عید الاضحیٰ روائتی جوش و خروش سے منائی گئی۔

مشرق وسطیٰ میں ترکیہ کا بھی بڑا اہم کردار ہے۔ جب متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے قطرسے تعلقات توڑ کر اس ننھی سی خلیجی ریاست کی ناکہ بندی کردی تو ترکیہ قطر کی مدد کو آیا، نتیجے کے طور پر انقرہ کے ریاض و ابوظہبی سے تعلقات سخت کشیدہ ہوگئے۔ لیبیا میں حفتر دہشت گردوں کے مقابلے میں وفاقی حکومت کی ترک پشت پناہی سے تعلقات میں مزیدکشیدگی آئی۔ امریکی سی آئی اے کا خیال ہے کہ لیبیا کے عبوری وزیراعظم عبدالحميد محمد الدبيبہ اخوانی فکر سے وابستہ ہیں۔ یک نہ شد دو شد کہ جلد ہی اخوان المسلمون کی حامی انصاف و تعمیر پارٹی (JCP)کے قائد خالد المصری عبوری کونسل کے سربراہ مقرر کردئے گئے۔

عبوری کونسل اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے ملک گیر مذاکرات کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے اسلئے کونسل کی کھل کر مخالفت تو نہ کی جاسکی لیکن اسرائیل، مصر، فرانس ، امریکہ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب،  حفتر ملیشیا کو درپردہ مدد فراہم کرتے رہے۔ متفقہ حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے روسی کی  ویگنر ملیشیا کو بھی میدان میں اتارا گیا جنکے اخراجات خلیجی ممالک نے بردا شت کئے۔ اسکے مقابلے میں ترکیہ وفاقی حکومت کی  پشت پر آکھڑا ہوا اور اسکے تباہ کن ڈرونوں نے حفتر ملیشیا کو بھاری نقصان پہنچایا۔

مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مورسی کے خلاف جولائی 2013 کے شب خون پر جناب طیب ایردوان  کا ردعمل انتہائی شدیدتھا اور اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے ترکیہ نےمصر سے سفارتی تعلقات عملاً توڑ لئے ۔ مورسی حکومت کےخلاف کاروائی میں جنرل السیسی کو یورپی یونین اور امریکہ کیساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مکمل حمائت حاصل تھی۔ان دونوں ممالک نے بھی اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ اسکے باوجود طیب ایردوان مصری اخوانیوں کی اصولی حمائت پر ڈٹے رہے، چنانچہ ترکیہ کے مصر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عر ب سے تعلقات میں مزید خرابی آگئی ۔

دہشت گرد تنظیم کردش ورکزپارٹی (PKK)کے عسکری دھڑے YPG کی سرگرمیوں پر شام اور ترکیہ میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ وائی پی جی اور اسکی خواتین شاخ YPJکو داعش کی سرکوبی کیلئے اتارا گیا تھا چنانچہ جلد ہی ان دہشت گردوں کو امریکی حمائت یافتہ قوات سوريا الد يمقراطیہ یا سِرین ڈیموکریٹک فورس (SDF)میں ضم کرکے جدید ترین اسلحے سے لیس کردیا گیا۔ داعش کے خلاف کاروائی میں صدر بشار الاسد کی وفادار شامی فوج، امریکہ کی حمائت یافتہ SDFکی اتحادی ہے اور YPG امریکہ نواز مشترکہ فوج کا حصہ۔ دوسری طرف ایران بھی بشارالاسد کی حمائت کررہاہے۔

داعش کیخلاف کاروائی تک تو معاملہ ٹھیک رہا لیکن کردش ورکرز پارٹی کی ہدائت پر YPGنے شمال اور شمال مشرقی شام سے ترک فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ شمال مغرب میں قمشلی کے مقام سے بھی ترک فوج پر حملوں کی اطلاعات ملیں۔ ترک عسکری ذرایع کا کہنا ہے کہ قمشلی پر حملے کیلئے YPG کو عراق سے کمک آئی تھی۔ اب ایران کیلئے ترکیہ اسکے دوست شام کادشمن تھا اور ا نقرہ نے تہران کو اپنے دشمن YPGکا دوست گردانا۔

سعودی، ایران اور شام کشیدگی میں کمی آنے پر شمالی شام میں عسکری سرگرمیاں سرد پڑیں اور ترک سرحد پر دراندازی کا سلسلہ رک گیا۔ مفاہمت کا سلسلہ کو وسعت دیتے ہوئے ترکیہ نے ایران سے تعلقات بہتر بنالئے جنکا پہلےبھی کوئی براہ راست تصادم نہ تھا بلکہ ترکیہ کی طرح  ایران کو بھی PKKدہشت گردی کا سامنا ہے۔ جناب ایردوان نے مصر سے بھی بات چیت کا سلسلہ شروع کیا اور جولائی میں ان دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوگئے۔ ترکیہ نے اب تک اخوان کے بارے میں اپنے موقف سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے نہ تعلقات بحال کرنے کیلئے مصر نے ایسی کوئی شرط عائد کی۔ تاہم بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اخوان سے محبت پر وطن کا مفاد غالب آگیا۔ دوسری طرف اسلامی تحریک سے دیرینہ وابستگی اور مقصد سے جناب ایردان کے اخلاص پر شبہہ بھی مناسب نہیں۔

اب آتے ہیں مجوزہ ترک ، ایران اور سعودی اقتصادی اتحاد کی طرف

ستمبر کے پہلے ہفتے ترک وزیرخارجہ حاکن فدان (Hakan Fidan) ایران کے دورے پر آئے۔ تہران آمد پر انکی غیر معمولی آوبھگت اور ایرانی میزبان حسین امیرعبداللہیان کے پرجوش انداز سے اسرائیل پریشان اور امریکہ اندیشہ ہائےدوردراز میں مبتلا ہوگیا۔ گرمجو شی کے ایسے ہی مناطر سعودی وزیرخاجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے دورہ ایران پر نظر آئے تھے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے ایرانی و سعودی اہلکاروں کے مابین مختلف سطح پر بات چیت جاری ہے اور دفاع سمیت کئی شعبوں میں باہمی تعاون کے راستے تلاش کئے جارہے ہیں۔اسی نوعیت کی بات چیت ترکی اور ایران کے درمیان بھی چل رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے سیاسی افق پر نظر آنے والی یہ پیش رفت امن عالم اور علاقے کے عوام کیلئے تو یقیناً امید افزا ہیں لیکن 'لڑاو اور قبضہ برقرار رکھو' کے اصول پر کاربندقوتوں کیلئے دوستی و ہم آہنگی کے سندیسے تشویشناک ہیں۔

ایران، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان پس پردہ سرگوشیوں اور ملاقانوں پر امریکہ اور اسرائیلی وزارت خارجہ نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگست کے اغاز سے ایران، سعودی عرب اور ترکیہ اتحاد کا 'خدشہ' ظاہر کیا جارہا تھا۔عرب و عجم سیاست پر نظر رکھنے والے غیرجانب دار سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ تینوں ممالک اب یہ تو سمجھ چکے ہیں کہ 'خردمندو! خرد مندی نہیں باہم دِگر لڑنا' لیکن دیرپا اتحاد میں ابھی وقت لگے گا۔

مشرق وسطیٰ کے سیاسی پنڈت علاقائی سیاست کی نئی صورت گری پر تجزئے، تبصرے اور تحفظات سے مزین محتاط پیشن گوئیوں میں مصروف تھے کہ جناب حسین امیرعبداللہیان نے تہران میں سعودی، ترک اور ایران کے سہ فریقی اقتصادی اجلاس کا ذکر کردیا جو سفارتی ماہرین کے خیال میں ایک 'ڈھیلے ڈھالے'اتحاد کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔

اسی مشترکہ پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے ترک وزیرخارجہ نے کہا کہ حالیہ ملاقات میں ترکیہ و ایران کے درمیان تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر بات ہوئی۔ اسرائیل و امریکہ کے دفاعی ماہرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ تہران و انقرہ ڈرون ٹیکنالوجی پر مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ روس یوکرین جنگ میں ایرانی و ترک ڈرون اہم بلکہ کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ روسی فضائیہ یوکرینی تنصیبات پر حملوں کیلئے ایران کے شاہد ڈرون استعمال کررہی ہے جبکہ یوکرین نے ترک ساختہ Bayraktar TB2ڈرون سے روس کو خاصہ نقصان پہنچایا ہے۔ ترک ڈرونوں نے آذربائیجان کی جانب سے نگورنوکارباخ جنگ میں آرمینیا پر فیصلہ کن ضرب لگائی تھی۔

ایران ترک قربت کا انکشاف فیس بک کی مالک میٹا کمپنی Meta نے بھی کیا ہے، حال ہی میں میٹا نے نے ایران اور ترکی کے کئی نیٹ ورکس کی ایسی سرگرمیوں کی نشاندہی کی ہے جنھیں مربوط غیر مستند طرز عمل یا Coordinated Inauthentic Behavior(CIB)کہا جاتا ہے، یعنی ایسی ویب سائٹس یا صفحات (Pages) جنھیں حکومتی کہانیاں پھیلانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ میٹا کا کہنا ہے کہ کمپنی نے 'مربوط غیر مستند رویے کی بنا پر (ترکیہ اور ایران کے) 22 فیس بک اکاؤنٹس، 21 صٖفحات) اور انستا گرام کے 7 اکاؤنٹس کو حذف کردیا ہے۔

مجوزہ سہ فریقی اتحاد تادم تحریر ابھی نشستند و گفتند کے مرحلے تک بھی نہیں آیا اسلئے اسکے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا لیکن ترکیہ، سعودی عرب اور ایران تینوں نے تصادم و مزاحمت کے بجائے تعاون و مفاہمت کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔ سہ فریقی اقتصادی اتحاد کی وسط ایشیا تک وسعت بھی خارج از امکا ن نہیں کہ یہاں اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) پہلے سے موجودہے۔ پاکستان، ایران اور ترکی سمیت وسط ایشیا کے دس ممالک پر مشتمل  یہ تنظیم 1964 میں قائم ہونے والے علاقائی تعاون برائے ترقی (RCD)کا تسلسل ہے۔روس اور چین بھی اس اقتصادی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں۔

 جی 20 کی دلی سربراہی کانفرنس میں امریکہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اورہندوستان نے مشرقی ایشیا کو مشرق وسطیٰ کے راستے یورپ سے ملانے کیلئے  بحری وبری راہداری کی تعمیر کے لئے مفاہمت ایک یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ اس اعلان کے بعد علاقے سے چین کی دلچسپی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ مشرقی ایشیا یورپ راہداری دراصل چین کے Belt & Road Initiative (BRI) کا جواب ہے۔ اس سلسلہ میں کاشغر تا گوادر  چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC)منصوبہ معمولی رکاوٹوں کے باوجود جزوی تکمیل کا ہدف حاصل کرچکا ہے۔ مشرقی ایشیا یورپ راہداری میں قباحت یہ ہے کہ بھارت کی اسکے مشرقی پڑوسی سے غیر معمولی کشیدگی کی بنا پر زمینی راستہ اختیار کرناممکن نہیں لہٰذا یہ شاہراہ بحری راستے سے ہندوستان کو سعودی عرب سے ملائے گی جبکہ سی پیک کو توسیع دیکر  ایران و عراق سے ہوتے ہوئے ریل اور زمینی شاہراہ کے ذریعے  سعودی عرب پہنچا جاسکتا ہے۔

 

ترکیہ، سعودی عرب، ایران اتحاد یا مفاہمت، امریکہ و اسرائیل کے لئے شائد اچھی خبر نہ ہو لیکن غیر ضروری کشیدگی ختم ہوجانے کی صورت میں اس سے علاقے کے عوام کو بہت فائدہ پینچے گا۔ حالات کا جائزہ لینے اور سعودی عرب کااعتماد بحال کرنے کیلئے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کیلئے صدربائیڈن کے خصوصی ایلچی بیرٹ مک گرک Brett McGurkبہت جلد سعودی عرب آرہے ہیں،

 ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 15 ستمبر 2023

ہفت روزہ دعوت دہلی 15 ستمبر 2023

روزنامہ امت کراچی 15 ستمبر 2023

ہفت روزہ رہبر سرینگر 17 ستنبر 2023

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


Thursday, September 7, 2023

اسرائیل سے تعلقات ۔۔۔ مسلم ممالک کے قائدین اور عوام کی سمت مختلف

 

اسرائیل سے تعلقات ۔۔۔ مسلم ممالک کے قائدین اور عوام کی سمت مختلف

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار!!

اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات پر لیبیا کی وزیر خارجہ  ڈاکٹر نجلاء محمد المنقوش  معطل کر دی گئیں۔ 27 اگست کو  وزیرخارجہ ایلی کوہن نے  سماجی ابلاغِ عامہ پر المنقوش صاحبہ سے اٹلی میں ملاقات کا انکشاف کیا تھا۔ ایلی کوہن  نے ملاقات کو "تاریخی" اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی تشکیل میں "پہلا قدم" قرار دیا ۔ گفتگو کے دوران لیبیا میں عبرانی نوادرات  اور مذہبی اہمیت کے مقامات کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیاگیا۔روم میں ہونے والی اس ملاقات کا اہتمام اطالوی وزیرخارجہ انتونیو تیجانی (Ontonio Tajani) نے کیا تھا، ستر برس کے قدامت پسند تیجانی ا اہم اتحادی ہونے کے ناطے  وزیراعظم  جارجیا میلونی کے بہت قریب ہیں۔

اس خبر پر لیبیا میں سخت اشتعال پھیلا اور وزیراعظم عبدالحميد محمد الدبيبہ نے وزیر خارجہ کو معطل کرکے تحقیقات کا حکم دے دیا۔نجلا صاحبہ نے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی تقریب میں سرِ راہ سلام کلام کو جناب کوہن نے ملاقات سمجھ کر بیان جاری کردیا۔ کہا جارہا ہے کہ نجلا منقوش فرار ہوکر ترکیہ چلی گئی ہیں۔

اسلامی دنیا خاص طور سے عرب  ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرانے کی مہم کا آغاز 2020میں ہوا جب سابق صدر ترمپ کو صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے مزاحمت کا سامنا تھا۔ دوسال پہلے ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس  (پارلیمان ) پر سے انکی برتری ختم ہوچکی تھی  اور رائے عامہ کے اکثر جائزوں میں  ڈیموکریٹک کا پلہ بھاری نظر آرہا تھا۔

امریکی انتخابات میں اسرائیلی ترغیب کاروں (Lobbyists)کا کردار بہت اہم بلکہ کسی حد تک فیصلہ کن ہوتا ہے، چنانچہ اسرائیل کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے صدر ٹرمپ نے عرب و مسلم اکثریتی ممالک پر زور دیا کہ وہ صیہونی ریاست کو تسلیم کرلیں۔ دامادِ اول جیررڈ کشنر اس مہم کے روحِ رواں  تھے۔ ملاقاتوں اور مشورے کے بعد  28 جنوری 2020 کو 181 صفحات پر مشتمل دستاویز جاری ہوئی جس میں  اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کی ضمانت دی گئی تھی۔ ساتھ ہی اعدادوشمار سے ثابت کیا گیا امن کے بعد غربِ اردن اور غزہ میں جس پیمانے پر سرمایہ کاری ہوگی اسکے نتیجے میں  سارا فلسطین، دورِ حضرت داودؑ و سلیمانؑ کی طرح فردوس بر روئے زمیں کی شکل اختیار کر لے گا۔ جناب ٹرمپ نے  اپنے دامادکی اس تصنیف کو 'ڈیل آف دی سنچری' قراردیا۔

تاہم مجوزہ معاہدے کے تجزئے سے پتہ چلا کہ  اسکے تحت سربراہِ فلسطین کے اختیارات مقبوضہ فلسطینی علاقے کے کسی رئیسِ شہر (Mayor)سے بھی کم ہونگے۔ ستم ظریفی کہ  اس 'عظیم الشان' دستاویز کی تدوین میں فلسطینیوں کو شریک مشورہ  کرنا تو دور کی بات اعلان سے پہلے انھیں اعتماد میں بھی نہیں لیا گیا۔توقع کے عین مطابق  فلسطینیوں نے تجویز مسترد کردی۔ مقتدرہ فلسطین (PA)کے سربراہ محمود عباس کا کہنا تھا کہ تجویز پر غور تو دور کی بات وہ متعفن  کچرے کے اس ڈھیر کو ردی کی ٹوکری میں بھی جگہ دینے کو تیار نہیں۔

فلسطینیوں کے اس صاف انکار پر جیرارڈ کشنر نے عرب و اسرائیل امن معاہدے سے فلسطینیوں کو الگ کردینے کی مہم شروع کی جسے معاہدہ ابراہیمؑ کا نام دیا گیا یعنی حضرت ابراہیمؑ سے منسوب تینوں مذاہب کے ماننے والوں کا عہدِ امن۔ یہ مہم کامیاب رہی اور سب سے پہلے متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا جسکے کچھ ہی دن بعد بحرین نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کردیا۔اس معاہدے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان  میں فلسطینی ریاست یا اسرائیل فلسطین تنازعے کے حل کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئےصدر ٹرمپ کی موجودگی میں امریکہ کے داماد اول نے کہا کہ معاہدہ ابراہیمؑ کے بعد عرب و مسلم ممالک فلسطینی ترجیحات سے بالاتر ہوکر اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کررہے ہیں۔ گویا جیررڈ کشنرنے عرب اسرائیل تعلقات کے گلے میں پھنسی فلسطین کی ہڈی کو بہت خوبصورتی سے باہر نکال دیا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (MBS)سے تفصیلی ملاقاتوں کے نتیجے میں جیررڈ کشنر پُراعتماد تھے کہ جلد ہی سعودی عرب، کوئت، عُمان اور قطر بھی اسرائیل کو تسلیم کرلینگے۔نجی گفتگو میں داماد اول نے  الجز ائر، تیونس، لیبیا اور سوڈان کی جانب سے بھی مثبت اشاروں کا ذکر کیا۔ غیر عرب ممالک میں انڈونیشیا، بنگلہ دیش،  ملائیشیا اور پاکستان پر ڈورے ڈالے گئے۔ واشنگٹن کے صحافتی و سفارتی ذرایع کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں  پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کا جواب بڑا دوٹوک تھا جنھوں نے پیغام رسانوں سے دامادجی  کو جوابی سندیسہ بھجوایا کہ  فلسطینیوں سے  بانی پاکستان محمد علی جناح نے جو وعدہ کیا تھا ، انکی حکومت  اس عہد سے روگردانی کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ مفتی اعظم فلسطین  حضرت امین الحسینی  (ر)کے نام پیغام میں  قائد اعظم نے کہا تھاکہ جب تک  فلسطینیوں کی امنگوں کے مطابق  انکی  ایک ایسی آزاد و خودمختار ریابیت قائم نہیں ہوجاتی جسکا دارالحکومت القدس شریف ہو، پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسوقت سے  پاکستانی پاسپورٹ پر درج  ہے کہ 'یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سواتمام ممالک کیلئے معتبر ہے'   

اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے معاملے میں سعودی عرب کا رویہ امریکیوں کیلئے 'مبہم' ہے۔ جیرڈ کشنر اور امریکی وزیرخارجہ کی کئی ملاقاتوں اور صدر ٹرمپ کی سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کے باوجود ریاض تل ابیب سے سفارتی تعلقات قائم کرنے پر تیار نہیں۔ اسرائیلی اخبار الارض (Haaretz)  کے مطابق سعودہ ولی عہد کے قریبی دوست و معروف سرمایہ کار و فلمسازجناب حائم شعبان نےانکشاف کیا کہ MBS اسرائیل کو تسلیم کرنے سے سخت خوفزدہ  ہیں۔ 76 سالہ مصری نژاد امریکی،  حائم شعبان راسخ العقیدہ یہودی ہیں۔ انھوں نے  اکتوبر 2020 میں جو بائیڈن کے ایک انتخابی جلسے سے مجازی (Virtual)خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ان سے گفتگو میں MBS نے خطرہ ظاہر کیا تھا کہ اگر سعودی عرب نے  اسرائیل کے تسلیم کیا تو ایرانی و قطری ایجنٹ بلکہ شائد سعودی ہی اپنے ولی عہد کو قتل کردیں۔

اسی کیساتھ افریقی عرب دنیا میں اسرائیل کیلئے نئے دوستوں کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ سوڈان، مراکش اور لیبیا نرم چارہ محسوس ہوئے کہ یہ تینوں ممالک شدید مالی و سیاسی بحران کا شکار ہیں۔ مراکش نے  دسمبر 2020 اور سوڈان نے جنوری 2021کو اسرائیل سے معمول کے سفارتی تعلقات بحال یا normalizeکرلئے۔ انعام کے طور پر سوڈان کے ماتھے سے 'دہشت گرد' کا ٹیکہ صاف کردینےکیساتھ متنازعہ مغربی صحارا پر مراکش کا قبضہ تسلیم کرلیا گیا۔ اقوام متحدہ نے 1991 میں فیصلہ کیا تھا کہ مغربی صحارا کی قسمت کا فیصلہ شفاف استصوابِ رائے سے ہوگا لیکن قرارداد کشمیر کی طرح قرارداد مغربی صحارا پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔

لیبیا اور اسرائیل کے درمیان  بات چیت کئی سال  سے جاری ہے۔ حفتر ملیشیا اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی کا بھی اسرائیل بھرپور فائدہ اٹھارہاہے۔ وفاقی حکومت کو دباو میں رکھنے  کیلئے اسرائیل نے حفتر ملیشیا سے رابطوں کا آغاز کیا۔

  • نومبر 2021 میں  جنگجو رہنما خلیفہ حفتر کے صاحبزادے صدام حفتر کا نجی طیارہ  تل ابیب کے بن گوریان ائر پورٹ پر اترتے دیکھا گیا۔مزید تفصیلات کے مطابق اس ملاقات میں اسرائیل نے مبینہ طور پر حفتر ملیشیا کو اسلحہ دینے کا وعدہ کیا۔ حوالہ الارض Haaretz
  • جنوری 2022 میں  وزیراعظم عبدالحميد محمد الدبيبہ نے اردن میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنے (David Bernea)سے ملاقات کی جسکا اہتمام اردنی وزارت خارجہ نے کیا تھا۔ جناب الدبيبہ  نے ملاقات کی تردید کی ہے۔ حوالہ المونیتور Al-Monitor
  • لیبیائی وزارت خارجہ کے حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر المونیتور کو بتایا کہ اسرائیل اور لیبیا کے درمیان بات چیت کیلئے امریکی حکومت سہولت کاری فراہم کررہی ہے۔
  • اس سال جنوری میں امریکی سی آےئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنس نے طرابلس میں لیبیا کے وزیرازعظم سے ملاقات کی جس میں اسرائیل لیبیا normalizationکی تفصیلات طئے کی گئیں۔ حوالہ: ایسوسی ایٹیڈ پریس

حالیہ ملاقات کے بارے میں لیبیا کے حکام نے حد درجہ رازداری کا مظاہرہ کیا لیکن بقول اسرائیلی قائدِ حزبِ اختلاف ییر لیپڈ، 'شیخی بھگارنے کے ہونکے میں اسرائیلی وزیرخارجہ نے اپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی ماردی'۔ ییر لیپڈ کا کہنا ہے  کہ جناب کوہن کے بچگانہ روئے نے اسرائیل اور وزیرخارجہ منقوش کو دنیا کے سامنے شرمندہ کردیا۔

اسرائیلی وزیرخارجہ کے انکشاف پر چچا سام بھی سخت ناراض ہیں۔ عبرانی چینل 13 کے مطابق اسرائیل میں امریکہ کی قائم مقام سفیر محترمہ اسٹیفنی ہلیلٹ Stephanie Hallett نے ایلن کوہن تک امریکی وزارت خارجہ کا پیغام پہنچایا جس میں کہا گیا کہ ابتدائی ملاقات کی خبر جاری کرکے اسرائیل نے لیبیا سے ملاقات کے تمام غیر رسمی راستے بند کردئے ہیں۔

لیبیا میں عام لوگ اس خبر پر سخت مشتعل ہیں۔فلسطینی پرچم لہراتے ہزاروں افراد نے طرابلس میں وزارت خارجہ اور ایوان وزیراعظم پر مظاہرہ کیا اور اسرائیلی پرچم جلائے۔ مظاہرین اس بات پر سخت مشتعل تھے کہ زیر تفتیش و تحقیق وزیرخارجہ کو ملک سے جانے کی اجازت کیوں دی گئی۔لیبیا کی برسراَقتدار عبوری کونسل کے سربراہ اور اخوانی فکر سے وابستہ انصاف و تعمیر پارٹی (JCP)کے قائد خالد المصری نے کہا کہ اس ملاقات سے حکومت نے ممنوعہ سرخ لکیر عبور کرلی ہے۔

عوام کا غصہ کم کرنے کیلئے لیبیا کے وزیراعظم نے قوم سے خصوصی خطاب کیا جس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تردید کرتے ہوئے انھوں نے عوام کو یقین دلایاکہ "ہم اسرائیل کیساتھ کسی بھی قسم کے نارملائزیشن کو مسترد کرنے کا اعادہ کرتے ہیں۔بدقسمتی سے حکومت میں شامل 'ایک فرد' نے آزادانہ طور پر  یہ کام کیا' ۔اس موقع پر انھوں نے  لیبیا زندہ باد، فلسطین زندہ باد اور فلسطین کاز  زندہ باد کے نعرے لگائے۔

لیبیا میں شدید ردعمل کا اثر دوسرے عرنب ملکوں میں بھی محسوس کیا جارہا ہے۔ تیونس کے صدر قیس سعید نے  سربیا، ایران، عراق اور ترکیہ کیلئے تیونسی سفرا کو اسنادِ سفارت عطا کرنے کی تقریب میں تقریر کرتے  ہوئے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل سے پہلے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے امکان کا مسترد کردیا۔انھوں  نے اپنے سفارت کاروں سے کہا کہ 'بطور سفیر اپنا فرض ادا کرتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کو کبھی نہ بھولیں، جو "تمام اقوام کا مرکزی مسئلہ" ہے۔ جناب قیس نے یروشلم کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے، فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی اور 'نہر تا بحر' خودمختار فلسطین کی وکالت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے لئے "نارملائزیشن" کا لفظ ہماری کتابوں میں موجود نہیں۔

لیبیائی عوام کے غیر معمولی ردعمل سے سعودی عرب میں بھی بیچینی ہے جہاں مبینہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 8 ستمبر 2023

ہفت روزہ دعوت دہلی 8 ستمبر 2023

روزنامہ امت کراچی 8 ستمبر 2023

ہفت روزہ رہبر سرینگر 10 ستمبر 2023

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


7 ستمبر یوم فضائیہ کے موقع پر سدا بہار ہیرو کا ذکر

 

7 ستمبر  یوم   فضائیہ  کے موقع پر سدا بہار ہیرو کا ذکر

 یہ ہیں ائر کموڈور ایم ایم عالم جنکا نام سن کر ہی ہندوستانی فضائیہ کے پائلٹ تھرا جایا کرتے تھے۔فضا میں دشمن کو جھلسا کر ہلاک کرنے والا اقبال کا یہ شاہین اہل خانہ اور دوستوں کی مجلس میں ریشم سے بھی زیادہ نرم تھا۔ ایم ایم عالم کا ددھیال کلکتہ سے تھا جبکہ نانی صاحبہ پٹنہ کی بہاری تھیں۔ انکی پیدائش کلکتہ میں ہوئی اور تقسیم پاکستان کے وقت ایم ایم عالم کے والدین ڈھاکہ آگئے۔ ایم ایم عالم تعلیم مکمل کرتے ہی پاک فضائیہ سے وابستہ ہوگئے۔ پاک بھارت جنگ کے دوران ایم ایم عالم کو بین الاقوامی شہرت نصیب ہوئی جب انھوں نے امرتسر کی فضائی حدود میں صرف ایک منٹ کے دوران ہندوستان کے پانچ طیارے مارگرائے جن میں سے چار جہاز تیس سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں پیوند خاک ہوئے۔ جنگ کے دوران ایم ایم عالم نے نو جہازوں کو تباہ کیا جو دنیا میں ایک ریکارڈ ہے۔

