Wednesday, May 29, 2019

سحری و افطار ۔۔ کشمیریوں کا شکار


سحری و افطار ۔۔ کشمیریوں کا شکار
رمضان کے آخری عشرے میں بھارتی فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ مساجد میں قیام الیل اور گلیوں کی چہل پہل   سے ہندوستانی  فوج خائف ہے۔ سحرو ا افطار کے دوران  فوجی دہشگردی اور پکڑ دھکڑ نے ماہِ مبارک  کے تقدس کو پامال کرکے رکھ دیاہے۔
آج  صبح سحری کے وقت  ہزاروں بھارتی سپاہی کلگام کے گاوں محمد پورہ پر چڑھ دوڑے اور پورے علاقے کو گھیرے میں  لے کر گھر گھر تلاشی کے سلسلہ شروع ہوا۔ بھارتی فوج نے کئی گھروں کو بموں سے اڑادیا۔ اس دوران   خواتین  سے بدسلوکی پر محلے کے نوجوان سڑکوں پر نکل آئے جس پر فوج نے گولی چلائی اور ہلاکت خیز چھرے والی پیلٹ گنوں  سے 60 نوجوان زخمی ہوگئے۔جن میں سے کئی کی آنکھیں ضایع ہونے کا خدشہ ہے۔  فوج کی واپسی پراڑائے جانے والے  مکان کے ملبے سے 2 بچوں کو نکال لیا گیاجو شدید زخمی ہیں۔
ایسی ہی وحشیانہ کاروائی شام کو  عین افطار کے وقت  شوپیاں کے گاوں  پنجورہ   میں کی گئی۔جب فوج سے تصادم میں درجنوں نوجوان زخمی ہوگئے۔ فائرنگ اور دھماکوں کی بنا پر مساجد میں تراویح  کی نماذ ادا نہ کی جاسکی۔
رمضان کے آغاز سے  سارےکشمیر  میں پرتشدد کاروائیاں جاری ہیں اور   آخری عشرے کے دوران  اس وحشت  میں شدت آگئی ہے۔تاہم اس سارے معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے  کہ ایک طرف پاکستانی   میڈیا نے ان خبروں کا بائیکاٹ کررکھا ہے تو پاکستانی وزرات خارجہ بھی بشکیک میں عمران مودی ملاقات کے ہونکے میں اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے سے گریز کررہی ہے۔

امریکی ائر پورٹس کی آمدنی


امریکی ائر پورٹس کی آمدنی
جو احباب  بہت زیادہ فضائی سفر کرتے ہیں انھیں کئی بار اس صورتحال کا سامنا ہوا ہوگا کہ جب سارااسباب   ایکسرے بیلٹ پر چھوڑ کے  جسمانی معائنے کیلئے Metal Detectorپر آئے تو جیب میں موجود سکوں نے شور مچانا شروع کردیا۔ اس موقع پر لوگ سکے  پلاسٹک باسکٹ میں رکھ کر ایکسرے بیلٹ پر ڈال دیتے ہیں اور اکثر اوقات میٹل ڈیٹیکٹر سے نکلنے کے بعد اسے اٹھانا بھول جاتے ہیں بعض اوقات رقم اتنی حقیر ہوتی ہے کہ چھوٹتی پرواز کے خوف  میں پھوٹی کوڑیوں  کا کسی کو خیال بھی نہیں آتا۔
یہ سکے ائر پورٹس کی حفاظت کا انتظام کرنے والی  ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈ منسٹریشن (TSA) اٹھالیتی ہے۔ آپ کو یہ جان کرحیرت ہوگی یہ حقیر سکے سال کے دوران ایک معقول رقم کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ گزشتہ برس امریکی ہوائی اڈوں پر جمع ہونے والے ان   'لاوارث سکوں' کی مجوعی مالیت 7 لاکھ 65 ہزار ڈالر سے زیادہ تھی۔

