Tuesday, November 24, 2020

امریکہ کے مجوزہ نئے وزیر خارجہ ! توقعات اور اندیشے

امریکہ کے مجوزہ نئے وزیر خارجہ ! توقعات اور اندیشے

صدر ٹرمپ اپنی شکست تسلیم کرنے پر تیار نہیں اور  اب بھی پُر امید ہیں کہ 20 جنوری کو وہ اپنی دوسری مدت کا حلف اٹھائیں گے۔ سیاسیات کے علما کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ جارجیا کیلئے ہے جہاں جنوری کے پہلے ہفتے میں سینیٹ کی دو نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔ان میں سے اگر ایک نشست بھی صدر کی پارٹی نے جیت لی تو انھیں سینیٹ میں برتری حاصل ہوجائیگی اور ریپبلکن پارٹی جوبائیڈن انتطامیہ کی جان اجیرن کرسکے گی۔

اس بات کا نومنتخب صدر کو اچھی طرح احساس ہے ،لہذا وہ اپنی ٹیم کے چناو میں خاصے محتاط ہیں اور ایسے لوگوں کا انتخاب کررہے ہیں جنکو سینیٹ سے مسترد کیا جاناآسان نہ ہو۔ وفاقی کابینہ اور دوسری اہم تقرریوں کی سینیٹ سے توثیق ضروری ہے۔امریکہ میں اسرائیلی ترغیب کار وں ( لابی) کے دونوں جماعتوں پر اثرات بہت گہرے ہیں اسلئے بائیڈن صاحب ایسے لوگوں کو سامنے لارہے جو اگر اسرائیل نواز نہ ہوں تو بھی کم ازکم اسرائیل مخالف نہ سمجھے جاتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ وزارت خارجہ کیلئے خلاف توقع انھوں نے ڈاکٹر سوزین رائس کو نامزد کرنا مناسب  نہ سمجھا کہ جب وہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر تھیں اسوقت فلسطین پر رائے شماری کے دوران انھوں نے کئی بار قرارداد کو ویٹو نہ کرنے کی سفارش کی تھی۔

جناب جو بائیڈن نے سکریٹری آف اسٹیٹ یا وزیر خارجہ کیلئے ٹونی بلنکن Anthony Blinken کا انتخاب کیا ہے۔ 58 سالہ بلنکن کے دادانے جرمن بیگار کیمپ میں اذیت برداشت کی ہے اور بقول انکے 'یہودی قوم اور انکاوطن میرے دل کے قریب ہے' ایک راسخ العقیدہ یہودی، ٹونی بلنکن اوباما انتظامیہ میں  نائب وزیرخارجہ اور نائب مشیر قومی سلامتی رہ چکے ہیں۔ جنگجو طبیعت کے مالک، بلنکن کو عرب اسپرنگ کے دوران اخوان المسلمون کے عروج پر خاصی تشویش تھی اور انھوں نے مبینہ طور پر تیونس اور مصر کے عام انتخابات میں اخوان کی کامیابی کو اسرائیل کی سلامتی کیلئے سخت خطرہ قرار دیا تھا۔ واشنگٹن کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ نائب مشیر قومی سلامتی کی حیثیت سے جناب بلنکن  نےصدر مورسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی میں حصہ لیا تھا۔

افغانستان میں اضافی فوج کی تعیناتی اور شمالی وزیرستان پر خوفناک ڈرون حملوں کے بھی وہ پرجوش حامی تھے۔ جو بائیڈن کی نائب صدارت کے دوران یہ انکے مشیر سلامتی تھے اور ایبٹ آباد حملے کی منصوبہ بندی ٹیم میں بھی موصوف شامل تھے۔ آپریشن کے دوران جب  صدر اوباما اپنے دلاوروں کے ہاتھوں نہتے مردوخواتین کے قتل کا براہ راست مشاہدہ فرمارہے تھے اس خصوصی مجلس میں بلینکن کو بھی نشست فراہم کی گئی تھی جو صدر اوباما کی جانب اعزار تقرب تھا۔ ہمارا خیال ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن صدر اومابا کا انتخابی ڈارامہ تھا۔

انتھونی بلینکن نے جامعہ ہارورڈ سے بی اے کے بعد جامعہ کولبمبیا سے قانون کی سند حاصل کی۔  انھوں نے کچھ عرصہ بطور رپورٹر ایک اخبار میں ملازمت بھی کی۔ 2002 میں جب جو بائیڈن سینٹر کی حیثیت سے سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے خارجہ امور کے سربراہ تھے تو بلنکن کمیٹی کے اسٹاف ڈائریکٹر تھے اور یہیں سے وہ جوبائیڈن کے بااعتماد مشیر بن گئے۔ 2008کے انتخابات میں وہ اوباما بائیڈن انتخابی کمیٹی کے سینئر افسر تھے اور حالیہ انتخابات میں بھی انھوں نے جوبائیڈن کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔

جناب بلنکن کی بطور وزیر خارجہ نامزدگی پر انقلابی لڑکیوں پر مشتمل گروپ نے جسے صدر ڑمپ اسکواڈ یاچار کا ٹولہ کہتے ہیں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسکواڈ کی رکن محترمہ رشید طلیب نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے وزیرخارجہ اسرائیل کے معاملے میں آزادی اظہار کے حوالے سے ہمارے حقوق کا احترام کرینگے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہم شروع کررکھی جسے Boycott, Disinvestment and Sanctionیا BDSکہا جاتا ہے۔اس تحریک کا مقصد امریکی سرمایہ کاروں کو اسرائیل میں سرمایہ کاری سے روکنے کی تلقین، مقبوضہ عرب علاقوں کے بیگار کیمپوں اور جیل میں بند قیدیوں سے جبری مشقت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی مصنوعات کے بائیکاٹ اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔ امریکی کانگریس BDSکے خلاف تحریک منظور کرچکی ہے اور وزیر خارجہ مائک پومپیو نے BDSکو صیہونیت کش یا Anti-Sematicقرار دینے کی سفارش کی ہے جبکہ اسکواڈ کی ایک اور رکن الحان عمر کیساتھ مل کر رشید طلیب BDSکی حمائت میں ایک قراردار کانگریس میں پیش کرنا چاہتی ہیں۔ حالیہ انتخابات کے بعد کانگریس میں انقلابی گروپ یا جسٹس ڈیموکریٹس کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔

جو بائیڈن ٹرمپ انتظامیہ کے مسلم بین اور ویزے کے حوالے سے ٹرمپ حکومت کی نسل پرست پالیسیوں کو بیک جنبش قلم ختم کرنے کے معاملے میں اپنے وعدوں پر قائم نظر آتے ہیں۔ اس باب میں  نائب وزیر خارجہ کی حیثیت سے جناب بلنکن کا رویہ بہت زیادہ مثبت نہیں تھا۔ تاہم زمینی حقیقت اب کافی بدل چکی ہے۔ حالیہ انتخابات میں مسلمانوں نے جو بائیڈن کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ الحان عمر کی عوامی تحریک کی وجہ سے ریاست مینی سوٹا میں ووٹ ڈالنے کا تناسب بہت بہتر رہا۔ اسی طرح مشیگن میں رشید طلیب کی مہم نے جوبائیڈن کیلئے کامیابی کی راہ ہموار کی۔

جناب بلنکن کے بارے میں ہماری گزارشات کی بنیاد بطور نائب وزیر خارجہ اور نائب مشیر سلامتی انکے خیالات اور رویوں پر ہے جبکہ گزشتہ چارسالوں میں  پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے اور اوباما سے بے حد متاثر سہی جوبائیڈن کی اپنی شخصیت ہے چنانچہ بہت ممکن ہے کہ بلنکن صاحب بطور وزیرخارجہ مبنی بر انصاف طرز عمل اختیار کریں اور قوموں کی برادری میں امریکہ کو جو مقام حاصل ہے اسکا پاس کرتے ہوئے اسرائیل کے مغرور حکمرانوں کو معقولیت کی طرف مائل کرتے ہوئے  اسرائیل و فلسطین دوقومی ریاست کے منصفانہ بیانئے کو آگے بڑھائیں کہ یہ امن عالم کا سوال ہے۔

اسی کیساتھ ایران کے خلاف خلیجی ممالک کی غیر ضروری پشت پناہی کسی طور مناسب نہیں۔ جناب بلنکن ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے JCPOAکی تفصیلات سے واقف ہیں۔ امریکہ کی جانب سے JCPOAکی فوری اور غیر مشروط تجدید سے علاقے میں اسلحے کی دوڑ اور  کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں۔


 

Thursday, November 19, 2020

بائیڈن انتظامیہ!! تنظیم اور ترجیح

بائیڈن انتظامیہ!!  تنظیم اور ترجیح

امریکی انتخابات کو تین ہفتے گزرجانے کے باوجود کئی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی اب تک جاری ہے۔ زیادہ تر مقامات پر ڈاک سے آنے والے پرچہ انتخاب کا شمار ہورہا ہے جبکہ جارجیا میں ریاستی سکریٹری آف اسٹیٹ کے حکم پرتمام ووٹوں کی ہاتھ سے دوبارہ گنتی کی جارہی ہے۔ تاہم صدارتی انتخابات کے غیر سرکاری حتمی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار سابق نائب صدر جو بائیڈن 306 انتخابی یا الیکٹرل ووٹ لے امریکہ  چھالیسویں صدر منتخب ہوچکے ہیں۔ انکے حریف صدر ٹرمپ کے کھاتے میں 232ووٹ درج ہیں۔ قصر مرمریں کی کنجی کیلئے 270 الیکٹرل ووٹ درکار ہیں چنانچہ اگر دوبارہ گنتی کے بعد جارجیا میں صورتحال تبدیل ہو بھی گئی تو نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑیگا اسلئے کہ کلیہ انتخاب میں جارجیا کے 16 ووٹ ہیں۔ حتیٰ کہ جارجیا کے ساتھ  پنسلوانیہ کے نتائج بدل جانے کی صورت میں  بھی جو بائیڈن ہی نومنتخب صدر رہیں گے۔

 ریاضی کے مطابق صدر ٹرمپ کی کامیابی کا اب کوئی امکان نہیں اور جمہوری اقدار کی رو سے انھیں باوقار انداز میں اپنی شکست مان لینی چاہئے۔ لیکن موصوف اس پر تیار نظر نہیں آتے۔ انکا کہنا ہے کہ جو بائیڈن میڈیا پر انتخاب جیتے ہیں اور بدترین دھاندلی کے ذریعے بائیں بازو کے سوشلسٹوں نے امریکی عوام کی امنگوں کا خون کیا ہے۔ امریکی سیاسی حلقے ٹویٹر پر صدر ٹرمپ کی شعلہ افشانیوں کو چائے کی پیالی میں طوفان قراردے رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے  اب تک کسی سنجیدہ قانونی سرگرمی کا آغاز نہیں ہوا۔ پنسلوانیہ، مشیگن، ایریزونا اور وسکونسن میں صدرکی 9 انتخابی عذداریاں ابتدائی سماعت کے بعد مسترد کی جاچکی ہیں۔ خبروں کے مطابق موقر وکلا انکا مقدمہ لڑنے کو تیار نہیں۔ پنسلوانیہ میں ٹرمپ انتخابی مہم نے مقدمے کیلئے Wright Morris & Arthurنامی وکلا کی مشہور کمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں لیکن 13 نومبر کو جج کے روبرو انکے وکلا نے پیروی سے انکار کرتے ہوئے منسوخی کیلئے اپنے وکالت نامےعدالت میں جمع کرادئے۔ وکلا نے صدر ٹرمپ سے مطلع کردیا ہے کہ  کیس میں جان نہیں۔ صدر کے ذاتی وکیل اور نیویارک کے سابق رئیسِ شہر روڈی جولیانی عدالتوں میں صدر ٹرمپ کی پیروی کیلئے راضی و پرعزم ہیں لیکن جناب جولیانی کی وجہ شہرت سیاست ہے اور وکالت کے حوالے سے موصوف کوئی بڑا نام نہیں۔

صدر کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ  سپریم کورٹ سے پورے انتخاب کو کالعدم کرنے کی درخواست کرنے والے ہیں لیکن دنیا بھر کی طرح امریکی عدلیہ بھی اداروں کو بے وقار   نہیں ہونے دیگی۔  سب سے بڑی بات کہ  اگر انتخابات پر جھاڑو پھرے تو ریپبلکن پارٹی کے نومنتخب سینیٹرز، 11 گورنر اور ارکان ایوان نمائندگان کا کیا ہوگا؟؟؟

صدر ٹرمپ کے پاس ملک گیر مظاہروں کا راستہ موجود ہے۔ 14نومبر کو دارالحکومت واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے حامیوں نے زبردست جلوس نکالا جس میں عوامی امنگوں پر ڈاکہ مردہ باد، امریکہ پر سوشلسٹوں کا قبضہ نامنظور اور ترقی و خوشحالی کے چار مزید سال کے نعرے لگائے گئے۔ اس موقع پر سیاہ فام اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے جوابی مظاہرہ کیا۔دھکم پیل اور ہاتھاپائی کے دوران ایک شخص چھری کے وار سے زخمی ہوگیا۔

امریکی نظمِ حکومت میں صدر بہت بااختیار ہے لیکن امریکی دستور کے مصنفین نے اختیار میں اعتدال کیلئے کلیدی  نوعیت کے صدارتی فیصلوں کو مقننہ سے مشورے بلکہ توثیق کا پابند کردیا ہے۔ مثلاً اٹارنی جنرل سمیت وفاقی کابینہ، وفاقی جج، سفرا، خفیہ اداروں کے اعلیٰ اہلکار، حکومتی انتظام کے تحت چلنے والے خود مختار اداروں کے سربراہ اور عسکری قیادت کا تقرر کانگریس کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی توثیق سے مشروط ہے۔ اسی طرح سالانہ میزانیہ، دوسرے ملکوں کو اسلحے کی فروخت اور دوسرے اہم معاملات کی کانگریس سے منظوری لازمی ہے۔ کچھ معاملات پر صدارتی ایکزیکیوٹیو آرڈر سے کام چل سکتا ہے لیکن اگر گانگریس کھلی مخالفت پر اتر آئے تو قانون سازوں کیلئے انتظامی مشنری کو غیر موثر کردینا کچھ مشکل نہیں۔ ایک بڑی مثال اومابا دور میں سپریم کورٹ کے جج کی تقرری کا معاملہ ہے۔ جسٹس انتھونی اسکالیا فروری 2016میں انتقال کرگئے۔صدر اوباما نے انکی جگہ ایک سینئر جج میرک گارلینڈ کو نامزد کیا۔ اسوقت امریکی سینیٹ میں 2 اتحادیوں کو ملاکر  46 ڈیموکریٹس کے مقابلے میں ریپبلکن سینیٹروں کی تعداد54 تھی۔ سینیٹ کے قائد ایوان مچ میک کانل نے یہ کہہ کرتوثیق سے انکار کردیا کہ صدر اوباما کی مدت صدارت ختم ہونے میں ایک سال سے بھی کم کا عرصہ باقی ہے اور سپریم کورٹ کے جج کا تقرر ساری زندگی کیلئے ہوتا ہے۔چنانچہ یہ اہم فیصلہ نئے صدر کیلئے چھوڑدینا چاہئے۔اس سال ستمبر میں جب سپریم کورٹ کی جج جسٹس روتھ بدر گنزبرگ کا انتقال ہوا تو یہی موقف ڈیموکریٹس نے اختیار کیا اور قائد حزب اختلاف نے مچ مک کانل کو یاد دلایا کہ 2016 میں انتخابات 10 مہینے دور تھے جبکہ اس بار تو قبل از ووٹنگ بھی شروع ہوچکی ہے لہذا جج کا تقرر انتخابات تک  موخر کردیا جائے لیکن اکثریت کے بل پر چند ہفتوں میں جسٹس ایمی کونی بیرٹ کی سپریم کورٹ سے توثیق کرالی گئی۔

اسی طرح کانگریس کے ایوان زیریں یا ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) پر ڈیموکریٹک پارٹی کی گرفت صدر ٹرمپ کو کچھ معاملات پر ناکوں چنے چبا چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ غیرملکی تارکین وطن کی آمد روکنے کیلئے میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرینگے لیکن ایوان نمائندگان نے اسکے لئے رقم منظور نہیں کی اور یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا۔