 بے داغ شباب کے مالک اس نوجوان کی ضرب ایسی کاری تھی کہ تباہ ہونے والے سات جہازوں میں سے صرف ایک طیارے کے پائلٹ کو پیراشوٹ کھولنے کی مہلت مل سکی لیکن زمین پر اترتے ہی اسکواڈرن لیڈر اونکر ناتھ کو پاکستانی فوج نے جنگی قیدی بنالیا۔ فضا کا یہ شہسوار عملاً فقیر تھا۔ والدین کی تنگدستی کے باعث نو بھائی بہنوں کی کفالت انکے کاندھوں پر تھی۔اس وقت تک ہمارے فوجی افسروں نےکروڑ کمانڈر بن نے کا ہنر نہ سیکھا تھا چنانچہ ایم ایم عالم نےبھائی بہنوں کی تعلیم و تربیت اور گھریلو اخراجات کیلئے اپنی زندگی کی ہر خوشی قربان کردی اور ساری عمر اپناگھر نہ آباد کرسکے۔ یہ اسی بے لوث قربانی کا ثمر ہے کہ آج انکے ایک بھائی امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں معاشیات کے محقق جبکہ دوسرے بھائی ڈاکٹرسجاد عالم ایک عالمی شہرت یافتہ ماہر طبیعات ہیں۔ایم ایم عالم 18 مارچ 2013 کو پاک بحریہ کے ہسپتال پی این ایس شفا میں انتقال کرگئے۔ اسوقت انکی عمر 77 سال تھی۔ ملک کا یہ سپاہی مسرور بیس کے قبرستان میں آسودہ خاک ہے

اب آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں


 

Friday, September 1, 2023

امریکہ میں امیدواروں کے درمیا ن مباحثے سے 2024 کی انتخابی مہم کا آغاز

 

امریکہ میں امیدواروں کے درمیا ن مباحثے سے 2024 کی انتخابی مہم کا آغاز

بدھ 23 اگست کو ریپبلکن پارٹی کی ٹکٹ کے خواہشمندوں کے درمیان مباحثے سے 2024 کی انتخابی مہم کا آغاز ہوگیا۔ امریکہ میں عام انتخابات کیلئے تاریخیں نہیں دی جاتیں بلکہ صدارتی انتخابات  چار پر تقسیم ہونے والے سال  کے نومبر میں پہلے پیر کے بعد آنے والے منگل کو ہوتے ہیں۔ چانچہ اس بار صدارتی انتخابات 5 نومبر 2024 کو ہونگے۔ ایک اور اہم بات کہ امریکہ میں کوئی مرکزی الیکشن کمیشن نہیں اور انتخابات کا انتظام و انصرام ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔

پانچ نومبر کو  ایوانِ نمائندگان  (قومی اسمبلی) کی جملہ 435نشستوں کیلئے بھی ووٹ ڈالے جائنگے، سینیٹ کی 33 نشستوں، 11امریکی ریاستوں  کے علاوہ  دو امریکی کالونیوں، سمووا Samoaاور پورتو ریگو کے گورنروں کا چناو بھی اسی  دن ہوگا۔ یہاں صدر کی مدتِ چار سال ہے جبکہ ایوان نمائندگان  کے ارکان 2 برس اور ارکانِ سینیٹ   6 سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں۔

 جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں امریکہ میں امیدواروں کو  ٹکٹ کا اجرا پارٹیوں کے پارلیمانی بورڈ سے نہیں ہوتا بلکہ نامزدگی کیلئے پارٹیوں کے پرائمری انتخابات منعقد ہوتے ہیں یعنی امیدواروں کو ٹکٹ  کیلئےعام انتخابات کی  طرح باہم  مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ پرائمری انتخابات میں عام لوگ ووٹ ڈالتے ہیں اور پارٹی رکنیت کیلئے ووٹ رجسٹر کراتے وقت جماعتی وابستگی ظاہر کرنابہت کافی ہے۔ بعض ریاستوں میں تو یہ تکلف بھی غیر ضروری ہے۔پرائمری کے روز پولنگ اسٹیشن جاکر آپ کسی بھی پارٹی کا بیلٹ حاصل کرسکتے ہیں۔

اس وقت پارٹی ٹکٹ کیلئے مقابلہ درپیش ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی میں صدر بائیڈن کے مقابلے میں آنجہائی سییٹر رابرٹ کنیڈی کے صاحبزادے اور صدر جان ایف کینیڈی کے بھتیجے  رابرٹ کینیڈی جونئیر کے علاوہ ایک دانشور محترمہ میرین ولیمسن نے پارٹی ٹکٹ کی خواہش ظاہر کی ہے لیکن فی الحال ایسا لگ رہا ہے کہ جناب بائیڈن کو نامزدگی میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا ُڑیگا۔