جوانِ بیضہ (Egg Boy)کا گرانقدر عطیہ


جوانِ بیضہ (Egg Boy)کا گرانقدر عطیہ
مارچ میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ  چرچ کی دو مساجد پر ایک جنونی کے حملے نے ساری مہذب دنیا کو ہلاکر رکھدیا تھا۔ اس موقع پر جہاں وزیراعظم جیسندا آرڈرن کے قابل رشک طرزِ عمل  نے ساری دنیاکو متاثر کیا وہیں  مسلم مخالف اور سیکیولر عناصر کی سنگدلی بھی کھل کر سامنےائی ۔
آسٹریلیا کے قدامت پسند سینیٹر  فریزرایننگ  (Fraser Anning) نے اس المناک حادثے پر ایک ٹویٹ میں کہا
'کیا اب بھی کسی کو تشدد اور غیر ملکی مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے درمیان تعلق پر کوئی شبہہ ہے'
دوسرے دن جب سینیٹر صاحب  میلبورن میں اپنے کارکنان کے ہمراہ  اس موضوع پر اخباری کانفرنس سے خطاب کررہے تھے تو انکے نفرت انگیز تبصرے پر مشتعل ایک 17 سالہ لڑکے ولیم کونلی نے انکی طرف انڈے اچھال دئے جن میں دو  براہ راست موصوف کےچہرے پر لگے۔ سینیٹر صاحب کے کارکنوں نے ولیم کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ آسٹریلیا کے قدامت پسند پیٹریاٹک فرنٹ (UPF)کے سربراہ  جناب نیل ایریکسن نے اس بچے کا گلا گھوٹنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مداخلت کرکے ولیم کونلی کو حراست میں لے لیا جسے کچھ ہی دیر بعد کسی کاروائی کے بغیر رہاکردیا گیا۔ ولیم کونلی ساری دنیا میں Egg-Boyکے نام سے مشہور ہوگیا جسکا ترجمہ ہم نے جوانِ بیضہ کیا ہے۔
اس واقعے کے بعد یہ حوصلہ مند لڑکا اسلام فوبیا کے خلاف  جدوجہد کیلئے پرعزم ہوگیا۔  اس نے سوشل میڈیا پر متاثرینِ کرائسٹ چرچ کیلئے عطیات  جمع کرنے کا اعلان کیااور آج ایک لاکھ آسٹریلین ڈالر (US$ 69,000)کرائسٹ چرچ فاونڈیشن کے حوالے کردئے۔
ملت بیضہ کی جانب سے جوان ِ  بیضہ کا شکریہ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قلب ِ سلیم کے حامل اس بچے و ہدائت نصیب فرمائے


ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار


ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
پڑوسیوں سے کشیدگی کوئی اچھی بات  نہیں اور بگڑے تعلقات کو بہتر کرنے کی خواہش ایک قابل تحسین قدم ہی۔ عمران حکومت ہندوستان سے تعلقات درست کرنے کے معاملے میں سنجیدہ اور حد درجہ مخلص ہے۔ پلوامہ کے بعد ہندوستانی جارحیت پر بھی عمران خان ننے  تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کے خطرے کوتدبر سے ٹال دیا۔
  مودی جی نے اپنی انتخابی مہم  کی  بنیاد اسلام اور پاکستان دشمنی پر رکھی۔ اسکے باوجود  انتخابات  میں نریندرا مودی کی کامیابی پر عمران خان نے اعلیٰ ظرفی اور فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں مبارکباد کا پرجوش پیغام بھیجا۔ اس پیغام میں پاکستانی وزیراعظم نے باہمی امن کیلئے مل کر کام کرنے پر رضامندی  بھی ظاہر کی۔
خیر سگالی کے ان عالیشان مظاہروں کے جواب میں ہندوستان کے روئے میں  کوئی تبدیلی نظر نہیں  آرہی۔ وزارت عظمیٰ کی  تقریب حلف برداری میں سارک کے تمام سربراہوں کو دعوت دی جارہی ہے لیکن عمران خان کو اس میں مدعو نہیں کیا گیا اور کل بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ جب تک پاکستان  دہشت گردوں کی سرپرستی  ختم نہیں کردیتا بھارتی عوام پاکستانی قیادت کے استقبال کو تیار نہیں۔
پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے  جواب میں بھارت  کے اس  تحقیرآمیزروئے کے بعدبات چیت کی خواہش کا اظہار کسی طور مناسب نہیں اور اب اسلام آباد کو دلی کی جانب سے کسی مثبت اشارے سے پہلے دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے گریز کرنا چاہئے۔
تاہم خبر گرم ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ  نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس  کے موقع پر مودی عمران ملاقات کی تجویز پیش کی ہے۔ تنظیم کا چوٹی اجلاس اگلے ماہ کی  14 اور 15 تاریخ کو کر غستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہوگا۔
امن کی خواہش قابل تحسین ہےلیکن  پائیدارامن  قوت اور مضبوط موقف سے ہی ممکن ہے۔ دوستی کیلئے باوقار انداز میں ہاتھ بڑھانا اور بانہیں  وا کرنا تو احسن  قدم ہے لیکن امن کیلئے کشکول  پھیلانا  کسی طور  درست نہیں۔