اس گفتگو کے پس منظر میں عرض ہے کہ تین نومبر کو صدارتی چناو کیساتھ ایوان نمائندگان کی کل 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں کے انتخابات ہوئے۔ ان نشستوں میں سے 23 ریپبلکن پارٹی کے سینیٹروں کی میعاد مکمل ہونے پر خالی ہوئی ہیں اور ڈیموکریٹس کو اپنی 12 نشستوں کا دفاع کرنا تھا۔ نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے ایریزونا اور کولوریڈو میں ریبپلکن سے نشستین چھین لیں اور جواب میں صدر ٹرمپ کی جماعت نے الاباما میں ڈیموکریٹس رکن کی معیاد مکمل ہونے پر خالی ہونے والی سیٹ ہتھیالی۔ اب نئی سینیٹ کی ہئیت ترکیبی کچھ اسطر ح ہے کہ 100 رکنی ایوان میں 50 ریپبلکن ارکان کے مقابلے میں 48 نشستوں پر ڈیموکریٹس براجمان ہونگے۔ جارجیا کی دو نشستوں پر کوئی بھی امیدوار مطلوبہ 50 فیصد ووٹ نہ حاصل کرسکا چنانچہ یہاں جنوری کے پہلے ہفتے میں ضمنی یا Run-offانتخاب ہوگا۔ اگر ڈیموکریٹس یہ دونوں نشست جیت گئے پھر تو خیر ہے ورنہ ایوان بالا پر ریپبلکن کی برتری صدر بائیڈن کیلئے سخت مشکل کا سبب بن سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان نفرت کی حد تک جو کشیدگی نظر آرہی ہے اسے دیکھتے ہوئے کسی قسم کی مفاہمت یا رواداری کا کوئی امکان نہیں اور سیاسی مبصرین ہر نکتے  پر دمادم مست قلندر کی توقع کررہے ہیں۔

سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اعترافِ شکست سے انکار اور صدر ٹرمپ کا مہم جویانہ انداز جارجیا میں سینیٹ کے ضمنی انتخاب کیلئے اپنے حامیوں کا حوصلہ بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ شکست تسلیم کرلینے سے صدر کی کمزوری ظاہر ہوگی۔ وہ اپنے حامیوں کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ جنگ جاری ہے اور کمر کھولنے کا وقت ابھی نہیں آیا۔ صدر کی موجودہ مدت 20 جنوری تک ہے اور وہ یہ عرصہ امریکی روائت کے مطابق غیر موثر و نمائشی یا lame-duckصدر کی طرح نہیں گزارنا چاہتے۔ وہ جلد ہی جارجیا میں اپنے سینیٹ کے امیدواروں کیلئے بھرپور انتخابی مہم شروع کرنے والے ہیں اور اگر ریپبلکن پارٹی سینیٹ کی کم ازکم ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہوگئی تو وہ پروقار انداز میں اقتدار جو بائیڈن کے حوالے کرکے 2024 میں انتخاب لڑنے کا اعلان کرینگے۔

ایوان نمائندگان کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی کی کارکردگی بہتر نہیں رہی۔ اسوقت ایوان نمائندگان میں ریپبلکن ار کان کی تعداد 197ہے اور 232 نشستیں ڈیموکریٹس کے پاس ہیں لیکن 3 نومبر کے انتخاب کے بعد ڈیموکریٹس کی تعداد گھٹ کر 225 ہونے کی توقع ہے یعنی واضح اکثریت سے صرف 7 زیادہ۔

 ڈیموکریٹک کی صفوں میں نظریاتی تفریق بھی خاصی گہری ہے۔ چار نوخیز خواتین، الیکزینڈرا اورٹیز المعروف AOC، الحان عمر، رشید طلیب اور آیانا پریسلے پر مشتمل گروہ جسے صدر ٹرمپ چارکا ٹولہ یا squadکہتے ہیں اب مزید مضبوط ہوگیا ہے اور اس بار نیویارک سے جمال بومن اور مزو ری سے محترمہ کوری بش نے ڈیموکریٹک پارٹی کے برج گراکر اسے مزید تقویت دیدی ہے۔ جسٹس ڈیموکریٹس کے نام سے اس انقلابیCaucusکے ارکان کانگریس کی تعداداب 10 ہوگئی ہے۔ جسٹس ڈیموکریٹس کم سے کم تنخواہ 15 ٖڈالر فی گھنٹہ، تمام امریکیوں کیلئے صحت بیمہ، پولیس اصلاحات، صنعتی اداروں میں مزدور یونینوں کے قیام، ماحول کی حفاظت، کاربن ٹیکس  کے ساتھ غیر ملکی امور پر بھی اپنی رائے رکھتے ہیں۔ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام، تباہی پھیلانے والے ہتھیار (WMD)پر پابندی انکے منشور کا حصہ ہے۔ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی، ترک نژاد چینی مسلمانوں سے بدسلوکی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی پر بھی اس گروپ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔کیلی فورنیا سے رکن کانگریس شری رو کھنہ سمیت تین ہند نژاد ارکان بھی اس گروپ کا حصہ ہیں۔