ریپبلکن پارٹی کے ٹکٹ کیلئے سابق صدر ٹر مپ سمیت 16 امیدوار میدان میں ہیں۔  بدھ کے مباحثے  کیلئے اُن  9 امیدواروں کو  دعوت دی گئی تھی  جنکے انتخابی فنڈ میں امریکی شہریوں نے کم ازکم 40 ہزار ڈالر کے عطیات دئے ہیں  اور رائے عامہ کے جائزوں میں کم از کم ایک  فیصڈ ووٹروں نے انکی حٓمائت کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔سابق صدر ٹرمپ نے مبا حثے سے معذرت کرلی تھی۔ جناب ٹرمپ نے موقف اختیار کیا کہ امریکی عوام  نہ صرف انھیں اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ وہ انکی کارکردگی بھی دیکھ چکے ہیں اور سب سے اہم بات کہ  انکے پاس  'غیر اہم' لوگوں سے مباحثہ کرنی فرصت نہیں۔ دوسرے دن  صدر ٹرمپ کی  ریاست جارجیا کی عدالت میں پیشی تھی۔ جہا ں ا ن پر  2020 کے انتخابی نتائج تبدیل کرنے کی سازش اور  متعلقہ افسروں کو ڈرانے دھمکانے کے 13 الزامات پر مشتمل فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی کی عظیم الشان رونالڈ ریگن لائبریری میں ہونے والے مباحثے اہتمام فاکس FOXٹیلی ویژن نے کیا تھا جس میں فلورڈا کے گورنر ران ڈی سینٹس (Rob DeSantis)، سابق نائب صدر مائک پینس، جنوبی کیرولینا کی سابق گورنر نمرتا نکی رندھاوا المعروف نکی ہیلی، جنوبی کیرولینیا کے سیاہ فام سینیٹر ٹِم اسکاٹ، ریاست نیوجرسی کے سابق گورنر کرس کرسٹی (Chris Christie)، شمالی ڈکوٹا کے گورنر ڈَگ برگم (Doug Burgum)، ریاست آرکنسا کے سابق گورنر اسا ہچنسن (Asa Hutchinson) کے  علاوہ مشہور کاروباری شخصیت ووک راما سوامی نے شرکت کی۔ گویا اسٹیج پر ایک خاتون، دوہندنژاد، تین رنگدار، دو گورنر، تین سابق گورنر اور ایک نائب صدر کھڑٖے تھے۔

حسبِ روائت  تمام امیدواروں نے گفتگو کا آغاز لطیف فقروں سے کیا۔ نکی ہیلی نے سابق برطانوی وزیر اعظم محترمہ مارگریٹ تھیچر کا یہ جملہ دہرایا کہ   زبانی جمع خرچ  مطلوب ہے تو مرد کو لاو،  لیکن اگر ٹھوس کام چاہئے تو  خاتون  کو آگے بڑھاو

سیاست میں نووارد ووک راماسوامی نے کہا 'آپ  جاننا چاہتے ہونگے کہ  سینئر سیاست دانوں کے جھرمٹ میں یہ دبلا، سانولا سا نوجوان کون ہے تو سنیں کہ میرے والدین  جب کیرالہ سے امریکہ آئے تو انکی جیب خالی تھی اور آج انکا بیٹا اربوں ڈالر کا کاروبار کررہاہے۔ ایسا امریکہ ہی میں ممکن ہے، یہ ہے امریکی خواب کی حسین تعبیر۔ اسکے بعد انھوں نے اپنے  دس نکاتی 'سیاسی عقیدے' (10 commandments)  کا اعلان کیا۔

خدا ایک حقیقت ہے، انسانوں کی صرف دوجنسیں ہیں،  انسانی  نشوونما کیلئے تیل اور گیس ضروری ہے ،  جوابی نسل پرستی  بھی نسل پرستی کی ایک شکل  ہے، کھلی سرحد کوئی سرحد نہیں،  بچوں کی تعلیم کا تعین والدین کی ذمہ داری ہے، خاندان کی بنیادی اکائی مرکزیت ہے، سرمایہ داارنہ نظام ہی غربت سے نجات کا راستہ ہے اور امریکی حکومت کی صرف تین شاخیں ہیں۔ ان نکات کے تجزئے کی ضرورت نہیں کہ 38 سالہ ووک  راماسوامی نے بہت واضح اور دوٹوک انداز میں اپنا  قدامت پسند نظریاتی ایجنڈا پیش کردیا

گورنر ڈگ برگم نے کہا میرا تعلق جس شہر سے ہے اسکی کل آبادی 300 سے بھی کم ہے اسلئے آج اتنے بڑے اسٹیج پر جہاں ابلاغ عامہ کے طفیل کروڑوں امریکی انھیں دیکھ رہے ہیں، انکی کیفیت کچھ عجیب سی ہے۔

مباحثے سے غیر حاضر رہنے کے باوجود ڈانلڈ ٹرمپ  کیلئے  سامعین کا جوش وخروش بہت واضح تھا۔ اجب میزبان نے  پوچھا کہ سابق صدر ٹرمپ پر چار مقدمات ہیں۔ دوسری طرف وہ ریپبلکن پارٹی میں  مقبول بھی ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کی روائت ہے کہ نامزدگی حاصل کرنے والے امیداور کی پوری جماعت یکسو ہوکر حمائت کرتی ہے۔ اگر ڈانلڈ ٹرمپ ٹکٹ لینے میں کامیاب ہوگئے تو کیا آپ سب لوگ مقدمے کے باوجود  عام انتخابات میں انکی حمائت کرینگے؟  جواب میں آٹھ میں سے چھ افراد نے ہاتھ بلند کردئے اور ووک راماسوامی جذباتی انداز میں بولے 'یقیناً، اسلئے کہ ڈانلڈ ٹرمپ اس صدی کے سب سے موثر امریکی صدر تھے جو وز ارت انصاف کے انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں۔ سینیٹر ٹم اسکاٹ نے بھی مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے وعدہ کیا کہ اگر وہ صدر منتخب  ہوگئے تو حلف اٹھاتے ہی اٹارنی جنرل کو برطرف کرینگے۔ جب کرس کرسٹی نے کہا کہ صدر کیلئے اجلا کردار ضروری ہے تو حاضرین  کی جانب سے  سخت ردعمل سامنے آیا اور ہوٹنگ اتنی شدید تھی کہ میزبان کو مداخلت کرنی پڑی۔