Tuesday, May 28, 2019

مذہب ، سیاست اور فوج


مذہب ، سیاست اور فوج
اسرائیلی وزیراعظم  نیتھن یاہو کی نئی نویلی حکومت سخت خطرے میں ہے اور اگر کل تک وہ اپنے اتحادیوں سے مصالحت نہ کرسکے تو انکے پاس  کنیسہ (پارلیمان) کو تحلیل کردینے علاوہ اور کوئی راستہ نہ ہوگا کہ دوسری صورت میں اسرائیلی صدر انکے مخالف جنرل  بینی گینٹز (Benny Gantz)کو حکومت بنانے کی دعوت دینگے۔یہ نازک صورتحال  ' یہودی مولبیوں' سے پنگے کی بنا پر ہے۔ اس تنازعے کی تھوڑی سی تفصیل احباب کی دلچسپی کیلئے۔
اسرائیل میں لازمی فوجی خدمت  کا قانون نافذ ہے یعنی ہر اسرائیلی لڑکے کو 2 سال  آٹھ ماہ  اور لڑکی کو دو سال فوجی خدمات سرانجام دینی ہوتی ہیں۔ یہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی لام بندی قانوں کے تحت   ریاست جب چاہے کسی بھی  شہری کو فوجی خدمت کیلئے واپس بلاسکتی ہے۔
لازمی فوجی خدمت کے قانون سے حریدی (Heridi) فرقے کے  یہودی مستثنیٰ ہیں۔ حریدی کا عرب  عبرانی تلفظ  شریدی ہے جسے انگریزی میں Ultra-Orthodox Jewsکہا جاتا ہے۔ عبرانی انجیل یا کتابِ عیٰسی میں خوف  آخرت سے کانپتے اور لرزتے ہوئے  لوگوں   کو حریدی کہا گیا ہے۔ ایک روائت کے مطابق حریدیوں کے آباواجداد حضرت عیسیٰ (ع)  پر سب سے پہلے ایمان لائے  تھے۔ اسرائیل کی یہودی آبادی میں حریدیوں کا تناسب 10 فیصد کے قریب ہے۔
حریدی خود کو   توریت اور احکامات ربانی  یا تلمود (Talmud)کا وارث سمجھتے ہیں اور انکے یہاں ہر مرد کیلئے توریت و تلمود کی   تعلیم فرض سمجھی جاتی ہے۔ درس و تدریس کیلئے مخصوص مدارس ہیں جہاں طلبہ ٹاٹ پر بیٹھ کر توریت حفظ کرتے  ہیں۔ ان مدارس کو  Yeshivaکہا جاتا ہے۔ Yeshiva کے معنی ہی ہیں  زمین پر بیٹھنا۔
ادھر کچھ عرصے سے  حریدیوں کیلئے فوجی خدمت سے استثنےٰ کے خاتمے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ اس ضمن میں سابق وزیردفاع ایویڈور لائیبرمین  Avigdor Lieberman نے ایک قانون متعارف کرانے کا اعلان  کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہدیا کہ اگر وزیراعظم نیتھن یاہو کی لیکڈ پارٹی نے حریدیوں کیلیے استثنیٰ ختم کرنے کے بل کی حمائت نہ کی تو  وہ حکومت سازی  کیلئے وزیراعظم کی حمائت سے ہاتھ کھینچ لینگے۔  دوسری طرف حریدیوں کا کہنا ہے کہ لازمی فوجی تربیت کیلئےYeshivaسے 32 مہینے کی غیرحاضری  تعلیم میں حرج کا سبب بنے گی جسے حریدی اپنے مذہبی معاملات میں مداخلت تصور کرتے ہیں۔
اسرائیل کی 120 رکنی پالیمان میں  نیتھن یاہو کے لیکڈ اتحاد کے پاس صرف 35 نشستیں ہیں۔ وہ   حریدی جماعتوں، قدامت پسندوں اور لائیبرمین کی اسرائیل مادر وطن پارٹی Yisrael Beitein کو ملا کر حکومت تشکیل دینے کی کوشش کررہے  ہیں اور اگر لائبر مین اپنے 5 ارکان کو لے کر الگ ہوگئے  تو سانجھے کی یہ ہنڈیا چولہے پر چڑھنے سے پہلے ہی پھوٹ جائیگی۔ دوسری طرف لائیبرمین کی بات مان لینے کی صورت میں   دونوں حریدی جماعتیں شاس پارٹی اور متحدہ توریت پارٹی (UTJ) حکومتی اتحاد سے نکل جائینگی۔ ان دونوں کے پاس مجموعی طور پر 16 نشستیں ہیں۔
حکومت سازی نیتھن یاہو کیلئےسیاسی زندگی اورموت کا مسئلہ ہے کہ موصوف اور خاتون اول کے خلاف کرپشن کی تحقیقات آخری مرحلے میں ہیں اور کسی بھی وقت انکی گرفتاری کا پروانہ جاری ہوسکتا ہے۔ انکی پارٹی  نے ایک مسودہ قانون کنیسہ میں پیش کیا ہے جسکے تحت وزیراعظم کے خلاف مقدمات کی تحقیقات مدت اقتدار ختم ہونے تک موخر کردی جائیگی۔ اس قانون کی منظوری کیلئے بھی انھیں اتحادیوں کے ووٹ درکار ہیں  لیکن قانون سازی تو ایک طرف  انکی حکومت  ہی  مشکوک ہوچکی ہے۔ منچلے  انھیں حکومت سازی کے  چکر میں پڑنے کے بجائے جیل کیلئے بوریہ بستر تیار رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