جسٹس گروپ کے غیراعلانیہ سرپرست سینیٹر برنی سینڈرز ہیں جنھوں نے پارلیمانی سال کے آغاز پر جسٹس ڈیموکریٹس کے منشور کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔برنی سینڈرز کابینہ کی تشکیل، کانگریس کی مجالس قائمہ اور پالیسی سازی میں جسٹس ڈیموکریٹس کو مناسب نمائندگی دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اس تناظر میں جوبائیڈن انتظامیہ کا آغاز نا ہموار یا bumpyنظر آرہا ہے۔ جیسا کہ ہم نے عرض کیا کابینہ اور کلیدی تقرریوں کیلئے سینیٹ کی توثیق ضروری ہے اور ریپبلکن پارٹی 'ناپسندیدہ نامزدگیوں' کو مسترد کرکے نئے صدر کیلئے مشکل پیدا کرسکتی ہے۔ اس پس منظر میں اسرائیلی ترغیب کاروں (lobby)کا کام آسان ہوجائیگا اسلئے کہ اسرائیل کے مخلص حامی دونوں جماعتوں کے کلیدی عہدوں پر موجود ہیں چنانچہ اب صفِ مخالف سے حمائت حاصل کرنے کے عوض اسرائیل کے ہمدردوں کو انتظامیہ کی اہم عہدوں پر آگے بڑھانے کی کوشش کی جائیگی۔ اس ضمن میں وزیرخارجہ، وزیردفاع، اسرائیل اور اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر کے مناصب بہت اہم ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ کیلئے جو نام سامنے آرہے ہیں ان میں مشہور دانشور ڈاکٹر سوزین رائس سرفہرست ہیں۔ 55 سالہ سوزین اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر اور صدراوباما کی مشیر قومی سلامتی رہ چکی ہیں۔اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل اور صدر اوباما کے تعلقات کشیدہ کرنے میں ڈاکٹر صاحبہ کا ہاتھ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ 2014 میں ایران سے ممکنہ معاہدے پر اپنے اتحادی کو اعتماد میں لینے تل ابیب گئیں تو اسرائیل حکام کا رویہ ان سے اچھا نہ تھا۔ اس دوران اسرائیلی زعما نے مبینہ طور پر صدر اوباما کے بارے میں کچھ اس انداز میں باتیں کیں جو نسلی حساسیت کے حوالے سے بیباک نوعیت کی تھیں۔ یہ عام خیال ہے کہ امریکہ کے اسرائیل نواز عناصر کیلئے سوزین رائس کا بطور وزیرخارجہ تقرر پسندیدہ نہ ہوگا لیکن black lives matterتحریک اب مضبوط ہوچکی ہے اور ایک لائق و فائق سیاہ فام دانشور کی کھلی مخالفت ایک مشکل کام ہے۔ متوازن و امن پسنداسرائیلی حلقوں میں ڈاکٹر صاحبہ پسند کی جاتی ہیں اور امریکی یہودی تنظیموں کی فیڈریشن انھیں اعزاز سے بھی نواز چکی ہے۔

ایک اور اہم نام اوباما دور کے نائب وزیرخارجہ ڈاکٹر ولیم برنز ہیں۔ 64 سالہ ڈاکٹر صاحب ایک منجھے ہوئے سفارتکار ہیں جنکی پشت پر 38 سال کا تجربہ ہے۔ انھوں نے مارشل اسکالر شپ پر انگلستان کی جامعہ آکسفورڈ سے بین الاقوامی تعلقات کے پی ایچ ڈی کی اور وہ کئی گرانقدر مقالوں کے خالق ہیں۔امریکی وزارت خارجہ کے ذرایع کا کہنا ہے کہ  مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر محمد مورسی کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی موصوف نے ہی فرمائی تھی۔ صدر مورسی کیخلاف سیکیولر قوتوں کے محاذ میں اسلام پسند النور پارٹی کی شرکت انھیں کی مہین سفارتکاری کا کمال ہے۔ جمہوری حکومت کی معزولی اور قاہرہ کی مشہور مسجد رابعۃ العدویۃ میں اخوانی کارکنوں کے خون سے کھیلی گئی ہولی کے بعد سب سے پہلے جناب برنز قاہرہ پہنچے اور جنرل السیسی سے ملاقات میں انھیں مکمل حمائت کا یقین دلایا۔ اس وقت تک السیسی مصر کے وزیردفاع تھے۔ اس ہم ملاقات کے بعد جنرل السیسی نے صدر بننے کی کوششیں شروع کیں اورایک سال بعد صدارت کا عہدہ سنبھال لیا۔

ایک اور اہم امیدوار ڈاکٹر وینڈی شرمن ہیں۔ 71 سال وینڈی شرمن جامعہ ہارورڈ میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ وینڈی بھی اوباما انتطامیہ میں نائب وزیرخارجہ رہ چکی ہیں۔اگر وزیرخارجہ نہ بنیں تو راسخ العقیدہ یہودی محترمہ وینڈی کی  اقوام متحدہ میں بطور مستقل سفیر تعیناتی بھی خارج از امکان نہیں۔

اقوام متحدہ کے سفیر کیلئے انڈیانا کے ایک چھوٹے سے قصبےساوتھ بینڈ کے سابق رئیس شہر  پیٹ بیوٹیجیج کا نام بھی لیا جارہا ہے۔پیٹ صاحب نے حالیہ صدارتی انتخابات میں بھی قسمت آزمائی کی لیکن پارٹی ٹکٹ کے ابتدائی مقابلوں میں پئے درپئے شکست کے بعد جو بائیڈن کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ پیٹ ہم جنس پرست ہیں اور انھوں نے ایک مرد سے شادی کررکھی ہے۔ سابق صدر اوباما ہم جنس پرستوں پر عائد پابندیوں کے سخت خلاف تھے۔ انھوں نے سعودی عرب اور پاکستان  پر زور دیا تھا کہ ہم جنس شادیوں کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس اہم عہدے پر پیٹ بیوٹیجیج کے تقرری سے دنیا کو یہ پیغام بھی جائیگاکہ بائیڈن انتظامیہ ہم جنسی پر پابندیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھتی ہے۔ 

دو ایک سینیٹرز بھی وزارت خارجہ کے امیدوار ہیں۔ اگر سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو برتری حاصل ہوگئی تو بہت ممکن ہے کہ نئے امریکی صدر جو خود ایک طویل عرصے تک سینیٹر رہ چکے ہیں اپنے کسی ساتھی سینیٹر کو وزیر خارجہ نامزد کریں۔ تعلقات، رواداری، رکھ رکھاو  اور آنکھ کے لحاظ کی بناپر  سینیٹر کی سینیٹ سے توثیق زیادہ آسان ہے۔ اس سلسلے میں بائیڈن کی ریاست ڈیلاوئیر کے سینٹر کرس کون اور ریاست کنیٹیکٹ کے سینٹر کرس مرفی کا نام لیاجارہا ہے۔ 57 سالہ کرس کون اسرائیلی لابی میں بہت مقبول ہیں اور وہ امر یکہ اسرائیل سیاسی مجلس عمل (AIAPC)کی مجلسوں میں باقاعدگی کی شرکت کرتے ہیں۔ کون صاحب سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے خارجہ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

ریاست کنیٹیکٹ سے 47 سالہ  ڈیموکریٹک سینٹر کرس مرفی بھی جو بائیڈن کے قریبی دوست اور خارجہ امور پر گہری نظر رکھنے والوں میں شمار ہوتےہیں۔ انھوں نے اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی کی مخالفت کی تھی جس پر اسرائیلی لابی ان سے ناراض ہوئی لیکن اسکا کفارہ انھوں  نے اسطرح ادا کیا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد سینٹر صاحب نے سعودی و کوئتی رہنماوں کو فون کرکے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی درخواست کی۔ یہ دونوں ریاستیں ڈیموکریٹس کا گڑ ھ ہیں  اور وزیر بننے کی صورت خالی نشست پر ضمنی انتخاب میں ڈیموکریٹک امیدوار کا جیتنا مشکل نہ ہوگا۔

وزیردفاع کیلئے محترمہ مشل فلورنی کا نام لیا جارہا ہے۔ 59 سالہ مشل اوباما انتظامیہ میں نائب وزیردفاع تھیں۔ انکے شوہر اسکاٹ گڈ بھی نائب وزیردفاع رہ چکے ہیں۔ مشل اور انکے شوہر اسرائیل کے پرجوش حامی ہیں۔ تاہم مشل صاحبہ کو غرب اردن میں اسرائیلی بستیوں پر شدید تحٖفظات ہیں۔ اسرائیل کو امریکہ کے جدید ترین میزائیل شکن نظام فولادی گنبد(Iron Dome)کی فراہمی میں مشل صاحبہ نے اہم کردار اداکیا۔

وزیردفاع کیلئے ایک اور اہم امیدوار لیفٹینیٹ کرنل (ر) ٹیمی ڈک ورتھ ہیں۔ اپنی ننھیال کی جانب سے تھائی نژاد ٹیمی امریکی فوج میں پائلٹ تھیں۔ عراق میں انکا ہیلی کاپٹر القاعدہ نے گرالیا۔ شدید زخمی ٹیمی کا پورا دایاں پیر اور بایاں پاوں گٹھنے کے نیچے سے کاٹ دیا گیا۔ انکے دونوں ہاتھ بھی متاثر ہیں۔ نومبر 2016 میں ٹیمی الی نوائے سے امریکی سینیٹر منتخب ہوئیں۔ اس سے پہلے وہ ایوان نمائندگان کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ ٹیمی امریکہ کی واحد سینیٹر ہیں جو اس عہدے پر رہنے ہوئے ماں بنیں جب انھوں نے 2018 میں ایک چاند سی بیٹی کو جنم دیا۔ ڈک ورتھ صاحبہ سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے عسکری خدمات کی رکن ہیں۔

وزارت، نظامت و سفارت کا تاج کن لوگوں کے سر سجے گا اسکے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ ان اہم اسامیوں کیلئے نومنتخب صدر نے باضابطہ رابطے ابھی شروع نہیں کئے لیکن آثار کچھ ایسے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ اوباما اقتدار کی شرطیہ نئی کاپی ہوگی۔ یعنی ایران جوہری منصوبہ کی تجدید،چین کے گھیراو کیلئے بحر ہند و خلیج بنگال میں ہند ناو سینا(بھارتی بحریہ) کی تکنیکی اعانت میں اضافہ،اسرائیل کی بھرپور مدد کے ساتھ نئی اسرائیلی بستیوں کے قیام کی مخالفت، آزاد فلسطینی ریاست کی حمائت، دنیا بھر میں ہم جنسی و اسقاط حمل پر پابندیوں کی حوصلہ شکنی، ماحولیاتی کثافت سے بچاو کیلئے پیرس کلب کی سفارشات پر عملدرآمد، نیٹو کا استحکام اور یورپی یونین سے قریبی تعلقات شامل ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ کی افغان پالیسی کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے کہ ٹرمپ سرکار کے قائم مقام وزیر دفاع نے کرسمس تک افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کا عندیہ دیا ہے۔ اگر 20 جنوری سے پہلے انخلا مکمل ہوگیا تو  فوج کو واپس افغانستان بھیجنے کے بجائے  طالبان سے معاملہ کرکے وہاں امن کو یقینی بنانا امریکہ بہادر کی منطقی  ترجیح ہوگی۔ یورپی یونین اورترکی کے مابین حالیہ کشیدگی میں جو بائیڈن یورپ کی مکمل حمائت کرینگے۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں انقرہ میں اقتدار کی تبدیلی یا regime change انکی ترجیح ہے۔  

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 20 نومبر 2020

ہفت روزہ دعوت دہلی 20 نومبر


2020

 

جنھیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہگار چلے گئے

جنھیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہگار چلے گئے

حضرت علامہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے۔ضلع اٹک کے تکہ توت میں جنم لینے والے علامہ رضوی نے زندگی کی صرف 54 بہاریں دیکھیں۔ علامہ صاحب نے پہلےکیا کارنامے انجام دئے اسکا علم نہیں۔ لیکن گزشتہ چند سالوں کےدوران  خادم رضوی نے ناموسِ رسالت اور تحفظ ختم نبوت کیلئے جس دلسوزی سے کام کیا اس نے ہمیں انکا گرویدہ بنادیا۔ حرمت رسول کے بارے انکے دو ٹوک رویئے نے شرفا، عمران خان اور زرداری تینوں کو انکا جانی دشمن بنادیا تھا۔

عمران سرکار نے تو درندگی کی ساری حدود پارکرلی جب گرفتار کرتے ہوئے دونوں پیروں سے معذور شخص کو دوسری منزل سے سیڑھیوں پر دھکا دیدیا گیا۔ قید کے دو ران بھی انھیں اور انکے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انکے ایک قریبی ساتھی مفتی محمد یوسف حافظ آباد جیل میں انتقال کرگئے۔ 90 برس کے مفتی صاحب ذیابطیس انسولین پر تھے۔ قید کے دوران انسولین تو ایک طرف انھیں عام دوائیں بھی نہ دی گئیں اور اس ضعیف نے تڑپ تڑپ کر جان دیدی۔ ستم ظریفی کے سراج الحق کے علاوہ کسی سیاسی رہنما نے اس ظلم عظیم پر آواز  تک بلند نہ کی۔

علامہ رضوی کا سب سے بڑا کارنامہ پروفیسر عاطف کے تقرری کی منسوخی ہے۔ کچھ مخصوص عناصر 1953کا دور واپس لانا چاہتے تھے لیکن علامہ نے بھرپور تحریک چلاکر یہ فیصلہ تبدیل کروایا۔ علامہ رضوی نے اپنی پوری زندگی گستاخوں اور قلعہِ ختم نبوت پر نقب زنی کرنے والوں کے تعقب کیلئے وقف کررکھی تھی۔

لوگوں کو علامہ صاحب کی ناشائستہ زبان پر اختلاف ہے، یہ انداز ہمیں بھی ناپسند تھا لیکن انکا ہدف اللہ اور رسول کے دشمن تھے اور یہ ناشائستگی ان لوگوں کے خلاف تھی جو ہمارے آقا کی توہین کرکے مذہبی دہشت گردی کے مرتکب ہورہے ہیں۔

اب جبکہ علامہ صاحب اپنی کتابِ زندگی سمیٹ کر اپنے اُس رحیم و شفیق رب کے پاس پہنچ چکے ہیں جو چھوٹی چھوٹی نیکیوں پر بڑے اجر عطافرماتا ہے اور بڑے بڑے گناہوں کو بکمالِ مہربانی معاف فرمادیتا ہے۔

ائے ہمارے رب اس فقیر سے نرمی و درگزر کا معاملہ فرمائیے۔ آپکے اس بندے کو آپکے رسول اور اصحابِ رسول سے عشق تھا۔ اس 'الزام' پر علامہ کو بری طرح جھڑکا گیا اور اس معذور شخص نے ناموس رسالت کی خاطر تذلیل سہی۔ ائے ہمارے رب اسکا بہترین اجر علامہ صاحب کو عطا فرمائیے۔


 

Wednesday, November 18, 2020

افغانستان میں بدامنی کی نئی لہر کا خطرہ  

افغانستان کے جنگجو رہنما اور خود ساختہ فیلڈ مارشل عبدالرشید دوستم نے حکومت کو پیشکش کی ہے کہ اگر انھیں فوج کی سربراہی سونپ دی جائے تو وہ طالبان کو کچل سکتے ہیں۔شمالی صوبے فاریاب کے ضلع قرم قل میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ انکے 5000 تربیت یافتہ سپاہی ملاوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلاسکتے ہیں۔ 66 سالہ ازبک نژاد دوستم نے ایک دوجماعتیں ہی پڑھی ہونگی کہ لڑائی جھگڑے پر انھیں اسکول سے نکال دیاگیا۔دوستم نے بھتہ خوری کا آغاز شبرغن ریفائنری مزدور یونین سے کیا۔اس دوران انھوں نے  ہڑتال کی دھمکی دیکر انتظامیہ سے خوب  مال بٹورا ساتھ ہی شہر میں دوکانداروں کو ہراساں کرکے اضافی مال کمایا۔جلد ہی انکا ایک مضبوط جتھہ بن گیا اور تقریباً 20 ہزار سے زیا دہ مجرم پیشہ افراد انکے گروپ سے وابستہ ہوگئے۔کچھ دن بعد دوستم فوج میں بھرتی ہوگئے اور عسکری مالخانے سے اسلحہ چراکر اپنی نجی ملیشیا کو مسلح کردیا۔

اسی دوران روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوگئیں اور دوستم نے سرخ پرچم تھام لیا۔ شیرِ پنجشیراحمد شاہ مسعود نے دوستم ملیشیا کو مار مار کر جوزجان تک محدود کردیا۔ تاہم انھوں نے مال کمانے کا نیا سلسلہ ڈھونڈ لیا اور شبر غن سے گزرنے والی مرکزی شاہراہ پر ناکہ لگاکر لوٹ مار شروع کردی۔ دوستم کے روسی کٹھ پتلیوں سے اچھے تعلقات تھے۔ آخری روس نواز صدر نجیب اللہ نے انھیں ہیرو آف ریپبلک کا اعزاز دیا۔

روس کی پسپائی پر وہ فارسی بانوں کے رہنما بن گئے۔ حکمتیار اور برہان الدین ربانی کی مخالفت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے شمالی افغانستان پر گرفت مضبوط کرلی۔ طالبان کی پیشقدمی پر موصوف فرار ہوکر ترکی چلے گئے۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملے کا فیصلہ کیا تو قرعہ فال دوستم کے نام نکلا جو خود کو جنرل دوستم کہلواتے تھے۔ دوستم سی آئی اے اور ایرانی خفیہ ایجنسی کی نگرانی میں واپس آئے۔ ایرانی اسلحے سے لیس انکے دستے نے امریکی چھاتہ برداروں کے بحفاظت اترنے کا انتظام کیا جسکے بعد امریکی فوجیں تو کابل کی طرف روانہ ہوئیں اور دوستم نے شمالی علاقوں میں قتل عام کابازار گرم کردیا۔اس میں سب سے مشہور قلعہ جنگی کا واقعہ ہے جب انکی گلم جم ملیشیا نے غیر ملکی مجاہدین کو سنگینیں بھونک کر ہلاک کیا۔

 یہاں موجود طالبان نے شدید مزاحمت کی۔ دوستم نے اپنی اہلیہ کو بطور ایلچی بھیج کر پیغام دیاکہ اگر یہ لوگ ہتھیار ڈالدیں تو انھیں جنگی قیدی بناکر جینیوا کنونشن کے تحت تحفظ فراہم کیا جائیگا۔ طالبان انکی باتوں میں آگئے اور ہتھیار رکھدئے۔ دوستم ملیشیا نے ان طالبان کو، جنکی اکثریت 17 اٹھارہ سال کے بچوں پر مشتمل تھی کنٹینروں میں ٹھونس دیا اور 2000 سے زیادہ بچے بھوک پیاس اور دم گھٹنے سے جاں بحق ہوگئے۔ شبر غن گیس پلانٹ کے قریب دشت لیلٰی کی پہاڑیوں پر انکی قبریں ہیں جہاں مقامی لوگ سفید چادریں چڑھاکر عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔

جنرل دوستم کو سیاست سے بھی دلچسپی ہے۔ 2014 کے صدارتی انتخابات میں ڈاکٹر اشرف غنی نے انھیں نائب صدر کا امیدوار نامزد کیا۔ دوستم نے ٹھپے بازی کی مدد سے ڈاکٹر صاحب کو کامیابی دلادی۔ اشرف غنی کے مخالف امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔امریکہ کے دباو نے انھیں شرکت اقتدار پر رضامند کردیا اور عبداللہ عبداللہ کے لئے چیف ایکزیکیوٹیو کا منصب تراش لیا گیا۔ دوستم کی بھتہ خوری اور  بلیک میلنگ سے ڈاکٹر اشرف غنی بہت پریشان تھے چنانچہ انھوں نے امریکہ سے شکائت کی اور چچاسام کی سرزنش پر دوستم استعفیٰ دیکر دوبارہ ترکی چلے گئے۔

گزشتہ انتخابات سے پہلے وہ واپس تشریف لائے اور اس بار انھوں نے عبداللہ عبداللہ پر ہاتھ رکھا۔ انتخابات کا نتیجہ اس بار بھی متنازعہ رہا۔ دوستم کی شہہ پر ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے متوازی حکومت قائم کرلی اورامریکہ بہادر نے ایک مرتبہ پھر صلح کرادی۔ اس بار فرمانبرداری کے عوض ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو امن مذاکرات کی سربراہی عطا ہوئی۔ عبدالرشید دوستم فوج کے سربراہ بننا چاہتے تھے لیکن افغان فوج میں اسکے خلاف مزاحمت تھی چنانچہ پیرانہ سالی کی بناپر ان سے معذرت کرتے ہوئے دوستم کو مارشل کا اعزازی عہدہ عطا ہوا۔

سیاسی و عسکری حلقوں کا خیال ہے کہ امریکی فوجوں کی واپسی سے کابل انتطامیہ جس خوف میں مبتلا ہے، جنرل دوستم اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے اسلحہ اٹھانے کی پیشکش کررہے ہیں۔ امریکی وزیردفاع کے مطابق پندرہ جنوری تک افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد 2500 رہ جائیگی۔ اس مختصر سی نفری کیساتھ امریکہ طالبان سے پنگا لینے کی کوشش نہیں کریگا اور خیال ہے کہ کابل انتطامیہ کو فضائی مدد بھی فراہم نہیں  کی جائیگی کہ اگر ملا مشتعل ہوکر امریکی اڈوں پر ٹوٹ پڑے تو دفاع بہت مشکل ہوگا۔

جنرل دوستم کی شیخی اپنی جگہ لیکن انکا جتھ اب اتنا مضبوط نہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران طالبان نے انکے آبائی صوبے جوزجان میں حملے کرکے دوستم کے ذاتی محافظوں پر حملے کئے ہیں جس میں گزشتہ چند ماہ کے دوران 500 سے زیادہ دوستم سپاہی مارے جاچکے ہیں۔

ایک خبر یہ بھی ہے کہ دوستم طالبان سے براہ راست رابطے میں ہیں اور انھوں نے ملاوں کو اُدھر تم اِدھرہم کی پیشکش کی ہے یعنی جنوب اور مشرقی افغانستان میں طالبان کی حکومت ہو شمال کے فارسی بان علاقوں میں دوستم کی۔ طالبان افغانستان کی سالمیت و یکجہتی پر سودے بازی کو تیار نہیں اور نہ ہی وہ قلعہ جنگی و دشت لیلٰی قتل عام کو بھولے ہیں۔ جب کسی نے طالبان ترجمان سے دوستم کی دھمکی کے بارے میں پوچھا تو انھوں مسکراتے ہوئے کہا چہ پدی چہ پدی کا شوربہ