اسقاط، دفاع، اسرائیل سے تعلقات، یوکرین جنگ، LGBTاور غیر قانونی تارکین وطن بحث کا موضوع رہا۔ تارکین وطن کے معاملے میں تمام کے تمام افراد ایک سے بڑھ کر ایک سخت موقف پیش کرتے رہے۔ اکثر امیدوار میکسیکو کی سرحد پر نگرانی سخت کرنے کیلئے فوج تعینات کرنے کے حق میں تھے۔ راماسوامی صاحب تو یہاں تک کہہ گئے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں تعینات امریکی فوج کو واپس بلاکر میکسیکو کی سرحد پر لگادیا جائے اور   بقراطی چھانٹی کہ open border is no border۔سچ ہے کہ  آدمی بے حیا ہوجائے تو جو چاہے کہتا پھرے۔ سات سمندر پار سے انکے والدین امریکہ آئے تو درست لیکن دہلیز پر موجود میکسیکو کے لوگوں کو امریکہ آنے سے روکنے کیلئے مہلک فوجی قوت کا استعمال بھی غلط نہیں۔

جناب جو بائیڈن اور ڈانلڈ ٹرمپ کی عمر بھی زیربحث آئی۔  نئے صدر کی حلف برداری کے دن یعنی 20 جنوری 2025 کو صدربائیڈن کی عمر 83 سال اور ڈانلڈ ٹڑمپ 79 برس کے ہونگے۔ میزبان نے سوال کیا کہ کیا ان دونوں کا دماغی معائنہ ہونا چاہئے تو سابق نائب صدر مائک پینس نے مسکراتے ہوئے کہا'میرا خیال ہے کہ  واشنگٹن کے سارےاہلکاروں کو معائنہ ہونا چاہئے۔ساتھ ہی فرمایا امریکی صدر نہ بہت عمر رسیدہ درست نہ  کھلنڈرا نوجوان بلکہ  'مناسب عمر ' کا تجربہ کار فرد ہوناچاہے  کہ  ایوان صدر سیکھنے کی نہیں  کچھ کر دکھانے کی جگہ ہے۔ اس معاملے میں محترمہ نکی ہیلی کا رویہ ہمیں  ناشائستہ لگا۔ وہ صدر بائیڈن کی عمر کو مسلسل نشانہ بنارہی ہیں،  بلکہ مباحثے کے بعد ABCٹیلی ویژن پر باتیں کرتے ہوئے  انھوں نے کہا اگر جوبائیڈن 2024 کا انتخاب جیت گئے تو حلف اٹھاتے وقت انکی عمر 83 سال کے قریب ہوگی اور وہ کسی صورت اپنی چار سالہ مدت مکمل نہیں کر پائینگے۔ یہ سن  کر ہمیں  جناب منور حسن (ر) کا یہ جملہ یاد آیا کہ 'موت کا تعلق نہ عمر سے ہے اور نہ صحت سے، یہ بس ہمارے رب کے حکم سے مشروط ہے'

مباحثے میں سارا زور اس بات پرتھا کہ  ٹکٹ مل جانے پر کون صدر بائیڈن کو عام انتخابات میں ہراسکتا ہے۔ سابق نائب صدر پینس کا دعویٰ تھا کہ وہ گورنر، رکن کانگریس اور اپنے خیال میں امریکی تاریخ کی سب سے شاندار( ٹرمپ )انتظامیہ کے نائب صدر رہ چکے ہیں لہذا انکے لئے صدر بائیڈن کو ہرانا کچھ مشکل نہیں۔ کچھ ایساہی  دعویٰ نکی ہیلی اور سینیٹر ٹِم اسکاٹ نے کیا، جبکہ نیوجرسی کے سابق گورنر کرس کرسٹی نے بہت فخر سے کہا کہ نیوجرسی ڈیموکیٹک پارٹی کا گڑھ ہے جہاں میں  نے برسراقتدار ڈیموکریٹ گورنر John Corzineکو شکست دی ۔ اس اعتبار سے سب کی طنزیہ نظریں سووک راماسوامی پر تھیں جو میدان کے نئے کھلاڑی ہیں۔ مائک پینس نے انکی طرف دیکھتے ہوئے کہا 'دنیا میں سب سے مشکل کام امریکی صدارت ہے جسکے لئے تجربہ چاہیے، یہ کسی rookie (نئے رنگروٹ) کے بس کی بات نہیں۔ جس پر راماسوامی جی تڑخ کر بولے مجھے سرکاری فنڈ اڑانے کا نہیں لیکن محنت مشقت سے روزی کمانے کا تجربہ ہے اور  امریکی عوام کیلئے روزگار کے باعزت مواقع پیدا کرنا میری ترجیح ہوگی کہ یہی سرمایہ دارانہ نظام کا سرمایہ ہے۔

مباحثے کے بعد جاری ہونے والے جائزے میں ریپبلکن پارٹی کے  44 فیصد حامیوں نے جناب ٹرمپ کی حمائت کا عندیہ دیا جبکہ 22 فیصد لوگ گورنر ران دی سینٹس کے حامی ہیں۔یعنی چار مقدمات اور 131 سنگین الزامات کے باوجود ڈانلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی میں بہت مقبول ہیں۔ تاہم  انتخابات میں پندرہ ماہ باقی ہیں گویا ابھی پلِ سیاست کے نیچے سے بہت ساپانی بہنا ہے۔

آپ مسعود ابدالی  کی   پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