متعصب
صدر اور جماعتی تعصب
صدر
ٹرمپ ہسپانیویوں، مسلمانوں اور رنگداراقلیت کے خلاف
ایک عرصے سے گل افشانی فرمارہے ہیں۔ اتوار 14 جولائی کو صبح سویرے اپنے ایک
ٹویٹ میں انھوں نے چار رنگدار خواتین
ارکان کانگریس کے بارے میں فرمایا کہ
'اگر
انھیں امریکہ اچھا نہیں لگتا تو انکو چاہئے کہ اپنے ملکوں کوواپس چلی جائیں
جو جرائم اور کرپشن کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر ہیں'۔
انھوں نے صومالی نژاد
الحان عمر، فلسطینی النسل رشیدہ طالب، ہسپانوی الیکزنڈرہ گورٹیز، اور افریقی نژاد ایانا
پریسلے کا نام لے کر انھیں واپس جانے کا
مشورہ دیا'
اپنے
ٹویٹ کا اعادہ کرتے ہوئے دوسرے دن امریکی
صدر نے کہا کہ ان لوگوں کو امریکہ سے نفرت ہے، یہ اسرائیل کی مخالف ہیں، انھیں امریکی فوج پسند نہیں،
امیگریشن پالیسی غلط لگتی ہے۔ یہ امیگریشن
پولیس کےخلاف ہیں تو پھر اس ملک
میں رہنے کی ضرورت کیا ہے۔ دلچسپ بات کہ ان چار میں سے تین
خواتین امریکہ میں پیدا ہوئی ہیں اور صومالیہ سے پناہ گزین کے طور پر امریکہ انے والے الحان عمر بھی
امریکہ کی شہری ہیں۔ ریکارڈ کی درستگی کیلئے عرض ہے کہ صڈر ٹرمپ کی والدہ محترمہ
اسکاٹ لینڈسے امریکہ تشریف لائی تھیں اور انکی اہلیہ ملانیا بھی ویزے پریہاں آنے
کے بعد امریکہ کی شہری بنیں۔
صدر
ٹرمپ کے اس نسل پرستانہ
اور متعصب تبصرے کے خلاف شدید رد عمل
ہوا اور آج امریکی کانگریس نے 187
کے مقابلے 240 ووٹوں سے صدر ٹرمپ کے متعصب
رویئے کے خلاف قرارداد مذمتی قرار دادمنظور کرلی اور یہاں جماعتی تعصب بہت صاف
نظر آیا ۔ تمام کے تمام 235
ڈیموکریٹک ارکان اور ایک آزاد رکن نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ
صرف 4 ریپبلکن ارکان اپنے صدر کی مخالفت کی جرات کرسکے۔ان میں سے ایک سیاہ فام ہیں۔
ریپبلکن ارکان کا ڈر تھا کہ اگر انھوں نے صدر کی منشا کے خلاف ووٹ دیا تو آنے والے انتخابات میں انھیں پارٹی ٹکٹ
ملنے میں مشکل ہوسکتی ہے۔
امریکی
صدروفاق کا نمائندہ ہوتا ہے لیکن صدر ٹرمپ
ملک کو نسل و مذہبی بنیادوں پر
تقسیم کرنے کیلئے پرعزم نظر آتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment